Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 21 · Chapter 277

جہاد کی کتاب

جہاد کی ترغیب کا بیان

11 hadiths in this chapter

959

Muwatta Imam Malik #959

Sahih

[959] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، کَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الدَّائِمِ، الَّذِی لا یَفْتُرُ مِنْ صَلاَۃٍ وَلاَ صِیَامٍ حَتَّی یَرْجِعَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کی مثال اس روزے دار اور تہجد گزار کی طرح ہے جو ہمیشہ عمل کرنے والا ہو جو نہ ( رات بھر کی ) نماز سے سست پڑتا ہو اور نہ ( مسلسل ) روزوں سے تھکتا ہو یہاں تک کہ مجاہد واپس لوٹ آئے ۔‘‘

960

Muwatta Imam Malik #960

Sahih

[960] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : تَکَفَّلَ اللّٰہُ لِمَنْ جَاہَدَ فِی سَبِیلِہِ، لاَ یُخْرِجُہُ مِنْ بَیْتِہِ إِلاَّ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِہِ، وَتَصْدِیقُ کَلِمَاتِہِ، أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ، أَوْ یَرُدَّہُ إِلَی مَسْکَنِہِ الَّذِی خَرَجَ مِنْہُ، مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی ضمانت لے لی ہے جو اس کی راہ میں جہاد کرے ( اور ) اللہ کی راہ میں جہاد اور اللہ کے کلمات کی تصدیق کے علاوہ کوئی اور چیز اُسے اس کے گھر سے نہ نکالے ( تو اللہ نے اس بات کی ضمانت لے لی ہے ) کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا یا اُسے اس کے گھر میں جس سے وہ نکلا تھا اُس کے اجر یا غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا جو وہ حاصل کرے گا ۔

961

Muwatta Imam Malik #961

Sahih

[961] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : الْخَیْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَی رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِی ہِیَ لَہُ أَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَأَطَالَ لَہَا فِی مَرْجٍ أَوْ رَوْضَۃٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِی طِیَلِہَا ذَلِکَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَۃِ، کَانَ لَہُ حَسَنَاتٍ، وَلَوْ أَنَّہَا قَطَعَتْ طِیَلَہَا ذَلِکَ، فَاسْتَنَّتْ شَرَفاً أَوْ شَرَفَیْنِ، کَانَتْ آثَارُہَا وَأَرْوَاثُہَا حَسَنَاتٍ لَہُ، وَلَوْ أَ نَّہَا مَرَّتْ بِنَہَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْہُ، وَلَمْ یُرِدْ أَنْ یَسْقِیَ بِہِ، کَانَ ذَلِکَ لَہُ حَسَنَاتٍ، فَہِیَ لَہُ أَجْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَہَا تَغَنِّیًا وَتَعَفُّفاً، وَلَمْ یَنْسَ حَقَّ اللّٰہِ فِی رِقَابِہَا وَلاَ فِی ظُہُورِہَا، فَہِیَ لِذَلِکَ سِتْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَہَا فَخْراً وَرِیَائً وَنِوَائً لأَہْلِ الإِسْلاَمِ، فَہِیَ عَلَی ذَلِکَ وِزْرٌ وَسُئِلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْحُمُرِ، فَقَالَ : لَمْ یَنْزِلْ عَلَیَّ فِیہَا شَیْئٌ إِلاَّ ہَذِہِ الآیَۃُ الْجَامِعَۃُ الْفَاذَّۃُ {فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراً یَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہُ} [الزلزلۃ : 7،8]۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں ، کوئی تو آدمی کے حق میں اجر کا باعث ہوتا ہے ، کوئی آدمی کے لیے ( اس کی غربت اور کمزور حالت پر ) پردے کا سبب ہوتا ہے اور کوئی ( گھوڑا ) آدمی کے لیے ( گناہ کے ) بوجھ کا موجب ہوتا ہے ، چنانچہ رہا وہ شخص کہ جس کے حق میں ( اس کا ) گھوڑا باعث اجر ہوتا ہے تو یہ ایسا شخص ہے جس نے گھوڑے کو اللہ کی راہ میں ( جہاد کی تیاری کی خاطر ) باندھا ، پھر اس نے کسی چراگاہ یا باغ میں اس کی رسی لمبی کر دی ، چنانچہ وہ گھوڑا اپنی اس لمبی رسی کی وجہ سے اس چراگاہ یا باغ سے جس جس چیز کو بھی کھائے پیے گا وہ ( سب کچھ ) ہی آدمی کے حق میں نیکیاں بنتا جائے گا ، اور اگر وہ اپنی لمبی رسی کو تڑوا لے پھر ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھ جائے تو اس کے پاؤں کے نشانات اور اس کی لید بھی آدمی کے حق میں نیکیاں شمار ہوں گے اور اگر وہ ( بھاگتا ہوا ) کسی نہر کے پاس سے گزرے اور اس سے پانی پی لے درحالیکہ آدمی نے اُسے پانی پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو تو پھر بھی وہ ( پانی ) اس مالک کے حق میں نیکیاں بن جائے گا ، الغرض یہ گھوڑا آدمی کے لیے اجر ( ہی اجر ) کا باعث ہے ۔ اور ( دوسرا ) وہ شخص جس نے ( لوگوں سے ) مستغنیٰ و بے نیاز ہونے کے لیے اور مانگنے سے بچنے کے لیے ( تجارت اور محنت مزدوری کی خاطر اپنے پاس ) گھوڑا باندھا اور اس نے اللہ کا وہ حق نہ بھلایا جو گھوڑوں کی گردنوں اور پیٹھوں پر ہے ، تو یہ گھوڑا آدمی کے لیے پردہ پوشی کا باعث ہے اور ( تیسرا ) وہ شخص جس نے فخر و ریاکاری کے لیے اور اہل اسلام سے دشمنی کے لیے گھوڑا باندھا ہو یہ اس کے لیے باعث گناہ ہے ۔‘‘ اور نبی کریم ﷺ سے گدھوں کے متعلق سوال کیا گیا ( کہ کیا اُن کا معاملہ بھی گھوڑوں ہی کی طرح ہے ؟ ) تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اُن کے متعلق مجھ پر کوئی ( خاص ) چیز ( حکم اور وحی ) تو نازل نہیں کی گئی سوائے اس جامع اور منفرد قسم کی آیت کے : { فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراً یَّرَہُ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہُ } [الزلزال : 7 : 99 ، 8 ] ’’ لہٰذا جس نے ذرہ بھر بھلائی کی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی وہ بھی اسے دیکھ لے گا ۔‘‘

962

Muwatta Imam Malik #962

Sahih

[962] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَاری, عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ النَّاسِ مَنْزِلاً ؟ رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِہِ یُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ النَّاسِ مَنْزِلاً بَعْدَہُ ؟ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِی غُنَیْمَتِہِ، یُقِیمُ الصَّلَاۃَ، وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ، وَیَعْبُدُ اللّٰہَ لاَ یُشْرِکُ بِہِ شَیْئاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمھیں لوگوں میں سب سے بہترین درجہ و مقام والے شخص کی خبر نہ دوں ؟ یہ وہ شخص ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے ہو ( اور ) اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو ۔ ( پھر فرمایا : ) کیا میں تمھیں اس کے بعد لوگوں میں سے سب سے بہترین مرتبے والے شخص کی خبر نہ دوں ؟ یہ وہ شخص ہے جو اپنے بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ میں ( لوگوں سے ) الگ تھلگ ( اور کسی پہاڑ کی وادی ، گھاٹی یا صحرا و چشمہ میں گوشہ نشین ) ہو ، نماز قائم کرتا ہو ، زکاۃ ادا کرتا ہو اور اللہ کی عبادت کرتا ہو ( اور ) اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔‘‘

963

Muwatta Imam Malik #963

Sahih

[963] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : أَخْبَرَنِی عُبَادَۃُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْیُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ، وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَہْلَہ, ُ وَأَنْ نَقُولَ أَوْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَیْثُمَا کُنَّا، لاَ نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبادہ بن ولید رحمہ اللہ اپنے والد ( ولید رحمہ اللہ ) سے اور وہ اس ( عبادہ بن ولید رحمہ اللہ ) کے دادا ( حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے تنگی و آسانی اور خوشی و ناخوشی میں سمع و طاعت ( بات سننے اور ماننے ) پر بیعت کی اور اس پر ( بھی بیعت کی ) کہ ہم ( امارت و حکومت کے ) معاملے میں اس کے اہل ( اہلیت و قابلیت رکھنے والے مسلمان حکمران ) سے کھینچا تانی نہیں کریں گے اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے حق بات ہی کہیں گے یا ( فرمایا : ) حق پر قائم رہیں گے ، ( اور ) اللہ کے معاملے میں ( اور اس کے دین کی نصرت میں ) کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔

964

Muwatta Imam Malik #964

Sahih

[964] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ : کَتَبَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ یَذْکُرُ لَہُ جُمُوعاً مِنَ الرُّومِ، وَمَا یَتَخَوَّفُ مِنْہُمْ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّہُ مَہْمَا یَنْزِلْ بِعَبْدٍ مُؤْمِنٍ مِنْ مُنْزَلِ شِدَّۃٍ، یَجْعَلِ اللّٰہُ بَعْدَہُ فَرَجاً، وَإِنَّہُ لَنْ یَغْلِبَ عُسْرٌ یُسْرَیْنِ، وَأَنَّ اللّٰہَ تَعَالَی یَقُولُ فِی کِتَابِہِ: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ} [آل عمران: 200]۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ( خط ) لکھا ، ( جس میں ) وہ رومیوں کے لشکروں کا اور اس خوف کا تذکرہ کر رہے تھے جو وہ ان ( رومیوں ) کے معاملے سے محسوس کر رہے تھے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف لکھا : اَمّا بَعْد ( حمد و صلاۃ کے بعد ) ، بلاشبہ شان یہ ہے کہ کسی بھی مومن بندے کے ساتھ کسی بھی مقام میں جو کوئی بھی سختی ( و آزمائش ) نازل ہو ، اللہ تعالیٰ اس کے بعد ( ضرور ) کشادگی پیدا فرما دیتے ہیں اور یقیناً ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی اور بے شک اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں : { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْاوَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ } ( اٰل عمران 3 : 200 ) ’’ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! صبر سے کام لو اور مقابلے میں بھی صبر کرو ( ثابت قدم رہو ) اور مورچوں میں ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ ۔‘‘

996

Muwatta Imam Malik #996

Sahih

[996] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی طَلْحَۃَ, عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ إِذَا ذَہَبَ إِلَی قُبَائٍ، یَدْخُلُ عَلَی أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، فَتُطْعِمُہُ، وَکَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَیْہَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَوْماً، فَأَطْعَمَتْہُ وَجَلَسَتْ تَفْلِی فِی رَأْسِہِ، فَنَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَوْماً، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ، قَالَتْ : فَقُلْتُ مَا یُضْحِکُکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ؟ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی عُرِضُوا عَلَیَّ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، یَرْکَبُونَ ثَبَجَ ہَذَا الْبَحْرِ مُلُوکاً عَلَی الأَسِرَّۃِ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الأَسِرَّۃِ یَشُکُّ إِسْحَاقُ۔ قَالَتْ : فَقُلْتُ لَہُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ۔ فَدَعَا لَہَا، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَہُ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ یَضْحَکُ, قَالَتْ : فَقُلْتُ لَہُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَا یُضْحِکُکَ ؟ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی عُرِضُوا عَلَیَّ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، مُلُوکاً عَلَی الأَسِرَّۃِ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الأَسِرَّۃِ کَمَا قَالَ فِی الأُولَی، قَالَتْ : فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ۔ فَقَالَ : أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِینَ قَالَ : فَرَکِبَتِ الْبَحْرَ فِی زَمَانِ مُعَاوِیَۃَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِہَا حِینَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَہَلَکَتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب قبا کی طرف جاتے تو سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس چلے جاتے ، سو وہ آپ ﷺ کو کھانا کھلاتیں ، سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، چنانچہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ان کے پاس گئے تو انھوں نے آپ ﷺ کو کھانا کھلایا اور بیٹھ کر آپ ﷺ کے بال دیکھنے لگیں ( کہ کہیں جوئیں نہ پڑ گئی ہوں ) ، پھر رسول اللہ ﷺ ( وہیں ) سو گئے ، پھر آپ ﷺ اس حال میں بیدار ہوئے کہ مسکرا رہے تھے ، حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کون سی چیز آپ کو مسکرانے پر آمادہ کر رہی ہے ؟ فرمایا :’’ میری امت میں سے کچھ لوگ مجھ پر اس حال میں پیش کیے گئے ہیں ( اور خواب میں دکھائے گئے ) کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں ، اس سمندر ( کے وسط میں اس ) کی پشت پر سوار ہیں جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں یا ( فرمایا کہ میں انھیں ) بادشاہوں کی طرح ( بیٹھے ہوئے دیکھا جو اپنے اپنے ) تخت پر ( ہوتے ہیں ) ‘‘ ( حدیث کے راوی ) اسحاق کو ( اس لفظ میں ) شک ہوا ہے ( کہ آپ ﷺ نے ( مُلُوْکًا ) فرمایا یا ( مِثْلَ الْمُلُوْکِ ) فرمایا تھا ) وہ ( سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا ) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا فرما دیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمائے تو آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرما دی ، پھر آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک نیچے رکھا اور ( دوبارہ ) سو گئے ، پھر ہنستے ہوئے بیدار ہوئے ، کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کون سی چیز آپ کو ہنسا رہی ہے ؟ فرمایا :’’ میری امت کے کچھ اور لوگ مجھ پر اس حال میں پیش کیے گئے ہیں کہ وہ اللہ کی راہ میں لڑ رہے ہیں ( اور اپنے اپنے ) تخت پر ( جلوہ افروز دیکھا ) ۔ ( اگرچہ راوی کو شک ہے لیکن بہرحال آپ ﷺ نے اس بار بھی وہی فرمایا ) جیسا کہ پہلی دفعہ میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا ۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ تو پہلے ( خواب والے لوگوں میں سے ہے ۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر وہ ( سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا ) حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سمندر پر سوار ہوئیں ، چنانچہ جب وہ سمندر سے باہر آئیں تو اپنے سواری کے جانور سے نیچے گر گئیں اور فوت ہو گئیں ۔

997

Muwatta Imam Malik #997

Sahih

[997] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ أبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی، لأَحْبَبْتُ أَنْ لاَ أَتَخَلَّفَ عَنْ سَرِیَّۃٍ تَخْرُجُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَلَکِنِّی لاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُہُمْ عَلَیْہِ، وَلاَ یَجِدُونَ مَا یَتَحَمَّلُونَ عَلَیْہِ، فَیَخْرُجُونَ، وَیَشُقّ عَلَیْہِمْ أَنْ یَتَخَلَّفُوا بَعْدِی، فَوَدِدْتُ إنِّی أُقَاتِلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْیَا فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْیَا فَأُقْتَلُ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو یقیناً میں یہ محبوب جانتا کہ کسی ایسے سریہ ( اور جہادی دستے ) سے پیچھے نہ رہوں جو اللہ کی راہ میں نکلتا ہے ، لیکن میں وہ ( مطلوبہ تعداد میں سواریاں ) نہیں پاتا جوان میں ( جہاد کے شوقین اور اتباع رسول ﷺ کے خوگر امتیوں ) کو سواری کے لیے دے سکوں ۔‘‘ اور نہ خود ایسی چیز پاتے ہیں جس پر وہ سوار ہو سکیں ( اور بوجھ لاد سکیں ) پھر وہ ( پیدل ہی ) نکل کھڑے ہوں ( تو یہ بھی مشقت ہی مشقت ہے ) اور ان پر یہ بھی شاق ( اور گراں ) ہے کہ وہ میرے ( جہاد میں نکل جانے کے ) بعد پیچھے بیٹھے رہیں ( اس تمام صورت حال کے باوجود ) میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں لڑوں پھر قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں ۔‘‘

998

Muwatta Imam Malik #998

Zaeef

[998] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ یَأْتِینِی بِخَبَرِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِیعِ الْأَنْصَاری ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ۔ فَذَہَبَ الرَّجُلُ یَطُوفُ بَیْنَ الْقَتْلَی، فَقَالَ لَہُ سَعْدُ بْنُ الرَّبِیعِ مَا شَأْنُکَ، فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : بَعَثَنِی إِلَیْکَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ لآتِیَہُ بِخَبَرِکَ۔ قَالَ : فَاذْہَبْ إِلَیْہِ فَأَقْرِئْہُ مِنِّی السَّلاَمَ، وَأَخْبِرْہُ إنِّی قَدْ طُعِنْتُ اثْنَتَیْ عَشْرَۃَ طَعْنَۃً، وَأَنِّی قَدْ أُنْفِذَتْ مَقَاتِلِی، وَأَخْبِرْ قَوْمَکَ أَ نَّہُ لاَ عُذْرَ لَہُمْ عِنْدَ اللّٰہِ، إِنْ قُتِلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَوَاحِدٌ مِنْہُمْ حَیٌّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب جنگ احد کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کون ہے جو میرے پاس حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کی خبر لائے ؟‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا کہ میں ( ایسا کروں گا ) اے اللہ کے رسول ! چنانچہ وہ شخص گیا ( اور ) شہداء کے درمیان گھومنے لگا تو حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ ( جو ابھی آخری سانسیں لے رہے تھے ) نے اس سے پوچھا کہ تمھارا کیا معاملہ ہے ؟ وہ شخص ان سے کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس لیے بھیجا ہے کہ آپ ﷺ کے پاس تمھاری خبر لاؤں ؟ وہ فرمانے لگے : تو پھر آپ ﷺ کے پاس چلے جاؤ اور آپ ﷺ کو میری طرف سے سلام کہنا اور آپ ﷺ کو بتا دینا کہ بلاشبہ مجھے نیزے کے بارہ زخم لگے ہیں اور بلاشبہ مجھے قتل کرنے والے یہ آلے مجھ میں سے پار گزر گئے ہیں اور اپنی قوم کو بھی یہ بتا دو کہ اگر رسول اللہ ﷺ اس حال میں قتل کر دیے جائیں کہ ان میں سے ایک شخص بھی زندہ ہو تو اللہ کے ہاں ان کا کوئی عذر نہ ہو گا ۔

999

Muwatta Imam Malik #999

Sahih

[999] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ رَغَّبَ فِی الْجِہَادِ، وَذَکَرَ الْجَنَّۃَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ یَأْکُلُ تَمَرَاتٍ فِی یَدِہِ، فَقَالَ : إنِّی لَحَرِیصٌ عَلَی الدُّنْیَا إِنْ جَلَسْتُ حَتَّی أَفْرُغَ مِنْہُنَّ، فَرَمَی مَا فِی یَدِہِ، فَحَمَلَ بِسَیْفِہِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے جہاد کی ترغیب دلائی اور جنت کا ذکر فرمایا ، اس وقت انصار میں سے ایک شخص اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کھجوریں کھا رہا تھا ، وہ کہنے لگا کہ بلاشبہ میں تو یقیناً دنیا پر حریص ( شمار ) ہوں گا اگر ( اتنی دیر ) بیٹھا رہوں یہاں تک کہ ان کھجوروں سے فارغ ہو جاؤں ، چنانچہ جو کچھ اس کے ہاتھ میں تھا اس نے اسے پھینک دیا ، پھر اپنی تلوار کے ساتھ ( دشمن پر ) حملہ آور ہو گیا ، پھر وہ لڑتا رہا یہاں تک کہ قتل کر دیا گیا ۔

1000

Muwatta Imam Malik #1000

Sahih

[1000] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَ نَّہُ قَالَ : الْغَزْوُ غَزْوَانِ، فَغَزْوٌ تُنْفَقُ فِیہِ الْکَرِیمَۃُ، وَیُیَاسَرُ فِیہِ الشَّرِیکُ، وَیُطَاعُ فِیہِ ذُو الأَمْرِ، وَیُجْتَنَبُ فِیہِ الْفَسَادُ، فَذَلِکَ الْغَزْوُ خَیْرٌ کُلُّہُ، وَغَزْوٌ لاَ تُنْفَقُ فِیہِ الْکَرِیمَۃُ, وَلاَ یُیَاسَرُ فِیہِ الشَّرِیکُ، وَلاَ یُطَاعُ فِیہِ ذُو الأَمْرِ، وَلاَ یُجْتَنَبُ فِیہِ الْفَسَادُ، فَذَلِکَ الْغَزْوُ، لاَ یَرْجِعُ صَاحِبُہُ کَفَافاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا : جہاد کی دو قسمیں ہیں ، پس ایک جہاد تو وہ ہے جس میں عمدہ چیز خرچ کی جاتی ہے ، اس میں ( اپنے ساتھ ) شریک ( اور رفیق مجاہد ) کے ساتھ آسانی و نرمی اختیار کی جاتی ہے اس میں امیر کی اطاعت کی جاتی ہے اور اس جہاد میں فساد سے اجتناب کیا جاتا ہے ، تو یہ ایسا غزوہ ( اور جہاد ) ہے کہ جو سارے کا سارا خیر ہی خیر ہے اور دوسرا جہاد وہ ہے جس میں نہ عمدہ مال خرچ کیا جاتا ہے ، نہ اس میں ساتھی کے ساتھ نرم برتاؤ کیا جاتا ہے ، نہ امیر کا حکم مانا جاتا ہے اور نہ اس میں فساد سے پرہیز کیا جاتا ہے ، تو یہ ایک ایسا جہاد ہے جس کا کرنے والا برابر برابر بدلے کے ساتھ بھی نہیں لوٹ پاتا ۔