Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 223

حج کے مسائل کی کتاب

اس شکار کا بیان جسے کھانا محرم کے لیے جائز ہے

7 hadiths in this chapter

777

Muwatta Imam Malik #777

Sahih

[777] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ التَّیْمِیِّ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی أبِی قَتَادَۃَ الْأَنْصَاری، عَنْ أبِی قَتَادَۃَ أَ نَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِبَعْضِ طَرِیقِ مَکَّۃَ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَہُ مُحْرِمِینَ، وَہُوَ غَیْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَی حِمَاراً وَحْشِیًّا، فَاسْتَوَی عَلَی فَرَسِہِ، فَسَأَلَ أَصْحَابَہُ أَنْ یُنَاوِلُوہُ سَوْطَہُ، فَأَبَوْا عَلَیْہِ، فَسَأَلَہُمْ رُمْحَہُ، فَأَبَوْا فَأَخَذَہُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَی الْحِمَارِ فَقَتَلَہُ، فَأَکَلَ مِنْہُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ وَأَبَی بَعْضُہُمْ، فَلَمَّا أَدْرَکُوا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ سَأَلُوہُ عَنْ ذَلِکَ, فَقَالَ : إِنَّمَا ہِیَ طُعْمَۃٌ أَطْعَمَکُمُوہَا اللّٰہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے یہاں تک کہ جب لوگ مکہ کی راہ میں کسی جگہ پر تھے تو وہ ( حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ) اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پیچھے رہ گئے جو کہ احرام باندھے ہوئے تھے اور وہ ( حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ) محرم نہیں تھے ، انھوں ( حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ) نے ایک جنگلی گدھا ( گورخر ) دیکھا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے ، پھر انھوں نے اپنے ساتھیوں سے درخواست کی کہ وہ انھیں ان کا کوڑا پکڑا دیں لیکن انھوں نے اس پر انکار کر دیا ، پھر انھوں نے اُن سے اپنا نیزہ مانگا تو انھوں نے انکار کر دیا ( نہ کوڑا پکڑایا ، اور نہ ہی نیزہ ) ، چنانچہ انھوں نے ( خود ہی نیچے اتر کر ) اسے پکڑا ، پھر گدھے پر حملہ کر دیا اور اسے مار ڈالا ، تو رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس میں سے کھا لیا اور بعض نے انکار کر دیا ، پھر جب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو پایا تو آپ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا :’’ یہ ایک ( خاص ) کھانا تھا جو اللہ نے تمھیں کھلایا ۔‘‘

778

Muwatta Imam Malik #778

Sahih

[778] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ کَانَ یَتَزَوَّدُ صَفِیفَ الظِّبَائِ وَہُوَ مُحْرِمٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عروہ بن زبیر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ ( اُن کے والد ) حضرت زُبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہرنیوں کے خشک کیے ہوئے گوشت کے ٹکڑے حالت احرام میں زاد راہ کے طور پر ساتھ رکھتے تھے ۔

779

Muwatta Imam Malik #779

Sahih

[779] وَحَدَّثَنِی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ أَخْبَرَہُ، عَنْ أبِی قَتَادَۃَ فِی الْحِمَارِ الْوَحْشِیِّ مِثْلَ حَدِیثِ أبِی النَّضْرِ، إِلاَّ أَنَّ فِی حَدِیثِ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : ہَلْ مَعَکُمْ مِنْ لَحْمِہِ شَیْئٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھیں عطاء بن یسار رحمہ اللہ نے جنگلی گدھے کے متعلق حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح ہی بیان کیا جو ( اس باب کی پہلی حدیث میں امام مالک رحمہ اللہ کے شیخ ) ابونضر رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے ، سوائے اس کے کہ زید بن اسلم رحمہ اللہ کی ( اس ) روایت میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا :’’ کیا تمھارے پاس اس گدھے کے گوشت میں سے کچھ ہے ؟‘‘

780

Muwatta Imam Malik #780

Sahih

[780] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الْأَنْصَاری، أَ نَّہُ قَالَ : أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیُّ، عَنْ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَلَمَۃَ الضَّمْرِیِّ، عَنِ الْبَہْزِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ خَرَجَ یُرِیدُ مَکَّۃَ وَہُوَ مُحْرِمٌ، حَتَّی إِذَا کَانَ بِالرَّوْحَائِ, إِذَا حِمَارٌ وَحْشِیٌّ عَقِیرٌ، فَذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : دَعُوہُ، فَإِنَّہُ یُوشِکُ أَنْ یَأْتِیَ صَاحِبُہُ۔ فَجَائَ الْبَہْزِیُّ وَہُوَ صَاحِبُہُ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ شَأْنَکُمْ بِہَذَا الْحِمَارِ۔ فَأَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَبَابَکْرٍ فَقَسَمَہُ بَیْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ مَضَی حَتَّی إِذَا کَانَ بِالأَثَایَۃِ - بَیْنَ الرُّوَیْثَۃِ وَالْعَرْجِ - إِذَا ظَبْیٌ حَاقِفٌ فِی ظِلٍّ فِیہِ سَہْمٌ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ أَمَرَ رَجُلاً أَنْ یَقِفَ عِنْدَہُ, لَا یَرِیبُہُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّی یُجَاوِزَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ( زید بن کعب ) بہزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ ( حجۃ الوداع کے لیے ) مکہ کا ارادہ کرتے ہوئے اس حال میں نکلے کہ آپ احرام باندھے ہوئے تھے ، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ روحاء کے مقام پر پہنچے تو اچانک ( وہاں ) ایک زخمی جنگلی گدھا ( موجود ) تھا ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اُسے چھوڑ دو ، کیونکہ یقیناً امید ہے کہ اس ( کو زخمی کرنے والا اس ) کا مالک آ ہی جائے ۔‘‘ تو حضرت بہزی رضی اللہ عنہ جو کہ اس کے مالک تھے ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، پھر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ اس گدھے کے متعلق اپنے معاملے کو لازم پکڑیں ( میں اسے آپ کی خدمت میں ہدیہ کر رہا ہوں ۔ اب آپ جو چاہیں اس کے متعلق فیصلہ فرما دیجیے ) چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تو انھوں نے اسے ( یعنی اس کے گوشت کو ) سفر کے سب رفقاء کے درمیان تقسیم کر دیا ، پھر آپ ﷺ آگے بڑھے یہاں تک کہ جب اُثایا نامی جگہ پر پہنچے جو کہ رُوَیثہ اور عرج کے درمیان میں ہے تو اچانک ایک ہرن اپنا سر جھکائے ( اپنی ٹانگوں میں منہ ڈالے ہوئے ) سائے میں ( کھڑا ) تھا ، اس میں ایک تیر ( بھی پیوست ) تھا ، حضرت بہزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو حکم فرمایا کہ اس کے پاس کھڑا رہے ( تاکہ ) لوگوں میں سے کوئی بھی اسے نہ چھیڑے یہاں تک کہ وہ سب اس کے پاس سے آگے گزر جائیں ۔

781

Muwatta Imam Malik #781

Sahih

[781] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ سَمِعَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یُحَدِّثُ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ : أَ نَّہُ أَقْبَلَ مِنَ الْبَحْرَیْنِ، حَتَّی إِذَا کَانَ بِالرَّبَذَۃِ وَجَدَ رَکْباً مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ مُحْرِمِینَ، فَسَأَلُوہُ عَنْ لَحْمِ صَیْدٍ وَجَدُوہُ عِنْدَ أَہْلِ الرَّبَذَۃِ، فَأَمَرَہُمْ بِأَکْلِہِ قَالَ : ثُمَّ إنِّی شَکَکْتُ فِیمَا أَمَرْتُہُمْ بِہِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ : مَاذَا أَمَرْتَہُمْ بِہِ؟ فَقَالَ: أَمَرْتُہُمْ بِأَکْلِہِ۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : لَوْ أَمَرْتَہُمْ بِغَیْرِ ذَلِکَ لَفَعَلْتُ بِکَ۔ یَتَوَاعَدُہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بحرین سے ( مدینہ کی طرف ) روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب وہ ( مدینہ کے قریب ) رَبَذَۃ مقام پر پہنچے تو اہل عراق کے ایک شتر سوار قافلے کو ( وہاں ) پایا جو حالت احرام میں تھے ، انھوں نے آپ سے شکار کے گوشت کے متعلق سوال کیا جسے انھوں نے ربذہ کے ( رہنے ) والوں کے پاس پایا تھا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انھیں اسے کھا لینے کا حکم دے دیا ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر یقیناً مجھے اس میں شک سا گزرا جو میں نے انھیں حکم دیا تھا ، چنانچہ جب میں مدینہ منورہ آیا تو میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا ، انھوں نے فرمایا کہ تم نے انھیں کیا حکم دیا تھا ؟ انھوں نے بتایا کہ میں نے انھیں اسے کھا لینے کا حکم دیا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : اگر تم نے انھیں اس کے علاوہ کوئی اور حکم دیا ہوتا تو میں تمھارے ساتھ ( ایسا ایسا ) کرتا ، وہ اس لفظ کے ساتھ انھیں ڈرا رہے تھے ۔

782

Muwatta Imam Malik #782

Sahih

[782] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ، أَ نَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ : أَ نَّہُ مَرَّ بِہِ قَوْمٌ مُحْرِمُونَ بِالرَّبَذَۃِ، فَاسْتَفْتَوْہُ فِی لَحْمِ صَیْدٍ، وَجَدُوا نَاساً أَحِلَّۃً یَأْکُلُونَہُ، فَأَفْتَاہُمْ بِأَکْلِہِ، قَالَ : ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ، فَقَالَ : بِمَ أَفْتَیْتَہُمْ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ أَفْتَیْتُہُمْ بِأَکْلِہِ۔ قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ أَفْتَیْتَہُمْ بِغَیْرِ ذَلِکَ لأَوْجَعْتُکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا جو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو بیان فرما رہے تھے کہ بے شک اُن کے پاس سے ربذہ کے مقام پر کچھ لوگ گزرے ، انھوں نے آپ سے اس شکار کے گوشت کے بارے میں فتوی طلب کیا کہ انھوں نے کچھ غیر محرم لوگوں کو اسے کھاتے ہوئے پایا تھا ، تو آپ رضی اللہ عنہ نے انھیں اسے کھا لینے کا فتویٰ دے دیا ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ آیا تو میں نے ان سے اس کے متعلق دریافت کیا ، انھوں نے پوچھا کہ تم نے انھیں کیا فتویٰ دیا تھا ؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے جواب دیا کہ میں نے انھیں اسے کھا لینے کا فتویٰ دیا تھا ، وہ کہتے ہیں کہ ( یہ سن کر ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اگر تم نے انھیں اس کے علاوہ فتویٰ دیا ہوتا تو میں ضرور تمھیں سزا دیتا ۔

783

Muwatta Imam Malik #783

Zaeef

[783] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ کَعْبَ الأَحْبَارِ أَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ فِی رَکْبٍ، حَتَّی إِذَا کَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ وَجَدُوا لَحْمَ صَیْدٍ، فَأَفْتَاہُمْ کَعْبٌ بِأَکْلِہِ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْمَدِینَۃِ ذَکَرُوا ذَلِکَ لَہُ, فَقَالَ : مَنْ أَفْتَاکُمْ بِہَذَا ؟ قَالُوا : کَعْبٌ۔ قَالَ : فَإِنِّی قَدْ أَمَّرْتُہُ عَلَیْکُمْ حَتَّی تَرْجِعُوا، ثُمَّ لَمَّا کَانُوا بِبَعْضِ طَرِیقِ مَکَّۃَ، مَرَّتْ بِہِمْ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَأَفْتَاہُمْ کَعْبٌ أَنْ یَأْخُذُوہُ فَیَأْکُلُوہُ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ذَکَرُوا لَہُ ذَلِکَ، فَقَالَ : مَا حَمَلَکَ عَلَی أَنْ تُفْتِیَہُمْ بِہَذَا ؟ قَالَ : ہُوَ مِنْ صَیْدِ الْبَحْرِ۔ قَالَ: وَمَا یُدْرِیکَ ؟ قَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، إِنْ ہِیَ إِلاَّ نَثْرَۃُ حُوتٍ، یَنْثُرُہُ فِی کُلِّ عَامٍ مَرَّتَیْنِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کعب احبار رحمہ اللہ ایک شُتر سوار قافلے میں ملک شام سے روانہ ہوئے ، وہ سب ( اہل قافلہ ) حالت احرام میں تھے ، یہاں تک کہ جب وہ راستے میں ( مدینہ کے پاس سے گزرنے سے بھی پہلے ) کسی جگہ پر تھے تو انھوں نے وہاں شکار کا گوشت پا لیا ، کعب رحمہ اللہ نے انھیں اسے کھا لینے کا فتویٰ دے دیا ۔ عطاء بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر جب وہ مدینہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ان کے سامنے اس کا تذکرہ کیا ، انھوں نے پوچھا کہ کس نے تمھیں یہ فتویٰ دیا تھا ؟ انھوں نے کہا کہ کعب رحمہ اللہ نے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ یقیناً ً میں نے اسے تم پر امیر مقرر کر دیا ہے یہاں تک کہ تم ( یہاں سے مکہ جا کر حج سے فارغ ہو کر پھر میرے پاس ) لوٹ آؤ ( تاکہ یہ تمھارے امام اور مفتی بنے رہیں ) ، پھر ( مدینہ سے آگے مکہ کی طرف جاتے ہوئے ) جب وہ مکہ کے راستے میں کسی جگہ پر تھے تو ان کے پاس سے ٹڈیوں کا لشکر ( ٹڈی دل ) گزرا ، تو کعب احبار رحمہ اللہ نے انھیں حکم دیا کہ انھیں پکڑو اور کھا لو ۔ عطاء بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر جب وہ ( اہل قافلہ ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ( واپسی کے سفر میں ) آئے تو انھوں نے ان کے سامنے اس ( ٹڈیوں کے واقعے ) کا تذکرہ کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( کعب رحمہ اللہ سے ) پوچھا : تمھیں کس چیز نے آمادہ کیا کہ تم نے انھیں یہ فتویٰ دے دیا ؟ تو وہ کہنے لگے کہ یہ سمندر کا شکار ہے ( اور سمندر کا شکار محرم کے لیے جائز ہے ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تمھیں ( یہ ) کیسے معلوم ہوا ؟ وہ کہنے لگے کہ اے امیر المؤمنین ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ ٹڈی دل مچھلی کی چھینک کے سوا کچھ نہیں جسے وہ ہر سال دو بار چھینک مار کر نکالتی ہے ۔