Muwatta Imam Malik #756
[756] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : الْمَرْأَۃُ الْحَائِضُ الَّتِی تُہِلُّ بِالْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَۃِ، إِنَّہَا تُہِلُّ بِحَجِّہَا أَوْ عُمْرَتِہَا إِذَا أَرَادَتْ، وَلَکِنْ لَا تَطُوفُ بِالْبَیْتِ، وَلَا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، وَہِیَ تَشْہَدُ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا مَعَ النَّاسِ، غَیْرَ أَنَّہَا لَا تَطُوفُ بِالْبَیْتِ, وَلَا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، وَلَا تَقْرَبُ الْمَسْجِدَ حَتَّی تَطْہُرَ۔
اردو ترجمہ · Urdu
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : وہ حیض والی عورت جو حج یا عمرے کا احرام باندھ لیتی ہے ، وہ جب چاہے اپنے حج یا عمرے کا تلبیہ پڑھ سکتی ہے ( کیونکہ تلبیہ اللہ کو یاد کرنے کی شکل ہے اور حائض اور جنبی اللہ کو یاد کر سکتے ہیں ) لیکن وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی نہیں کر سکتی ، اور وہ لوگوں کے ہمراہ حج کے تمام مناسک ( ارکان ادا کرنے کی جگہوں ) پر حاضر ہو گی ، سوائے اس کے کہ بلاشبہ وہ نہ بیت اللہ کا طواف کر سکتی ہے ، نہ صفا مروہ کے درمیان چکر لگا سکتی ہے اور نہ مسجد کے قریب آ سکتی ہے یہاں تک کہ حیض سے پاک ہو جائے ۔