Muwatta Imam Malik #127
[127] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ أبِی عَلْقَمَۃَ، عَنْ أُمِّہِ مَوْلَاۃِ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ، أَنَّہَا قَالَتْ : کَانَ النِّسَائُ یَبْعَثْنَ إِلَی عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ بِالدِّرَجَۃِ، فِیہَا الْکُرْسُفُ، فِیہِ الصُّفْرَۃُ مِنْ دَمِ الْحَیْضَۃِ، یَسْأَلْنَہَا عَنِ الصَّلَاۃِ، فَتَقُولُ لَہُنَّ : لَا تَعْجَلْنَ حَتَّی تَرَیْنَ الْقَصَّۃَ الْبَیْضَائَ۔ تُرِیدُ بِذَلِکَ الطُّہْرَ مِنَ الْحَیْضَۃِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
علقمہ بن ابی علقمہ رحمہ اللہ اپنی والدہ اُمِ علقمہ ( جن کا نام مرجانہ تھا ) جو اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی تھی ، سے روایت کرتے ہیں کہ عورتیں اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف ڈبیاں بھیجتی تھیں ، اُن میں روئی ہوتی تھی اور اس روئی پر حیض کے خون کا زرد نشان ہوتا تھا ، ( وہ اپنے جسم سے نکلنے والے خون کا رنگ روئی پر لگا کر کسی کے ہاتھ بھیج کر دراصل ) اُم المؤمنین سے نماز کے بارے میں پوچھا کرتی تھیں ( کہ آیا ابھی ہم حالتِ حیض میں شمار ہیں یا نہیں ؟ ) تو وہ اُن سے کہتیں کہ جلد بازی مت کرو ، ( انتظار کرو ) یہاں تک کہ تم بالکل سفید دھبہ دیکھ لو ، وہ اس سے حیض سے پاک ہونا مراد لیتی تھیں ۔