Muwatta Imam Malik #119
[119] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ، أَنَّہَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ، حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَیْدَائِ، أَوْ بِذَاتِ الْجَیْشِ، انْقَطَعَ عِقْدٌ لِی، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ عَلَی الْتِمَاسِہِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ، وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ، وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ، فَأَتَی النَّاسُ إِلَی أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، فَقَالُوا : أَلَا تَرَی مَا صَنَعَتْ عَائِشَۃُ، أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّہِ ﷺ وَبِالنَّاسِ، وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ، وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ. قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ وَرَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَاضِعٌ رَأْسَہُ عَلَی فَخِذِی قَدْ نَامَ، فَقَالَ : حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ وَالنَّاسَ، وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ، وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ، قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَعَاتَبَنِی أَبُو بَکْرٍ، فَقَالَ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَقُولَ، وَجَعَلَ یَطْعُنُ بِیَدِہِ فِی خَاصِرَتِی، فَلَا یَمْنَعُنِی مِنَ التَّحَرُّکِ إِلاَّ مَکَانُ رَأْسِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ عَلَی فَخِذِی، فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ حَتَّی أَصْبَحَ عَلَی غَیْرِ مَائٍ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی آیَۃَ التَّیَمُّمِ، فَتَیَمَّمُوا. فَقَالَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ : مَا ہِیَ بِأَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ یَا آلَ أبِی بَکْرٍ. قَالَتْ : فَبَعَثْنَا الْبَعِیرَ الَّذِی کُنْتُ عَلَیْہِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَہُ
اردو ترجمہ · Urdu
اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ آپ ﷺ کے کسی سفر میں نکلے ، یہاں تک کہ جب ہم بیداء یا ذاتُ الجیش نامی جگہ پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ گیا ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ اس کی تلاش کے لیے ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہی ٹھہرے رہے ، نہ تو وہ کسی پانی کے چشمے پر ( پڑاؤ کیے ہوئے ) تھے اور نہ ہی ان کے پاس پانی تھا ، تو لوگ ( میرے والد ) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے : کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ( آپ کی بیٹی ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے ؟ اُس نے رسول اللہ ﷺ کو بھی ٹھہرا لیا ہے اور لوگوں کو بھی ، جبکہ لوگ نہ تو کسی پانی ( کے چشمے ) پر ہیں اور نہ اُن کے پاس پانی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ( یہ سن کر ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ( میرے پاس ) آ گئے اور ( اس وقت ) رسول اللہ ﷺ اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے ہوئے نیند فرما رہے تھے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ( عائشہ ! ) تو نے رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو روک رکھا ہے ، حالانکہ نہ وہ کسی چشمے پر ہیں اور نہ اُن کے پاس پانی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے ڈانٹنے لگے اور اپنے ہاتھ سے میرے پہلو میں مارنے لگے ، ( مجھے تکلیف تو کافی ہو رہی تھی لیکن ) مجھے ہلنے اور حرکت کرنے سے صرف اور صرف یہ چیز روک رہی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کا سر مبارک میری ران پر تھا ، رسول اللہ ﷺ سوئے رہے ، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے پانی کے بغیر ہی صبح کی تو اللہ تعالیٰ نے تیمم والی آیت نازل فرما دی ، ( اللہ کی طرف سے پوری اُمتِ محمدیہ کو عطا ہونے والے اس انعام اور رخصت کو دیکھ کر ) حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اے ابوبکر کے گھر والو ! یہ کوئی تمہاری پہلی برکت نہیں ہے ( جس سے پوری اُمت کو فائدہ ہوا ہو بلکہ تمہاری وجہ سے اس سے پہلے بھی بڑی برکات نازل ہوتی رہی ہیں ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ( پہلے تو لوگ ہار کو اِدھر اُدھر تلاش کرتے رہے لیکن وہ نہ مل سکا ، پھر جب روانگی کے لیے ) ہم نے اُس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہم نے اس گلوبند ( ہار کو ) اس کے نیچے پا لیا ۔