Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 2 · Chapter 28

طہارت (کے مسائل) کی کتاب

جب جنبی شخص نماز پڑھ لے اور اسے یاد نہ رہے تو اس کا نماز کو لوٹانا اور غسل کرنا، جنبی کے اپنے کپڑے کو دھونے کا بیان

5 hadiths in this chapter

109

Muwatta Imam Malik #109

Sahih

[109] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَکِیمٍ، أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ کَبَّرَ فِی صَلَاۃٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَیْہِمْ بِیَدِہِ أَنِ امْکُثُوا فَذَہَبَ، ثُمَّ رَجَعَ وَعَلَی جِلْدِہِ أَثَرُ الْمَائِ

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نمازوں میں سے کسی نماز میں تکبیر تحریمہ کہہ ڈالی ، پھر لوگوں کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ( اپنی جگہوں پر ) ٹھہرے رہو ، پھر آپ ﷺ گھر چلے گئے ، پھر اس حال میں واپس آئے کہ آپ کے بدن مبارک پر پانی کا نشان تھا ۔

110

Muwatta Imam Malik #110

Sahih

[110] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ زُیَیْدِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّہُ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَی الْجُرُفِ فَنَظَرَ، فَإِذَا ہُوَ قَدِ احْتَلَمَ وَصَلَّی وَلَمْ یَغْتَسِلْ، فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا أَرَانِی إِلاَّ احْتَلَمْتُ وَمَا شَعَرْتُ، وَصَلَّیْتُ وَمَا اغْتَسَلْتُ قَالَ، فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَی فِی ثَوْبِہِ، وَنَضَحَ مَا لَمْ یَرَ، وَأَذَّنَ أَوْ أَقَامَ، ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَی مُتَمَکِّناً۔

اردو ترجمہ · Urdu

زُیید بن صلت رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جُرُف نامی جگہ کی طرف نکلا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ( کپڑوں پر ) نظر پڑی تو دیکھا کہ ان کو تو احتلام ہو چکا ہے اور انھوں نے بغیر غسل کیے نماز بھی ادا کر لی ہے ، تو وہ فرمانے لگے : اللہ کی قسم ! میں اپنے متعلق خیال نہیں کرتا مگر یہی کہ مجھے احتلام ہو چکا ہے اور مجھے اس کی خبر نہ ہو سکی ، ( خواب ہی نہ آیا یا خواب یاد ہی نہ رہا ) اور میں بغیر غسل کیے نماز بھی پڑھ چکا ہوں ۔ زُیید بن صلت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر انھوں نے غسل کیا اور اپنے کپڑے میں جس نشان کو دیکھا اُسے دھو ڈالا اور جو نظر نہ آیا وہاں چھینٹے مار دیے ، پھر اذان یا اقامت کہی ، پھر نماز ادا کی ، ( اور یہ سارے کام ) چاشت کے ( وقت سورج کے ) بلند ہو جانے کے بعد اطمینان سے ( ادا کیے ) ۔‘‘

111

Muwatta Imam Malik #111

Zaeef

[111] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَکِیمٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غَدَا إِلَی أَرْضِہِ بِالْجُرُفِ، فَوَجَدَ فِی ثَوْبِہِ احْتِلَامًا، فَقَالَ : لَقَدِ ابْتُلِیتُ بِالاِحْتِلَامِ مُنْذُ وُلِّیتُ أَمْرَ النَّاسِ. فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَی فِی ثَوْبِہِ مِنَ الاِحْتِلَامِ، ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ صبح کے وقت جُرُف نامی جگہ میں اپنی زمین پر گئے ( وہاں ) انھوں نے اپنے کپڑے میں احتلام ( کا نشان ) دیکھا تو کہنے لگے : یقیناً میں احتلام ( کے مرض ) میں مبتلا ہو گیا ہوں جب سے کہ لوگوں کے معاملے کا متولی یعنی خلیفہ بنایا گیا ہوں ، چنانچہ انھوں نے غسل کیا اور اپنے کپڑے میں موجود احتلام کے نشان کو دھویا ، پھر سورج طلوع ہونے کے بعد نماز فجر پڑھی ۔

112

Muwatta Imam Malik #112

Zaeef

[112] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ صَلَّی بِالنَّاسِ الصُّبْحَ، ثُمَّ غَدَا إِلَی أَرْضِہِ بِالْجُرُفِ، فَوَجَدَ فِی ثَوْبِہِ احْتِلَاماً فَقَالَ : إِنَّا لَمَّا أَصَبْنَا الْوَدَکَ لَانَتِ الْعُرُوقُ. فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ الاِحْتِلَامَ مِنْ ثَوْبِہِ، وَعَادَ لِصَلَاتِہِ

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ( مدینہ میں ) لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی ، پھر جُرُف مقام پر اپنی زمین میں آئے تو انھوں نے اپنے کپڑے میں احتلام کا نشان دیکھا ، کہنے لگے کہ جب سے ہم چربی پانے ( اور کھانے ) لگے ہیں ہماری تو رگیں ہی نرم ہو گئی ہیں ، پھر انھوں نے غسل کیا اور اپنے کپڑے سے احتلام کا نشان دھویا اور اپنی نماز کو دوبارہ پڑھ لیا ۔

113

Muwatta Imam Malik #113

Sahih

[113] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّہُ اعْتَمَرَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِی رَکْبٍ فِیہِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَرَّسَ بِبَعْضِ الطَّرِیق، قَرِیباً مِنْ بَعْضِ الْمِیَاہِ، فَاحْتَلَمَ عُمَرُ وَقَدْ کَادَ أَنْ یُصْبِح، فَلَمْ یَجِدْ مَعَ الرَّکْبِ مَائً، فَرَکِبَ حَتَّی جَائَ الْمَائَ، فَجَعَلَ یَغْسِلُ مَا رَأَی مِنْ ذَلِکَ الاِحْتِلَامِ حَتَّی أَسْفَرَ، فَقَالَ لَہُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ أَصْبَحْتَ وَمَعَنَا ثِیَابٌ، فَدَعْ ثَوْبَکَ یُغْسَلُ. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : وَاعَجَباً لَکَ یَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ لَئِنْ کُنْتَ تَجِدُ ثِیَاباً، أَفَکُلُّ النَّاسِ یَجِدُ ثِیَاباً، وَاللَّہِ لَوْ فَعَلْتُہَا لَکَانَتْ سُنَّۃً، بَلْ أَغْسِلُ مَا رَأَیْتُ وَأَنْضِحُ مَا لَمْ أَرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

’’ یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ ( یحیی کے والد ) ایک شُتر سوار قافلے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عمرہ ادا کرنے کے لیے گئے ، اُن میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رات راستے میں کسی جگہ کسی چشمے کے قریب پڑاؤ کیا تو ان کو احتلام ہو گیا ، قریب تھا کہ صبح ہو جاتی لیکن اُن کو قافلے میں پانی نہ ملا ، چنانچہ وہ سوار ہو کر چشمے پر گئے ( وہاں غسل کیا ) اور اپنے کپڑے سے اس احتلام کا نشان دھونے لگے ، یہاں تک کہ کافی روشنی ہو گئی تو ان سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ نے ( کپڑے دھوتے دھوتے اتنی ) صبح کر دی ہے حالانکہ ہمارے پاس کئی کپڑے موجود ہیں ، آپ اپنے کپڑے کو چھوڑ دیجیے ، اسے دھو دیا جائے گا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اے عاص کے بیٹے ! تجھ پر تعجب ہے ، اگر تو کپڑے رکھتا ہے تو کیا لوگوں میں سے ہر کسی کے پاس ( مزید ) کپڑے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! اگر میں ایسا کرتا تو یہ ( میرے ماتحتوں اور رعایا کے لیے ) ایک سنت ( اور جاری ہو جانے والا طریقہ ) بن جاتا ( اور کتنے ہی لوگوں کو مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ، اس لیے میں نیا کپڑا نہ لوں گا ) بلکہ ( اسی پہنے ہوئے کپڑے سے ) میں اُس نشان کو دھو ڈالوں گا جسے کہ دیکھ لوں گا اور جسے دیکھ نہ پاؤں گا اُس پر چھینٹے مار لوں گا ۔