Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 2 · Chapter 16

طہارت (کے مسائل) کی کتاب

اُن روایات کا بیان جو موزوں پر مسح کرنے کے بارے ۔۔

4 hadiths in this chapter

70

Muwatta Imam Malik #70

Sahih

[70] حَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِیَادٍ مِنْ وَلَدِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ ذَہَبَ لِحَاجَتِہِ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ - قَالَ الْمُغِیرَۃُ - فَذَہَبْتُ مَعَہُ بِمَائٍ فَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَسَکَبْتُ عَلَیْہِ الْمَائَ فَغَسَلَ وَجْہَہُ ثُمَّ ذَہَبَ یُخْرِجُ یَدَیْہِ مِنْ کُمَّیْ جُبَّتِہِ فَلَمْ یَسْتَطِعْ مِنْ ضِیقِ کُمَّیِ الْجُبَّۃِ فَأَخْرَجَہُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ فَغَسَلَ یَدَیْہِ وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَمَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ فَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ یَؤُمُّہُمْ وَقَدْ صَلَّی بِہِمْ رَکْعَۃً فَصَلَّی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ الرَّکْعَۃَ الَّتِی بَقِیَتْ عَلَیْہِمْ فَفَزِعَ النَّاسُ فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ ((أَحْسَنْتُمْ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ غزوۂ تبوک ( کے سفر ) میں قضائے حاجت کے لیے گئے ، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بھی آپ ﷺ کے ہمراہ پانی لے کر گیا ، پھر جب آپ ﷺ ( فارغ ہو کر ) آئے تو میں نے آپ پر پانی انڈیلا ، چنانچہ آپ ﷺ نے اپنا چہرہ مبارک دھویا ، پھر آپ ﷺ شروع ہوئے ( اور ) اپنے ہاتھوں کو اپنے جبے کی آستینوں سے نکالنے لگے ، لیکن آستینوں کے تنگ ہونے کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے ، تو آپ نے اپنے ہاتھوں کو جبہ کے نیچے سے نکال لیا ، پھر اپنے دونوں ہاتھوں ( یعنی بازوؤں کو دھویا ، پھر اپنے سر کا مسح کیا اور موزوں پر بھی مسح ہی کیا ، پھر رسول اللہ ﷺ ( لوگوں کے پاس ) اس حال میں آئے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ لوگوں کی امامت کرا رہے تھے اور ان کو ایک رکعت پڑھا چکے تھے ، چنانچہ ( جماعت ختم ہونے کے بعد ) رسول اللہ ﷺ نے اپنی وہ رکعت ادا کی جو ( نماز فجر میں سے ) باقی رہتی تھی ، تو ( یہ صورتحال دیکھ کر ) لوگ گھبرا گئے ، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز پوری کر لی تو فرمایا :’’ تم نے اچھا کیا ۔‘‘

71

Muwatta Imam Malik #71

Sahih

[71] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ وَعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِینَارٍ أَنَّہُمَا أَخْبَرَاہُ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَدِمَ الْکُوفَۃَ عَلَی سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ وَہُوَ أَمِیرُہَا فَرَآہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ یَمْسَحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ عَلَیْہِ فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ سَلْ أَبَاکَ إِذَا قَدِمْتَ عَلَیْہِ فَقَدِمَ عَبْدُ اللّٰہِ فَنَسِیَ أَنْ یَسْأَلَ عُمَرَ عَنْ ذَلِکَ حَتَّی قَدِمَ سَعْدٌ فَقَالَ أَسَأَلْتَ أَبَاکَ فَقَالَ لَا ۔ فَسَأَلَہُ عَبْدُ اللّٰہِ فَقَالَ عُمَرُ إِذَا أَدْخَلْتَ رِجْلَیْکَ فِی الْخُفَّیْنِ وَہُمَا طَاہِرَتَانِ فَامْسَحْ عَلَیْہِمَا ۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ وَإِنْ جَائَ أَحَدُنَا مِنَ الْغَائِطِ فَقَالَ عُمَرُ نَعَمْ وَإِنْ جَائَ أَحَدُکُمْ مِنَ الْغَائِطِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ اور عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کوفہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، جو کوفہ کے امیر ( حاکم ) تھے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو دیکھا کہ وہ موزوں پر مسح کر رہے ہیں ، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان پر اس فعل کا انکار ( کیا اور ان پر اعتراض ) کیا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تم اپنے باپ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) کے پاس جاؤ تو اُن سے ( اس بارے میں ) پوچھنا ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ ( واپس مدینہ ) آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھنا بھول گئے ، یہاں تک کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی آ گئے تو انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا تو نے اپنے باپ سے سوال کیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں ۔ پھر عبداللہ نے اپنے باپ سے پوچھا ، تو انھوں نے فرمایا : جب تم موزوں میں اپنے پاؤں اس حال میں داخل کرو کہ وہ باوضو ہوں تو ان پر مسح کر لیا کرو ، عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ خواہ ہم میں سے کوئی پاخانہ سے ( فارغ ہو کر ) آئے ( تو پھر بھی مسح کرے ) ؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہاں ، اگرچہ تم میں سے کوئی پاخانہ سے ہو کر آئے ۔

72

Muwatta Imam Malik #72

Sahih

[72] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ بَالَ فِی السُّوقِ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ وَمَسَحَ رَأْسَہُ ثُمَّ دُعِیَ لِجَنَازَۃٍ لِیُصَلِّیَ عَلَیْہَا حِینَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ ثُمَّ صَلَّی عَلَیْہَا ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بازار میں پیشاب کیا ، پھر وضو کیا اور ( اس میں ) اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا ، پھر جب وہ مسجد میں داخل ہوئے تو ان کو ایک جنازے کی طرف بلایا گیا تاکہ وہ اس پر نماز ادا کریں ، چنانچہ انھوں نے اپنے موزوں پر مسح کیا اور پھر اس ( میت ) پر نمازِ جنازہ پڑھی ۔

73

Muwatta Imam Malik #73

Sahih

[73] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رُقَیْشٍ أَنَّہُ قَالَ رَأَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ أَتَی قُبَا فَبَالَ ثُمَّ أُتِیَ بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَمَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ ثُمَّ جَائَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّی۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن عبدالرحمن بن رُقیش اشعری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ قُبا میں آئے ، ( وہاں انھوں نے ) پیشاب کیا ، پھر ان کے پاس وضو کا پانی لایا گیا ، ( جس سے ) انھوں نے وضو کیا ، چنانچہ انھوں نے اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا ، اپنے سر کا مسح کیا اور موزوں پر بھی مسح کیا ، پھر مسجد قُبا میں آئے تو نماز ادا کی ۔