Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 2 · Chapter 11

طہارت (کے مسائل) کی کتاب

وضو کے لیے پاکیزہ پانی کا بیان

4 hadiths in this chapter

40

Muwatta Imam Malik #40

Sahih

[40] حدثنی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ, عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ سَلَمَۃَ, مِنْ آلِ بَنِی الأَزْرَقِ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ أبِی بُرْدَۃَ، وَہُوَ مِنْ بَنِی عَبْدِ الدَّارِ، أَنَّہُ سَمِعَ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِیلَ مِنَ الْمَائِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِہِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ بِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ (( ہُوَ الطَّہُورُ مَاؤُہُ الْحِلُّ مَیْتَتُہُ))۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! یقیناً ہم سمندر میں سواری کرتے ہیں اور ( زیادہ بوجھ سے بچنے کے لیے ) اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی ( پینے کے لیے ) لے لیتے ہیں ، پھر اگر ہم ( نماز کے وقت ) اسی پانی سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں گے ( جس سے جان کا خطرہ ہے اور سمندر کا پانی پینے کے قابل نہیں ) تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔‘‘

41

Muwatta Imam Malik #41

Sahih

[41] وحدثنی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أبِی طَلْحَۃَ، عَنْ حُمَیْدَۃَ بِنْتِ أبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ فَرْوَۃَ، عَنْ خَالَتِہَا کَبْشَۃَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ - وَکَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِی قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیِّ - أَنَّہَا أَخْبَرَتْہَا أَنَّ أَبَا قَتَادَۃَ دَخَلَ عَلَیْہَا فَسَکَبَتْ لَہُ وَضُوئً ا فَجَائَ تْ ہِرَّۃٌ لِتَشْرَبَ مِنْہُ فَأَصْغَی لَہَا الإِنَائَ حَتَّی شَرِبَتْ قَالَتْ کَبْشَۃُ فَرَآنِی أَنْظُرُ إِلَیْہِ فَقَالَ أَتَعْجَبِینَ یَا ابْنَۃَ أَخِی قَالَتْ فَقُلْتُ نَعَمْ ۔ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ ((إِنَّہَا لَیْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا ہِیَ مِنَ الطَّوَّافِینَ عَلَیْکُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ))

اردو ترجمہ · Urdu

’’ حضرت کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہما جو ( عبداللہ ) بن ابی قتادہ کے نکاح میں تھیں ، سے روایت ہے کہ بے شک ( اُن کے سسر ) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اُن کے پاس تشریف لائے ، کبشہ رضی اللہ عنہا نے اُن کے لیے وضو کا پانی انڈیلا ، ( اتنے میں ) ایک بلی آئی ( اور پانی کو دیکھنے لگی ) تاکہ اس میں سے پی سکے ، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے برتن اس کے لیے جھکا دیا ، یہاں تک کہ بلی نے پانی پی لیا ، کبشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا کہ میں اُن کو ( تعجب سے ) دیکھے جا رہی ہوں تو کہنے لگے : اے میری بھتیجی ! کیا تم تعجب کر رہی ہو ؟ وہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا : جی ہاں ، تو انھوں نے جواب دیا کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً بلی نجس اور ناپاک نہیں ہے ، بلاشبہ وہ تو تم پر چکر لگانے والوں یا چکر لگانے والیوں میں سے ہے ۔‘‘

42

Muwatta Imam Malik #42

Zaeef

[42] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ فِی رَکْبٍ فِیہِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتَّی وَرَدُوا حَوْضًا فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِصَاحِبِ الْحَوْضِ یَا صَاحِبَ الْحَوْضِ ہَلْ تَرِدُ حَوْضَکَ السِّبَاعُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لَا تُخْبِرْنَا فَإِنَّا نَرِدُ عَلَی السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَیْنَا ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک ( شتر سوار ) قافلے میں ( کہیں جانے کے لیے ) نکلے ، اُن میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی تھے ، یہاں تک کہ وہ ایک حوض پر پہنچے ، حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حوض والے سے کہا کہ اے حوض والے ! کیا تیرے حوض پر درندے بھی ( پانی پینے کے لیے ) آتے ہیں ؟ تو اُس ( حوض والے ) سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے حوض والے ! تو ہمیں خبر نہ دے ( تجھے ہم کو اس کے متعلق بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ) کیونکہ بے شک ہم درندوں ( کے جانے کے بعد ان کے بچے ہوئے پانی ) پر آتے ہیں اور وہ ہم ( سے بچے ہوئے پانی ) پر وارد ہوتے ہیں ۔

43

Muwatta Imam Malik #43

Sahih

[43] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ إِنْ کَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَائُ فِی زَمَانِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ لَیَتَوَضَّئُونَ جَمِیعًا ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے : یقیناً رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مرد اور عورتیں اکٹھے وضو کیا کرتے تھے ۔