Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 19 · Chapter 200

زکاۃ کے مسائل کی کتاب

صدقہ فطر بھیجنے کے وقت کا بیان

2 hadiths in this chapter

702

Muwatta Imam Malik #702

Sahih

[702] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَبْعَثُ بِزَکَاۃِ الْفِطْرِ إِلَی الَّذِی تُجْمَعُ عِنْدَہُ قَبْلَ الْفِطْرِ بِیَوْمَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید سے دو تین دن پہلے ہی صدقہ فطر اس شخص کے پاس بھیج دیا کرتے تھے جس کے پاس صدقہ فطر جمع ہوا کرتا تھا ۔

703

Muwatta Imam Malik #703

Sahih

[703] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ : لَیْسَ عَلَی الرَّجُلِ فِی عَبِیدِ عَبِیدِہِ، وَلَا فِی أَجِیرِہِ، وَلَا فِی رَقِیقِ امْرَأَتِہِ زَکَاۃٌ، إِلاَّ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ یَخْدُمُہُ وَلاَ بُدَّ لَہُ مِنْہُ، فَتَجِبُ عَلَیْہِ، وَلَیْسَ عَلَیْہِ زَکَاۃٌ فِی أَحَدٍ مِنْ رَقِیقِہِ الْکَافِرِ مَا لَمْ یُسْلِمْ، لِتِجَارَۃٍ کَانُوا أَوْ لِغَیْرِ تِجَارَۃٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اپنے غلام کے غلاموں اور اپنے نوکروں اور لونڈی کے غلام کا صدقہ فطر واجب نہیں ، لیکن اُن میں سے جو خدمت کرتا ہو تو اس کا صدقہ فطر دینا واجب ہو گا ۔ اور کہا کہ جو غلام کافر ہوں ان کی طرف سے بھی صدقہ فطر واجب نہیں جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں وہ تجارت کے ہوں یا نہ ہوں ۔ ( الأموال ابن زنجویۃ : 1274/3 ) ۔