Muwatta Imam Malik #696
[696] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَہُوَ یَقُولُ : حَمَلْتُ عَلَی فَرَسٍ عَتِیقٍ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَکَانَ الرَّجُلُ الَّذِی ہُوَ عِنْدَہُ قَدْ أَضَاعَہُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِیَہُ مِنْہُ وَظَنَنْتُ، أَ نَّہُ بَائِعُہُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : لَا تَشْتَرِہِ، وَإِنْ أَعْطَاکَہُ بِدِرْہَمٍ وَاحِدٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِی صَدَقَتِہِ، کَالْکَلْبِ یَعُودُ فِی قَیْئِہِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد ( اسلم عدوی رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے اللہ کی راہ میں ( کسی شخص کو ) ایک عمدہ گھوڑا ( سواری کے لیے ) دیا اور جس شخص کے پاس وہ گھوڑا تھا ( جسے میں نے دیا تھا ) اس نے اس ( گھوڑے ) کو ضائع کر دیا تو میں نے ارادہ کر لیا کہ اسے اس سے ( واپس لینے کے لیے ) خرید لوں اور میں نے یہ خیال بھی کیا کہ وہ اس گھوڑے کو سستے بھاؤ کے ساتھ بیچ دے گا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے نہ خریدنا اگرچہ وہ تمھیں یہ گھوڑا ایک درہم کے عوض دے دے ، کیونکہ بلاشبہ اپنے صدقے میں ( اس طرح دوبارہ ) لوٹنے والا کتے کی طرح ہے جو اپنی قے میں لوٹتا ہے ۔‘‘