Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 19 · Chapter 196

زکاۃ کے مسائل کی کتاب

ذِمّیوں کے دسویں حصے کا بیان

3 hadiths in this chapter

693

Muwatta Imam Malik #693

Sahih

[693] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ یَأْخُذُ مِنَ النَّبَطِ، مِنَ الْحِنْطَۃِ وَالزَّیْتِ نِصْفَ الْعُشْرِ، یُرِیدُ بِذَلِکَ أَنْ یَکْثُرَ الْحَمْلُ إِلَی الْمَدِینَۃِ، وَیَأْخُذُ مِنَ الْقُطْنِیَّۃِ الْعُشْرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد ( حضرت عبدللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ یقیناً حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( ملک شام کے ) عیسائی تاجروں سے گندم اور زیتون کے تیل کا بیسواں حصہ لیتے تھے ( دسویں حصے کی بجائے اس سے آدھا یعنی بیسواں حصہ لیتے ) وہ اس ( تخفیف ) کے ذریعے یہ چاہتے تھے کہ ( ان دونوں چیزوں کا ) بوجھ مدینہ کی طرف زیادہ لایا جائے اور وہ دالوں سے دسواں حصہ لیتے تھے ۔

694

Muwatta Imam Malik #694

Sahih

[694] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ، أَ نَّہُ قَالَ: کُنْتُ غُلَاماً عَامِلاً مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ عَلَی سُوقِ الْمَدِینَۃِ فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَکُنَّا نَأْخُذُ مِنَ النَّبَطِ الْعُشْرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ کے ہمراہ مدینہ کے بازار پر عامل ( مقرر ) تھا ، تو ہم شامی کافروں سے دسواں حصہ لیتے تھے ۔

695

Muwatta Imam Malik #695

Sahih

[695] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ سَأَلَ ابْنَ شِہَابٍ، عَلَی أَیِّ وَجْہٍ کَانَ یَأْخُذُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنَ النَّبَطِ الْعُشْرَ، فَقَالَ ابْنُ شِہَابٍ: کَانَ ذَلِکَ یُؤْخَذُ مِنْہُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَأَلْزَمَہُمْ ذَلِکَ عُمَرُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے پوچھا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کس طریقے کے مطابق شامی کافر تاجروں سے دسواں حصہ لیتے تھے ؟ تو ابن شہاب رحمہ اللہ نے فرمایا : یہ ان سے دور جاہلیت میں بھی وصول کیا جاتا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کو ان پر لازم کر دیا ۔