Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 19 · Chapter 195

زکاۃ کے مسائل کی کتاب

اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ اور مجوسیوں ) سے جزیہ لینے کا بیان

5 hadiths in this chapter

688

Muwatta Imam Malik #688

Sahih

[688] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ،عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ أَخَذَ الْجِزْیَۃَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَیْنِ، وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخَذَہَا مِنْ مَجُوسِ فَارِسَ، وَأَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَخَذَہَا مِنَ الْبَرْبَرِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھیں یہ خبر پہنچی کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے بحرین کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا اور بے شک حضرت عمر بن خطاب رحمہ اللہ نے فارس ( ایران ) کے مجوسیوں سے اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بربرقوم سے جزیہ وصول کیا ۔

689

Muwatta Imam Malik #689

Sahih

[689] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ذَکَرَ الْمَجُوسَ فَقَالَ : مَا أَدْرِی کَیْفَ أَصْنَعُ فِی أَمْرِہِمْ۔ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : أَشْہَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : سُنُّوا بِہِمْ سُنَّۃَ أَہْلِ الْکِتَابِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

جعفر رحمہ اللہ ( المعروف امام جعفر صادق رحمہ اللہ ) بن محمد بن علی رحمہ اللہ اپنے والد ( محمد المعروف امام باقر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں کا تذکرہ کیا تو فرمایا کہ مجھے نہیں علم کہ ان کے معاملے میں کیسے کروں ؟ تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا :’’ ان کے ساتھ اہل کتاب ہی کا طریقہ اختیار کرو ۔‘‘

690

Muwatta Imam Malik #690

Sahih

[690] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ضَرَبَ الْجِزْیَۃَ عَلَی أَہْلِ الذَّہَبِ : أَرْبَعَۃَ دَنَانِیرَ، وَعَلَی أَہْلِ الْوَرِقِ أَرْبَعِینَ دِرْہَماً، مَعَ ذَلِکَ أَرْزَاقُ الْمُسْلِمِینَ وَضِیَافَۃُ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

اسلم رحمہ اللہ جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سونے ( سے جزیہ ادا کرنے والوں یا سونے کا کاروبار کرنے ) والوں پر چار دینار اور چاندی والوں پر چالیس درہم جزیہ مقرر کیا ، ( اور ) اس کے ساتھ یہ ( بھی مقرر کیا ) کہ ( بھوکے یا مسافر یا مجاہد ) مسلمانوں کو کھانا کھلانا اور ( اگر وہ ان کے پاس قیام کریں تو ) تین دن کی ضیافت کرنا ( بھی ان پر لازم ہے ) ۔

691

Muwatta Imam Malik #691

Sahih

[691] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّ فِی الظَّہْرِ نَاقَۃً عَمْیَائَ، فَقَالَ عُمَرُ : ادْفَعْہَا إِلَی أَہْلِ بَیْتٍ یَنْتَفِعُونَ بِہَا، قَالَ : فَقُلْتُ وَہِیَ عَمْیَائُ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : یَقْطُرُونَہَا بِالإِبِلِ۔ قَالَ : فَقُلْتُ کَیْفَ تَأْکُلُ مِنَ الأَرْضِ ؟ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ : أَمِنْ نَعَمِ الْجِزْیَۃِ ہِیَ ؟ أَمْ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَۃِ ؟ فَقُلْتُ : بَلْ مِنْ نَعَمِ الْجِزْیَۃِ۔ فَقَالَ عُمَرُ : أَرَدْتُمْ وَاللّٰہِ أَکْلَہَا۔ فَقُلْتُ : إِنَّ عَلَیْہَا وَسْمَ الْجِزْیَۃِ۔ فَأَمَرَ بِہَا عُمَرُ فَنُحِرَتْ، وَکَانَ عِنْدَہُ صِحَافٌ تِسْعٌ، فَلَا تَکُونُ فَاکِہَۃٌ وَلَا طُرَیْفَۃٌ إِلاَّ جَعَلَ مِنْہَا فِی تِلْکَ الصِّحَافِ، فَبَعَثَ بِہَا إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ﷺ ، وَیَکُونُ الَّذِی یَبْعَثُ بِہِ إِلَی حَفْصَۃَ ابْنَتِہِ مِنْ آخِرِ ذَلِکَ، فَإِنْ کَانَ فِیہِ نُقْصَانٌ کَانَ فِی حَظِّ حَفْصَۃَ، قَالَ: فَجَعَلَ فِی تِلْکَ الصِّحَافِ مِنْ لَحْمِ تِلْکَ الْجَزُورِ، فَبَعَثَ بِہِ إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ﷺ ، وَأَمَرَ بِمَا بَقِیَ مِنْ لَحْمِ تِلْکَ الْجَزُورِ فَصُنِعَ، فَدَعَا عَلَیْہِ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم اپنے باپ ( اسلم عدوی رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے ( اپنے آقا امیرالمومنین ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سواری والے اونٹوں میں ایک اندھی اونٹنی بھی ہے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ کسی گھر والوں کو دے دو ، وہ اس سے نفع حاصل کرتے رہیں ، اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ وہ تو اندھی اونٹنی ہے ( بھلا وہ کسی نفع کے قابل ہے ؟ ) انھوں نے فرمایا : وہ اسے اونٹوں کے ساتھ قطار میں باندھ لیں گے ، ( وہ ان کے ساتھ ساتھ چلتی رہے گی اور اس پر سواری بھی ہو سکے گی ۔ ) وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ وہ زمین سے کیسے کھائے گی ؟ اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ( جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سوالات سے محسوس کیا کہ سوال کرنے والوں کی نظر میں جب اسے پالنا ممکن ہی نہیں ہے تو پھر ایک ہی منفعت باقی رہ جاتی ہے کہ اسے ذبح کر دیا جائے چنانچہ ) انھوں نے پوچھا کہ کیا وہ جزیہ کے اونٹوں میں سے ہے ( کہ جس کا گوشت ہر مسلمان کھا سکتا ہے خواہ مالدار ہو یا فقیر ) یا زکاۃ کے اونٹوں میں سے ہے ( کہ جسے صرف مساکین وغیرہ مخصوص لوگ ہی کھا سکتے ہیں ) ؟ میں نے کہا کہ بلکہ وہ جزیہ کے اونٹوں میں سے ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : اللہ کی قسم ! تم اسے کھانے کا ارادہ کیے ہوئے ہو تو میں نے عرض کیا کہ یقیناً اس پر جزیہ کے اونٹوں کی نشانی ( انھیں داغنے کے خاص انداز میں ) موجود ہے ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تو اسے نحر کر دیا گیا ( اونٹ کے ذبح کرنے کے خاص طریقے کو نحر کہتے ہیں ) ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نو پلیٹیں ( رکابیاں ) تھیں ، ان کے پاس جو کوئی بھی پھل ہوتا یا عمدہ چیز ہوتی تو وہ ضرور اس میں سے کچھ حصہ ان پلیٹوں میں بھی ڈال دیتے ، پھر انھیں نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کی طرف بھیج دیتے اور جو پیالہ اپنی بیٹی ( ام المومنین ) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجنا ہوتا وہ سب سے آخر میں ہوتا تھا ، پھر اگر اس چیز میں کوئی کمی ہوتی تو وہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے حصے ہی میں ہوتی تھی ، اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان پلیٹوں میں اس اونٹنی کا گوشت ڈالا ، پھر انھیں نبی پاک ﷺ کی ازواج مطہرات کی طرف بھیج دیا اور اس اونٹنی کا جو گوشت باقی بچ گیا اس کے متعلق حکم فرمایا ، چنانچہ اسے ( پکا کر ) تیار کیا گیا پھر اس پر سب مہاجرین و انصار کو بلایا ( اور عام دعوتِ طعام کا اہتمام کیا ) ۔

692

Muwatta Imam Malik #692

Zaeef

[692] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَتَبَ إِلَی عُمَّالِہِ أَنْ یَضَعُوا الْجِزْیَۃَ عَمَّنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ الْجِزْیَۃِ حِینَ یُسْلِمُونَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے عاملوں ( سرکاری کارندوں ) کی طرف یہ لکھ بھیجا کہ وہ اس شخص سے جزیہ معاف ( اور ختم ) کر دیں جو اہل جزیہ میں سے مسلمان ہو جائے ، جب بھی وہ مسلمان ہو جائیں ۔