Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 19 · Chapter 191

زکاۃ کے مسائل کی کتاب

صدقات وصول کرنے اور ان ( کے روکنے ) میں ( یاغلط جگہ استعمال کرنے پر ) سخت وعید کا بیان

3 hadiths in this chapter

678

Muwatta Imam Malik #678

Sahih

[678] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ قَالَ : لَوْ مَنَعُونِی عِقَالاً لَجَاہَدْتُہُمْ عَلَیْہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر انھوں نے مجھے اونٹ باندھنے کی رسی ( جو زکاۃ میں پڑتی ہو لیکن انھوں نے ) نہ دی تو میں اس پر بھی ان سے جہاد کروں گا ۔

679

Muwatta Imam Malik #679

Zaeef

[679] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَ نَّہُ قَالَ : شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَبَناً فَأَعْجَبَہُ، فَسَأَلَ الَّذِی سَقَاہُ مِنْ أَیْنَ ہَذَا اللَّبَنُ، فَأَخْبَرَہُ أَ نَّہُ وَرَدَ عَلَی مَائٍ - قَدْ سَمَّاہُ - فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَۃِ، وَہُمْ یَسْقُونَ فَحَلَبُوا لِی مِنْ أَلْبَانِہَا، فَجَعَلْتُہُ فِی سِقَائِی فَہُوَ ہَذَا، فَأَدْخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَدَہُ فَاسْتَقَائَ ہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( ایک دفعہ خدمت میں لایا ہوا ) کچھ دودھ پیا تو وہ انھیں بہت اچھا لگا ، چنانچہ انھوں نے اس شخص سے دریافت کیا جس نے انھیں دودھ پلایا تھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ؟ تو اس نے انھیں بتایا کہ بے شک وہ ایک پانی ( کے چشمے ) پر گیا تھا جس کا اس نے نام بھی لیا ( لیکن راوی کو بھول گیا یا اس نے اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہ سمجھی ، اس شخص نے مزید کہا : ) تو اچانک میں نے دیکھا کہ وہاں زکاۃ کے جانوروں میں سے کچھ جانور تھے اور وہ چرواہے ان کو پانی پلا رہے تھے ، پھر انھوں نے میرے لیے ان کے دودھ میں سے کچھ دوہا تو میں نے اسے اپنے مشکیزے میں ڈال لیا تو وہ یہی تھا ( جو آپ نے پیا ہے ) تو ( یہ سنتے ہی ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اپنے منہ میں داخل کیا ، پھر اس دودھ کی قے کر دی ۔

680

Muwatta Imam Malik #680

Zaeef

[680] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ عَامِلاً لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَتَبَ إِلَیْہِ، یَذْکُرُ أَنَّ رَجُلاً مَنَعَ زَکَاۃَ مَالِہِ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ : أَنْ دَعْہُ وَلَا تَأْخُذْ مِنْہُ زَکَاۃً مَعَ الْمُسْلِمِینَ، قَالَ فَبَلَغَ ذَلِکَ الرَّجُلَ فَاشْتَدَّ عَلَیْہِ، وَأَدَّی بَعْدَ ذَلِکَ زَکَاۃَ مَالِہِ، فَکَتَبَ عَامِلُ عُمَرَ إِلَیْہِ یَذْکُرُ لَہُ ذَلِکَ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ أَنْ خُذْہَا مِنْہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ایک عامل ( زکاۃ اکٹھی کرنے پر مقرر شخص ) نے ان کی طرف خط لکھا ، ( جس میں ) وہ یہ ذکر کر رہا تھا کہ ایک شخص نے اپنے مال کی زکاۃ روک لی ہے ( اور ادا نہیں کر رہا ) ، تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس کی طرف یہ جواب لکھا کہ تم اسے چھوڑ دو اور مسلمانوں کے ساتھ اس سے زکاۃ نہ لو ، امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس شخص تک یہ بات پہنچ گئی تو اس پر بہت سخت ( اور گراں ) گزری اور اس کے بعد اس نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی ، چنانچہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے عامل نے ان کی طرف ( پھر خط ) لکھا ( جس میں ) وہ ان کے لیے یہ صورت حال ذکر کر رہا تھا ، تو عمر رحمہ اللہ نے اس کی طرف لکھا کہ اس سے زکاۃ لے لو ۔