Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 19 · Chapter 190

زکاۃ کے مسائل کی کتاب

صدقہ لینے کا اور ان لوگوں کا بیان جن کے لیے اسے لینا جائز ہے

1 hadith in this chapter

677

Muwatta Imam Malik #677

Sahih

[677] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:لَا تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لِغَنِیٍّ، إِلاَّ لِخَمْسَۃٍ: لِغَازٍ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، أَوْ لِعَامِلٍ عَلَیْہَا، أَوْ لِغَارِمٍ، أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاہَا بِمَالِہِ، أَوْ لِرَجُلٍ لَہُ جَارٌ مِسْکِین، فَتُصُدِّقَ عَلَی الْمِسْکِینِ، فَأَہْدَی الْمِسْکِینُ لِلْغَنِیِّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی مالدار کے لیے صدقہ ( و زکاۃ لینا اور مانگنا ) جائز نہیں ، مگر پانچ ( قسم کے مالداروں ) کے لیے جائز ہے ، ( 1 ) اللہ کی راہ میں لڑائی کرنے والا ( 2 ) یا زکاۃ ( اکٹھی کرنے ) پر کام کرنے والا ( عامل ) ( 3 ) یا چٹی ( تاوان ، قرض ) والا ( 4 ) یا ایسے شخص کے لیے ( جائز ہے ) جس نے اسے اپنے مال کے عوض ( کسی مسکین وغیرہ سے ) خرید لیا ، ( 5 ) یا ایسے شخص کے لیے کہ جس کا کوئی مسکین پڑوسی ہو ، چنانچہ اس مسکین پر صدقہ کیا گیا تو اس مسکین نے اس مالدار ( پڑوسی ) کو ( اس زکاۃ والی چیز کا ) ہدیہ دے دیا ۔