Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 19 · Chapter 189

زکاۃ کے مسائل کی کتاب

زکاۃ ( کی وصولی ) میں لوگوں پر تنگی ڈالنے سے ممانعت کا بیان

2 hadiths in this chapter

675

Muwatta Imam Malik #675

Sahih

[675] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَ نَّہَا قَالَتْ : مُرَّ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِغَنَمٍ مِنَ الصَّدَقَۃِ، فَرَأَی فِیہَا شَاۃً حَافِلاً، ذَاتَ ضَرْعٍ عَظِیمٍ, فَقَالَ عُمَرُ مَا ہَذِہِ الشَّاۃُ ؟ فَقَالُوا : شَاۃٌ مِنَ الصَّدَقَۃِ۔ فَقَالَ عُمَرُ : مَا أَعْطَی ہَذِہِ أَہْلُہَا وَہُمْ طَائِعُونَ، لَا تَفْتِنُوا النَّاسَ، لَا تَأْخُذُوا حَزَرَاتِ الْمُسْلِمِینَ، نَکِّبُوا عَنِ الطَّعَامِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے زکاۃ کی بکریاں گزاری گئیں تو انھوں نے ان میں سے ایک بڑے تھنوں والی دودھیل بکری دیکھی ، سو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ بکری کیسی ہے ؟ ( اس کا کیا معاملہ ہے ؟ ) تو لوگوں نے کہا کہ یہ زکاۃ سے حاصل ہونے والی بکری ہے ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : یہ بکری اس کے مالکوں نے خوشی سے نہیں دی ، ( بھلا کون ایسا دودھ دینے والا عمدہ جانور زکاۃ میں نکالتا ہے ) لوگوں کو فتنے میں نہ ڈالو ، لوگوں کے عمدہ مال نہ لیا کرو ، کھانے ( اور رزق کا باعث بننے والے ایسے جانور زکاۃ میں وصول کرنے ) سے باز رہو ۔

676

Muwatta Imam Malik #676

Zaeef

[676] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ، أَ نَّہُ قَالَ : أَخْبَرَنِی رَجُلَانِ مِنْ أَشْجَعَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ الْأَنْصَارِیَّ کَانَ یَأْتِیہِمْ مُصَدِّقاً، فَیَقُولُ لِرَبِّ الْمَالِ : أَخْرِجْ إِلَیَّ صَدَقَۃَ مَالِکَ، فَـلَا یَقُودُ إِلَیْہِ شَاۃً، فِیہَا وَفَائٌ مِنْ حَقِّہِ إِلاَّ قَبِلَہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن یحیی بن حبان رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ اشجع قبیلے کے دو شخصوں نے مجھے بتایا کہ حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس زکاۃ اکٹھی کرنے کے لیے ( عامل اور ساعی بن کر ) آئے تھے ، چنانچہ وہ مال والے ( مالک ) سے کہتے کہ اپنے مال کی زکاۃ نکال کر میرے پاس لاؤ ، تو وہ ان کے پاس جو بھی ایسی بکری لاتا جس میں اس ( مال ) کے حق کی پوری ادائیگی ( ممکن محسوس ہوتی اور وہ زکاۃ کے لائق ) ہوتی تو وہ اسے ضرور قبول کر لیتے ۔