Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 19 · Chapter 188

زکاۃ کے مسائل کی کتاب

زکاۃ میں بکریوں کے بچوں کو بھی شمار کرنے کا بیان

1 hadith in this chapter

674

Muwatta Imam Malik #674

Sahih

[674] حَدَّثَنِیْ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیْلِیِّ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِاللّٰہِ بْنِ سُفْیَانَ الثَّقَفِیِّ، عَنْ جَدِّہِ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَہُ مُصَدِّقاً، فَکَانَ یَعُدُّ عَلَی النَّاسِ بِالسَّخْلِ، فَقَالُوا : أَ تَعُدُّ عَلَیْنَا بِالسَّخْلِ وَلَا تَأْخُذُ مِنْہُ شَیْئاً۔ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ذَکَرَ لَہُ ذَلِکَ، فَقَالَ عُمَرُ : نَعَمْ تَعُدُّ عَلَیْہِمْ بِالسَّخْلَۃِ یَحْمِلُہَا الرَّاعِی وَلَا تَأْخُذُہَا، وَلَا تَأْخُذُ الأَکُولَۃَ، وَلَا الرُّبَّی, وَلَا الْمَاخِضَ، وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَتَأْخُذُ الْجَذَعَۃَ، وَالثَّنِیَّۃَ، وَذَلِکَ عَدْلٌ بَیْنَ غِذَائِ الْغَنَمِ وَخِیَارِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سفیان بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انھیں زکاۃ وصول کرنے والا ( عامل ) بنا کر بھیجا تو وہ ( سفیان رحمہ اللہ ) لوگوں پر بکریوں کے بچوں کو بھی شمار کرتے تھے ، لوگوں نے کہا کہ کیا ( عجب بات ہے کہ ) تم ہم پر بکریوں کے بچوں کو شمار تو کرتے ہو اور لیکن ان بچوں میں سے کسی کو زکاۃ میں وصول نہیں کرتے ہو ، چنانچہ جب وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ( واپس ) آئے تو ان کے سامنے اس ( اعتراض ) کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا : ہاں ہم ان پر اس بچے کو بھی شمار کرتے ہیں جسے چرواہے نے اٹھایا ہوتا ہے ( کیونکہ تازہ تازہ پیدا ہونے کی وجہ سے وہ ابھی ریوڑ کے ہمراہ چلنے کے قابل نہیں ہوتا ) اور ہم اسے وصول نہیں کرتے اور ( اگر ہم بچے کو زکاۃ میں وصول نہیں کرتے تو اس طرح ) ہم موٹی بکری ( جسے گوشت حاصل کرنے کے لیے کھلا کھلا کر فربہ کیا گیا ہو ) کو بھی وصول نہیں کرتے ، نہ بچے کو پالنے والی بکری کو ، نہ حاملہ بکری کو اور نہ بکریوں کے نر کو ( لیتے ہیں ۔ ) اور ہم تو تقریباً ایک سالہ یا دو سالہ بکری ہی کو لیتے ہیں اور یہی متوسط ( درمیانی قسم کا جانور ) ہے بکریوں کے بچوں اور عمدہ قسم کی بکریوں کے درمیان ۔