Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 19 · Chapter 184

زکاۃ کے مسائل کی کتاب

( تجارتی ) سامانوں کی زکاۃ کا بیان

1 hadith in this chapter

669

Muwatta Imam Malik #669

Sahih

[669] حَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ زُرَیْقِ بْنِ حَیَّانَ، وَکَانَ زُرَیْقٌ عَلَی جَوَازِ مِصْرَ فِی زَمَانِ الْوَلِیدِ وَسُلَیْمَانَ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ، فَذَکَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَتَبَ إِلَیْہِ : أَنِ انْظُرْ مَنْ مَرَّ بِکَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ، فَخُذْ مِمَّا ظَہَرَ مِنْ أَمْوَالِہِمْ، مِمَّا یُدِیرُونَ مِنَ التِّجَارَاتِ، مِنْ کُلِّ أَرْبَعِینَ دِینَاراً دِینَاراً، فَمَا نَقَصَ فَبِحِسَابِ ذَلِکَ حَتَّی یَبْلُغَ عِشْرِینَ دِینَاراً، فَإِنْ نَقَصَتْ ثُلُثَ دِینَارٍ فَدَعْہَا وَلَا تَأْخُذْ مِنْہَا شَیْئاً، وَمَنْ مَرَّ بِکَ مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ، فَخُذْ مِمَّا یُدِیرُونَ مِنَ التِّجَارَاتِ، مِنْ کُلِّ عِشْرِینَ دِینَاراً دِینَاراً، فَمَا نَقَصَ فَبِحِسَابِ ذَلِکَ، حَتَّی یَبْلُغَ عَشَرَۃَ دَنَانِیرَ، فَإِنْ نَقَصَتْ ثُلُثَ دِینَارٍ فَدَعْہَا وَلَا تَأْخُذْ مِنْہَا شَیْئاً، وَاکْتُبْ لَہُمْ بِمَا تَأْخُذُ مِنْہُمْ کِتَاباً إِلَی مِثْلِہِ مِنَ الْحَوْلِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زریق بن حیان رحمہ اللہ سے روایت ہے اور زریق رحمہ اللہ ، ولید ( بن عبدالملک ) ، سلیمان ( بن عبدالملک ) اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ( کی حکومتوں ) کے زمانے میں مصر کے راستے پر مقرر تھے ( جس پر وہ لوگوں سے زکاۃ اور محصول کی وصولی کرتے تھے ) انھوں نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان کی طرف یہ ( حکم نامہ ) لکھا کہ دیکھو مسلمانوں میں سے جو کوئی تمھارے پاس سے گزرے تو جو کچھ ان کے مالوں میں سے ظاہر ہو جن میں وہ تجارتی لین دین کرتے ہوں ، اس میں سے ہر چالیس دینار ( کے بقدر مال ) میں سے ایک دینار ( کی قیمت ) وصول کر لے ، پھر جو اس سے کم ہو تو اسی حساب سے ( چالیسواں حصہ وصول کرتا رہ ) یہاں تک کہ وہ بیس دینار کو پہنچ جائے ( تو اس میں سے چالیسواں حصہ یعنی نصف دینار وصول کرو اور نصاب کی یہی آخری حد ہے ) پھر اگر وہ ( سامان بیس دینار کی مقدار سے ) دینار کا تہائی حصہ بھی کم ہو تو اسے چھوڑ دینا اور اس سے کچھ بھی وصول نہ کرنا اور اہل ذمہ ( غیر مسلم اقلیتوں ) میں سے جو کوئی تمھارے پاس سے گزرے تو وہ جن مالوں میں تجارتی لین دین کرتے ہوں اس میں سے ہر بیس دینار ( کی مالیت ) میں سے ایک دینار ( کے بقدر ) وصول کرنا ( یعنی ان سے بیسواں حصہ ٹیکس لو ) پھر جو اس سے کم ہو تو اسی حساب سے ( بیسواں حصہ ) وصول کرتے رہو یہاں تک کہ وہ مال دس دینار ( کی مالیت ) تک پہنچ جائے ( تو اس میں سے نصف دینار لے لو لیکن ) اگر وہ ( تجارتی سامان دس دینار سے ) تہائی دینار بھی کم ہو تو اسے چھوڑ دو اور اس میں سے کچھ نہ لو اور جو کچھ تم نے ان سے وصول کیا ہو اس کی ایک تحریر ( رسید ) اگلے سال کی اسی تاریخ تک کے لیے انھیں لکھ کر دے دو ۔