Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 19 · Chapter 183

زکاۃ کے مسائل کی کتاب

قرض کی زکاۃ کا بیان

3 hadiths in this chapter

666

Muwatta Imam Malik #666

Sahih

[666] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ کَانَ یَقُولُ : ہَذَا شَہْرُ زَکَاتِکُمْ، فَمَنْ کَانَ عَلَیْہِ دَیْنٌ فَلْیُؤَدِّ دَیْنَہُ، حَتَّی تَحْصُلَ أَمْوَالُکُمْ، فَتُؤَدُّونَ مِنْہُ الزَّکَاۃَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : یہ تمھارا زکاۃ والا مہینہ ہے ، تو جس شخص پر قرضہ ہو وہ اپنے قرض کو ادا کر دے تاکہ تمھارے مال ( قرض سے پاک اور خالص ہو کر ) حاصل ہو جائیں ، پھر تم ان سے زکاۃ ادا کر دو ۔

667

Muwatta Imam Malik #667

Zaeef

[667] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ أبِی تَمِیمَۃَ السَّخْتِیَانِیِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَتَبَ فِی مَالٍ، قَبَضَہُ بَعْضُ الْوُلَاۃِ ظُلْماً، یَأْمُرُ بِرَدِّہِ إِلَی أَہْلِہِ، وَیُؤْخَذُ مِنْہُ زَکَاتُہُ لِمَا مَضَی مِنَ السِّنِینَ، ثُمَّ عَقَّبَ بَعْدَ ذَلِکَ بِکِتَابٍ، أَنْ لَا یُؤْخَذُ مِنْہُ إِلاَّ زَکَاۃٌ وَاحِدَۃٌ، فَإِنَّہُ کَانَ ضِمَاراً۔

اردو ترجمہ · Urdu

ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ( اپنے ایک عامل کی طرف ) ایک ایسے مال کے متعلق ( خط ) لکھا جسے کسی حاکم نے ( اس کے اصلی مالک سے ) ظلماً ( ناحق ) قبضے میں لے رکھا تھا ، وہ ( حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ) اس عامل کو ( اس پیغام میں ) حکم دے رہے تھے کہ اس ( قبض شدہ مال ) کو اس کے ( اصل ) مالک کی طرف لوٹائے اور ( قبضے کی حالت میں ) گزرے ہوئے تمام سالوں کی زکاۃ بھی اس مال سے لی جائے پھر انھوں نے اس کے بعد ( پہلے خط کے ) پیچھے ایک اور تحریر بھیجی کہ اس میں سے صرف ایک دفعہ کی زکاۃ ہی وصول کی جائے کیونکہ بلاشبہ وہ مال ’’ ضمار ‘‘ تھا ۔

668

Muwatta Imam Malik #668

Sahih

[668] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ، أَ نَّہُ سَأَلَ سُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ لَہُ مَالٌ، وَعَلَیْہِ دَیْنٌ مِثْلُہُ، أَعَلَیْہِ زَکَاۃٌ؟ فَقَالَ : لَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

یزید بن خصیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جس کے پاس کچھ مال ہو اور اس پر اس مال کے بقدر قرض بھی ہو تو کیا اس پر زکاۃ ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ نہیں ۔