Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 19 · Chapter 178

زکاۃ کے مسائل کی کتاب

نقدی یعنی سونے اور چاندی کی زکاۃ کا بیان

4 hadiths in this chapter

654

Muwatta Imam Malik #654

Zaeef

[654] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَۃَ مَوْلَی الزُّبَیْرِ : أَ نَّہُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُکَاتَبٍ لَہُ قَاطَعَہُ بِمَالٍ عَظِیم، ہَلْ عَلَیْہِ فِیہِ زَکَاۃٌ، فَقَالَ الْقَاسِمُ : إِنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ لَمْ یَکُنْ یَأْخُذُ مِنْ مَالٍ زَکَاۃً حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ۔قَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ إِذَا أَعْطَی النَّاسَ أَعْطِیَاتِہِمْ یَسْأَلُ الرَّجُلَ: ہَلْ عِنْدَکَ مِنْ مَالٍ وَجَبَتْ عَلَیْکَ فِیہِ الزَّکَاۃُ ؟ فَإِنْ قَالَ : نَعَمْ، أَخَذَ مِنْ عَطَائِہِ زَکَاۃَ ذَلِکَ الْمَالِ، وَإِنْ قَالَ : لَا، أَسْلَمَ إِلَیْہِ عَطَائَ ہُ، وَلَمْ یَأْخُذْ مِنْہُ شَیْئاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن عقبہ رحمہ اللہ جو زبیر رحمہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، سے روایت ہے کہ انھوں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ ( بن ابی بکر ) سے اپنے اس مکاتب غلام کے حوالے سے سوال کیا جس سے انھوں نے ایک عظیم مال کے ساتھ مقاطعت کی تھی ( اور نقداً وصول کر لیا تھا ) تو کیا ان پر ( محمد بن عقبہ پر ) اس ( مال عظیم ) میں زکاۃ ( واجب ) ہے ؟ قاسم رحمہ اللہ نے فرمایا : یقیناً ( میرے دادا ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کسی مال سے اس وقت تک زکاۃ نہیں لیتے تھے جب تک اس پر سال نہ گزر جاتا ، ( پھر ) قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرمانے لگے : اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب لوگوں کو ان کے عطیات ( وظیفے اور سالانہ تنخواہیں ) دینے لگتے تو ہر آدمی سے پوچھتے کہ کیا تیرے پاس کوئی ( اور ) ایسا مال ہے جس میں تجھ پر زکاۃ واجب ہے ؟ چنانچہ اگر وہ کہتا کہ جی ہاں تو وہ اس کے اس مال کی زکاۃ اسی وظیفے میں سے لے لیتے اور اگر وہ کہتا کہ نہیں ، تو پھر اس کا ( پورا ) وظیفہ اسے دے دیتے اور اس میں سے کچھ بھی نہ لیتے ۔

655

Muwatta Imam Malik #655

Sahih

[655] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَیْنٍ، عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ قُدَامَۃَ، عَنْ أَبِیہَا، أَ نَّہُ قَالَ : کُنْتُ إِذَا جِئْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَقْبِضُ عَطَائِی سَأَلَنِی : ہَلْ عِنْدَکَ مِنْ مَالٍ وَجَبَتْ عَلَیْکَ فِیہِ الزَّکَاۃُ ؟ قَالَ : فَإِنْ قُلْتُ : نَعَمْ، أَخَذَ مِنْ عَطَائِی زَکَاۃَ ذَلِکَ الْمَالِ، وَإِنْ قُلْتُ : لَا، دَفَعَ إِلَیَّ عَطَائِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا اپنے والد حضرت قدامہ ( بن مظعون ) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں ، انھوں نے کہا کہ جب میں ( خلیفہ وقت ) حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا عطیہ ( سالانہ تنخواہ ) لینے آتا تو وہ مجھ سے پوچھتے کہ کیا تمھارے پاس کوئی ایسا مال ہے جس میں تجھ پر زکاۃ واجب ہو چکی ہو ، چنانچہ اگر میں کہتا کہ جی ہاں تو وہ اس عطیے میں سے اس ( زکاۃ والے ) مال کی زکاۃ لے لیتے اور اگر میں کہتا کہ نہیں تو وہ میری ( مکمل ) تنخواہ میرے سپرد کر دیتے ۔

656

Muwatta Imam Malik #656

Sahih

[656] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : لَا تَجِبُ فِی مَالٍ زَکَاۃٌ حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے : کسی مال میں زکاۃ واجب نہیں ہوتی یہاں تک کہ اس پر سال گزر جائے ۔

657

Muwatta Imam Malik #657

Sahih

[657] حَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَ نَّہُ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَخَذَ مِنَ الأَعْطِیَۃِ الزَّکَاۃَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أبِی سُفْیَانَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جس شخص نے تنخواہوں میں سے زکاۃ وصول کی وہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما تھے ۔