Muwatta Imam Malik #654
[654] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَۃَ مَوْلَی الزُّبَیْرِ : أَ نَّہُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُکَاتَبٍ لَہُ قَاطَعَہُ بِمَالٍ عَظِیم، ہَلْ عَلَیْہِ فِیہِ زَکَاۃٌ، فَقَالَ الْقَاسِمُ : إِنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ لَمْ یَکُنْ یَأْخُذُ مِنْ مَالٍ زَکَاۃً حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ۔قَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ إِذَا أَعْطَی النَّاسَ أَعْطِیَاتِہِمْ یَسْأَلُ الرَّجُلَ: ہَلْ عِنْدَکَ مِنْ مَالٍ وَجَبَتْ عَلَیْکَ فِیہِ الزَّکَاۃُ ؟ فَإِنْ قَالَ : نَعَمْ، أَخَذَ مِنْ عَطَائِہِ زَکَاۃَ ذَلِکَ الْمَالِ، وَإِنْ قَالَ : لَا، أَسْلَمَ إِلَیْہِ عَطَائَ ہُ، وَلَمْ یَأْخُذْ مِنْہُ شَیْئاً۔
اردو ترجمہ · Urdu
محمد بن عقبہ رحمہ اللہ جو زبیر رحمہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، سے روایت ہے کہ انھوں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ ( بن ابی بکر ) سے اپنے اس مکاتب غلام کے حوالے سے سوال کیا جس سے انھوں نے ایک عظیم مال کے ساتھ مقاطعت کی تھی ( اور نقداً وصول کر لیا تھا ) تو کیا ان پر ( محمد بن عقبہ پر ) اس ( مال عظیم ) میں زکاۃ ( واجب ) ہے ؟ قاسم رحمہ اللہ نے فرمایا : یقیناً ( میرے دادا ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کسی مال سے اس وقت تک زکاۃ نہیں لیتے تھے جب تک اس پر سال نہ گزر جاتا ، ( پھر ) قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرمانے لگے : اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب لوگوں کو ان کے عطیات ( وظیفے اور سالانہ تنخواہیں ) دینے لگتے تو ہر آدمی سے پوچھتے کہ کیا تیرے پاس کوئی ( اور ) ایسا مال ہے جس میں تجھ پر زکاۃ واجب ہے ؟ چنانچہ اگر وہ کہتا کہ جی ہاں تو وہ اس کے اس مال کی زکاۃ اسی وظیفے میں سے لے لیتے اور اگر وہ کہتا کہ نہیں ، تو پھر اس کا ( پورا ) وظیفہ اسے دے دیتے اور اس میں سے کچھ بھی نہ لیتے ۔