Muwatta Imam Malik #636
[636] حَدَّثَنِی زِیَادٌ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْہَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ، عَنْ أبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْوُسُطَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاعْتَکَفَ عَاماً حَتَّی إِذَا کَانَ لَیْلَۃَ إِحْدَی وَعِشْرِینَ، وَہِیَ اللَّیْلَۃُ الَّتِی یَخْرُجُ فِیہَا مِنْ صُبْحِہَا مِنَ اعْتِکَافِہِ قَالَ :مَنِ اعْتَکَفَ مَعِی، فَلْیَعْتَکِفِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، وَقَدْ رَأَیْتُ ہَذِہِ اللَّیْلَۃَ، ثُمَّ أُنْسِیتُہَا، وَقَدْ رَأَیْتُنِی أَسْجُدُ مِنْ صُبْحِہَا فِی مَائٍ وَطِینٍ، فَالْتَمِسُوہَا فِی الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالْتَمِسُوہَا فِی کُلِّ وِتْرٍ۔ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: فَأُمْطِرَتِ السَّمَائُ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ، وَکَانَ الْمَسْجِدُ عَلَی عَرِیشٍ، فَوَکَفَ الْمَسْجِدُ، قَالَ أَبُو سَعِیدٍ : فَأَبْصَرَتْ عَیْنَایَ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ انْصَرَفَ، وَعَلَی جَبْہَتِہِ وَأَنْفِہِ أَثَرُ الْمَائِ وَالطِّینِ، مِنْ صُبْحِ لَیْلَۃِ إِحْدَی وَعِشْرِینَ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ماہِ رمضان کے درمیانی عشرے ( دس دنوں ) کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے ، ایک سال آپ ﷺ نے ( اسی عشرے کا ) اعتکاف فرمایا ، یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی اور یہ وہ رات تھی جس کی صبح کو آپ ﷺ اپنے اعتکاف سے نکل جایا کرتے تھے ، ( لیکن اس دفعہ ) فرمایا :’’ جو شخص میرے ساتھ اعتکاف کر چکا ہے وہ آخری دس راتوں کا بھی اعتکاف کرے ، اور میں نے اس رات کو دیکھ ( کر جان ) لیا تھا لیکن پھر مجھے یہ رات بھلا دی گئی اور میں نے ( خواب میں لیلۃ القدر دکھائے جانے کے موقع پر ) خود کو دیکھا کہ میں لیلۃ القدر کی صبح کو پانی اور مٹی ( بارش کے کیچڑ ) میں سجدہ کر رہا ہوں لہٰذا تم اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرو اور ( ان میں سے بھی ) طاق راتوں میں اسے ڈھونڈا کرو ۔‘‘ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسی ( اکیسویں ) رات آسمان برس پڑا اور مسجد ایک چھپر پر تھی ( مسجد کی چھت کھجور کے پتوں اور شاخوں سے بنے ہوئے ایک چھپر کی شکل میں تھی ) چنانچہ مسجد ٹپکنے لگی ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری دونوں آنکھوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اکیسویں رات کو ( نماز فجر سے فارغ ہو کر ) پھرے تو آپ ﷺ کی مبارک پیشانی اور ناک پر ( کیچڑ میں سجدہ کرنے کی وجہ سے ) پانی اور مٹی کا نشان تھا ۔