Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 16 · Chapter 150

جنازوں ( کے متعلقہ احکام ) کی کتاب

مصیبت میں (صبر و تسلیم کے ساتھ ) ثواب کی امید رکھنے کے متعلق متفرق روایات کا بیان

3 hadiths in this chapter

559

Muwatta Imam Malik #559

Sahih

[559] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أبِی بَکْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لِیُعَزِّ الْمُسْلِمِینَ فِی مَصَائِبِہِمُ الْمُصِیبَۃُ بِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری وجہ سے پہنچنے والی مصیبت مسلمانوں کو ان کے ( عام ) مصائب میں تسلی ( اور تعزیت کا کام ) دے گی ۔‘‘

560

Muwatta Imam Malik #560

Sahih

[560] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ أَصَابَتْہُ مُصِیبَۃٌ، فَقَالَ کَمَا أَمَرَ اللّٰہُ: إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ، اللّٰہُمَّ أْجُرْنِی فِی مُصِیبَتِی، وَأَعْقِبْنِی خَیْراً مِنْہَا، إِلاَّ فَعَلَ اللّٰہُ ذَلِکَ بِہِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ، فَلَمَّا تَوَفَّی أَبُو سَلَمَۃَ قُلْتُ ذَلِکَ، ثُمَّ قُلْتُ : وَمَنْ خَیْرٌ مِنْ أبِی سَلَمَۃَ، فَأَعْقَبَہَا اللّٰہُ رَسُولَہُ ﷺ فَتَزَوَّجَہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے ، پھر وہ وہی کچھ کہے جس کا اللہ نے اسے حکم فرمایا ہے ( یعنی یہ کہے ) (( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَ اَعْقِبْنِی خَیْرًا مِّنْھَا )) ’’ بے شک ہم بھی تو اللہ ہی کے لیے ہیں اور یقیناً ہم بھی اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ، اے اللہ ! مجھے میری اس مصیبت میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہترین نعم البدل نصیب فرما ۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ ضرور اس شخص کے ساتھ یہی معاملہ فرما دیں گے ۔‘‘ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ( میرے خاوند ) حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے یہی ( وظیفہ ) پڑھا ، پھر میں نے ( دل میں ) کہا کہ بھلا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے ؟ تو ( میرے اس وظیفے اور دعا کی بدولت ) اللہ نے اپنا رسول ﷺ نعم البدل کے طور پر مجھے عطا فرما دیا ( جو یقیناً ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر تھے ) ، چنانچہ آپ ﷺ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی فرما لی ۔

561

Muwatta Imam Malik #561

Sahih

[561] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَ نَّہُ قَالَ ہَلَکَتِ امْرَأَۃٌ لِی، فَأَتَانِی مُحَمَّدُ بْنُ کَعْبٍ الْقُرَظِیُّ یُعَزِّینِی بِہَا، فَقَالَ : إِنَّہُ کَانَ فِی بَنِی إِسْرَائِیلَ رَجُلٌ فَقِیہٌ، عَالِمٌ عَابِدٌ مُجْتَہِدٌ، وَکَانَتْ لَہُ امْرَأَۃٌ، وَکَانَ بِہَا مُعْجَباً وَلَہَا مُحِبًّا، فَمَاتَتْ فَوَجَدَ عَلَیْہَا وَجْداً شَدِیداً، وَلَقِیَ عَلَیْہَا أَسَفاً، حَتَّی خَلَا فِی بَیْتٍ وَغَلَّقَ عَلَی نَفْسِہِ، وَاحْتَجَبَ مِنَ النَّاسِ، فَلَمْ یَکُنْ یَدْخُلُ عَلَیْہِ أَحَدٌ، وَإِنَّ امْرَأَۃً سَمِعَتْ بِہِ فَجَائَ تْہُ، فَقَالَتْ : إِنَّ لِی إِلَیْہِ حَاجَۃً أَسْتَفْتِیہِ فِیہَا، لَیْسَ یُجْزِینِی فِیہَا إِلاَّ مُشَافَہَتُہ، فَذَہَبَ النَّاسُ وَلَزِمَتْ بَابَہُ، وَقَالَتْ : مَا لِی مِنْہُ بُدٌّ، فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ : إِنَّ ہَا ہُنَا امْرَأَۃً أَرَادَتْ أَنْ تَسْتَفْتِیَکَ، وَقَالَتْ : إِنْ أَرَدْتُ إِلاَّ مُشَافَہَتَہ، وَقَدْ ذَہَبَ النَّاسُ وَہِیَ لَا تُفَارِقُ الْبَابَ۔ فَقَالَ : ائْذَنُوا لَہَا، فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ، فَقَالَتْ : إنِّی جِئْتُکَ أَسْتَفْتِیکَ فِی أَمْرٍ، قَالَ : وَمَا ہُوَ ؟ قَالَتْ : إنِّی اسْتَعَرْتُ مِنْ جَارَۃٍ لِی حَلْیاً، فَکُنْتُ أَلْبَسُہُ وَأُعِیرُہُ زَمَاناً، ثُمَّ إِنَّہُمْ أَرْسَلُوا إِلَیَّ فِیہِ، أَفَأُؤَدِّیہِ إِلَیْہِمْ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ وَاللّٰہِ۔ فَقَالَتْ : إِنَّہُ قَدْ مَکَثَ عِنْدِی زَمَاناً، فَقَالَ ذَلِکَ أَحَقُّ لِرَدِّکِ إِیَّاہُ إِلَیْہِمْ حِینَ أَعَارُوکِیہِ زَمَاناً۔ فَقَالَتْ : أَیْ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ، أَفَتَأْ سَفُ عَلَی مَا أَعَارَکَ اللّٰہُ، ثُمَّ أَخَذَہُ مِنْکَ، وَہُوَ أَحَقُّ بِہِ مِنْکَ۔ فَأَبْصَرَ مَا کَانَ فِیہِ، وَنَفَعَہُ اللّٰہُ بِقَوْلِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

قاسم بن محمد رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ میری اہلیہ وفات پا گئی تو میرے پاس محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ اس کی تعزیت کرنے کے لیے تشریف لائے ، ( باتوں باتوں میں ) وہ کہنے لگے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو فقیہ ، عالم ، عابد اور عبادت وغیرہ میں خوب محنت کرنے والا تھا ، اس کی ایک بیوی تھی جس پر وہ بہت فریفتہ تھا اور اس سے بہت محبت کرتا تھا ، وہ فوت ہو گئی تو اس نے اس پر شدید غم و الم محسوس کیا اور اس پر ( بہت ) رنجیدہ و متاسف ہوا ، یہاں تک کہ اس نے گھر ہی میں تنہائی اختیار کر لی اور دروازہ بند کر لیا اور لوگوں سے چھپ گیا ، چنانچہ کوئی بھی شخص ( ملاقات کے لیے ) اس کے پاس داخل نہیں ہو سکتا تھا ، ایک عورت نے اس ( فقیہ ) کے متعلق سنا تو وہ اس کے پاس آئی ، کہنے لگی کہ بلاشبہ مجھے اسی سے ایک کام ہے ، میں اس کے بارے میں اس سے فتوی طلب کرنا چاہتی ہوں اور آمنے سامنے گفتگو کے سوا کوئی اور صورت میرے لیے کافی نہیں ، ( لہذا میری اس سے ملاقات کراؤ اور بھی لوگ اس سے ملاقات کے لیے آئے ہوئے تھے ، وہ ) لوگ تو واپس چلے گئے لیکن وہ اس کے دروازے پر قائم رہی اور کہتی رہی کہ میرا اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ، کسی کہنے والے نے اس عالم سے کہا کہ یہاں ایک عورت ہے جو آپ سے فتوی لینا چاہتی ہے اور کہتی ہے کہ مجھے اس سے آمنے سامنے کلام کرنے کے سوا اور کوئی صورت قبول نہیں ، باقی سب لوگ تو جا چکے ہیں لیکن وہ دروازے سے جدا ہی نہیں ہو رہی ، تو اس عالم نے کہا کہ اسے ( اندر آنے کی ) اجازت دے دو ، چنانچہ وہ اس کے پاس آ گئی ، کہنے لگی کہ میں آپ کے پاس ایک مسئلے میں فتویٰ پوچھنے آئی ہوں ، اس عالم نے کہا کیا مسئلہ ہے ؟ کہنے لگی کہ میں نے اپنی پڑوسن سے عاریتاً زیور لیا ہوا تھا ، میں کافی عرصہ تک خود بھی اسے استعمال کرتی رہی اور اسے اوروں کو بھی عاریتاً دیتی رہی ، پھر انھوں نے ( پڑوسیوں نے ) اس زیور کے متعلق میری طرف پیغام بھیجا تو کیا میں زیور ان کو واپس دے دوں ؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں اللہ کی قسم ! وہ کہنے لگی کہ بے شک وہ زیور ایک عرصے تک میرے پاس رہا ہے ( کیا پھر بھی میرا اس پر کوئی حق نہیں ) ، اس نے جواب دیا کہ جب انھوں نے تجھے ایک عرصے تک یہ زیور عاریتاً دیے رکھا اس بنا پر زیادہ حق بنتا ہے کہ تو وہ زیور انھیں لوٹا دے ۔ محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ نے کہا کہ ( یہ سن کر ) وہ کہنے لگی : اللہ تجھ پر رحم فرمائے ، کیا تو اس چیز ( یعنی اپنی اہلیہ ) پر اتنا رنجیدہ ہو رہا ہے جو اللہ نے تجھے عاریتاً دی تھی پھر اسے تجھ سے واپس لے لیا ، وہ اللہ اس چیز کا تجھ سے زیادہ حق رکھتا ہے ، اس عالم نے اس ( عورت کی بات ) اور اپنی حالت میں غور کیا اور اللہ نے اسے اس کی گفتگو سے نفع عطا فرما دیا ۔