Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 16 · Chapter 148

جنازوں ( کے متعلقہ احکام ) کی کتاب

میت پر رونے سے ممانعت کا بیان

2 hadiths in this chapter

554

Muwatta Imam Malik #554

Sahih

[554] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِیکٍ، عَنْ عَتِیکِ بْنِ الْحَارِثِ - وَہُوَ جَدُّ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَابِرٍ أَبُو أُمِّہِ - أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِیکٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ جَائَ یَعُودُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ ثَابِتٍ، فَوَجَدَہُ قَدْ غُلِبَ عَلَیْہِ، فَصَاحَ بِہِ فَلَمْ یُجِبْہُ، فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَقَالَ : غُلِبْنَا عَلَیْکَ یَا أَبَا الرَّبِیعِ فَصَاحَ النِّسْوَۃُ وَبَکَیْنَ، فَجَعَلَ جَابِرٌ یُسَکِّتُہُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : دَعْہُنَّ، فَإِذَا وَجَبَ فَـلَا تَبْکِیَنَّ بَاکِیَۃٌ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللّٰہِ وَمَا الْوُجُوبُ ؟ قَالَ : إِذَا مَاتَ فَقَالَتِ ابْنَتُہُ : وَاللّٰہِ إِنْ کُنْتُ لأَرْجُو أَنْ تَکُونَ شَہِیداً, فَإِنَّکَ کُنْتَ قَدْ قَضَیْتَ جِہَازَکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَہُ عَلَی قَدْرِ نِیَّتِہِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّہَادَۃَ ؟ قَالُوا : الْقَتْلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : الشُّہَدَائُ سَبْعَۃٌ سِوَی الْقَتْلِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ : الْمَطْعُونُ شَہِیدٌ، وَالْغَرِقُ شَہِیدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَہِیدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَہِیدٌ، وَالْحَرِقُ شَہِیدٌ، وَالَّذِی یَمُوتُ تَحْتَ الْہَدْمِ شَہِیدٌ، وَالْمَرْأَۃُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَہِیدٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کے لیے تشریف لائے ، آپ ﷺ نے ان کو اس حالت میں پایا کہ ان پر ( بیماری کی شدت اور بیہوشی کا ) غلبہ ہو چکا تھا ، آپ ﷺ نے انھیں ذرا بلند آواز سے پکارا لیکن انھوں نے ( بیہوشی کی وجہ سے ) آپ ﷺ کو کوئی جواب نہ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ) پڑھا ( کیونکہ یہ کلمہ صرف موت پر ہی نہیں بلکہ کسی بھی مصیبت پر پڑھا جاتا ہے ) آپ ﷺ نے ( انھیں کنیت سے مخاطب کر کے ) فرمایا :’’ اے ابو ربیع ! ہم تجھ پر مغلوب ہو گئے ہیں ۔‘‘ ( تقدیر کے مقابلے میں ہمارا کوئی بس نہیں چلتا ۔ گھر والوں نے سمجھا کہ شاید موت آ گئی ہے ) تو عورتوں کی چیخ نکل گئی اور وہ رونے لگیں ، حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ انھیں خاموش کرانے لگے تو رسول اللہ نے فرمایا :’’ انھیں چھوڑ دو ، پھر جب واقع ہو جائے تو کوئی رونے والی ہرگز نہ روئے ۔‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! واقع ہو جانے سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا :’’ ( مطلب یہ ہے کہ ) جب وہ مر جائے ( اور اس پر موت واقع ہو جائے ) ‘‘ ، ان کی ( حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی ) بیٹی اپنے والد کو مخاطب کر کے کہنے لگی کہ بے شک میں یہ امید لگائے بیٹھی تھی کہ آپ ( جہاد کے دوران ) شہید ہوں گے کیونکہ بلاشبہ آپ تو ( جہاد کے لیے ) اپنی تیاری بھی مکمل کر چکے تھے ، تو ( یہ سن کر ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان کی نیت کے حساب سے ان کا اجر جاری فرما دیا ہے ، اور ( بھلا ) تم کس چیز کو شہادت شمار کرتے ہو ؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے کو ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ راہ الٰہی میں قتل ہونے کے علاوہ بھی سات قسم کے شہداء ہیں : طاعون کی وبا سے مرنے والا بھی شہید ہے ، پانی میں ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے ، پہلو کی تکلیف سے مرنے والا بھی شہید ہے ، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا بھی شہید ہے ، جل کر مرنے والا بھی شہید ہے ، گرنے والی چیز کے نیچے آ کر مرنے والا بھی شہید ہے ، وہ عورت بھی شہید ہے جو ( بچے کی پیدائش سے پہلے ہی یا اس کے دوران یا بعد میں ) زچگی کی تکلیف سے مر جاتی ہے ۔‘‘

555

Muwatta Imam Malik #555

Sahih

[555] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ، أَنَّہَا سَمِعَتْ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ تَقُولُ : وَذُکِرَ لَہَا أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ : إِنَّ الْمَیِّتَ لَیُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَیِّ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَغْفِرُ اللّٰہُ لأبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا إِنَّہُ لَمْ یَکْذِبْ، وَلَکِنَّہُ نَسِیَ أَوْ أَخْطَأَ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِیَہُودِیَّۃٍ یَبْکِی عَلَیْہَا أَہْلُہَا، فَقَالَ : إِنَّکُمْ لَتَبْکُونَ عَلَیْہَا، وَإِنَّہَا لَتُعَذَّبُ فِی قَبْرِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس وقت کہتے ہوئے سنا جب ان کے سامنے یہ تذکرہ کیا گیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میت کو زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن ( یعنی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ) کی مغفرت فرمائے ، آگاہ رہو ، انھوں نے جھوٹ نہیں بولا لیکن وہ بھول گئے ہیں یا ان سے خطا ہو گئی ہے ، ( قصہ دراصل یوں تھا کہ ) رسول اللہ ﷺ ایک یہودن کے پاس سے گزرے جس ( کی موت ) پر اس کے گھر والے رو رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً یہ لوگ تو اس پر رو رہے ہیں اور اسے اپنی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے ۔‘‘