Muwatta Imam Malik #554
[554] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِیکٍ، عَنْ عَتِیکِ بْنِ الْحَارِثِ - وَہُوَ جَدُّ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَابِرٍ أَبُو أُمِّہِ - أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِیکٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ جَائَ یَعُودُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ ثَابِتٍ، فَوَجَدَہُ قَدْ غُلِبَ عَلَیْہِ، فَصَاحَ بِہِ فَلَمْ یُجِبْہُ، فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَقَالَ : غُلِبْنَا عَلَیْکَ یَا أَبَا الرَّبِیعِ فَصَاحَ النِّسْوَۃُ وَبَکَیْنَ، فَجَعَلَ جَابِرٌ یُسَکِّتُہُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : دَعْہُنَّ، فَإِذَا وَجَبَ فَـلَا تَبْکِیَنَّ بَاکِیَۃٌ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللّٰہِ وَمَا الْوُجُوبُ ؟ قَالَ : إِذَا مَاتَ فَقَالَتِ ابْنَتُہُ : وَاللّٰہِ إِنْ کُنْتُ لأَرْجُو أَنْ تَکُونَ شَہِیداً, فَإِنَّکَ کُنْتَ قَدْ قَضَیْتَ جِہَازَکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَہُ عَلَی قَدْرِ نِیَّتِہِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّہَادَۃَ ؟ قَالُوا : الْقَتْلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : الشُّہَدَائُ سَبْعَۃٌ سِوَی الْقَتْلِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ : الْمَطْعُونُ شَہِیدٌ، وَالْغَرِقُ شَہِیدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَہِیدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَہِیدٌ، وَالْحَرِقُ شَہِیدٌ، وَالَّذِی یَمُوتُ تَحْتَ الْہَدْمِ شَہِیدٌ، وَالْمَرْأَۃُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَہِیدٌ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کے لیے تشریف لائے ، آپ ﷺ نے ان کو اس حالت میں پایا کہ ان پر ( بیماری کی شدت اور بیہوشی کا ) غلبہ ہو چکا تھا ، آپ ﷺ نے انھیں ذرا بلند آواز سے پکارا لیکن انھوں نے ( بیہوشی کی وجہ سے ) آپ ﷺ کو کوئی جواب نہ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ) پڑھا ( کیونکہ یہ کلمہ صرف موت پر ہی نہیں بلکہ کسی بھی مصیبت پر پڑھا جاتا ہے ) آپ ﷺ نے ( انھیں کنیت سے مخاطب کر کے ) فرمایا :’’ اے ابو ربیع ! ہم تجھ پر مغلوب ہو گئے ہیں ۔‘‘ ( تقدیر کے مقابلے میں ہمارا کوئی بس نہیں چلتا ۔ گھر والوں نے سمجھا کہ شاید موت آ گئی ہے ) تو عورتوں کی چیخ نکل گئی اور وہ رونے لگیں ، حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ انھیں خاموش کرانے لگے تو رسول اللہ نے فرمایا :’’ انھیں چھوڑ دو ، پھر جب واقع ہو جائے تو کوئی رونے والی ہرگز نہ روئے ۔‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! واقع ہو جانے سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا :’’ ( مطلب یہ ہے کہ ) جب وہ مر جائے ( اور اس پر موت واقع ہو جائے ) ‘‘ ، ان کی ( حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی ) بیٹی اپنے والد کو مخاطب کر کے کہنے لگی کہ بے شک میں یہ امید لگائے بیٹھی تھی کہ آپ ( جہاد کے دوران ) شہید ہوں گے کیونکہ بلاشبہ آپ تو ( جہاد کے لیے ) اپنی تیاری بھی مکمل کر چکے تھے ، تو ( یہ سن کر ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان کی نیت کے حساب سے ان کا اجر جاری فرما دیا ہے ، اور ( بھلا ) تم کس چیز کو شہادت شمار کرتے ہو ؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے کو ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ راہ الٰہی میں قتل ہونے کے علاوہ بھی سات قسم کے شہداء ہیں : طاعون کی وبا سے مرنے والا بھی شہید ہے ، پانی میں ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے ، پہلو کی تکلیف سے مرنے والا بھی شہید ہے ، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا بھی شہید ہے ، جل کر مرنے والا بھی شہید ہے ، گرنے والی چیز کے نیچے آ کر مرنے والا بھی شہید ہے ، وہ عورت بھی شہید ہے جو ( بچے کی پیدائش سے پہلے ہی یا اس کے دوران یا بعد میں ) زچگی کی تکلیف سے مر جاتی ہے ۔‘‘