Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 16 · Chapter 146

جنازوں ( کے متعلقہ احکام ) کی کتاب

میت کی تدفین کا بیان

6 hadiths in this chapter

545

Muwatta Imam Malik #545

Sahih

[545] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ تُوَفِّیَ یَوْمَ الاِثْنَیْن، وَدُفِنَ یَوْمَ الثُّـلَاثَائِ، وَصَلَّی النَّاسُ عَلَیْہِ أَفْذَاذاً لَا یَؤُمُّہُمْ أَحَدٌ، فَقَالَ نَاسٌ : یُدْفَنُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، وَقَالَ آخَرُونَ : یُدْفَنُ بِالْبَقِیعِ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ فَقَال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : مَا دُفِنَ نَبِیٌّ قَطُّ، إِلاَّ فِی مَکَانِہِ الَّذِی تُوَفِّیَ فِیہِ فَحُفِرَ لَہُ فِیہِ، فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ غُسْلِہِ، أَرَادُوا نَزْعَ قَمِیصِہِ، فَسَمِعُوا صَوْتاً یَقُولُ: لَا تَنْزِعُوا الْقَمِیصَ، فَلَمْ یُنْزَعِ الْقَمِیصُ، وَغُسِّلَ وَہُوَ عَلَیْہِ ﷺ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ سوموار کے دن فوت ہوئے اور منگل کے دن آپ کو دفن کیا گیا ، لوگوں نے آپ پر الگ الگ نماز ادا کی اور ان کی امامت کوئی نہیں کراتا تھا ، پھر بعض لوگوں نے کہا کہ آپ ﷺ کو منبر کے قریب دفن کیا جائے اور بعض دوسروں نے کہا کہ آپ کو بقیع قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے ، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا :’’ کبھی بھی کوئی بھی نبی اس جگہ کے علاوہ دفن نہیں کیا گیا جہاں کہ وہ فوت ہوا ۔‘‘ چنانچہ نبی کریم ﷺ کی بھی اسی جگہ قبر کھودی گئی ، پھر جب آپ کو غسل دینے کا موقع آیا اور لوگوں نے آپ ﷺ کی قمیص اتارنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے ایک آواز سنی جس میں ( کوئی کہنے والا ) کہہ رہا تھا کہ قمیص نہ اتارو ، چنانچہ آپ ﷺ کی قمیص نہ اتاری گئی اور آپ کو اس حالت میں غسل دیا گیا کہ قمیص آپ کے اوپر ہی تھی ۔

546

Muwatta Imam Malik #546

Sahih

[546] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ : کَانَ بِالْمَدِینَۃِ رَجُلَانِ، أَحَدُہُمَا یَلْحَدُ، وَالآخَرُ لَا یَلْحَدُ، فَقَالُوا : أَیُّہُمَا جَائَ أَوَّلُ عَمِلَ عَمَلَہُ۔ فَجَائَ الَّذِی یَلْحَد، فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد عروہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں دو شخص ( قبریں کھودتے ) تھے ان میں سے ایک لحد یعنی بغلی قبر بناتا تھا اور دوسرا بغلی قبر نہیں ( بلکہ شق یعنی درمیان میں گڑھے والی سیدھی قبر ) بناتا تھا ، لوگوں نے کہا کہ ان میں سے جو پہلے آ جائے گا وہ اپنا کام کر لے گا ، چنانچہ وہ شخص آیا جو بغلی قبر بناتا تھا ، اور پھر اسی نے رسول اللہ ﷺ کے لیے بغلی قبر بنا دی ۔

547

Muwatta Imam Malik #547

Zaeef

[547] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ کَانَتْ تَقُولُ : مَا صَدَّقْتُ بِمَوْتِ النَّبِیِّ ﷺ حَتَّی سَمِعْتُ وَقْعَ الْکَرَازِینِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر فرمایا کرتی تھیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کی تصدیق ہی نہ کی ( نہ مجھے یقین آیا نہ میں نے اس خبر کو سچا جانا ) یہاں تک کہ میں نے کدالوں کے ( زمین پر ) مارے جانے کی آوازیں سنیں ۔

548

Muwatta Imam Malik #548

Sahih

[548] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ قَالَتْ : رَأَیْتُ ثَـلَاثَۃَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِی حُجْرَتِی، فَقَصَصْتُ رُؤْیَایَ عَلَی أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، قَالَتْ : فَلَمَّا تُوفِّی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَدُفِنَ فِی بَیْتِہَا، قَالَ لَہَا أَبُو بَکْرٍ : ہَذَا أَحَدُ أَقْمَارِکِ، وَہُوَ خَیْرُہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ نے فرمایا : میں نے ( خواب میں ) دیکھا کہ تین چاند میرے حجرے میں گر پڑے ہیں ، میں نے اپنا خواب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سنا دیا ، پھر جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور آپ ﷺ میرے گھر میں دفن کر دیے گئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ یہ تیرے ( دیکھے ہوئے تین ) چاندوں میں سے ایک ہے اور ان میں سب سے بہترین بھی ہے ۔

549

Muwatta Imam Malik #549

Zaeef

[549] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ مِمَّنْ یَثِقُ بِہِ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ أبِی وَقَّاصٍ، وَسَعِیدَ بْنَ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ، تُوفِّیا بِالْعَقِیقِ، وَحُمِلَا إِلَی الْمَدِینَۃِ وَدُفِنَا بِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ نے کئی ایک معتبر ثقہ راویوں سے روایت کیا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہما ( مدینہ کے قریب ) عقیق ( نامی جگہ ) میں فوت ہوئے اور ان کو مدینہ منتقل کر دیا گیا اور وہیں دفنایا گیا ۔

550

Muwatta Imam Malik #550

Sahih

[550] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ : مَا أُحِبُّ أَنْ أُدْفَنَ بِالْبَقِیعِ، لأَنْ أُدْفَنَ بِغَیْرِہِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أُدْفَنَ بِہِ، إِنَّمَا ہُوَ أَحَدُ رَجُلَیْنِ، إِمَّا ظَالِمٌ فَـلَا أُحِبُّ أَنْ أُدْفَنَ مَعَہُ، وَإِمَّا صَالِحٌ فَـلَا أُحِبُّ أَنْ تُنْبَشَ لِی عِظَامُہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد عروہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا کہ میں بقیع قبرستان میں دفن کیا جانا پسند نہیں کرتا ، یہاں دفن کیے جانے کی نسبت مجھے اس کے علاوہ کہیں اور دفنایا جانا زیادہ محبوب ہے کیونکہ ( اس قبرستان میں مردوں کی تدفین اس کثرت سے ہوتی ہے کہ کوئی جگہ خالی نہیں ہے ، اس میں جہاں بھی مجھے دفن کرنے کا ارادہ کیا جائے تو کسی نہ کسی کی قبر ہی کو کھودا جائے گا اور جس کی قبر کھودی جائے گی اللہ کے نزدیک ) وہ شخص دو قسم کے لوگوں میں سے کوئی ایک ہو گا ، یا تو ظالم ہو گا اور میں اس کے ساتھ دفن ہونا پسند نہیں کرتا ، یا پھر وہ نیک شخص ہو گا تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میری وجہ سے اس کی ہڈیاں کھودی جائیں ۔