Muwatta Imam Malik #538
[538] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أبِی حَرْمَلَۃَ، مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أبِی سُفْیَانَ بْنِ حُوَیْطِبٍ، أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ أبِی سَلَمَۃَ تُوُفِِّیَتْ، وَطَارِقٌ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ، فَأُتِیَ بِجَنَازَتِہَا بَعْدَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ، فَوُضِعَتْ بِالْبَقِیعِ، قَال :وَکَانَ طَارِقٌ یُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ۔ قَالَ ابْنُ أبِی حَرْمَلَۃَ : فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ لِأَہْلِہَا: إِمَّا أَنْ تُصَلُّوا عَلَی جَنَازَتِکُمُ الآن، وَإِمَّا أَنْ تَتْرُکُوہَا حَتَّی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
محمد بن ابی حرملہ رحمہ اللہ جو کہ عبدالرحمن بن ابی سفیان بن حویطب رحمہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، روایت کرتے ہیں کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما وفات پا گئیں اور ( ان دنوں ) طارق ( بن عمرو مکی رحمہ اللہ ) مدینہ منورہ کے امیر تھے ، چنانچہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا جنازہ نماز فجر کے بعد لایا گیا اور بقیع قبرستان میں رکھ دیا گیا ، ( محمد بن ابی حرملہ رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ طارق رحمہ اللہ نماز فجر کو منہ اندھیرے ہی پڑھا کرتے تھے ، ( محمد ) ابن ابی حرملہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا ، وہ میت کے گھر والوں سے کہہ رہے تھے کہ یا تو ابھی اپنی میت پر جنازہ ادا کر لو یا پھر اسے پڑا رہنے دو یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے ۔