Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 16 · Chapter 143

جنازوں ( کے متعلقہ احکام ) کی کتاب

نماز فجر اور عصر کے بعد نماز جنازہ پڑھنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

538

Muwatta Imam Malik #538

Sahih

[538] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أبِی حَرْمَلَۃَ، مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أبِی سُفْیَانَ بْنِ حُوَیْطِبٍ، أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ أبِی سَلَمَۃَ تُوُفِِّیَتْ، وَطَارِقٌ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ، فَأُتِیَ بِجَنَازَتِہَا بَعْدَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ، فَوُضِعَتْ بِالْبَقِیعِ، قَال :وَکَانَ طَارِقٌ یُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ۔ قَالَ ابْنُ أبِی حَرْمَلَۃَ : فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ لِأَہْلِہَا: إِمَّا أَنْ تُصَلُّوا عَلَی جَنَازَتِکُمُ الآن، وَإِمَّا أَنْ تَتْرُکُوہَا حَتَّی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن ابی حرملہ رحمہ اللہ جو کہ عبدالرحمن بن ابی سفیان بن حویطب رحمہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، روایت کرتے ہیں کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما وفات پا گئیں اور ( ان دنوں ) طارق ( بن عمرو مکی رحمہ اللہ ) مدینہ منورہ کے امیر تھے ، چنانچہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا جنازہ نماز فجر کے بعد لایا گیا اور بقیع قبرستان میں رکھ دیا گیا ، ( محمد بن ابی حرملہ رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ طارق رحمہ اللہ نماز فجر کو منہ اندھیرے ہی پڑھا کرتے تھے ، ( محمد ) ابن ابی حرملہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا ، وہ میت کے گھر والوں سے کہہ رہے تھے کہ یا تو ابھی اپنی میت پر جنازہ ادا کر لو یا پھر اسے پڑا رہنے دو یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے ۔

539

Muwatta Imam Malik #539

Sahih

[539] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : یُصَلَّی عَلَی الْجَنَازَۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ إِذَا صُلِّیَتَا لِوَقْتِہِمَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : عصر اور فجر کے بعد جنازے کی نماز ادا کی جا سکتی ہے ، ( لیکن شرط یہ ہے کہ ) جب یہ دونوں ( نماز فجر اور نماز عصر ) اپنے اپنے وقت میں ادا کی گئی ہوں ۔