Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 16 · Chapter 137

جنازوں ( کے متعلقہ احکام ) کی کتاب

میت کو غسل دینے کا بیان

3 hadiths in this chapter

519

Muwatta Imam Malik #519

Sahih

[519] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ غُسِّلَ فِی قَمِیصٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

جعفر بن محمد رحمہ اللہ ( المعروف امام جعفر صادق رحمہ اللہ ) اپنے والد ( محمد بن زین العابدین المعروف امام باقر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو قمیص ہی میں غسل دیا گیا تھا ۔

520

Muwatta Imam Malik #520

Sahih

[520] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ أبِی تَمِیمَۃَ السَّخْتِیَانِیِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ، عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ الْأَنْصَارِیَّۃِ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ حِینَ تُوفِّیتِ ابْنَتُہُ فَقَالَ : اغْسِلْنَہَا ثَلَاثاً، أَوْ خَمْساً، أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ إِنْ رَأَیْتُنَّ ذَلِکِ، بِمَائٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِی الآخِرَۃِ کَافُوراً، أَوْ شَیْئاً مِنْ کَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِی قَالَتْ : فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاہُ، فَأَعْطَانَا حِقْوَہُ، فَقَالَ : أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ تَعْنِی بِحِقْوِہِ إِزَارَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ام عطیہ اَنصارِیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ اس وقت تشریف لائے جب آپ ﷺ کی صاحبزادی ( سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ) وفات پا گئی تھیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے پانی اور بیری ( کے پتوں ) کے ساتھ تین بار یا پانچ بار یا اگر مناسب خیال کرو تو اس سے زیادہ بار ( طاق تعداد میں ) غسل دو اور آخری بار ( غسل دیتے ہوئے پانی ) میں ( مُردوں کو لگائی جانے والی خوشبو ) کافور یا ( فرمایا کہ ) کچھ کافور شامل کر دینا ، پھر جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا ۔‘‘ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع پہنچا دی ، چنانچہ آپ ﷺ نے اپنا تہبند عطا کیا اور فرمایا کہ ’’ اُسے یہ باقی کپڑوں کے نیچے پہنا دو ۔‘‘ سیدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا نے ’’ حِقْوَہ ٗ ‘‘ سے ازار اور تہبند ہی مراد لیا ہے ۔

521

Muwatta Imam Malik #521

Zaeef

[521] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرٍ : أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ عُمَیْسٍ امْرَأَۃَ أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیق، غَسَّلَتْ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ حِینَ تُوُفِّیَ، ثُمَّ خَرَجَتْ فَسَأَلَتْ مَنْ حَضَرَہَا مِنَ الْمُہَاجِرِینَ، فَقَالَتْ : إنِّی صَائِمَۃٌ، وَإِنَّ ہَذَا یَوْمٌ شَدِیدُ الْبَرْدِ, فَہَلْ عَلَیَّ مِنْ غُسْلٍ ؟ فَقَالُوا : لَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ ( بن محمد بن عمرو بن حزم ) سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اُن کی وفات کے موقع پر غسل دیا ، پھر وہ ( فارغ ہو کر ) باہر آئیں اور مہاجرین ( صحابہ رضی اللہ عنہم ) وہاں حاضر تھے اُن سے مسئلہ پوچھا ، کہا کہ میں روزے سے بھی ہوں اور یقیناً ( آج ) یہ بہت سخت سردی والا دن ہے تو کیا مجھ پر ( میت کو غسل دینے کی وجہ سے ) غسل ( واجب ) ہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ نہیں ۔