Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 15 · Chapter 136

قرآن مجید ( کے متعلق مسائل ) کی کتاب

نماز فجر اور نماز عصر کے بعد ( نفلی ) نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان

7 hadiths in this chapter

512

Muwatta Imam Malik #512

Zaeef

[512] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ الصُّنَابِحِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَہَا قَرْنُ الشَّیْطَانِ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَہَا، ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَہَا، فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَہَا، فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَہَا، فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَہَا وَنَہَی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی تِلْکَ السَّاعَاتِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک سورج اس حال میں طلوع ہوتا ہے کہ شیطان کا سینگ اس کے ساتھ ہوتا ہے ، پھر جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو وہ ( سینگ ) اس سے جدا ہو جاتا ہے ، پھر جب ( سورج ) سیدھا ( سر پر ) ہو جاتا ہے تو وہ ( سینگ پھر ) اس کے ساتھ مل جاتا ہے ، پھر جب وہ ڈھل جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے اور جب ( سورج ) غروب ہونے کے قریب ہوتا ہے تو وہ ( پھر ) اس کے ساتھ مل جاتا ہے اور جب وہ غروب ہو جاتا ہے تو اس سے جدا ہو جاتا ہے ۔‘‘ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان ( تینوں ) اوقات میں نماز ادا کرنے سے منع فرما دیا ۔

513

Muwatta Imam Malik #513

Sahih

[513] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَأَخِّرُوا الصَّلَاۃَ، حَتَّی تَبْرُزَ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَأَخِّرُوا الصَّلَاۃَ حَتَّی تَغِیبَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد عُروہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ جب آفتاب کا کنارہ ظاہر ہو جائے تو نماز کو مؤخر کر دیا کرو یہاں تک کہ وہ ( اچھی طرح ) ظاہر ہو ( کر بلند ہو ) جائے اور جب اس کا کنارہ غائب ہو جائے تو نماز کو مؤخر کر دیا کرو حتی کہ وہ ( مکمل ) غائب ہو جائے ۔‘‘

514

Muwatta Imam Malik #514

Sahih

[514] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ بَعْدَ الظُّہْرِ، ﷺ فَقَامَ یُصَلِّی الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ، ذَکَرْنَا تَعْجِیلَ الصَّلَاۃِ أَوْ ذَکَرَہَا، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ یَقُولُ : تِلْکَ صَلَاۃُ الْمُنَافِقِینَ، تِلْکَ صَلَاۃُ الْمُنَافِقِینَ، تِلْکَ صَلَاۃُ الْمُنَافِقِینَ، یَجْلِسُ أَحَدُہُمْ حَتَّی إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ، وَکَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ، أَوْ عَلَی قَرْنِ الشَّیْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعاً، لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیہَا إِلاَّ قَلِیلاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

علاء بن عبدالرحمن رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ہم ظُہر کے بعد حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تو وہ کھڑے ہو کر نمازِ عصر پڑھنے لگے ، چنانچہ جب وہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے یا انھوں نے نماز جلدی ادا کر لینے کا تذکرہ چھیڑ دیا ، تو وہ کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ یہ منافقوں کی نماز ہے ، یہ منافقوں کی نماز ہے ، یہ منافقوں کی نماز ہے کہ اُن میں سے کوئی بیٹھا رہتا ہے یہاں تک کہ جب سورج زرد ہو جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان میں پہنچ جاتا ہے یا ( فرمایا کہ سورج ) شیطان کے سینگ کے اوپر آ جاتا ہے تو وہ ( منافق ) کھڑا ہو کر چار ٹھونگیں لگا لیتا ہے ، وہ نماز میں اللہ کا ذکر بھی نہیں کرتا مگر صرف تھوڑا سا ۔‘‘

515

Muwatta Imam Malik #515

Sahih

[515] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لَا یَتَحَرَّ أَحَدُکُمْ فَیُصَلِّیَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَلَا عِنْدَ غُرُوبِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص ( یہ ) قصد ( اور جستجو ) نہ کرے کہ نماز کو عین طلوع آفتاب یا عین غروب آفتاب کے وقت میں پڑھے ۔‘‘

516

Muwatta Imam Malik #516

Sahih

[516] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ نَہَی عَنِ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر ( کی نماز ) کے بعد ( نفلی ) نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور صبح ( کی نماز ) کے بعد بھی نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے ۔‘‘

517

Muwatta Imam Malik #517

Sahih

[517] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِینَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ یَقُولُ : لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِکُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَہَا، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَطْلُعُ قَرْنَاہُ مَعَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَیَغْرُبَانِ مَعَ غُرُوبِہَا، وَکَانَ یَضْرِبُ النَّاسَ عَلَی تِلْکَ الصَّلَاۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ عین طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز کا قصد نہ کیا کرو کیونکہ شیطان کے دونوں سینگ ( یا سر کے دونوں کنارے ) طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی طلوع ہوتے ہیں اور سورج کے غروب کے ساتھ ہی وہ غروب ہوتے ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس ( وقت کی ) نماز پر لوگوں کو مارا کرتے تھے ۔

518

Muwatta Imam Malik #518

Sahih

[518] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ : أَ نَّہُ رَأَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَضْرِبُ الْمُنْکَدِرَ فِی الصَّلَاۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سائب بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ مُنکدِر رحمہ اللہ کو عصر ( کی نماز ) کے بعد ( نفل ) نماز ( پڑھنے کے جرم ) میں مار رہے تھے ۔