Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 15 · Chapter 135

قرآن مجید ( کے متعلق مسائل ) کی کتاب

دعا کے طریقہ کار کا بیان

7 hadiths in this chapter

505

Muwatta Imam Malik #505

Sahih

[505] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِینَارٍ قَالَ : رَآنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَدْعُو وَأُشِیرُ بِأَصْبُعَیْنِ، أَصْبُعٍ مِنْ کُلِّ یَدٍ، فَنَہَانِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں ، کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا ، میں دعا کر رہا تھا اور دو انگلیوں یعنی ہر ہاتھ کی ایک ایک انگلی سے اشارہ کر رہا تھا تو انھوں نے مجھے روک دیا ۔

506

Muwatta Imam Malik #506

Sahih

[506] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ کَانَ یَقُولُ : إِنَّ الرَّجُلَ لَیُرْفَعُ بِدُعَائِ وَلَدِہِ مِنْ بَعْدِہِ، وَقَالَ بِیَدَیْہِ نَحْوَ السَّمَائِ، فَرَفَعَہُمَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سعید بن مسیَّب فرمایا کرتے تھے : بے شک آدمی کو اس کے ( مرنے کے ) بعد اس کی اولاد کی دعا کی بدولت ( مرتبہ و مقام میں ) بلند کر دیا جاتا ہے ، یہ بیان کرتے ہوئے سعید بن مسیَّب نے آسمان کی طرف اشارہ کر کے اپنے ہاتھوں کو اوپر اٹھا دیا ۔

507

Muwatta Imam Malik #507

Sahih

[507] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ : إِنَّمَا أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلاً} [الاسراء:110] فِی الدُّعَائِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد عروہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ یہ آیت مبارکہ دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے : وَلَاَ تَجْھَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً ( بنی اسرائیل 17 : 110 ) ’’ اور آپ اپنی نماز ( دعا ) نہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ بالکل پست آواز سے ، بلکہ اس کے درمیان درمیان راستہ اختیار کیجیے ۔‘‘

508

Muwatta Imam Malik #508

Sahih

[508] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَدْعُو فَیَقُولُ: اللّٰہُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ، وَإِذَا أَرَدْتَ فِی النَّاسِ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِی إِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُونٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! بے شک میں تجھ سے نیک کاموں کے کرتے رہنے ، برے کاموں کو چھوڑے رکھنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور جب کبھی تو لوگوں میں کسی فتنے ( کے اتارنے ) کا ارادہ فرما لے تو مجھے فتنے میں مبتلا کیے بغیر اپنی طرف بلا لینا ۔‘‘

509

Muwatta Imam Malik #509

Sahih

[509] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَا مِنْ دَاعٍ یَدْعُو إِلَی ہُدًی، إِلاَّ کَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِ مَنِ اتَّبَعَہ، لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْئاً، وَمَا مِنْ دَاعٍ یَدْعُو إِلَی ضَلَالَۃٍ، إِلاَّ کَانَ عَلَیْہِ مِثْلُ أَوْزَارِہِمْ، لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْئاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو کوئی بھی دعوت دینے والا ( کسی ) ہدایت ( کے کام ) کی طرف دعوت دے گا تو ضرور اسے بھی اُس شخص کے اجر کے برابر ( زائد اجر ) ملے گا جو اس کی پیروی کرے گا اور ( اس کا ) یہ ( زائد اجر ) اُن ( پیروکاروں ) کے اجر میں کوئی کمی ( بھی ) نہیں کرے گا ، اور جو کوئی بھی دعوت دینے والا گمراہی کی طرف بلائے گا تو اُس پر ضرور اُن ( پیروکاروں ) کے گناہوں کے برابر ( بھی ) وبال ہو گا اور یہ اُن کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں کرے گا ۔‘‘

510

Muwatta Imam Malik #510

Zaeef

[510] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : اللّٰہُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ أَئِمَّۃِ الْمُتَّقِین۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ( دعا مانگتے ہوئے ) کہا : اے اللہ ! مجھے پرہیزگاروں کے اماموں ( اور پیشواؤں ) میں سے بنا دے ۔

511

Muwatta Imam Malik #511

Zaeef

[511] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ کَانَ یَقُومُ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَیَقُولُ : نَامَتِ الْعُیُونُ، وَغَارَتِ النُّجُومُ، وَأَنْتَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ رات کو جب بیدار ہوتے تو ( دعائیہ انداز میں ) کہتے : آنکھیں سو گئیں اور تارے ڈوب گئے اور ( اے اللہ ! ) تو ہی ہمیشہ سے زندہ اور سب کو قائم رکھنے والا ہے ۔