Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 15 · Chapter 133

قرآن مجید ( کے متعلق مسائل ) کی کتاب

ذکر الٰہی ( کی فضیلت ) کا بیان

6 hadiths in this chapter

488

Muwatta Imam Malik #488

Sahih

[488] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ سُمَیٍّ مَوْلَی أبِی بَکْرٍ، عَنْ أبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مَنْ قَالَ لَا إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، فِی یَوْمٍ مِئَۃَ مَرَّۃٍ, کَانَتْ لَہُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَکُتِبَتْ لَہُ مِئَۃُ حَسَنَۃٍ، وَمُحِیَتْ عَنْہُ مِئَۃُ سَیِّئَۃٍ، وَکَانَتْ لَہُ حِرْزاً مِنَ الشَّیْطَانِ یَوْمَہُ ذَلِکَ حَتَّی یُمْسِیَ، وَلَمْ یَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَائَ بِہِ، إِلاَّ أَحَدٌ عَمِلَ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ پڑھے ( لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ، لَہٗ الْمُلْکُ وَ لَہٗ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ) ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے ۔‘‘ ( جو شخص دن میں اسے سو بار پڑھے گا ) تو یہ ( عمل ) اس کے حق میں دس گردنوں ( یعنی غلام لونڈیاں آزاد کرنے کے اجر ) کے برابر ہو گا ، اس کے لیے سو نیکیاں لکھ دی جائیں گی ، اس سے سو گناہ مٹا دیے جائیں گے اور شام تک سارا دن یہ ( کلمات ) اس کے لیے شیطان سے بچاؤ ( اور حفاظت کا ذریعہ ) بنے رہیں گے اور ( اس دن ) یہ آدمی جو عمل ( اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے ) لائے گا ، کوئی اور شخص اس سے افضل عمل نہ لا سکے گا ، سوائے اس کے جس نے اس سے بھی بڑھ کر ( یہ وظیفہ پڑھنے کا ) عمل کیا ہو گا ۔‘‘

489

Muwatta Imam Malik #489

Sahih

[489] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ سُمَیٍّ مَوْلَی أبِی بَکْرٍ، عَنْ أبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ فِی یَوْمٍ مِئَۃَ مَرَّۃٍ، حُطَّتْ عَنْہُ خَطَایَاہُ، وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے دن میں سو بار ( سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ ) پڑھا اس کے سارے گناہوں کو اس سے مٹا دیا جائے گا ، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔‘‘

490

Muwatta Imam Malik #490

Sahih

[490] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی عُبَیْدٍ مَوْلَی سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَ نَّہُ قَالَ : مَنْ سَبَّحَ دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَـلَاثًا وَثَـلَاثِینَ، وَکَبَّرَ ثَـلَاثاً وَثَـلَاثِینَ، وَحَمِدَ ثَـلَاثًا وَثَـلَاثِینَ، وَخَتَمَ الْمِئَۃَ بِلَا إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، غُفِرَتْ ذُنُوبُہُ وَلَوْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس شخص نے ہر نماز کے بعد 33 بار سُبْحَانَ اللّٰہ ، 33 دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور 33 مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا ( ، یہ تعداد ننانوے ہو گئی ) اور پھر اس نے سو کا اختتام (( لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ )) کے ساتھ کیا تو اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے خواہ وہ سمندر کی جھاگ کی مثل ہوں ۔

491

Muwatta Imam Malik #491

Sahih

[491] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ صَیَّادٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَ نَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ فِی الْبَاقِیَاتِ الصَّالِحَاتِ : إِنَّہَا قَوْلُ الْعَبْدِ : اللّٰہُ أَکْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ، وَلَا إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمارہ بن صیاد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے سعید بن مسیب کو ( اَلْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ ) ( کی تفسیر ) کے بارے کہتے ہوئے سنا کہ ان سے مراد بندے کا یہ ( کلمات ) کہنا ہے : ( اَللّٰہ اَکْبَرُ وَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ) ۔

492

Muwatta Imam Malik #492

Zaeef

[492] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زِیَادِ بْنِ أبِی زِیَادٍ، أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ أَعْمَالِکُمْ، وَأَرْفَعِہَا فِی دَرَجَاتِکُمْ، وَأَزْکَاہَا عِنْدَ مَلِیکِکُمْ، وَخَیْرٍ لَکُمْ مِنْ إِعْطَائِ الذَّہَبِ وَالْوَرِقِ، وَخَیْرٍ لَکُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّکُمْ، فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَہُمْ، وَیَضْرِبُوا أَعْنَاقَکُمْ ؟ قَالُوا : بَلَی۔ قَالَ ذِکْرُ اللّٰہِ تَعَالَی۔ قَالَ زِیَادُ بْنُ أبِی زِیَادٍ : وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ، أَنْجَی لَہُ مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ، مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ کیا میں تمھیں اس کام کی خبر نہ دوں جو تمھارے اعمال میں تمھارے لیے سب سے بہتر ہے ، تمھارے درجات میں بلندی کا سب سے زیادہ باعث بننے والا عمل ہے ، تمھارے مالک کے ہاں سب سے پاکیزہ عمل ہے ، تمھارے لیے سونا چاندی ( رب کی راہ میں ) دینے سے بھی بہتر ہے اور تمھارے حق میں اس سے بھی بہتر ہے کہ تم اپنے دشمن سے ( میدانِ جنگ میں ) ملو تو تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمھاری گردنیں ماریں ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ( ضرور بتائیے ) تو انھوں نے کہا کہ وہ عمل اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے … ( اس حدیث کے راوی ) زیاد بن ابی زیاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوعبدالرحمن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آدم کے بیٹے نے ذکر الٰہی سے بڑھ کر کوئی اور ایسا عمل نہیں کیا جو اسے عذاب الٰہی سے ( سب سے ) زیادہ نجات دینے والا ہو ۔

493

Muwatta Imam Malik #493

Sahih

[493] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ نُعَیْمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَحْیَی الزُّرَقِیِّ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ، أَ نَّہُ قَالَ : کُنَّا یَوْماً نُصَلِّی وَرَائَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ رَأْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ وَقَالَ: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ قَالَ رَجُلٌ وَرَائَ ہُ : رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ، حَمْداً کَثِیراً طَیِّباً مُبَارَکاً فِیہِ۔ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مَنِ الْمُتَکَلِّمُ آنِفاً ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لَقَدْ رَأَیْتُ بِضْعَۃً وَثَـلَاثِینَ مَلَکاً یَبْتَدِرُونَہَا، أَیُّہُمْ یَکْتُبُہُنَّ أَوَّلاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ۔ جب رسول اللہ ﷺ نے رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھا کر ( سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ ) کہا تو ایک شخص نے آپ ﷺ کے پیچھے ( ذرا بلند آواز میں ) یہ پڑھا : ( رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ ) ’’ اے ہمارے رب ! تیرے ہی لیے سب حمد ہے ، ایسی حمد جو بہت زیادہ بہت پاکیزہ ، بہت بابرکت ہے ۔‘‘ پھر جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا : ’’ ابھی ابھی بولنے والا کون تھا ؟‘‘ ایک آدمی کہنے لگا کہ میں ( تھا ) ، اے اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً میں نے تیس سے کچھ زائد فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ان کلمات کی طرف جلدی ( اور ایک دوسرے سے سبقت ) کر رہے تھے کہ ان میں سے کون یہ کلمات سب سے پہلے لکھتا ( اور انھیں درج کرنے کا شرف پاتا ) ہے ۔‘‘