Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 15 · Chapter 130

قرآن مجید ( کے متعلق مسائل ) کی کتاب

قرآن ( کی تلاوت ) کے متعلق مزید روایات کا بیان

7 hadiths in this chapter

473

Muwatta Imam Malik #473

Sahih

[473] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ، أَ نَّہُ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ : سَمِعْتُ ہِشَامَ بْنَ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ، عَلَی غَیْرِ مَا أَقْرَؤُہَا، وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَقْرَأَنِیہَا، فَکِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَیْہِ، ثُمَّ أَمْہَلْتُہُ حَتَّی انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُہُ بِرِدَائِہِ، فَجِئْتُ بِہِ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، إنِّی سَمِعْتُ ہَذَا یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ، عَلَی غَیْرِ مَا أَقْرَأْتَنِیہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَرْسِلْہُ، ثُمَّ قَالَ : اقْرَأْ یَا ہِشَامُ۔ فَقَرَأَ الْقِرَائَ ۃَ الَّتِی سَمِعْتُہُ یَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : ہَکَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ لِی :اقْرَأْ فَقَرَأْتُہَا فَقَالَ : ہَکَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَؤُوا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن عبد ، قاری رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما کو سورۂ فرقان کی تلاوت اس انداز کے علاوہ کرتے ہوئے سنا کہ جس انداز ( اور قراءت ) کے ساتھ میں اسے پڑھتا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے خود مجھے یہ سورت پڑھائی تھی ، ( اب چونکہ حضرت ہشام رضی اللہ عنہ کی قراءت میری قراءت سے الگ تھی تو میں نے سمجھا کہ وہ قرآن غلط پڑھ رہے ہیں ، ) سو قریب تھا کہ میں ان پر ( ان کی حالت نماز ہی میں ) جلد بازی کرتا ( اور ان پر غصہ نکالتا لیکن ) پھر میں نے ان کو مہلت دی ، یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو گئے ، پھر میں نے انھی کی چادر ان کے گلے میں ڈال کر ( ان کو غصے سے پکڑ لیا اور ) ان کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آیا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! بے شک میں نے اسے سنا ، یہ سورۂ فرقان کو اس قراءت سے ہٹ کر پڑھ رہا تھا جو آپ نے مجھے اس کی قراءت پڑھائی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کو چھوڑ دو ۔ ‘‘ پھر آپ نے فرمایا :’’ اے ہشام پڑھو : تو اس نے وہی قراءت پڑھی جو میں نے اسے پڑھتے ہوئے سنی تھی ۔‘‘ آپ نے فرمایا :’’ اسی طرح ہی یہ سورت نازل ہوئی ہے ۔‘‘ پھر مجھ سے فرمایا :’’ تم پڑھو ۔‘‘ تو میں نے اسے ( اپنی قراءت میں ) پڑھا ، تو آپ ﷺ نے ( اس کے متعلق بھی ) فرمایا :’’ اسی طرح ہی یہ سورت نازل ہوئی ہے ۔ یقیناً یہ قرآن سات حرفوں ( یعنی سات قراءتوں ) پر نازل ہوا ہے ، لہٰذا اس میں سے جو آسان ہو اسے پڑھ لیا کرو ۔‘‘

474

Muwatta Imam Malik #474

Sahih

[474] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ، کَمَثَلِ صَاحِبِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَۃِ، إِنْ عَاہَدَ عَلَیْہَا أَمْسَکَہَا، وَإِنْ أَطْلَقَہَا ذَہَبَتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً حافظ قرآن کی مثال تو صرف اور صرف باندھے ہوئے اونٹوں والے شخص کی سی ہے ، اگر وہ ان کا خیال رکھے گا ( اور ان کا ایک ایک گھٹنا باندھ دے گا ) تو ان کو ( اپنے پاس ) روک لے گا اور اگر ان ( گھٹنوں ) کو کھول دے گا تو وہ ( موقع پا کر اس کی دسترس سے نکل کر ) چلے جائیں گے ۔‘‘

475

Muwatta Imam Malik #475

Sahih

[475] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ : أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ ہِشَامٍ، سَأَلَ رَسُولَ اللّٰہِ، کَیْفَ یَأْتِیکَ الْوَحْیُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَحْیَاناً یَأْتِینِی فِی مِثْلِ صَلْصَلَۃِ الْجَرَسِ، وَہُوَ أَشَدُّہُ عَلَیَّ، فَیُفْصِمُ عَنِّی وَقَدْ وَعَیْتُ مَا قَالَ، وَأَحْیَاناً یَتَمَثَّلُ لِیَ الْمَلَکُ رَجُلاً، فَیُکَلِّمُنِی، فَأَعِی مَا یَقُولُ قَالَتْ عَائِشَۃُ : وَلَقَدْ رَأَیْتُہُ یَنْزِلُ عَلَیْہِ فِی الْیَوْمِ الشَّدِیدِ الْبَرْدِ، فَیُفْصِمُ عَنْہُ، وَإِنَّ جَبِینَہُ لَیَتَفَصَّدُ عَرَقاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ سے روایت ہے کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کبھی کبھار تو وہ گھنٹی کی آواز کی شکل میں آتی ہے اور وہ مجھ پر سب سے زیادہ سخت ( کیفیت والی ) ہوتی ہے ، جب وہ مجھ سے جدا ہوتی ہے تو میں وہ ( سب کچھ ) یاد کر چکا ہوتا ہوں جو اس ( فرشتہ جبریل ) نے کہا ہوتا ہے ، اور کبھی کبھار فرشتہ میرے لیے کسی آدمی کی شکل اختیار کر لیتا ہے ، پھر وہ مجھ سے گفتگو کرتا ہے تو وہ جو کچھ بھی کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں ۔‘‘ سیدہ عائشہ کہتی ہیں کہ یقیناً میں نے آپ ﷺ کو دیکھا ، آپ پر سخت سردی والے دن میں وحی نازل ہوتی ، پھر وہ آپ ﷺ سے اس حال میں جدا ہوتی کہ بلاشبہ آپ کی پیشانی مبارک پسینے سے بہہ رہی ہوتی تھی ۔

476

Muwatta Imam Malik #476

Sahih

[476] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ : أُنْزِلَتْ ( عَبَسَ وَتَوَلَّی) فِی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ، جَائَ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَجَعَلَ یَقُولُ : یَا مُحَمَّدُ اسْتَدْنِینِی، وَعِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ رَجُلٌ مِنْ عُظَمَائِ الْمُشْرِکِینَ، فَجَعَلَ النَّبِیُّ ﷺ یُعْرِضُ عَنْہُ، وَیُقْبِلُ عَلَی الآخَرِ وَیَقُولُ : یَا أَبَا فُـلَانٍ، ہَلْ تَرَی بِمَا أَقُولُ بَأْساً فَیَقُولُ : لَا وَالدِّمَائِ مَا أَرَی بِمَا تَقُولُ بَأْساً، فَأُنْزِلَتْ ( عَبَسَ وَتَوَلَّی أَنْ جَائَ ہُ الأَعْمَی)۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سورۂ { عَبَسَ وَتَوَلّٰی } حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی ، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت عالیہ میں آئے اور عرض کرنے لگے کہ اے محمد ( ﷺ ) ! مجھے اپنے قریب کوئی جگہ بتا دیجیے ( تاکہ میں آپ کے پاس بیٹھ سکوں ) ، اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس مشرکین ( قریش ) کے بڑوں میں سے کوئی شخص ( بیٹھا ہوا ) تھا ، تو رسول اللہ ﷺ اس ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) سے اعراض فرما کر دوسرے شخص کی طرف توجہ کرنے لگے اور اس سے پوچھنے لگے کہ ’’ اے فلاں ! میں جو کچھ کہہ رہا ہوں کیا تو اس میں کوئی حرج محسوس کرتا ہے ؟ وہ کہنے لگا کہ نہیں نہیں ، خونوں کی قسم ! میں آپ کی بات میں کوئی حرج نہیں دیکھتا ، تو ( اس اعراضِ پیغمبر ﷺ کی بنا پر ) سورۂ عبس نازل ہوئی ۔

477

Muwatta Imam Malik #477

Sahih

[477] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَسِیرُ فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَسِیرُ مَعَہُ لَیْلاً، فَسَأَلَہُ عُمَرُ عَنْ شَیْئٍ فَلَمْ یُجِبْہُ، ثُمَّ سَأَلَہُ فَلَمْ یُجِبْہُ، ثُمَّ سَأَلَہُ فَلَمْ یُجِبْہُ۔ فَقَالَ عُمَرُ : ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ عُمَرُ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، کُلُّ ذَلِکَ لَا یُجِیبُکَ، قَالَ عُمَرُ : فَحَرَّکْتُ بَعِیرِی، حَتَّی إِذَا کُنْتُ أَمَامَ النَّاسِ، وَخَشِیتُ أَنْ یُنْزَلَ فِی قُرْآنٌ، فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخاً یَصْرُخُ بِی، قَالَ : فَقُلْتُ لَقَدْ خَشِیتُ أَنْ یَکُونَ نَزَلَ فِی قُرْآنٌ، قَالَ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ : لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَیَّ ہَذِہِ اللَّیْلَۃَ سُورَۃٌ، لَہِیَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَرَأَ : {إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحاً مُبِیناً} [الفتح : 1]

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کسی سفر میں چلے جا رہے تھے ، رات کے وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ہمراہ چل رہے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے جواب نہ دیا ، انھوں نے پھر پوچھا تو آپ ﷺ نے جواب نہ دیا ، انھوں نے پھر ( تیسری بار ) پوچھا تو آپ ﷺ نے اب بھی ان کو جواب نہ دیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ( تو پریشان ہو گئے اور اپنے آپ سے ) کہنے لگے : عمر ! تجھے تیری ماں گم پائے ( یعنی کاش ! تو مر گیا ہوتا اور یہ نوبت نہ آتی ) تو نے رسول اللہ ﷺ سے تین بار مبالغہ و اصرار سے سوال کیا ( لیکن ) آپ ﷺ نے کسی باری میں تجھے جواب نہیں دیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( پریشانی کے عالم میں ) اپنے اونٹ کو حرکت دی یہاں تک کہ میں سب لوگوں سے آگے ہو گیا ، ( یہ سمجھ کر شاید آقا علیہ السلام مجھ پر ناراض ہیں اور مجھے اپنے قریب نہیں دیکھنا چاہتے ) اور میں ڈر رہا تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن ( نہ ) نازل ہو جائے ، پھر ( واقعی ایسا ہی محسوس ہوا کیونکہ ) میں ( زیادہ دیر ) نہ ٹھہرا تھا کہ میں نے ایک زور سے پکارنے والے کو سنا جو مجھے آواز دے رہا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( دل میں ) کہا کہ یقیناً مجھے اسی بات کا خطرہ ہے کہ میرے متعلق کچھ قرآن نازل ہوا ہو گا ، وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو سلام عرض کیا تو ( آپ نے ) فرمایا :’’ یقیناً آج رات مجھ پر ایک ایسی سورت نازل کی گئی ہے جو مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے ( سورۂ فتح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی پہلی آیت کی ) تلاوت فرمائی ۔ { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا } ’’ یقیناً ہم نے آپ کو واضح فتح عطا فرمائی ہے ۔‘‘

478

Muwatta Imam Malik #478

Sahih

[478] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ، عَنْ أبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أبِی سَعِیدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : یَخْرُجُ فِیکُمْ قَوْمٌ، تَحْقِرُونَ صَلَاتَکُمْ مَعَ صَلَاتِہِمْ، وَصِیَامَکُمْ مَعَ صِیَامِہِمْ، وَأَعْمَالَکُمْ مَعَ أَعْمَالِہِمْ، یَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ وَلَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ، یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ مُرُوقَ السَّہْمِ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، تَنْظُرُ فِی النَّصْلِ فَـلَا تَرَی شَیْئاً، وَتَنْظُرُ فِی الْقِدْحِ فَـلَا تَرَی شَیْئاً، وَتَنْظُرُ فِی الرِّیشِ فَـلَا تَرَی شَیْئاً، وَتَتَمَارَی فِی الْفُوقِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ تم میں ( خوارج کی ایک ) قوم نکلے گی ، تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں ، اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں اور تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں حقیر سمجھو گے ( ظاہر میں وہ بہت زیادہ عبادت گزار اور متقی محسوس ہوں گے ) ، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ( صرف ان کے مونہوں اور زبانوں تک محدود ہو گا اور ) ان کے حلقوں سے ( پار ہو کر نیچے سینے اور دل تک ) تجاوز نہیں کرے گا ، وہ دین سے اس طرح پار گزر جائیں گے جس طرح ( تیز رفتار ) تیر شکار ( ہدف ) سے پار گزر جاتا ہے ( اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ شکار ہونے والے جانور کے جسم سے گزرنے کے باوجود بالکل صاف ہوتا ہے اور اس کی تیزی کی وجہ سے گوشت اور خون کو اس پر لگنے کا موقع ہی نہیں ملتا ۔ ) تم ( تیر کے ) پھل ( یعنی نوکدارانی اور پیکان ) کو دیکھو تو ( وہاں ) کوئی چیز ( لگی ہوئی ) نہ دیکھو گے ، تم ( اس کی ) لکڑی کو دیکھو تو ( وہاں بھی ) کچھ نہ دیکھو گے ، تم ( اس کے ) پر میں دیکھو تو کچھ بھی نہ دیکھ پاؤ گے ، اور البتہ ( تیر کے ) سوفار ( یعنی وہ حصہ جہاں کمان کی تانت اور تندی ٹکتی ہے اور چھوٹا سا گڑھا ہوتا ہے تو اس ) میں تم شک کرو گے ( کہ شاید یہاں خون کے کچھ اثرات پہنچے ہیں ) ۔‘‘

479

Muwatta Imam Malik #479

Zaeef

[479] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ مَکَثَ عَلَی سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ ثَمَانِیَ سِنِینَ یَتَعَلَّمُہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سورۂ بقرہ پر آٹھ سال ٹھہرے رہے ( اور ) اسے سیکھتے رہے ۔