Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 15 · Chapter 129

قرآن مجید ( کے متعلق مسائل ) کی کتاب

( روزانہ تلاوت کے لیے ) قرآن مجید کے حصے مقرر کرنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

471

Muwatta Imam Malik #471

Sahih

[471] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : مَنْ فَاتَہُ حِزْبُہُ مِنَ اللَّیْلِ، فَقَرَأَہُ حِینَ تَزُولُ الشَّمْسُ، إِلَی صَلَاۃِ الظُّہْرِ، فَإِنَّہُ لَمْ یَفُتْہُ، أَوْ کَأَنَّہُ أَدْرَکَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن عبد رحمہ اللہ ( جو کہ قارہ قبیلے کی طرف منسوب ہونے کی بنا پر ) قاری ( کہلاتے ہیں ) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس شخص کا ( تلاوت کا مخصوص اور متعین ) حصہ رات کو رہ جائے ( اور وہ نیند یا بیماری وغیرہ کی بنا پر تہجد میں اسے نہ پڑھ سکے ، ) پھر اسے سورج ڈھلنے سے لے کر نماز ظہر تک ( کے درمیان ) پڑھ لے تو بے شک وہ اس سے ( گویا ) فوت ہی نہیں ہوا یا ( انھوں نے کہا کہ ) گویا اس نے اس ( فوت شدہ اجر و فضیلت ) کو پا لیا ۔

472

Muwatta Imam Malik #472

Zaeef

[472] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : کُنْتُ أَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ جَالِسَیْنِ، فَدَعَا مُحَمَّدٌ رَجُلاً فَقَالَ : أَخْبِرْنِی بِالَّذِی سَمِعْتَ مِنْ أَبِیکَ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : أَخْبَرَنِی أبِی، أَ نَّہُ أَتَی زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ لَہُ : کَیْفَ تَرَی فِی قِرَائَ ۃِ القُرْآنِ فِی سَبْعٍ، فَقَالَ زَیْدٌ : حَسَنٌ، وَلأَنْ أَقْرَأَہُ فِی نِصْفِ شَہْرٍ أَوْ عَشْرٍ أَحَبُّ إِلَیَّ، وَسَلْنِی لِمَ ذَاکَ ؟ قَالَ : فَإِنِّی أَسْأَلُکَ۔ قَالَ زَیْدٌ : لِکَیْ أَتَدَبَّرَہُ وَأَقِفَ عَلَیْہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں اور محمد بن یحیی بن حبان رحمہ اللہ بیٹھے ہوئے تھے ، محمد ( بن یحیی بن حبان رحمہ اللہ ) نے ایک شخص کو بلایا اور کہا کہ مجھے وہ بات بتاؤ جو تم نے اپنے باپ سے سنی تھی ، چنانچہ وہ شخص کہنے لگا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی کہ وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ آپ ( مکمل ) قرآن مجید کو سات ( دنوں ) میں ( روزانہ ایک ایک منزل کے حساب سے ) تلاوت کر لینے کے متعلق کیا خیال کرتے ہیں ؟ تو حضرت زید ( بن ثابت ) رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ( یہ ) اچھا ( اور بہتر عمل ) ہے اور ( لیکن ) میں اس ( پورے قرآن ) کو آدھے مہینے میں یا بیس دنوں میں تلاوت ( کر کے ختم ) کروں تو یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اور تم مجھ سے پوچھو کہ ایسا کیوں ہے ؟ ( میرے والد نے ) کہا کہ میں آپ سے ( اس کی وجہ ) پوچھتا ہوں تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تاکہ میں اس میں ( زیادہ ) تدبر ( اور غور و فکر ) کر سکوں اور اس ( کے مفہوم ) کی واقفیت حاصل کر سکوں ۔