Muwatta Imam Malik #470
[470] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ أبِی تَمِیمَۃَ السَّخْتِیَانِیِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ فِی قَوْمٍ وَہُمْ یَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ، فَذَہَبَ لِحَاجَتِہِ، ثُمَّ رَجَعَ وَہُوَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَسْتَ عَلَی وُضُوئٍ ؟ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : مَنْ أَفْتَاکَ بِہَذَا، أَمُسَیْلِمَۃُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں میں ( بیٹھے ہوئے ) تھے اور لوگ قرآن پڑھ رہے تھے ، آپ رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لیے گئے ، پھر وہ اس حال میں لوٹے کہ قرآن پڑھ رہے تھے ، تو ایک شخص نے ان سے کہا کہ اے امیر المؤمنین ! کیا آپ قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ باوضو بھی نہیں ہیں ؟ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ تجھے ( بغیر وضو کے تلاوت ممنوع ہونے کا ) یہ فتوی کس نے دیا ہے ؟ کیا مسیلمہ ( کذاب ) نے ؟