Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 14 · Chapter 122

قبلے کے متعلق کتاب

پیشاب یا پاخانے کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی رخصت کا بیان

1 hadith in this chapter

456

Muwatta Imam Malik #456

Sahih

[456] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّہِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ : إِنَّ أُنَاساً یَقُولُونَ : إِذَا قَعَدْتَ عَلَی حَاجَتِکَ، فَـلَا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ، وَلَا بَیْتَ الْمَقْدِسِ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : لَقَدِ ارْتَقَیْتُ عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ لَنَا، فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی لَبِنَتَیْنِ، مُسْتَقْبِلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِہِ، ثُمَّ قَالَ : لَعَلَّکَ مِنَ الَّذِینَ یُصَلُّونَ عَلَی أَوْرَاکِہِمْ۔ قَالَ: قُلْتُ : لَا أَدْرِی وَاللّٰہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ کہتے تھے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب تو اپنی حاجت کے لیے بیٹھنے لگے تو نہ قبلہ کی طرف منہ کر اور نہ ہی بیت المقدس کی طرف رخ کر ( کیونکہ مدینہ منورہ میں بیت المقدس کی طرف منہ کرنے سے قبلہ کو پشت ہوتی ہے ، پھر ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( اس موقف کی تردید کرتے ہوئے ) فرماتے کہ یقیناً میں اپنے ایک گھر ( یعنی اپنی ہمشیرہ سیدہ حفصہ ام المومنین رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک ) کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی حاجت کے لیے دو کچی اینٹوں پر بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے بیٹھے تھے ، پھر ( حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے واسع بن حبان رحمہ اللہ سے ) فرمایا کہ شاید تم ان لوگوں میں سے ہو جو اپنے سرینوں پر نماز پڑھتے ہیں ؟ واسع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ( یہ سن کر ) کہا کہ اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا ( کہ ان میں سے ہوں یا نہیں ) امام مالک رحمہ اللہ نے ( روایت کے آخری حصہ میں مذکور سرینوں پر نماز پڑھنے والے شخص کی وضاحت میں ) فرمایا : یعنی وہ شخص جو سجدہ کرتا ہے اور زمین سے اوپر نہیں اٹھتا ، ( اپنے پیٹ اور رانوں کو اونچا نہیں کرتا بلکہ ) اس حال میں سجدہ کرتا ہے کہ وہ زمین سے چپکا ہوا ہوتا ہے ۔ ( حالانکہ مسنون سجدے میں رانیں سیدھی کھڑی اور پشت اونچی ہوتی ہے ، نہ پیٹ رانوں سے چپکا ہوتا ہے اور نہ بازو ، پیٹ یا زمین سے ملے ہوتے ہیں ۔ )