Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 13 · Chapter 120

بارش مانگنے ( کی نماز اور دعا ) کے متعلق کتاب

تاروں کے ذریعے بارش طلب کرنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

451

Muwatta Imam Malik #451

Sahih

[451] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ، أَ نَّہُ قَالَ : صَلَّی لَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ صَلَاۃَ الصُّبْحِ بِالْحُدَیْبِیَۃِ، عَلَی إِثْرِ سَمَائٍ کَانَتْ مِنَ اللَّیْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ : أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ ؟ قَالُوا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ : قَالَ : أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِی مُؤْمِنٌ بِی وَکَافِرٌ بِی، فَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللّٰہِ وَرَحْمَتِہِ، فَذَلِکَ مُؤْمِنٌ بِی کَافِرٌ بِالْکَوْکَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِنَوْئِ کَذَا وَکَذَا، فَذَلِکَ کَافِرٌ بِی مُؤْمِنٌ بِالْکَوْکَبِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر رات کو ہونے والی بارش کے بعد فجر کی نماز پڑھائی ، پھر جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف ( رخ پھیر کر ) متوجہ ہوئے اور فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے رب نے کیا کہا ہے ؟‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے کہا ہے کہ ( آج ) میرے کچھ بندے میرے ساتھ ایمان لانے والے بن گئے اور کچھ کافر ہو گئے ، سو جس نے تو یہ کہا کہ ہمیں اللہ کے فضل اور رحمت سے بارش عطا کی گئی ، تو یہ میرے ساتھ ایمان رکھنے والا اور ستارے ( کی تاثیر ) کا انکار و کفر کرنے والا شخص ہے اور رہا وہ شخص جس نے یہ کہا کہ ہمیں فلاں فلاں تارے ( اور نچھتر کی گردش ) سے بارش ملی ہے تو یہ شخص میرے ساتھ کفر کرنے والا ، تارے کے ساتھ ایمان لانے والا ہے ۔

452

Muwatta Imam Malik #452

Zaeef

[452] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَقُولُ : إِذَا أَنْشَأَتْ بَحْرِیَّۃٌ، ثُمَّ تَشَائَ مَتْ فَتِلْکَ عَیْنٌ غُدَیْقَۃٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ جب بحریہ یعنی سمندر کی طرف سے بادل اٹھے ( جو کہ مدینہ منورہ کے مغرب میں ہے ) اور ملک شام کی طرف جانے لگے ( جو مدینہ کے شمال میں ہے ) تو یہ ایک وافر ( پانی والا ) چشمہ ہے ( جس سے خوب بارش برسے گی ) ۔‘‘

453

Muwatta Imam Malik #453

Zaeef

[453] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَنَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ کَانَ یَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَقَدْ مُطِرَ النَّاسُ : مُطِرْنَا بِنَوْئِ الْفَتْحِ، ثُمَّ یَتْلُو ہَذِہِ الآیَۃَ {مَا یَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَۃٍ فَلَا مُمْسِکَ لَہَا وَمَا یُمْسِکْ فَلَا مُرْسِلَ لَہُ مِنْ بَعْدِہِ} [فاطر : 2]

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ جس وقت لوگوں پر بارش برسی ہوتی تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب صبح کرتے تو کہتے کہ ہمیں ’’ فتح والے تارے ‘‘ سے بارش ملی ہے ، ( اور اس فتح والے تارے کا مطلب سمجھانے کے لیے ) پھر وہ یہ آیت مبارکہ تلاوت کرتے ( جس میں ’’ فتح ‘‘ یعنی کھلنے کا تذکرہ ہے ) { مَا یَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ فَلَا مُمْسِکَ لَہَا } ( فاطر 35 : 2 ) ’’ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے ( اپنی ) رحمت میں سے جو کچھ بھی کھول دے تو کوئی اسے بند کرنے والا نہیں ۔‘‘