Muwatta Imam Malik #447
[447] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْمُنْذِر، عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، أَنَّہَا قَالَتْ : أَتَیْتُ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ حِینَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَإِذَا النَّاسُ قِیَامٌ یُصَلُّون، وَإِذَا ہِیَ قَائِمَۃٌ تُصَلِّی، فَقُلْتُ : مَا لِلنَّاسِ ؟ فَأَشَارَتْ بِیَدِہَا نَحْوَ السَّمَائِ وَقَالَتْ : سُبْحَانَ اللّٰہِ، فَقُلْتُ : آیَۃٌ ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِہَا أَنْ نَعَمْ، قَالَتْ : فَقُمْتُ حَتَّی تَجَلاَّنِی الْغَشْیُ، وَجَعَلْتُ أَصُبُّ فَوْقَ رَأْسِی الْمَائَ، فَحَمِدَ اللّٰہَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَأَثْنَی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْ شَیْئٍ کُنْتُ لَمْ أَرَہُ إِلاَّ قَدْ رَأَیْتُہُ فِی مَقَامِی ہَذَا، حَتَّی الْجَنَّۃُ وَالنَّارُ، وَلَقَدْ أُوحِیَ إِلَیَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُونَ فِی الْقُبُورِ مِثْلَ، أَوْ قَرِیباً، مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ - لَا أَدْرِی أَیَّتَہُمَا قَالَتْ أَسْمَائُ - یُؤْتَی أَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لَہُ : مَا عِلْمُکَ بِہَذَا الرَّجُل، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ، أَوِ الْمُوقِنُ - لَا أَدْرِی أَیَّ ذَلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَیَقُولُ: ہُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ، جَائَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْہُدَی، فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا وَاتَّبَعْنَا، فَیُقَالُ لَہُ : نَمْ صَالِحاً، قَدْ عَلِمْنَا إِنْ کُنْتَ لَمُؤْمِناً، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ، أَوِ الْمُرْتَابُ - لَا أَدْرِی أَیَّتَہُمَا قَالَتْ أَسْمَائُ - فَیَقُولُ : لَا أَدْرِی سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُولُونَ شَیْئاً فَقُلْتُہُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں ( باپ کی طرف سے اپنی چھوٹی بہن ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر علیہ السلام کے پاس سورج گہن کے موقع پر آئی تو اچانک ( کیا دیکھتی ہوں کہ ) لوگ کھڑے نماز ادا کر رہے ہیں ۔ اور ناگہاں ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر نظر پڑی تو ) وہ بھی کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں ، میں نے ( ان سے ان کی حالتِ نماز میں ) پوچھا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ تو انھوں نے اپنے ہاتھ کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کر دیا اور ( ساتھ ہی منہ سے ) سبحان اللہ کہا ، ( چونکہ یہ کلمہ تعجب کے وقت ادا کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت و شان پر بھی دلالت کرتا ہے ، اس لیے اندازے سے ) میں نے کہا کہ ( کیا قدرت الٰہیہ کی ) کوئی نشانی ( نمودار ہو گئی ہے ) ؟ تو انھوں نے اپنے سر کے اشارے سے ہاں میں جواب دیا ، ( حضرت اسماء رضی اللہ عنہا ) کہتی ہیں کہ پھر میں بھی ( ان کے ساتھ ہی نماز کے لیے ) کھڑی ہو گئی یہاں تک کہ ( شدید گرمی کی بنا پر ) مجھ پر بے ہوشی طاری ہونے لگی اور میں ( نماز ہی میں ) اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی ۔ ( الغرض نماز ختم ہونے کے بعد آپ ﷺ نے خطبہ دیا ، ) چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی ، پھر ارشاد فرمایا :’’ کوئی بھی ایسی چیز جسے میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا میں نے اسے یقیناً اپنی اس جگہ ( گرہن کی نماز ) میں دیکھ لیا ہے یہاں تک کہ جنت اور جہنم کو بھی ، اور بلاشبہ میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ بے شک تمھیں قبروں میں فتنہ دجال کی مثل یا ( فرمایا کہ ) اس کے قریب قریب آزمائش میں ڈالا جائے گا ۔‘‘ ( حدیث کی راویہ فاطمہ بنت منذر رحمہ اللہ کہتی ہیں کہ ) مجھے علم نہیں رہا کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے ان دونوں ( لفظوں یعنی مثل اور قریب ) میں سے کون سا لفظ بولا تھا ، ( بعد ازاں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ) ’’ تم میں سے ہر ایک کے پاس ( قبر میں ) حاضر ہوا جائے گا ، ( منکر نکیر آئیں گے ) تو ( ان کی طرف سے ) پوچھا جائے گا کہ تمھیں اس ( مشہور و معروف ) شخصیت کے متعلق کیا علم ہے ؟ رہا ایمان رکھنے والا یا ( فرمایا کہ رہا ) یقین رکھنے والا ، ( فاطمہ بنت منذر رحمہ اللہ کہتی ہیں کہ ) میں نہیں جانتی کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے ان ( دونوں لفظوں یعنی ایمان رکھنے والا اور یقین رکھنے والا ) میں سے کون سا لفظ بولا تھا ، ( مفہوم تو دونوں کا ایک ہی ہے بہرحال یہ ایمان و یقین والا شخص فرشتوں سے ) کہے گا کہ وہ ( مشہور و معروف شخصیت ) محمد ( ﷺ ) ہیں ، جو اللہ کے رسول ہیں ، جو ہمارے پاس ( اللہ کی طرف سے ) کھلے دلائل اور ہدایت لے کر آئے ، ہم نے ( ان کی دعوت کو ) قبول کیا ، ( ان پر ) ایمان لائے اور ( ان کی ) اتباع کی ۔ ( تین بار یہی جواب دے گا ) چنانچہ اس سے کہا جائے گا کہ اچھی طرح ( اور پورے امن و سکون سے ) سو جاؤ ، یقیناً ہمیں علم تھا کہ بلاشبہ تو مومن ہے ، رہا منافق یا ( فرمایا ) شک کرنے والا شخص ( فاطمہ بنت منذر رحمہ اللہ کہتی ہیں کہ ) کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کون سا لفظ بولا تھا ، تو ( بہرحال یہ شک و نفاق والا ) کہے گا کہ مجھے ( اس آخری پیغمبر ﷺ کی شخصیت کے متعلق ) کوئی علم نہیں ، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا تھا تو ( جو سنا ) وہ میں نے بھی کہہ دیا ( لیکن نہ کبھی حقیقت کو جانا نہ تسلیم کیا ) ۔‘‘