Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 12 · Chapter 116

نمازِ گرہن کے متعلق کتاب

نماز گرہن کا بیان

3 hadiths in this chapter

444

Muwatta Imam Malik #444

Sahih

[444] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النِّبِیِّ ﷺ ، أَنَّہَا قَالَتْ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَصَلَّی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ، وَہُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الآخِرَۃِ مِثْلَ ذَلِکَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ, فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ : لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذَلِکَ فَادْعُوا اللّٰہَ وَکَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا ثُمَّ قَالَ : یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ وَاللّٰہِ : مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْیَرَ مِنَ اللّٰہِ عزَّ وجَلَّ أَنْ یَزْنِیَ عَبْدُہُ أَوْ تَزْنِیَ أَمَتُہُ، یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ، وَاللّٰہِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِکْتُمْ قَلِیلاً، وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیراً۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں سورج گہن زدہ ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو ( یوں ) نماز پڑھائی کہ ( پہلی رکعت میں ) کھڑے ہوئے تو ( خوب ) لمبا قیام کیا ، پھر رکوع میں چلے گئے تو ( خوب ) لمبا رکوع کیا ، پھر کھڑے ہوئے تو لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا ، پھر رکوع میں گئے تو لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا ، پھر سر اٹھایا ( اور کھڑے ہوئے ) پھر سجدے میں چلے گئے ، پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا ، پھر ( نماز سے ) اس حال میں فارغ ہوئے کہ آفتاب روشن ہو چکا تھا ، ( اتنی لمبی نماز پڑھائی کہ اس کے دوران ہی سورج گرہن ختم ہو گیا ، ) پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا ، چنانچہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ یقیناً سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، نہ تو یہ کسی کی موت کی وجہ سے گہناتے ہیں اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے ، لہٰذا جب تم اس ( گہن ) کو دیکھو تو اللہ سے دعا کرو ، اور اس کی کبریائی بیان کرو اور صدقہ خیرات کرو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اے امتِ محمد ( ﷺ ) ! اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی بھی زیادہ غیرت والا نہیں ، ( خصوصاً اس معاملے میں ) کہ اس کا کوئی بندہ یا بندی زنا کا ارتکاب کرے ، اے محمد ﷺ کی امت ! اللہ کی قسم ! اگر تم بھی وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں ( میری طرح تمھیں بھی معرفت اور علم یقین حاصل ہو جائے ) تو تم ہنسو تھوڑا اور روؤ زیادہ ۔‘‘

445

Muwatta Imam Malik #445

Sahih

[445] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَ نَّہُ قَالَ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَالنَّاسُ مَعَہُ، فَقَامَ قِیَاماً طَوِیلاً، نَحْواً مِنْ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعاً طَوِیلاً، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِیَاماً طَوِیلاً، وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعاً طَوِیلاً، وَہُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِیَاماً طَوِیلاً، وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعاً طَوِیلاً، وَہُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِیَاماً طَوِیلاً، وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعاً طَوِیلاً، وَہُو دُونَ الرُّکُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ : إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ، لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذَلِکَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ۔ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ رَأَیْنَاکَ تَنَاوَلْتَ شَیْئاً فِی مَقَامِکَ ہَذَا، ثُمَّ رَأَیْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ، فَقَالَ : إنِّی رَأَیْتُ الْجَنَّۃَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْہَا عُنْقُوداً، وَلَوْ أَخَذْتُہُ لأَکَلْتُمْ مِنْہُ مَا بَقِیَتِ الدُّنْیَا، وَرَأَیْتُ النَّارَ، فَلَمْ أَرَ کَالْیَوْمِ مَنْظَراً قَطُّ أَفْظَعَ، وَرَأَیْتُ أَکْثَرَ أَہْلِہَا النِّسَائَ۔ قَالُوا : لِمَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ؟ قَالَ : لِکُفْرِہِنَّ۔ قِیلَ : أَیَکْفُرْنَ بِاللّٰہِ ؟ قَالَ : وَیَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ، وَیَکْفُرْنَ الإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَی إِحْدَاہُنَّ الدَّہْرَ کُلَّہُ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَیْئاً قَالَتْ : مَا رَأَیْتُ مِنْکَ خَیْراً قَطُّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گہنا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے نماز ادا کی اور لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ نماز پڑھی ، چنانچہ آپ ﷺ نے تقریباً سورۂ بقرہ ( کی تلاوت میں صرف ہونے والے وقت ) کے برابر لمبا قیام کیا ، پھر لمبا رکوع کیا ، پھر سر اٹھا کر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے قدرے کم تھا ، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے نسبتاً کم تھا ، پھر آپ نے ( کھڑے ہونے کے بعد ) سجدہ فرمایا ، پھر ( دوسری رکعت میں بھی ) لمبا قیام کیا جو ( سب سے ) پہلے ( یا اپنے سے پہلے ) قیام سے کچھ کم تھا ، پھر لمبا رکوع کیا جو ( سب سے ) پہلے ( یا متصل گزشتہ ) رکوع سے ذرا کم تھا ، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا جو کہ ( سب سے ) پہلے ( یا اپنے سے پہلے یعنی تیسرے ) قیام سے کچھ چھوٹا تھا ، پھر لمبا رکوع کیا جو ( سب سے ) پہلے ( یا متصل پہلے ) رکوع سے ذرا مختصر تھا ، پھر سجدے میں چلے گئے ، پھر اس حال میں نماز سے فارغ ہوئے کہ آفتاب روشن ہو چکا تھا ، پھرفرمایا :’’ یقیناً شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، جو نہ کسی کی موت کی بنا پر گہن زدہ ہوتے ہیں اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے ، لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو اللہ کو یاد کیا کرو ۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو ( حالتِ نماز میں ) اپنی اسی جگہ پر دیکھا تھا کہ ( جیسے ) آپ کوئی چیز پکڑنے لگے تھے ، پھر ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ ( اُلٹے پاؤں ) پیچھے ہٹ آئے تھے تو ( رسول اللہ ﷺ نے ) فرمایا :’’ بے شک میں نے جنت دیکھی تھی ( یا فرمایا کہ مجھے جنت دکھائی گئی تھی ) تو میں نے اس میں سے ( انگور وغیرہ کا ) ایک خوشہ پکڑنا چاہا تھا ، اور اگر میں اُسے پکڑ لیتا تو جب تک دُنیا باقی رہتی تم اُس سے کھاتے ہی رہتے ، اور ( پھر ) میں نے آگ دیکھی تھی ( جس وقت کہ پیچھے ہٹا تھا ) ، چنانچہ میں نے آج کی طرح کا کبھی بھی کوئی بھیانک ( ہولناک ، ہیبت ناک ، مکروہ اور گھبراہٹ آمیز ) منتظر نہیں دیکھا اور میں نے دیکھا کہ جہنم والوں میں عورتیں ( تعداد میں نسبتاً ) زیادہ ہیں ۔‘‘ لوگوں نے دریافت کیا کہ کس وجہ سے اے اللہ کے رسول ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان کے کفر کی وجہ سے ۔‘‘ پوچھا گیا کیا کہ وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں ؟ فرمایا :’’ وہ خاوند ( کا کفر اور کفران نعمت یعنی اُس ) کی ناشکری کرتی ہیں ، اسی طرح احسان ( کا بھی کفر ، انکار اور اس ) کی ناشکری کرتی ہیں ، اگر تو اُن میں سے کسی پر سارا زمانہ ( یعنی زندگی بھر ) احسان کرتا رہے ، پھر وہ تجھ سے کوئی چیز دیکھ لے ( یعنی تیری طرف اُسے ناگواری ، ناراضی یا کوئی تکلیف و رنج پہنچ جائے ) تو وہ کہہ اٹھے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی بھی کوئی بھی خیر نہیں دیکھی ۔ ( تیرے ہاں کبھی سکھ کا سانس تک نہیں آیا ۔ ) ‘‘

446

Muwatta Imam Malik #446

Sahih

[446] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَن، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّ یَہُودِیَّۃً جَائَ تْ تَسْأَلُہَا فَقَالَتْ : أَعَاذَکِ اللّٰہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَسَأَلَتْ عَائِشَۃُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ : أَیُعَذَّبُ النَّاسُ فِی قُبُورِہِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ، عَائِذاً بِاللّٰہِ مِنْ ذَلِکَ، ثُمَّ رَکِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ذَاتَ غَدَاۃٍ مَرْکَباً، فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَرَجَعَ ضُحًی، فَمَرَّ بَیْنَ ظَہْرَانَی الْحُجَرِ، ثُمَّ قَامَ یُصَلِّی، وَقَامَ النَّاسُ وَرَائَ ہُ، فَقَامَ قِیَاماً طَوِیلاً، ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعاً طَوِیلاً، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِیَاماً طَوِیلاً, وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعاً طَوِیلاً، وَہُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِیَاماً طَوِیلاً، وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعاً طَوِیلاً، وَہُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِیَاماً طَوِیلاً، وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعاً طَوِیلاً، وَہُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَقُولَ، ثُمَّ أَمَرَہُمْ أَنْ یَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ زوجہ پیغمبر ﷺ سے روایت ہے کہ ایک یہودن عورت ان کے پاس آئی ، وہ ان سے کچھ مانگ رہی تھی ، ( اور مانگنے والوں کی عادت کے مطابق ) وہ کہنے لگی کہ اللہ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا لوگوں کو ان کی قبروں میں عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں بھی اس ( عذاب قبر ) سے اللہ کی پناہ کا طالب ہوں ۔‘‘ پھر ( یوں ہوا کہ ) ایک ( دن ) صبح ( کے وقت ) آپ ﷺ سواری پر سوار ہوئے تو ( ادھر ) سورج گہن میں آ گیا ، آپ ﷺ چاشت ہی کے وقت واپس لوٹ آئے پھر ( امہات المومنین کے ) حجروں کے درمیان سے گزرے ، پھر ( مسجد میں آ کر ) کھڑے ہوئے اور نماز ادا کرنے لگے ، لوگ بھی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ، چنانچہ آپ ﷺ نے لمبا قیام کیا ، پھر لمبا رکوع کیا ، پھر سر اٹھا کر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے چھوٹا تھا ، پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر سر اٹھایا ، پھر سجدے میں چلے گئے ، پھر ( دوسری رکعت میں بھی ) لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے کچھ کم تھا ، پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے نسبتاً کم تھا ، پھر سر اٹھا کر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا ، پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے قدرے کم تھا ، پھر سر اٹھایا ، پھر سجدے میں چلے گئے ، پھر ( سلام پھیر کر نماز سے ) فارغ ہوئے پھر جو کچھ اللہ نے چاہا آپ ﷺ نے ( خطبے میں ) ارشاد فرمایا ، پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ عذاب قبر سے پناہ مانگیں ۔