Muwatta Imam Malik #444
[444] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النِّبِیِّ ﷺ ، أَنَّہَا قَالَتْ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَصَلَّی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ، وَہُوَ دُونَ الْقِیَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ، وَہُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الآخِرَۃِ مِثْلَ ذَلِکَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ, فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ : لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذَلِکَ فَادْعُوا اللّٰہَ وَکَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا ثُمَّ قَالَ : یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ وَاللّٰہِ : مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْیَرَ مِنَ اللّٰہِ عزَّ وجَلَّ أَنْ یَزْنِیَ عَبْدُہُ أَوْ تَزْنِیَ أَمَتُہُ، یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ، وَاللّٰہِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِکْتُمْ قَلِیلاً، وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیراً۔
اردو ترجمہ · Urdu
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں سورج گہن زدہ ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو ( یوں ) نماز پڑھائی کہ ( پہلی رکعت میں ) کھڑے ہوئے تو ( خوب ) لمبا قیام کیا ، پھر رکوع میں چلے گئے تو ( خوب ) لمبا رکوع کیا ، پھر کھڑے ہوئے تو لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا ، پھر رکوع میں گئے تو لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا ، پھر سر اٹھایا ( اور کھڑے ہوئے ) پھر سجدے میں چلے گئے ، پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا ، پھر ( نماز سے ) اس حال میں فارغ ہوئے کہ آفتاب روشن ہو چکا تھا ، ( اتنی لمبی نماز پڑھائی کہ اس کے دوران ہی سورج گرہن ختم ہو گیا ، ) پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا ، چنانچہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ یقیناً سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، نہ تو یہ کسی کی موت کی وجہ سے گہناتے ہیں اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے ، لہٰذا جب تم اس ( گہن ) کو دیکھو تو اللہ سے دعا کرو ، اور اس کی کبریائی بیان کرو اور صدقہ خیرات کرو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اے امتِ محمد ( ﷺ ) ! اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی بھی زیادہ غیرت والا نہیں ، ( خصوصاً اس معاملے میں ) کہ اس کا کوئی بندہ یا بندی زنا کا ارتکاب کرے ، اے محمد ﷺ کی امت ! اللہ کی قسم ! اگر تم بھی وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں ( میری طرح تمھیں بھی معرفت اور علم یقین حاصل ہو جائے ) تو تم ہنسو تھوڑا اور روؤ زیادہ ۔‘‘