Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 1 · Chapter 6

اوقاتِ نماز کے متعلق کتاب

نماز سے سوئے رہ جانے کا بیان

2 hadiths in this chapter

24

Muwatta Imam Malik #24

Sahih

[24] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ حِینَ قَفَلَ مِنْ خَیْبَرَ أَسْرَی حَتَّی إِذَا کَانَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ عَرَّسَ وَقَالَ لِبِلَالٍ: ((اکْلأْ لَنَا الصُّبْحَ ))۔ وَنَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَأَصْحَابُہُ وَکَلأَ بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَہُ ثُمَّ اسْتَنَدَ إِلَی رَاحِلَتِہِ وَہُوَ مُقَابِلُ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْہُ عَیْنَاہُ فَلَمْ یَسْتَیْقِظْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنَ الرَّکْبِ حَتَّی ضَرَبَتْہُمُ الشَّمْسُ فَفَزِعَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ بِلَالٌ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخَذَ بِنَفْسِی الَّذِی أَخَذَ بِنَفْسِکَ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ اقْتَادُوا۔ فَبَعَثُوا رَوَاحِلَہُمْ وَاقْتَادُوا شَیْئًا ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِلَالاً فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ فَصَلَّی بِہِمْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ الصُّبْحَ ثُمَّ قَالَ حِینَ قَضَی الصَّلَاۃَ مَنْ نَسِیَ الصَّلَاۃَ فَلْیُصَلِّہَا إِذَا ذَکَرَہَا فَإِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَقُولُ فِی کِتَابِہِ {أَقِمِ الصَّلَاۃَ لِذِکْرِی}

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے ( جسے وہ دیگر کتب احادیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں ) کہ بلاشبہ جب رسول اللہ ﷺ غزوۂ خیبر سے واپس لوٹے تو ( ایک رات ) چلتے ہی رہے ، حتیٰ کہ جب رات کے آخری حصے میں داخل ہوئے ( اور نیند غلبہ پانے لگی ) تو پڑاؤ ڈال دیا اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا :’’ ہمارے لیے صبح کی نماز کا خیال رکھنا ‘‘ اور ( پھر ) رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سو گئے اور ( اِدھر ) حضرت بلال رضی اللہ عنہ اتنی دیر تک خیال رکھتے رہے ( اور جاگتے رہے ) جتنا اُن کے لیے ( اللہ کی جانب سے ) مقدر کیا گیا تھا ، پھر انھوں نے اپنی اونٹنی کے ساتھ ٹیک لگا لی اور فجر ( پوہ پھوٹنے کے مقام یعنی مشرق ) کی طرف منہ کر لیا لیکن اُن کی آنکھوں نے اُن پر غلبہ پا لیا ( اور وہ بھی سو گئے ) ، چنانچہ ( وقت پر ) نہ تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہو سکے ، نہ بلال رضی اللہ عنہ اور نہ ہی قافلے کا کوئی اور فرد اُٹھ سکا ، یہاں تک کہ اُن پر دھوپ پڑنے لگی تو رسول اللہ ﷺ ( سب سے پہلے بیدار ہوئے اور ) چونک اٹھے ، پھر فرمایا :’’ اے بلال ! یہ کیا ( کر دیا ) ہے ؟‘‘ تو بلال رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے : اے اللہ کے رسول ! میری جان کو اسی ( اللہ ) نے ( نیند کے ذریعے ) پکڑ لیا تھا جس نے آپ کی جان کو پکڑے رکھا ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ( یہاں سے ) کوچ کر جاؤ ( اور سواریوں کو ہانک لے چلو ) ‘‘ تو انھوں ( یعنی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) نے اپنی سواریوں کو اٹھایا اور تھوڑی دور تک چلایا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ( اذان کہلوائی ، وضو کیا ، دو سنتیں ادا فرمائیں ، پھر ) بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی ، پھر رسول اللہ ﷺ نے انھیں صبح کی نماز پڑھائی ، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ جو شخص بھی نماز کو بھول جائے تو جب اُسے وہ نماز یاد آئے تو ( فوراً ) اُسے ادا کر لے ، کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں :’’ نماز کو میری یاد کے لیے قائم کیجیے ۔‘‘

25

Muwatta Imam Malik #25

Sahih

[25] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّہُ قَالَ عَرَّسَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ لَیْلَۃً بِطَرِیقِ مَکَّۃَ وَوَکَّلَ بِلَالاً أَنْ یُوقِظَہُمْ لِلصَّلَاۃِ فَرَقَدَ بِلَالٌ وَرَقَدُوا حَتَّی اسْتَیْقَظُوا وَقَدْ طَلَعَتْ عَلَیْہِمُ الشَّمْسُ فَاسْتَیْقَظَ الْقَوْمُ وَقَدْ فَزِعُوا فَأَمَرَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَنْ یَرْکَبُوا حَتَّی یَخْرُجُوا مِنْ ذَلِکَ الْوَادِی وَقَالَ : إِنَّ ہَذَا وَادٍ بِہِ شَیْطَانٌ ۔ فَرَکِبُوا حَتَّی خَرَجُوا مِنْ ذَلِکَ الْوَادِی ثُمَّ أَمَرَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَنْ یَنْزِلُوا وَأَنْ یَتَوَضَّئُوا وَأَمَرَ بِلَالاً أَنْ یُنَادِیَ بِالصَّلَاۃِ أَوْ یُقِیمَ فَصَلَّی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِالنَّاسِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَیْہِمْ وَقَدْ رَأَی مِنْ فَزَعِہِمْ فَقَالَ ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ اللّٰہَ قَبَضَ أَرْوَاحَنَا وَلَوْ شَائَ لَرَدَّہَا إِلَیْنَا فِی حِینٍ غَیْرِ ہَذَا فَإِذَا رَقَدَ أَحَدُکُمْ عَنِ الصَّلَاۃِ أَوْ نَسِیَہَا ثُمَّ فَزِعَ إِلَیْہَا فَلْیُصَلِّہَا کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا فِی وَقْتِہَا۔ ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ إِلَی أَبِی بَکْرٍ فَقَالَ: إِنَّ الشَّیْطَانَ أَتَی بِلَالاً وَہُوَ قَائِمٌ یُصَلِّی فَأَضْجَعَہُ فَلَمْ یَزَلْ یُہَدِّئُہُ کَمَا یُہَدَّأُ الصَّبِیُّ حَتَّی نَامَ۔ ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِلَالاً فَأَخْبَرَ بِلَالٌ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ مِثْلَ الَّذِی أَخْبَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَبَا بَکْرٍ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَشْہَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے ( اور وہ دیگر کتب حدیث کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ) کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ کے راستے پر ایک رات پڑاؤ ڈالا اور بلال رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری لگائی کہ وہ آپ ﷺ کو نماز کے لیے جگائیں گے ، ( لیکن ہوا یوں کہ ) پھر بلال رضی اللہ عنہ بھی سو گئے اور وہ سب ( اہلِ قافلہ ) بھی سوئے رہے ، یہاں تک کہ جب وہ بیدار ہوئے تو سورج ان پر طلوع ہو چکا تھا ، چنانچہ لوگ اس حال میں نیند سے جاگے کہ وہ ( نماز قضا ہو جانے کی وجہ سے ) گھبرائے ہوئے تھے ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ سوار ہو جائیں ( اور چل پڑیں ) یہاں تک کہ اس وادی سے نکل جائیں اور فرمایا :’’ یقیناً یہ ایسی وادی ہے جس میں شیطان ہے ۔‘‘ چنانچہ لوگ سوار ہوئے یہاں تک کہ وہ اس وادی سے نکل گئے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے انھیں حکم فرمایا کہ ( سواریوں سے ) اُتر پڑیں اور وضو کر لیں اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ وہ نماز کے لیے اذان دیں یا تکبیر ( اقامت ) کہنے کا حکم دیا ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر آپ ﷺ ( نماز سے فارغ ہو کر اپنا رُخ مبارک موڑتے ہوئے ) اُن کی طرف پھرے تو ان کی گھبراہٹ کو دیکھا ، پھر ( اُن کی تسلی کے لیے ) فرمایا :’’ اے لوگو ! بے شک اللہ نے ہماری روحوں کو قبض کر لیا تھا اور اگر وہ چاہتا تو اس وقت کے علاوہ کسی اور وقت میں بھی لوٹا سکتا تھا ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز سے سویا رہ جائے یا اُسے بھول جائے ، پھر اس کی طرف گھبرا کر اُٹھے تو اُسے چاہیے کہ اس نماز کو اسی طرح ہی پڑھے جس طرح کہ وقت میں پڑھا کرتا تھا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :’’ یقیناً شیطان بلال رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اس حال میں کہ وہ نماز میں کھڑے تھے ، پھر ( اُس نے نیند کا غلبہ ڈال کر ) انھیں لٹا دیا ، پھر مسلسل ان کو یوں تھپکیاں دیتا رہا جس طرح بچے کو تھپکایا جاتا ہے ، حتیٰ کہ وہ سو گئے ۔ ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ حقیقت بتا کر پھر خود ) بلال رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے بلا لیا ، تو بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو بالکل اسی طرح خبر سنائی جس طرح رسول اللہ ﷺ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خبر سنا چکے تھے ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔