Muwatta Imam Malik #24
[24] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ حِینَ قَفَلَ مِنْ خَیْبَرَ أَسْرَی حَتَّی إِذَا کَانَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ عَرَّسَ وَقَالَ لِبِلَالٍ: ((اکْلأْ لَنَا الصُّبْحَ ))۔ وَنَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَأَصْحَابُہُ وَکَلأَ بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَہُ ثُمَّ اسْتَنَدَ إِلَی رَاحِلَتِہِ وَہُوَ مُقَابِلُ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْہُ عَیْنَاہُ فَلَمْ یَسْتَیْقِظْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنَ الرَّکْبِ حَتَّی ضَرَبَتْہُمُ الشَّمْسُ فَفَزِعَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ بِلَالٌ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخَذَ بِنَفْسِی الَّذِی أَخَذَ بِنَفْسِکَ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ اقْتَادُوا۔ فَبَعَثُوا رَوَاحِلَہُمْ وَاقْتَادُوا شَیْئًا ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِلَالاً فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ فَصَلَّی بِہِمْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ الصُّبْحَ ثُمَّ قَالَ حِینَ قَضَی الصَّلَاۃَ مَنْ نَسِیَ الصَّلَاۃَ فَلْیُصَلِّہَا إِذَا ذَکَرَہَا فَإِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَقُولُ فِی کِتَابِہِ {أَقِمِ الصَّلَاۃَ لِذِکْرِی}
اردو ترجمہ · Urdu
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے ( جسے وہ دیگر کتب احادیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں ) کہ بلاشبہ جب رسول اللہ ﷺ غزوۂ خیبر سے واپس لوٹے تو ( ایک رات ) چلتے ہی رہے ، حتیٰ کہ جب رات کے آخری حصے میں داخل ہوئے ( اور نیند غلبہ پانے لگی ) تو پڑاؤ ڈال دیا اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا :’’ ہمارے لیے صبح کی نماز کا خیال رکھنا ‘‘ اور ( پھر ) رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سو گئے اور ( اِدھر ) حضرت بلال رضی اللہ عنہ اتنی دیر تک خیال رکھتے رہے ( اور جاگتے رہے ) جتنا اُن کے لیے ( اللہ کی جانب سے ) مقدر کیا گیا تھا ، پھر انھوں نے اپنی اونٹنی کے ساتھ ٹیک لگا لی اور فجر ( پوہ پھوٹنے کے مقام یعنی مشرق ) کی طرف منہ کر لیا لیکن اُن کی آنکھوں نے اُن پر غلبہ پا لیا ( اور وہ بھی سو گئے ) ، چنانچہ ( وقت پر ) نہ تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہو سکے ، نہ بلال رضی اللہ عنہ اور نہ ہی قافلے کا کوئی اور فرد اُٹھ سکا ، یہاں تک کہ اُن پر دھوپ پڑنے لگی تو رسول اللہ ﷺ ( سب سے پہلے بیدار ہوئے اور ) چونک اٹھے ، پھر فرمایا :’’ اے بلال ! یہ کیا ( کر دیا ) ہے ؟‘‘ تو بلال رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے : اے اللہ کے رسول ! میری جان کو اسی ( اللہ ) نے ( نیند کے ذریعے ) پکڑ لیا تھا جس نے آپ کی جان کو پکڑے رکھا ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ( یہاں سے ) کوچ کر جاؤ ( اور سواریوں کو ہانک لے چلو ) ‘‘ تو انھوں ( یعنی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) نے اپنی سواریوں کو اٹھایا اور تھوڑی دور تک چلایا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ( اذان کہلوائی ، وضو کیا ، دو سنتیں ادا فرمائیں ، پھر ) بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی ، پھر رسول اللہ ﷺ نے انھیں صبح کی نماز پڑھائی ، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ جو شخص بھی نماز کو بھول جائے تو جب اُسے وہ نماز یاد آئے تو ( فوراً ) اُسے ادا کر لے ، کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں :’’ نماز کو میری یاد کے لیے قائم کیجیے ۔‘‘