Musnad al-Tayalisi #2174
[3/536] وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ . 2169 - حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقَةَ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ثَدْيَيْهِ يَتَذَبْذَبَانِ ، فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَلْمِسُونَهَا وَيَقُولُونَ : لَأُنْزِلَ [3/537] عَلَيْكَ هَذَا مِنَ السَّمَاءِ ، فَقَالَ : مَا تَعْجَبُونَ مِنْهَا ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَمِنْدِيلٌ مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَلْيَنُ مِنْ هَذَا ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرٍ ، فَلَبِسَهَا ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا " قَالَ : مَا أَصْنَعُ بِهَا ؟ قَالَ : " أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ .
EnglishUnverified translation
Yunus said: Abu Dawud narrated to us, he said: Hammad ibn Salamah narrated to us, from Ali ibn Zayd ibn Judan, from Anas ibn Malik, that the king of Rome gifted the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) a tunic of fine silk. He wore it, and I can almost see his nipples moving beneath it. His Companions began touching it and saying: This has been sent down to you from heaven. He said: What do you admire in it? By Him in whose Hand is my soul, a handkerchief of the handkerchiefs of Sad ibn Muadh in Paradise is softer than this. Then he sent it to Jafar, who wore it and came. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: I did not give it to you to wear. He said: What shall I do with it? He said: Send it to your brother, the Negus.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ہمیں یونس نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابوداؤد نے بیان کیا، کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے بیان کیا، علی بن زید بن جدعان سے، انس بن مالک سے کہ روم کے بادشاہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باریک ریشم کا جبہ ہدیہ کیا۔ آپ نے پہنا، گویا میں آپ کے سینے کو ہلتے دیکھ رہا ہوں۔ اصحاب اسے چھونے لگے اور کہنے لگے: یہ آپ پر آسمان سے اتارا گیا ہے۔ فرمایا: اس پر تعجب کرتے ہو؟ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ کے رومالوں میں سے ایک رومال اس سے نرم ہے۔ پھر اسے جعفر کو بھیجا، انہوں نے پہنا اور آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا۔ کہا: اس کا کیا کروں؟ فرمایا: اسے اپنے بھائی نجاشی کو بھیج دو۔