Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 11 · Chapter 137

خرید و فروخت کا بیان

بَاب الْإِجَارَة

اجارہ کا بیان

10 hadiths in this chapter

2981

Mishkat al-Masabih #2981

Sahih

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: زَعَمَ ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ وَأَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ وَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، ثابت بن ضحاک نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مزارعت سے منع فرمایا اور مؤاجرت (ٹھیکے) پر کام کرنے کا حکم فرمایا ، اور فرمایا :’’ اس میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

2982

Mishkat al-Masabih #2982

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فَأَعْطَى الْحَجَّامَ أجره واستعط

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے پچھنے لگوائے تو پچھنے لگانے والے کو اس کی اجرت دی اور ناک میں دوائی ڈلوائی ۔ متفق علیہ ۔

2983

Mishkat al-Masabih #2983

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ» . فَقَالَ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ كُنْتُ أَرْعَى عَلَى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ نے سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں ۔‘‘ آپ کے صحابہ نے عرض کیا : آپ نے بھی ؟ فرمایا :’’ ہاں ! میں بھی چند قراط پر مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

2984

Mishkat al-Masabih #2984

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ روزِ قیامت میں خود ان سے جھگڑوں گا : ایک وہ آدمی جو میرا نام لے کر عہد کرے پھر اسے توڑ ڈالے ، وہ شخص جو کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھا جائے اور ایک وہ آدمی جو کسی مزدور کو اجرت پر رکھے تو اس سے پورا کام لے لیکن اسے اجرت نہ دے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

2985

Mishkat al-Masabih #2985

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَاءٍ فبهم لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَقَالَ: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ إِن فِي المَاء لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَة الْكتاب على شَاءَ فبرئ فَجَاءَ بِالشَّاءِ إِلَى أَصْحَابِهِ فَكَرِهُوا ذَلِكَ وَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ: «أَصَبْتُمُ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهْمًا»

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے چند صحابہ کا پانی (کے گھاٹ) کے پاس سے گزر ہوا تو وہاں ایک آدمی تھا جسے بچھو یا سانپ نے ڈس لیا تھا ، اس پانی پر آباد لوگوں میں سے ایک آدمی آیا تو اس نے کہا : کیا تم میں کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے ؟ کیونکہ ہماری آبادی میں ایک آدمی ہے جسے بچھو یا سانپ نے ڈس لیا ہے ، ان (صحابہ کرام) میں سے ایک آدمی گیا اور کچھ بکریوں کے عوض اس پر سورۂ فاتحہ پڑھی اور بکریاں لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو انہوں نے اسے ناپسند کیا ، اور کہا : کیا تم نے اللہ کی کتاب پر اجرت لے لی ؟ حتی کہ وہ مدینہ پہنچ گئے ، تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس چیز پر تم اجرت لینے کے سب سے زیادہ حق دار ہو ، وہ اللہ کی کتاب ہے ۔‘‘ اور ایک دوسری حدیث میں ہے :’ تم نے ٹھیک کیا ، تقسیم کرو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ مقرر کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

2986

Mishkat al-Masabih #2986

Sahih

عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَا عَلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالُوا: إِنَّا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ قَدْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رُقْيَةٍ؟ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُود فَقُلْنَا: نعم فجاؤوا بِمَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً أَجْمَعُ بُزَاقِي ثُمَّ أَتْفُلُ قَالَ: فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا فَقُلْتُ: لَا حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كُلْ فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

خارجہ بن صلت اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے واپس آ رہے تھے ، تو ہم ایک عرب قبیلے کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : ہمیں پتہ چلا کہ تم اس آدمی سے خیر (یعنی قرآن) لے کر آ رہے ہو ، کیا تمہارے پاس کوئی دوائی یا دم ہے کیونکہ ہمارے پاس ایک مجنون شخص جکڑا ہوا ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں ، وہ اس جکڑے ہوئے دیوانے کو لے آئے تو میں نے تین روز صبح و شام سورۂ فاتحہ کا دم کیا ، میں اپنی تھوک (منہ میں) جمع کر لیتا پھر اسے (اس مجنون پر) تھوک دیتا ، راوی بیان کرتے ہیں ، اس کی بیماری اور دیوانگی جاتی رہی تو انہوں نے مجھے اجرت دی تو میں نے کہا : : نہیں ، (میں اسے نہیں لوں گا) حتی کہ میں نبی ﷺ سے پوچھ لوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری عمر کی قسم ! کھاؤ ، کچھ ایسے ہیں جو جھوٹے دم کے ذریعے کھاتے ہیں ، جبکہ تم نے اچھے دم سے کھایا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

2987

Mishkat al-Masabih #2987

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أعْطوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مزدور کو اس کی اجرت ، اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔

2988

Mishkat al-Masabih #2988

Sahih

وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَفِي المصابيح: مُرْسل

اردو ترجمہ · Urdu

حسین بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سائل کا حق ہے خواہ وہ گھوڑے پر آئے ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ۔ اور مصابیح میں مرسل روایت ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

2989

Mishkat al-Masabih #2989

Zaeef

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ الْمُنْذِرِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ: (طسم)\nحَتَّى بَلَّغَ قِصَّةَ مُوسَى قَالَ: «إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ آجَرَ نَفْسَهُ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ عَشْرًا عَلَى عِفَّةِ فَرْجِهِ وَطَعَامِ بَطْنِهِ» . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه\n

اردو ترجمہ · Urdu

عتبہ بن منذر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ نے ’’ سورہ طٰسٓمٓ ‘‘ تلاوت فرمائی حتی کہ آپ موسی ؑ کے قصہ پر پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ موسی ؑ نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت اور شکم سیری کی خاطر اپنے آپ کو آٹھ یا دس سال مزدوری پر لگائے رکھا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔

2990

Mishkat al-Masabih #2990

Sahih

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ أَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ وَلَيْسَتْ بِمَالٍ فَأَرْمِي عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ: «إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ایک آدمی نے ایک کمان مجھے بطور ہدیہ دی ہے اور یہ اس لیے ہے کہ میں اسے کتاب اور قرآن کی تعلیم دیا کرتا تھا ، اور وہ کوئی مال نہیں ، میں اس سے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کروں گا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تو پسند کرتا ہے کہ تجھے آگ کا طوق ڈال دیا جائے تو پھر اسے قبول کر لے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔