Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 11 · Chapter 138

خرید و فروخت کا بیان

بَاب إحْيَاء الْموَات وَالشرب

بنجر زمین کو آباد کرنے اور پانی کی باری کا بیان

17 hadiths in this chapter

2991

Mishkat al-Masabih #2991

Sahih

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ عَمَرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ» . قَالَ عُرْوَةُ: قَضَى بِهِ عُمَرُ فِي خِلَافَتِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی بنجر (بے آباد) زمین کو ، جو کہ کسی کی ملکیت نہ ہو ، آباد کرے تو وہ (اس کا) زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ عروہ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے اپنی خلافت میں اسی کے مطابق فیصلہ کیا ۔ رواہ البخاری ۔

2992

Mishkat al-Masabih #2992

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صعب بن جثامہ ؓ نے بیان کیا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ چراگاہ تو صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

2993

Mishkat al-Masabih #2993

Sahih

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي شِرَاجٍ مِنَ الْحَرَّةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ» . فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ» فَاسْتَوْعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ حِينَ أحفظه الْأنْصَارِيّ وَكَانَ أَشَارَ عَلَيْهِمَا بِأَمْرٍ لَهُمَا فِيهِ سَعَةٌ

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ بیان کرتے ہیں ، زبیر کا حرّہ کے برساتی نالے میں ایک انصاری آدمی سے جھگڑا ہو گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ زبیر ! پہلے تم سیراب کر لو ، پھر اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ۔‘‘ انصاری بولنے لگا : کیونکہ وہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے ! آپ ﷺ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا ، پھر فرمایا :’’ زبیر ! پہلے تم سیراب کرو ، پھر پانی روک رکھو حتی کہ وہ منڈیر تک پہنچ جائے ، پھر اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دے ۔‘‘ یوں نبی ﷺ نے صریح حکم میں (فی الحقیقت) زبیر ؓ کو پورا حق دے دیا ۔ جبکہ انصاری نے (قول فیصل پر معترض ہو کر) آپ ﷺ کو غصہ دلایا ، حالانکہ آپ نے پہلے ایسا حکم دیا تھا جس میں دونوں کے لیے وسعت تھی ۔ متفق علیہ ۔

2994

Mishkat al-Masabih #2994

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تمنعوا فضل المَاء لتمنعوا بِهِ فضل الْكلأ»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ زائد از ضرورت گھاس روکنے کے لیے زائد از ضرورت پانی مت روکو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2995

Mishkat al-Masabih #2995

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أُعْطِيَ وَهُوَ كَاذِبٌ وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ فَيَقُولُ اللَّهُ: الْيَوْمَ أَمْنَعُكَ فَضْلِي كَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَاء لم تعْمل يداك «\nوَذُكِرَ حَدِيثُ جَابِرٍ فِي» بَابِ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا من الْبيُوع\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین شخص ایسے ہیں ، جن سے اللہ روزِ قیامت کلام کرے گا نہ نظرِ رحمت سے ان کی طرف دیکھے گا : وہ آدمی جس نے مال پر قسم اٹھائی ہو کہ اسے تو اس سے ، جتنی تم دے رہے ہو ، زیادہ قیمت ملتی ہے ، حالانکہ وہ جھوٹا ہے ، دوسرا وہ شخص جو عصر کے بعد جھوٹی قسم اٹھائے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان شخص کا مال ہڑپ کر جائے ، اور تیسرا وہ شخص جس نے زائد از ضرورت پانی روک رکھا ہو ، اللہ فرمائے گا : آج میں تجھے اپنے فضل سے محروم رکھوں گا جیسا کہ تو نے زائد از ضرورت پانی روک لیا تھا ۔ حالانکہ اسے تیرے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔\nوَذْکِرَ حَدِیْثُ جَابِر ؓ فِیْ ’’ بَابِ الْمَنْھِیِّ عَنْھَا مِنَ الْبُیُوْع ‘‘ ۔\nاور جابر ؓ کی روایت باب المنھی عنھا من البیوع میں ذکر کی جا چکی ہے ۔\n

2996

Mishkat al-Masabih #2996

Zaeef

عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى الْأَرْضِ فَهُوَ لَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

اردو ترجمہ · Urdu

حسن ؒ سمرہ ؓ سے اور وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی (بنجر) زمین پر چار دیواری کر لے تو وہ قطعہ زمین اس کا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

2997

Mishkat al-Masabih #2997

Sahih

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِلزُّبَيْرِ نخيلا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

اسماء بن ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زبیر ؓ کو جاگیر میں کچھ کھجوروں کے درخت عطا فرمائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

2998

Mishkat al-Masabih #2998

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِلزُّبَيْرِ حُضْرَ فَرَسِهِ فَأَجْرَى فَرَسَهَ حَتَّى قَامَ ثُمَّ رَمَى بِسَوْطِهِ فَقَالَ: «أَعْطُوهُ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے زبیر ؓ کے لیے ان کے گھوڑے کی دوڑ تک مسافت کا رقبہ جاگیر میں عطا کیا ، انہوں نے اپنا گھوڑا دوڑایا حتی کہ وہ کھڑا ہو گیا ۔ پھر انہوں نے اپنا کوڑا پھینکا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جہاں تک کوڑا پہنچا ہے وہاں تک رقبہ اسے عطا کر دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

2999

Mishkat al-Masabih #2999

Sahih

وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا بِحَضْرَمَوْتَ قَالَ: فَأَرْسَلَ مَعِي مُعَاوِيَةَ قَالَ: «أَعْطِهَا إِيَّاه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي

اردو ترجمہ · Urdu

علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حضرموت (یمن) کے علاقے میں انہیں جاگیر دی ، وہ بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے معاویہ ؓ کو میرے ساتھ بھیجا اور فرمایا :’’ وہ انہیں دے آؤ ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔

3000

Mishkat al-Masabih #3000

Sahih

وَعَن أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالِ الْمَأْرِبِيِّ: أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ الَّذِي بِمَأْرِبَ فَأَقْطَعُهُ إِيَّاهُ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَقْطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ قَالَ: فَرَجَّعَهُ مِنْهُ قَالَ: وَسَأَلَهُ مَاذَا يحمى من الْأَرَاك؟ قَالَ: «مَا لَمْ تَنَلْهُ أَخْفَافُ الْإِبِلِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدارمي

اردو ترجمہ · Urdu

ابیض بن حمال ماربی سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ سے مارب کی نمک کی کان بطور جاگیر طلب کی تو آپ نے وہ اسے عطا کر دی ، جب وہ آدمی واپس مڑا تو ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے تو اسے دائمی چیز عطا فرما دی ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے اسے اس سے واپس لے لیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، کہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا پیلو کے درختوں کی زمین کس قدر دور جا کر گھیر لی جائے ؟ فرمایا :’’ جہاں اونٹ نہ پہنچ پائیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

3001

Mishkat al-Masabih #3001

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاث: الْمَاءِ وَالْكَلَأِ وَالنَّارِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان تین چیزوں : پانی ، گھاس اور آگ میں ، حصہ دار ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

3002

Mishkat al-Masabih #3002

Sahih

وَعَنْ أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ فَقَالَ: «مَنْ سَبَقَ إِلَى مَاءٍ لَمْ يَسْبِقْهُ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ فَهُوَ لَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

اسمر بن مُضَرس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کی بیعت کی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی ایسے پانی (چشمے) پر ، جہاں کوئی مسلمان نہ پہنچا ہو ، پہلے پہنچ جائے تو وہ پانی اسی کا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

3003

Mishkat al-Masabih #3003

Zaeef

وَعَنْ طَاوُسٍ مُرْسَلًا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «من أحيى مَوَاتًا مِنَ الْأَرْضِ فَهُوَ لَهُ وَعَادِيُّ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ مِنِّي» . رَوَاهُ الشَّافِعِي

اردو ترجمہ · Urdu

طاؤس ؒ سے مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بنجر زمین کو آباد کر لے تو وہ اسی کی ہے ۔ اور قدیم بنجر زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے ، پھر وہ میری طرف سے تمہارے لیے ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الشافعی ۔

3004

Mishkat al-Masabih #3004

Zaeef

وَرُوِيَ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ الدُّورَ بِالْمَدِينَةِ وَهِيَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ عِمَارَةِ الْأَنْصَارِ مِنَ الْمَنَازِلِ وَالنَّخْلِ فَقَالَ بَنُو عَبْدِ بن زهرَة: نكتب عَنَّا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ الله: «فَلِمَ ابْتَعَثَنِي اللَّهُ إِذًا؟ إِنَّ اللَّهَ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِلضَّعِيفِ فِيهِمْ حَقُّهُ»

اردو ترجمہ · Urdu

شرح السنہ میں مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عبداللہ بن مسعود ؓ کو مدینہ میں کچھ گھر بطور جاگیر عطا کیے ، وہ انصار کے گھروں اور نخلستان کے درمیان تھے ، بنوعبد بن زہرہ نے کہا : ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) کو ہم سے دور کر دیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ تب اللہ نے مجھے مبعوث ہی کیوں کیا ہے ، بے شک اللہ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس میں ان کے ضعیف شخص کو اس کا حق نہ دلایا جائے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

3005

Mishkat al-Masabih #3005

Sahih

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي السَّيْلِ الْمَهْزُورِ أَنْ يُمْسَكَ حَتَّى يَبْلُغَ الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسَلَ الْأَعْلَى عَلَى الْأَسْفَل. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے سیل مہزور کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اس کو روکا جائے حتی کہ وہ (پانی) ٹخنوں تک پہنچ جائے ، پھر بالائی حصے سے نشیبی حصے کو پانی چھورا جائے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

3006

Mishkat al-Masabih #3006

Zaeef

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ عضد من نخل فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهُ فَكَانَ سَمُرَةُ يَدْخُلُ عَلَيْهِ فَيَتَأَذَّى بِهِ فَأتى النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فذكرذلك لَهُ فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم ليَبِيعهُ فَأبى فَطلب أَن يناقله فَأَبَى قَالَ: «فَهَبْهُ لَهُ وَلَكَ كَذَا» أَمْرًا رَغْبَةً فِيهِ فَأَبَى فَقَالَ: «أَنْتَ مُضَارٌّ» فَقَالَ لِلْأَنْصَارِيِّ: «اذْهَبْ فَاقْطَعْ نَخْلَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ\nوَذكر حَدِيث جَابر: «من أحيي أَرضًا» فِي «بَاب الْغَصْب» بِرِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي صِرْمَةَ: «مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ» فِي «بَاب مَا يُنْهِي من التهاجر»\n

اردو ترجمہ · Urdu

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ ان کے کھجوروں کے کچھ درخت ایک انصاری شخص کے باغ میں تھے ، اور اس کے بچے بھی اس شخص کے ساتھ (باغ میں) تھے ، سمرہ ؓ جب اس شخص کے پاس جاتے تو وہ ان سے تکلیف محسوس کرتا ، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو ساری بات بتائی تو نبی ﷺ نے سمرہ ؓ کو اپنے پاس بلایا تاکہ وہ اسے فروخت کر دیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا ، آپ نے مطالبہ کیا کہ ان درختوں کے بدلہ میں کسی اور جگہ لے لو ، لیکن انہوں نے انکار کر دیا ، فرمایا :’’ اسے ہبہ کر دو ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے ترغیب کے انداز میں فرمایا کہ :’’ تمہیں (جنت میں) یہ کچھ ملے گا ۔‘‘ انہوں نے پھر بھی انکار کر دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم تکلیف پہنچانے والے ہو ۔‘‘ آپ ﷺ نے انصاری شخص سے فرمایا :’’ جاؤ اور اس کے کھجوروں کے درخت کاٹ دو ۔‘‘ اور جابر سے مروی حدیث :’’ جس نے بنجر زمین کو آباد کیا ۔‘‘ سعید بن زید ؓ کی روایت سے ’’ باب الغصب ‘‘ میں ذکر کی گئی ہے ۔ اور ہم ابوصرمہ ؓ سے مروی حدیث :’’ جس نے کسی کو تکلیف پہنچائی تو اللہ اسے تکلیف پہنچائے گا ۔‘‘ ’’ باب ما ینھی عن التھاجر ‘‘ میں ذکر کریں گے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

3007

Mishkat al-Masabih #3007

Zaeef

عَن عَائِشَة أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: «الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّار» قَالَت: قلت: يَا رَسُول الله هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ؟ قَالَ: «يَا حميراء أَمن أَعْطَى نَارًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ وَمَنْ أَعْطَى مِلْحًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَتْ تِلْكَ الْمِلْحُ وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ کون سی چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پانی ، نمک اور آگ ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! پانی کی اہمیت و ضرورت کا تو ہمیں پتہ ہے ، لیکن نمک اور آگ کی تو وہ صورت نہیں ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حمیراء ! جس شخص نے آگ دی تو گویا اس نے اس آگ سے پکنے والی تمام چیزیں ، صدقہ کیں ۔ اور جس نے نمک دیا تو گویا اس نمک نے جن چیزوں کو لذیذ بنایا وہ تمام چیزیں اس نے صدقہ کیں ۔ جس شخص نے پانی کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان کو ایک گھونٹ پانی پلایا تو گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا ، اور جس نے پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں کسی مسلمان کو پانی کا گھونٹ پلا دیا تو گویا اس نے اسے زندگی عطا کر دی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔