Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 11 · Chapter 136

خرید و فروخت کا بیان

بَاب الْمُسَاقَاة والمزارعة

مساقات اور مزارعت کا بیان

9 hadiths in this chapter

2972

Mishkat al-Masabih #2972

Sahih

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرُ ثَمَرِهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ\nوَفِي رِوَايَةِ الْبُخَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا ويزرعوها وَلَهُم شطر مَا يخرج مِنْهَا\n

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہود کو خیبر کے نخلستان اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اپنے اموال سے ان میں کام کریں ، اور اس کی پیداوار کا نصف رسول اللہ ﷺ کے لیے ہو گا ۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر یہودیوں کو دیا کہ وہ کام کریں اور کاشت کاری کریں اور اس کی پیداوار کا نصف انہیں ملے گا ۔ رواہ مسلم و البخاری ۔

2973

Mishkat al-Masabih #2973

Sahih

وَعنهُ قَالَ: كُنَّا نخبر وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ ابْن خَدِيجٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا فَتَرَكْنَاهَا مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم مخابرت کیا کرتے تھے اور ہم اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے ، حتی کہ رافع بن خدیج ؓ نے کہا کہ نبی ﷺ نے اسے منع فرمایا ہے ۔ لہذا ہم نے اس وجہ سے ترک کر دیا ۔ رواہ مسلم ۔

2974

Mishkat al-Masabih #2974

Sahih

وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خديج قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمَّايَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبَعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ فَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ هِيَ بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ؟ فَقَالَ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ وَكَأَنَّ الَّذِي نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ مَا لَوْ نَظَرَ فِيهِ ذَوُو الْفَهْمِ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ لَمْ يُجِيزُوهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ

اردو ترجمہ · Urdu

حنظلہ بن قیس ، رافع بن خدیج ؓ سے روایت کرتے ہیں ، میرے دو چچا نبی ﷺ کے دور میں زمین کرائے پر دیا کرتے تھے ، لیکن وہ برساتی نالے کے آس پاس اگنے والی کھیتی یا کوئی اور چیز مستثنی کر لیا کرتے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا ، میں نے رافع ؓ سے کہا : وہ درہم و دینار کے بدلے دینے میں کیا حکم رکھتی ہے ؟ انہوں نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ، اور جس وجہ سے ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے اگر حلال و حرام کے متعلق جاننے والا صاحب فہم و فراست اس کا جائزہ لے تو وہ بھی اس میں موجود دھوکے کے پیش نظر اسے جائز قرار نہ دے ۔ متفق علیہ ۔

2975

Mishkat al-Masabih #2975

Sahih

وَعَن رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَقْلًا وَكَانَ أَحَدُنَا يُكْرِي أَرْضَهُ فَيَقُولُ: هَذِهِ الْقِطْعَةُ لِي وَهَذِهِ لَكَ فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ ذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ ذِهِ فَنَهَاهُمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اردو ترجمہ · Urdu

رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم اہل مدینہ زیادہ تر کاشتکار تھے ، ہم میں سے کوئی اپنی زمین کرائے پر دیتا تو یوں کہتا : یہ قطعہ زمین میرا ہے اور یہ تیرا ، بسا اوقات یہ قطعہ زمین پیداوار دیتا ، اور یہ نہ دیتا ، لہذا نبی ﷺ نے انہیں منع فرما دیا ۔ متفق علیہ ۔

2976

Mishkat al-Masabih #2976

Sahih

وَعَن عَمْرو قَالَ: قلت لطاووس: لَوْ تُرِكَتِ الْمُخَابَرَةُ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ قَالَ: أَيْ عَمْرٌو إِنِّي أُعْطِيهِمْ وَأُعِينُهُمْ وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ أَخْبَرَنِي يَعْنِي ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ ينْه عَنهُ وَلَكِن قَالَ: «أَلا يَمْنَحْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ خَرْجًا مَعْلُومًا»

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بیان کرتے ہیں ، میں نے طاؤس سے کہا : کاش کہ آپ مخابرہ چھوڑ دیں ، کیونکہ عام گمان یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے ، انہوں نے فرمایا : عمرو ! میں انہیں زمین دیتا ہوں اور ان کی مدد بھی کرتا ہوں ، اور بے شک ان میں بڑے عالم یعنی ابن عباس ؓ نے مجھے بتایا کہ نبی ﷺ نے اس سے منع نہیں فرمایا : لیکن آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو بطور احسان مفت زمین دے دے تو وہ اس کے لیے معین مقدار میں اجرت لینے سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2977

Mishkat al-Masabih #2977

Sahih

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أرضه»

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کی زمین ہو تو وہ اسے کاشت کرے یا بطور احسان اسے اپنے بھائی کو دے دے ، اگر ایسا نہیں کر سکتا تو وہ اپنی زمین اپنے پاس رکھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2978

Mishkat al-Masabih #2978

Sahih

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَرَأَى سِكَّةً وَشَيْئًا مِنْ آلَةِ الْحَرْثِ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ هَذَا بَيْتَ قوم إِلَّا أدخلهُ الذل» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ہل یا کوئی آلہ زراعت دیکھا تو کہا : میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کسی قوم کے جس گھر میں یہ چیزیں گھس آتی ہیں ، تو اللہ انہیں ذلت سے دوچار کر دیتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

2979

Mishkat al-Masabih #2979

Zaeef

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

اردو ترجمہ · Urdu

رافع بن خدیج ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کاشت کرے تو زرعی پیداوار سے اسے کچھ نہیں ملے گا ، وہ صرف خرچے کا حقدار ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

2980

Mishkat al-Masabih #2980

Sahih

عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ: مَا بِالْمَدِينَةِ أَهْلُ بَيْتِ هِجْرَةٍ إِلَّا يَزْرَعُونَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَزَارَعَ عَلِيٌّ وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعُمَرُ ابْن عبد الْعَزِيز وَالقَاسِم وَعُرْوَة وَآل أبي بَكْرٍ وَآلُ عُمَرَ وَآلُ عَلِيٍّ وَابْنُ سِيرِينَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ: كُنْتُ أُشَارِكُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ فِي الزَّرْعِ وَعَامَلَ عُمَرُ النَّاسَ عَلَى: إِنْ جَاءَ عُمَرُ بِالْبَذْرِ من عِنْده فَلهُ الشّطْر. وَإِن جاؤوا بالبذر فَلهم كَذَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

قیس بن مسلم ، ابوجعفر سے بیان کرتے ہیں ، تمام مہاجر مدینہ میں تہائی یا چوتھائی حصے پر زراعت کرتے تھے ، علی ، سعد بن مالک ، عبداللہ بن مسعود ، عمر بن عبدالعزیز ، قاسم ، عروہ ، آل ابوبکر ، آل عمر ، اور آل علی اور ابن سرین نے زراعت کی ، اور عبدالرحمن بن اسود بیان کرتے ہیں ، میں زراعت میں عبدالرحمن بن یزید کے ساتھ شراکت کیا کرتا تھا ، اور عمر ؓ نے لوگوں سے معاملہ کیا کہ اگر عمر بیج مہیا کرے گا تو نصف پیداوار وہ لے گا اور اگر وہ بیج مہیا کریں گے تو ان کے لیے اتنا حصہ ہو گا ۔ رواہ البخاری ۔