وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعْدٍ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: احْلِبْ لَهُمْ يَا غُلَامُ. فَقَامَ الْغُلَامُ إِلَى نَعْجَةٍ فَحَلَبَهَا، فَجَاءَهُمْ فَقَالَ لِلَّذِي عَنْ يَمِينِهِ: اشْرَبْ. فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ: قَبِلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ. ثُمَّ قَالَ لِلثَّانِي، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ. فَقَالَ لِلثَّالِثِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ. فَقَالَ: أَكُلُّكُمْ صَائِمُونَ؟ يُوشِكُ أَنْ تَتَّخِذُوا هَذَا الْيَوْمَ بِمَنْزِلَةِ رَمَضَانَ إِنَّمَا كُنَّا نَصُومُ هَذَا الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْنَا رَمَضَانُ، فَلَمَّا افْتُرِضَ عَلَيْنَا رَمَضَانُ نَسَخَ صَوْمُ رَمَضَانَ صَوْمَ هَذَا الْيَوْمِ، وَهَذَا الْيَوْمُ تَطَوُّعٌ لَيْسَ بِفَرِيضَةٍ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ. فَلَمَّا سَمِعَ الْقَوْمُ ذَلِكَ أَفْطَرُوا جَمِيعًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
EnglishUnverified translation
Abdullah ibn Abi Sad reports: We entered upon Aidh ibn Amr رضي الله عنه on the day of Ashura, so he said: Milk for them, O boy. The boy rose to a ewe and milked her, then brought it to them. He said to the one on his right: Drink. He said: I am fasting. He said: May Allah accept from us and from you. He then said to the second, who said: I am fasting, so he said the like. He said to the third, who said the like. He said: Are all of you fasting? Soon you will take this day as Ramadan. We used to fast this day before Ramadan was obligated upon us, then when Ramadan was obligated upon us, the fast of Ramadan abrogated the fast of this day, and this day is voluntary, not obligatory, so whoever wills let him fast, and whoever wills let him break. When the people heard that, they all broke.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عبداللہ بن ابوسعد بیان کرتے ہیں : ہم لوگ عاشوراء کے دن عائذ بن عمرو کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا : اے غلام تم ان کے لئے دودھ دوہ لو ! وہ غلام اٹھ کر ایک بکری کے پاس گیا اس نے اس کا دودھ دوہ لیا پھر وہ ان لوگوں کے پاس آیا تو عائذ نے اپنے دائیں طرف موجود فرد سے کہا تم پی لو اس نے کہا : میں نے روزہ رکھا ہوا ہے عائذ نے کہا اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے اور تمہاری طرف سے قبول کرے پھر انہوں نے دوسرے شخص سے کہا تو اس نے بھی کہا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ‘ تو عائذ نے اس کی مانند کلمات کہے ۔ انہوں نے تیسرے سے کہا تو اس نے اس کی مانند کلمات کہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : کیا تم سب لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے ؟ عنقریب ایسا ہو گا کہ تم اس دن کو رمضان کی مانند سمجھنا شروع کر دو گے ہم اس دن کا روزہ رمضان کا فرض لازم ہونے سے پہلے رکھا کرتے تھے ‘ جب رمضان ہم پر فرض ہو گیا تو رمضان کے روزے نے اس دن کے روزے کو منسوخ کر دیا تو آج کا دن نفلی روزے کا ہے فرض نہیں ہے ‘ جو شخص چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے ‘ تو وہ روزہ ترک کر دے جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ان سب نے روزہ ترک کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حشرج بن عبداللہ ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔