وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ - قَالَ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَجَبٌ شَهْرٌ عَظِيمٌ يُضَاعِفُ اللَّهُ فِيهِ الْحَسَنَاتِ فَمَنْ صَامَ يَوْمًا مِنْ رَجَبٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ سَنَةً وَمَنْ صَامَ مِنْهُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ غُلِّقَتْ عَنْهُ سَبْعَةُ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ وَمَنْ صَامَ مِنْهُ ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَمَنْ صَامَ مِنْهُ عَشَرَةَ أَيَّامٍ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَمَنْ صَامَ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا نَادَى مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ: قَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى فَاسْتَأْنِفِ الْعَمَلَ. وَمَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ، وَفِي رَجَبٍ حَمَلَ اللَّهُ نُوحًا فِي السَّفِينَةِ فَصَامَ رَجَبَ وَأَمَرَ مَنْ مَعَهُ أَنْ يَصُومُوا فَجَرَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ أُخَرَ، ذَلِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ أُهْبِطَ عَلَى الْجُودِيِّ فَصَامَ نُوحٌ وَمَنْ مَعَهُ وَالْوَحْشُ شُكْرًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَفِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَلَقَ اللَّهُ الْبَحْرَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ، وَفِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ تَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى آدَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مَدِينَةِ يُونُسَ، وَفِيهِ وُلِدَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
EnglishUnverified translation
Abdulaziz ibn Said reports from his father, Uthman ibn Matar, who had companionship, reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Rajab is a mighty month in which Allah multiplies good deeds, so whoever fasts a day of Rajab, it is as though he fasted a year, and whoever fasts seven days of it, seven doors of Hell are closed from him, and whoever fasts eight days of it, eight doors of Paradise are opened for him, and whoever fasts ten days of it, he shall not ask Allah for anything except that He gives it to him, and whoever fasts fifteen days of it, a caller in heaven calls: You have been forgiven what has passed, so resume deeds. And whoever increases, Allah increases for him. And in Rajab Allah carried Nuh in the ship, so he fasted Rajab and ordered those with him to fast, and the ship sailed with them seven more months, that is the day of Ashura when it descended upon Judi, so Nuh and those with him and the wild beasts fasted in gratitude to Allah Almighty. And on the day of Ashura Allah parted the sea for the Children of Israel, and on the day of Ashura Allah Most High accepted the repentance of Adam and of the city of Yunus, and therein Ibrahim was born."** Blessings upon Nuh, Adam, Ibrahim, and Yunus عليه السلام.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عبدالعزیز بن سعید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت عثمان بن مطر رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ رجب ایک عظیم مہینہ ہے ‘ جس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کا بدلہ کئی گنا دیتا ہے ‘ جو شخص رجب کے ایک دن روزہ رکھتا ہے ‘ تو گویا اس نے ایک سال روزہ رکھا اور جو شخص اس کے سات روزے رکھتا ہے اس کے لئے جہنم کے ساتوں دروازے بند کر دیے جاتے ہیں جو شخص اس کے آٹھ روزے رکھتا ہے اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جو شخص اس کے دس روزے رکھتا ہے وہ اللہ تعالٰی سے جو بھی چیز مانگے گا اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کرے گا ، جو شخص اس کے پندرہ روزے رکھتا ہے ‘ تو آسمان میں ایک منادی اعلان کر کے یہ کہتا ہے تمہارے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو گئی ہے اب تم نئے سرے سے عمل کرو جو شخص جتنا زیادہ کرتا ہے اللہ تعالی اسے مزید اجر و ثواب عطا کرتا ہے رجب کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی پر سوار کرایا انہوں نے رجب کے روزے رکھے تھے ‘ اور اپنے ساتھیوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا ان کی کشتی سات ماہ تک چلتی رہی تھی اور پھر عاشوراء کے دن وہ جودی پہاڑ کے ساتھ آ کر لگ گئی تھی تو حضرت نوح علیہ السلام نے اور ان کے ساتھیوں نے اور جانوروں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا تھا اور عاشوراء کے دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے سمندر ( دریائے نیل ) کو چیر دیا تھا اور عاشوراء کے دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی اور حضرت یونس علیہ السلام کے شہر والوں کی ، توبہ قبول کی تھی اور اسی دن میں حضرت ابرہیم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔