وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «لَيْلَةُ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْبَوَاقِي مَنْ قَامَهُنَّ ابْتِغَاءَ حِسْبَتِهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَهِيَ لَيْلَةُ وِتْرٍ: تِسْعٌ أَوْ سَبْعٌ أَوْ خَامِسَةٌ أَوْ ثَالِثَةٌ، أَوْ آخِرُ لَيْلَةٍ "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ أَمَارَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَنَّهَا صَافِيَةٌ بُلْجَةٌ كَأَنَّ فِيهَا قَمَرًا سَاطِعًا سَاكِنَةٌ شَاجِبَةٌ لَا بَرْدَ فِيهَا وَلَا حَرَّ وَلَا يَحِلُّ لِكَوْكَبٍ [أَنْ] يُرْمَى بِهِ فِيهَا حَتَّى يُصْبِحَ، وَإِنَّ أَمَارَتَهَا أَنَّ الشَّمْسَ صَبِيحَتَهَا تَخْرُجُ مُسْتَوِيَةً لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ مِثْلَ الْقَمَرِ الْبَدْرِ، لَا يَحِلُّ لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا يَوْمَئِذٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Ubadah ibn al-Samit رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Laylat al-Qadr is in the remaining ten. Whoever stands them seeking their reward, then Allah, Blessed and Exalted, forgives his past and future sins. It is an odd night: the ninth, seventh, fifth, third, or last night."** And the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed the sign of Laylat al-Qadr is that it is clear and bright, as though a shining moon is in it, calm and mild, with neither cold nor heat in it, and no star is cast in it until morning. And its sign is that the sun on its morning rises level, having no rays like the full moon, and Satan is not permitted to come out with it that day."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شب قدر باقی رہ جانے والے عشرے میں ہو گی جو شخص ان راتوں میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے نوافل ادا کرے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی بخشش کر دے گا یہ طاق رات ہوتی ہے نویں یا ساتویں یا پانچویں یا تیسری یا آخری رات ہو گی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شب قدر کی مخصوص نشانی یہ ہے کہ وہ صاف اور روشن ہو گی ، اس میں چاند چمک رہا ہو گا ‘ وہ رات ساکن اور معتدل ہو گی ‘ اس رات میں نہ ٹھنڈک ہو گی ‘ اور نہ گرمی ہو گی ‘ اور اس رات میں ستارہ نہیں ٹوٹے گا یہاں تک کہ صبح ہو جائے اور اس کی مخصوص نشانی یہ ہے کہ اس سے اگلی صبح جب سورج نکلتا ہے ‘ تو وہ بالکل برابر ہوتا ہے اس میں شعاع نہیں ہوتی وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوتا ہے اس دن شیطان کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ سورج کے ہمراہ نکلے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔