عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ امْرَأَتَيْنِ صَامَتَا وَأَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَاهُنَا امْرَأَتَيْنِ قَدْ صَامَتَا، وَإِنَّهُمَا قَدْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا مِنَ الْعَطَشِ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ أَوْ سَكَتَ. ثُمَّ عَادَ - وَأُرَاهُ قَالَ: بِالْهَاجِرَةِ - قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّهُمَا وَاللَّهِ قَدْ مَاتَتَا، أَوْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا؟ قَالَ: " ادْعُهُمَا ". قَالَ: فَجَاءَتَا. قَالَ: فَجِيءَ بِقَدَحٍ أَوْ عُسٍّ. فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا: " قِيئِي ". فَقَاءَتْ قَيْحًا وَدَمًا وَصَدِيدًا أَوْ لَحْمًا، حَتَّى مَلَأَتْ نِصْفَ الْقَدَحِ. ثُمَّ قَالَ لِلْأُخْرَى: " قِيئِي ". فَقَاءَتْ مِنْ قَيْحٍ وَدَمٍ وَصَدِيدٍ وَلَحْمٍ عَبِيطٍ وَغَيْرِهِ، حَتَّى مَلَأَتِ الْقَدَحَ. ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَاتَيْنِ صَامَتَا عَمَّا أَحَلَّ اللَّهُ لَهُمَا، وَأَفْطَرَتَا عَلَى مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا، جَلَسَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى، فَجَعَلَتَا تَأْكُلَانِ لُحُومَ النَّاسِ».
EnglishUnverified translation
Ubayd, the freedman of the Messenger of Allah ﷺ, reports that two women were fasting, and a man said, O Messenger of Allah, two women here have fasted and have nearly died of thirst. He turned away from him or remained silent. He repeated it, during midday heat, swearing by Allah that they had died or nearly died. He said: > **"Call them both."** They came, and a cup or large vessel was brought. He said to one of them: > **"Vomit."** She vomited pus, blood, and festering flesh until she filled half the vessel. He then said to the other: > **"Vomit."** She vomited pus, blood, festering flesh, and raw meat until she filled the vessel. He then said: > **"These two fasted from what Allah made lawful for them, and broke their fast upon what Allah made unlawful for them. One of them sat with the other, and they began eating the flesh of the people."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبید رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : دو خواتین نے روزہ رکھا ہوا تھا ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہاں دو خواتین نے روزہ رکھا ہوا ہے ‘ اور پیاس کی وجہ سے وہ دونوں مرنے کے قریب ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے منہ موڑ لیا یا آپ خاموش رہے اس نے اپنی بات دہرائی راوی بیان کرتے ہیں : روایت میں یہ الفاظ ہیں : کہ یہ دن چڑھے کی بات ہے اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اللہ کی قسم یہ دونوں مر جائیں گی ‘ یا دونوں مرنے کے قریب ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان دونوں کو بلا کے لاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ دونوں خواتین آئیں پھر ایک پیالہ یا ایک برتن لایا گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان میں سے ایک خاتون سے فرمایا تم قے کرو اس نے پیپ ، خون اور گوشت کی قے کی یہاں تک کہ نصف پیالہ بھر گیا پھر آپ نے دوسری خاتون سے فرمایا کہ تم بھی قے کرو تو اس نے بھی خون ‘ پیپ اور گوشت کی قے کی یہاں تک کہ پیالہ بھر گیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان دونوں نے اس چیز کے حوالے سے تو روزہ رکھا ہوا تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے لئے حلال قرار دی تھی اور انہوں نے اس چیز کے حوالے سے روزہ نہیں رکھا تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام قرار دی ہے ‘ ان میں سے ایک دوسری کے پاس آ کے بیٹھی اور ان دونوں نے لوگوں کا گوشت کھانا شروع کر دیا ( یعنی غیبت کرنا شروع کر دی ) ۔