Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 8 · Chapter 5

Book of Zakah

Hadith 4484–4523

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4484

Majma al-Zawaid #4484

«وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ عَلِيٍّ قَالَ: أَتَيْتُهَا بِصَدَقَةٍ كَانَ أَمَرَ بِهَا، قَالَتْ: أُحَذِّرُ شَبَابَنَا، فَإِنَّ مَيْمُونَ - أَوْ مِهْرَانَ - مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: "" يَا مَيْمُونُ - أَوْ يَا مِهْرَانُ - إِنَّا أَهْلَ بَيْتٍ نُهِينَا عَنِ الصَّدَقَةِ، وَإِنَّ مَوَالِيَنَا مِنْ أَنْفُسِنَا فَلَا تَأْكُلِ الصَّدَقَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ: حَدَّثَنِي مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ: لَهُ طُهْمَانُ، أَوْ ذَكْوَانُ. وَعِنْدَهُ أَيْضًا فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى يُقَالُ لَهُ: كَيْسَانُ، أَوْ هُرْمُزٌ. وَأُمُّ كُلْثُومٍ لَمْ أَرَ مَنْ رَوَى عَنْهَا غَيْرَ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ata ibn al-Sa'ib reported that Umm Kulthum, daughter of Ali رضي الله عنها, told him when he brought her something of charity that had been ordered for her, that they warn their youths against it, for Maymun or Mihran, the freedman of the Messenger of Allah ﷺ, told her that he passed by the Messenger of Allah ﷺ, who said to him: > **"O Maymun, indeed, we are a Household forbidden from charity, and indeed our freedmen are from ourselves, so do not eat charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں : سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بیان کی ‘ عطاء کہتے ہیں : میں ان کے پاس صدقے کی چیز لے کے آیا ‘ تو اس خاتون نے کہا : ہم اپنے نوجوانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں ‘ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے غلام حضرت میمون رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) حضرت مہران رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ان کا گزر نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ہوا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : اے میمون ! ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) اے مہران ! ہم ایسا گھرانہ ہیں ‘ کہ ہمیں صدقہ استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے ‘ اور ہمارے غلام بھی ہمارا حصہ ہیں ‘ تو تم صدقہ نہ کھانا “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ کے غلام نے ‘ مجھے یہ بات بیان کی ، جن کا نام حضرت طہمان رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) حضرت ذکوان رضی اللہ عنہ تھا ۔ انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اُن کا نام حضرت کیسان رضی اللہ عنہ یا حضرت ہرمز رضی اللہ عنہ تھا ۔ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہ نامی خاتون کے بارے میں ‘ عطاء بن سائب کے علاوہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا ، جس نے اُن سے روایت نقل کی ہو ‘ اور عطاء کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4485

Majma al-Zawaid #4485

«وَعَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا الرِّضْوَانُ فَسُئِلَ مَا عَقَلْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ [أَوْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟] قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى جَرِينٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَأَخَذْتُ تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فِيَّ، فَأَخَذَهَا بِلُعَابِهَا، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: وَمَا عَلَيْكَ لَوْ تَرَكْتَهَا؟ فَقَالَ: "" إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ "". قَالَ: وَعَقَلْتُ مِنْهُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Hawra reported that they were with al-Hasan ibn Ali رضي الله عنهما and he was asked what he retained from the Messenger of Allah ﷺ. He said, I was walking with him when he passed a threshing-floor of charity dates, so I took a date and put it in my mouth, and he took it with its saliva. One of the people said, what harm if you had left it. He said: > **"Indeed, we, the Household of Muhammad, charity is not lawful for us."** He also said, I retained from him the five prayers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحوراء بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ‘ ان سے دریافت کیا گیا : آپ کو نبی اکرم ﷺ کے بارے میں ‘ یا نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کیا چیز یاد ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : میں ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ کا گزر صدقہ کی کھجوروں کے ڈھیر کے پاس سے ہوا ‘ تو میں نے ایک کھجور لی ‘ اور اپنے منہ میں ڈال لی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے لعاب سمیت لے لیا ، حاضرین میں سے کسی نے عرض کی : اگر آپ یہ رہنے دیتے ‘ تو کوئی حرج بھی نہیں تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک ‘ ہم یعنی آل محمد ‘ ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے بتایا : مجھے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے پانچ نمازوں کا حکم بھی یاد ہے ۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

4486

Majma al-Zawaid #4486

وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ شَيْبَانَ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ: «قُلْتُ لِلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا الرِّضْوَانُ: مَا تَعَقِلُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: صَعِدْتُ غُرْفَةً فَأَخَذْتُ تَمْرَةً وَلُكْتُهَا فِي فِيَّ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَلْقِهَا ; فَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rabi'ah ibn Shayban Abu al-Hawra reported that he said to al-Husayn ibn Ali رضي الله عنهما, what do you retain from the Messenger of Allah ﷺ. He said, I climbed a chamber, took a date and chewed it in my mouth, so the Prophet ﷺ said: > **"Throw it away, for charity is not lawful for us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیعہ بن شیبان ابوحوراء بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کیا یاد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میں بالا خانہ پر چڑھا ‘ میں نے وہاں سے کھجور لی اور اسے اپنے منہ میں ڈال کر چبانے لگا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے نکالو ! ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4487

Majma al-Zawaid #4487

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salman رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ used to accept the gift and did not accept charity. > **"The Prophet ﷺ accepted the gift and did not accept charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہدیہ قبول کر لیتے تھے ‘ آپ ﷺ صدقہ قبول نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4488

Majma al-Zawaid #4488

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ، وَأَنَا مَمْلُوكٌ، فَقُلْتُ: هَذِهِ صَدَقَةٌ. فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ. ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ فَقُلْتُ: هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَيْتُهَا لَكَ أُكْرِمُكَ بِهَا، فَإِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ، فَأَكَلُوا، وَأَكَلَ مَعَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salman al-Farisi رضي الله عنه reported that he came to the Prophet ﷺ with food while he was a slave, and said, this is charity. So he ordered his Companions and they ate, but he did not eat. Then he came with food and said, this is a gift I honour you with, for I saw you do not eat charity. So he ordered his Companions, they ate, and he ate with them. > **"The Prophet ﷺ did not eat charity, but he ate the gift with his Companions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کھانا لے کے آیا ، میں ایک غلام تھا ‘ میں نے عرض کی : یہ صدقہ ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ‘ تو انہوں نے اسے کھا لیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اسے نہیں کھایا ، پھر میں کھانا لے کے آیا ، میں نے عرض کی : یہ ہدیہ ہے ‘ میں اسے آپ کو ہدیہ کے طور پر پیش کر رہا ہوں ، تاکہ اس کے ذریعے آپ کی عزت افزائی کروں ، کیونکہ میں نے آپ کو دیکھا ہے ، آپ صدقہ نہیں کھاتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اُسے کھائیں اور اُن کے ساتھ آپ نے خود بھی اس کو کھایا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4489

Majma al-Zawaid #4489

وَعَنْ سَلْمَانَ أَنَّهُ «جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَائِدَةٍ عَلَيْهَا رُطَبٌ فَقَالَ: "" مَا هَذِهِ؟ "". قَالَ: هَذِهِ صَدَقَةٌ عَلَيْكَ وَعَلَى أَصْحَابِكَ. قَالَ: "" يَا سَلْمَانُ، إِنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ "". فَذَهَبَ بِهَا سَلْمَانُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جَاءَهُ سَلْمَانُ بِمَائِدَةٍ عَلَيْهَا رُطَبٌ فَقَالَ: "" مَا هَذِهِ الْمَائِدَةُ؟ "". قَالَ: هَدِيَّةٌ. فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" ادْنُوا فَكُلُوا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Salman رضي الله عنه came to the Prophet ﷺ with a tray bearing fresh dates. He asked what it was. He said, charity for you and your Companions. He said, O Salman, we do not eat charity. So Salman took it away. The next day he came with a tray of fresh dates. He asked what this tray was. He said, a gift. So he said to his Companions: > **"O Salman, indeed, we do not eat charity."** > **"Come near and eat."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک دسترخوان لے کے آئے جس میں کھجوریں موجود تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یہ آپ کے لئے اور آپ کے اصحاب کے لئے صدقہ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے سلمان ! ہم صدقہ نہیں کھاتے ہیں ، پھر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ اسے لے گئے ‘ اگلے دن حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک دسترخوان لے کر آئے ، جس پر کھجوریں موجود تھیں ‘ آپ ﷺ نے دریافت کیا : یہ دسترخوان کس چیز کا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : ہدیہ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ قریب ہو جاؤ اور کھاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4490

Majma al-Zawaid #4490

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ أَكَلَ. وَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ، قَالَ: "" كُلُوا "". وَلَمْ يَأْكُلْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that when food was brought to the Prophet ﷺ from other than his family, he asked about it. If it was said to be a gift, he ate. If it was said to be charity, he said: > **"Eat."** And he himself did not eat.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس ‘ جب آپ کے اہل خانہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے کھانا آتا تھا ، تو آپ اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے ‘ اگر عرض کی جاتی تھی : ہدیہ ہے ، تو آپ اسے کھا لیتے تھے ‘ اور اگر یہ گزارش کی جاتی تھی کہ یہ صدقہ ہے ‘ تو آپ ( صحابہ کرام ) یہ فرماتے تھے : تم کھا لو ! آپ ﷺ خود ( اس کو ) نہیں کھاتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4491

Majma al-Zawaid #4491

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْقَمَ بْنَ أَبِي أَرْقَمَ الزُّهْرِيَّ عَلَى بَعْضِ الصَّدَقَةِ، فَمَرَّ بِأَبِي رَافِعٍ فَاسْتَتْبَعَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: "" يَا أَبَا رَافِعٍ، إِنَّ الصَّدَقَةَ حَرَامٌ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ - أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ -». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ sent Arqam ibn Abi al-Arqam al-Zuhri رضي الله عنه over some charity, and he passed by Abu Rafi' رضي الله عنه and took him along. Then he came to the Prophet ﷺ and mentioned that to him, so he said: > **"O Abu Rafi', indeed, charity is forbidden for Muhammad and the Household of Muhammad, and indeed the freedman of a people is from them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ارقم بن ابوارقم رضی اللہ عنہ کو صدقہ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، اُن کا گزر حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا تو حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کو بھی انہوں نے اپنے ساتھ لے لیا ‘ پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابورافع ! محمد ( ﷺ ) کے لئے اور آل محمد کے لئے صدقہ حرام ہے ‘ اور قوم کا غلام ‘ قوم کا فرد ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُن میں سے ایک ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت ابویعلیٰ نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4492

Majma al-Zawaid #4492

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنْ فِتْيَانًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعْمِلْنَا عَلَى الصَّدَقَةِ، نُصِيبُ مِنْهَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ، وَنُؤَدِّي كَمَا يُؤَدُّونَ، فَقَالَ: "" إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ، وَهِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَلَكِنْ مَا ظَنُّكُمْ إِذَا أَخَذْتُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ هَلْ أُؤْثِرُ عَلَيْكُمْ أَحَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَالِدُ ابْنِ الْمَدِينِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that some youths of Banu Hashim came to the Messenger of Allah ﷺ and said, O Messenger of Allah, employ us over charity, we will take therefrom what people take and pay as they pay. He said: > **"Indeed, we, the Household of Muhammad, charity is not lawful for us, and it is the filth of people. But what do you think, when I take hold of the ring of the gate of Paradise, will I prefer anyone over you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنوہاشم سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں زکوۃ وصول کرنے کا اہلکار مقرر کریں ‘ تاکہ ہم اس کے حوالے سے وہ چیز حاصل کر لیں جو لوگ حاصل کرتے ہیں ‘ ہم بھی اُسی طرح ادائیگی کریں گے ، جس طرح لوگ ادائیگی کرتے ہیں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک ہم آل محمد ‘ ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ‘ یہ لوگوں کا میل ہے ، لیکن تمہارے بارے میں میرا یہ گمان نہیں ہے کہ جب میں جنت کی کنڈی کو پکڑوں گا ‘ تو کسی کو تم پر ترجیح دوں گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر ہے ‘ جو علی بن مدینی کا والد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4493

Majma al-Zawaid #4493

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لَنَا وَلَا لِمَوَالِينَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Charity is not lawful for us nor for our freedmen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ہمارے لئے اور ہمارے غلاموں کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے منجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4494

Majma al-Zawaid #4494

وَعَنْهُ قَالَ: «بَعَثَ نَوْفَلُ بْنُ الْحَارِثِ ابْنَيْهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا: انْطَلِقَا إِلَى ابْنِ عَمِّكُمَا لَعَلَّهُ يَسْتَعِينُ بِكُمَا عَلَى الصَّدَقَاتِ، لَعَلَّكُمَا تُصِيبَانِ شَيْئًا فَتَتَزَوَّجَانِ. فَلَقِيَا عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَقَالَ: أَيْنَ تَأْخُذَانِ؟ فَحَدَّثَاهُ حَاجَتَهُمَا. فَقَالَ لَهُمَا: ارْجِعَا [فَرَجَعَا]. فَلَمَّا أَمْسَيَا أَمْرَهُمَا أَنْ يَنْطَلِقَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَفَعَا الْبَابَ اسْتَأْذَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ: "" أَرْخِي عَلَيْكِ سَجَفَكِ، أُدْخِلْ عَلَيَّ ابْنَيْ عَمِّي "". فَحَدَّثَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَاجَتِهِمَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا يَحِلُّ لَكُمَا أَهْلَ الْبَيْتِ مِنَ الصَّدَقَاتِ شَيْءٌ، وَلَا غُسَالَةُ أَيْدِي النَّاسِ. إِنَّ لَكُمْ فِي خُمْسِ الْخُمْسِ لَمَا يُغْنِيكُمْ - أَوْ يَكْفِيكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الْمُلَقَّبُ بِحَنَشٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو مِحْصَنٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that Nawfal ibn al-Harith sent his two sons to the Messenger of Allah ﷺ and said to them, go to your cousin, perhaps he will employ you over charities so you may gain something and marry. They met Ali رضي الله عنه, who asked where they were going, so they told him their need. He told them to return, and in the evening they were ordered to go to the Prophet ﷺ. When they reached the door and sought permission, the Messenger of Allah ﷺ said to A'ishah رضي الله عنها, lower your curtain, my two cousins will enter upon me. They told the Prophet ﷺ their need, so the Prophet of Allah ﷺ said: > **"Nothing of the charities is lawful for you, O Household, nor the washings of people's hands. Indeed, for you in the fifth of the fifth is what will enrich you or suffice you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نوفل بن حارث نے ‘ اپنے دو صاحبزادوں کو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا اور ان سے کہا : تم دونوں اپنے چچازاد کے پاس جاؤ ! ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ تمہیں زکوۃ وصول کرنے کے لئے اہلکار مقرر کر دیں گے ‘ اس طرح تم ایسی کمائی حاصل کر لو گے جس کے ذریعے تم شادی کر لو گے ‘ ان دونوں کی ملاقات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے دریافت کیا : تم کیا چاہتے ہو ؟ ان دونوں نے اپنی ضرورت کے بارے میں بتایا ‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا : تم لوگ واپس چلے جاؤ ! وہ دونوں واپس چلے گئے ‘ جب شام ہوئی ‘ تو نوفل بن حارث نے ان دونوں کو ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس چلے جائیں ‘ جب وہ دونوں دروازے پر آئے ‘ تو انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ‘ نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم پردہ کر لو ! میرے دو چچازاد اندر آنے لگے ہیں ‘ پھر ان دونوں صاحبان نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اپنے کام کے سلسلے میں بات چیت کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے اہل بیت ! تمہارے لئے صدقہ میں سے کوئی بھی چیز جائز نہیں ہے ‘ جو لوگوں کے ہاتھوں کا میل ہوتی ہے ‘ تمہارے لئے خمس کا پانچواں حصہ ہے ‘ وہ تمہیں بے نیاز کر دے گا ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ تمہارے لئے کفایت کر جائے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے ‘ جس کا لقب حنش ہے ‘ اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ‘ ابومحصن نے اُسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

4495

Majma al-Zawaid #4495

«عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَهْدَتْ لَهَا رِجْلَ شَاةٍ، وَتُصِدِّقَ عَلَيْهَا بِهَا، فَأَمْرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَقْبَلَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported that a woman gifted her a sheep's leg, though it had been given to that woman as charity, so the Prophet ﷺ ordered her to accept it. > **"Accept it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک خاتون نے انہیں تحفہ کے طور پر بکری کی ٹانگ پیش کی ‘ وہ بکری اس عورت کو صدقہ کے طور پر دی گئی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ وہ اُسے قبول کر لیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4496

Majma al-Zawaid #4496

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Abi Bakr رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ that he said: > **"Charity is not lawful for a rich man, nor for one of sound strength."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ خوشحال شخص کے لئے اور صحیح اعضاء کے مالک ( یعنی جو اپاہج نہ ہو ) قوت والے شخص کے لئے زکوۃ وصول کرنا حلال نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4497

Majma al-Zawaid #4497

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ «أَنَّ رَجُلَيْنِ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَسْأَلَانِهِ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَرَفَعَ لَهُمَا بَصَرَهُ، وَخَفَضَهُ، فَرَآهُمَا رَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ فَقَالَ: "" إِنْ شِئْتُمَا أَعَنْتُكُمَا وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ، وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ubaydullah ibn Adi ibn al-Khiyar reported that two men came to the Messenger of Allah ﷺ at the Farewell Pilgrimage asking him of charity. He raised his gaze to them and lowered it, and saw them to be two sturdy men, so he said: > **"If you wish, I will help you, but there is no share therein for a rich man nor for a strong earner."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں : دو آدمی ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حجتہ الوداع کے موقع پر حاضر ہوئے ‘ ان دونوں نے آپ سے صدقہ کے بارے میں دریافت کیا ( یا آپ سے صدقہ مانگا ) ‘ نبی اکرم ﷺ نے نگاہ اٹھا کر اُن کا اچھی طرح سے جائزہ لیا ‘ آپ نے ان دونوں کو ملاحظہ فرمایا کہ وہ مضبوط جسم کے مالک ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو تو میں تم دونوں کی مدد کر دیتا ہوں ، لیکن زکوٰۃ میں کسی خوشحال شخص ‘ یا کمانے کی قوت رکھنے والے طاقتور کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4498

Majma al-Zawaid #4498

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Charity is not lawful for a rich man, nor for one of sound strength."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ صدقہ ( لینا ) کسی خوشحال شخص کے لئے یا اور صحیح اعضاء کے مالک ( یعنی جو اپاہج نہ ہو ) قوت والے شخص کے لئے حلال نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4499

Majma al-Zawaid #4499

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي هِلَالٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَحِلُّ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّحْوِ فِي الْبَابِ الْآتِي، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

A man of Banu Hilal reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Begging is not lawful for a rich man, nor for one of sound strength."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنو ہلال سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مانگنا کسی خوشحال کے لئے ‘ اور صحیح اعضاء کے مالک ( یعنی جو اپاہج نہ ہو ) قوت والے شخص کے لئے حلال نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت کی دیگر احادیث آگے والے باب میں آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4500

Majma al-Zawaid #4500

وَعَنْ مِينَاءَ أَنَّهُمْ جَاءُوا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ فَقَالُوا: أَعْطِنَا أُعْطِيَاتِنَا فَقَالَ: مَا لَكَمَ عِنْدِي عَطَاءٌ إِنَّمَا عَطَاؤُكُمْ مِنْ فَيْئِكُمْ وَمِنْ جِزْيَتِكُمْ، وَالصَّدَقَةُ لِأَهْلِهَا. فَلَمَّا تَرَدَّدُوا إِلَيْهِ جَاءَ بِالْمَفَاتِيحِ إِلَى عُثْمَانَ فَرَمَى بِهَا، وَقَالَ: إِنِّي لَسْتُ بِخَازِنٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَمِينَاءُ فِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Mina reported that they came to Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه in the time of Uthman رضي الله عنه and said, give us our stipends. He said, you have no stipend with me; your stipend is from your fay and your jizyah, and charity belongs to its people. When they kept returning to him, he brought the keys to Uthman and cast them down, and said, I will not be a treasurer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

میناء بیان کرتے ہیں : وہ لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کی بات ہے ‘ ان لوگوں نے کہا : ہماری تنخواہیں ہمیں دے دیں ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری کوئی تنخواہ میرے پاس نہیں ہے ، تمہاری تنخواہ مال فئے میں سے اور جزیہ میں سے دی جاتی ہے ‘ زکوۃ اُس کے مستحق افراد کو ہی دی جائے گی ‘ جب لوگوں نے بار بار اُن کے پاس آنا شروع کیا ، تو وہ چابیاں لے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کے سامنے رکھ دیں اور یہ کہا : میں خزانچی نہیں بنوں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ میناء نامی راوی کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ‘ ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

4501

Majma al-Zawaid #4501

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ، وَلَا بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ، وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَا اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The poor is not the wanderer, nor the one who is turned away with one date or two, nor one morsel or two, but the poor is the abstinent who does not ask people and is not noticed so that charity is given to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مسکین وہ نہیں ہوتا جو ( گھر کے ) چکر لگاتا ہے ‘ یا جو ایک کھجور ‘ یا دو کھجوریں لے کر ‘ یا ایک لقمہ یا دو لقمے لے کر واپس چلا جاتا ہے ‘ بلکہ مسکین وہ شخص ہوتا ہے ‘ جو مانگنے سے بچتا ہے ‘ جو لوگوں سے مانگتا نہیں ہے ‘ اور اس کے بارے میں اندازہ نہیں ہو پاتا ‘ کہ اسے صدقہ کے طور پر کوئی چیز دی جائے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4502

Majma al-Zawaid #4502

عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: «رُبَّمَا سَقَطَ الْخِطَامُ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: فَيَضْرِبُ بِذِرَاعِ نَاقَتِهِ فَيُنِيخُهَا فَيَأْخُذُهُ. قَالَ: فَقَالُوا لَهُ: أَفَلَا أَمَرْتَنَا فَنُنَاوِلْكَهُ. قَالَ: إِنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ فِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abi Mulaykah reported that the bridle sometimes fell from the hand of Abu Bakr al-Siddiq رضي الله عنه, so he would strike his she-camel's foreleg to make her kneel and take it himself. They said to him, why did you not order us so we could hand it to you. He said, my Beloved ﷺ commanded me not to ask people for anything.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : بعض اوقات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لگام گر جاتی تھی ، تو وہ اپنی کلائی کے ذریعے اپنی اونٹنی کو مار کر اسے بٹھاتے تھے ‘ پھر وہ اس لگام کو خود اٹھاتے تھے ‘ لوگوں نے ان سے کہا : آپ نے ہمیں حکم دینا تھا ‘ ہم یہ آپ کو پکڑا دیتے ‘ تو انہوں نے فرمایا : میرے حبیب ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں لوگوں سے کچھ نہیں مانگوں گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ ابن ابوملیکہ نامی راوی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ‘ عبداللہ بن مومل نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

4503

Majma al-Zawaid #4503

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «بَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا وَوَاثَقَنِي سَبْعًا، وَأَشْهَدَ اللَّهَ عَلَيَّ تِسْعًا: أَنِّي لَا أَخَافُ فِي اللَّهَ لَوْمَةَ لَائِمٍ». قَالَ أَبُو الْمُثَنَّى: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: «فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "" هَلْ لَكَ فِي الْبَيْعَةِ وَلَكَ الْجَنَّةُ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ. وَبَسَطْتُ يَدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشْتَرِطُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا. قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" وَلَا سَوْطَكَ إِنْ سَقَطَ مِنْكَ حَتَّى تَنْزِلَ فَتَأْخُذَهُ».

EnglishUnverified translation

Abu Dharr رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ took my pledge upon five, took firm covenant upon seven, and made Allah witness upon nine, that I would not fear the blame of any blamer in Allah. Abu al-Muthanna reported that Abu Dharr said, the Messenger of Allah ﷺ called me and said, will you pledge, and for you is Paradise. I said, yes, and stretched my hand, while the Messenger of Allah ﷺ stipulated upon me that I would not ask people for anything. I said, yes. He said: > **"Will you pledge, and for you is Paradise."** > **"Not even your whip, if it falls from you, until you dismount and take it yourself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے پانچ چیزوں کے حوالے سے مجھ سے بیعت لی تھی ‘ سات چیزوں کے حوالے سے مجھ سے پختہ عہد لیا تھا ‘ اور نو چیزوں کے حوالے سے اللہ تعالٰی کو گواہ بنایا تھا ۔ یہ کہ میں اللہ تعالی کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا ۔ ابومثنی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا : کیا تم بیعت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ تمہیں جنت ملے گی ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! پھر میں نے ہاتھ پھیلایا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ پر شرط عائد کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی کہ میں کبھی لوگوں سے کچھ نہیں مانگوں گا ‘ میں نے عرض کی : ٹھیک ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہاں تک کہ اگر تمہاری چھڑی گر جائے گی ‘ تو وہ بھی نہیں مانگو گے ‘ بلکہ خود اتر کر اسے پکڑو گے ۔

4504

Majma al-Zawaid #4504

وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سِتَّةُ أَيَّامٍ ثُمَّ اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا يُقَالُ لَكَ بَعْدُ "". فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ قَالَ: "" أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ، وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ، وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ، وَلَا تَقْبِضْ أَمَانَةً [وَلَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ]». رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In a narration the Prophet ﷺ said, six days, then comprehend, O Abu Dharr, what will be said to you after. When the seventh day came, he said: > **"I enjoin upon you fear of Allah in your secret affair and your open, and when you do evil then do good, and do not ask anyone for anything even if your whip falls, and do not take a trust, and do not judge between two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ چھ دن ہیں ‘ اے ابوذر ! سمجھ لو کہ اُس کے بعد تم سے کیا کہا جائے گا ؟ جب ساتواں دن آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اپنے معاملے کے پوشیدہ اور علانیہ ‘ ہر حوالے سے ‘ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہوں ، جب تم کوئی برائی کرو ‘ تو اچھائی بھی کر لو ‘ اور کبھی تم کسی سے کوئی چیز نہ مانگنا ‘ خواہ تمہاری چھڑی گر جائے ‘ اور تم امانت قبضے میں نہ لینا ‘ اور تم دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دینا ‘‘۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4505

Majma al-Zawaid #4505

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُبَايِعُ؟ ". فَقَالَ ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: [عَلَى مَ نُبَايِعُ؟ أَلَيْسَ قَدْ بَايَعْنَاكَ مَرَّةً] يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " عَلَى أَنْ لَا تَسْأَلُوا أَحَدًا شَيْئًا ". فَقَالَ ثَوْبَانُ: فَمَا لَهُ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الْجَنَّةُ ". فَبَايَعَهُ ثَوْبَانُ. قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بِمَكَّةَ فِي أَجْمَعِ مَا يَكُونُ مِنَ النَّاسِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ، وَهُوَ رَاكِبٌ فَرُبَّمَا وَقَعَ عَلَى عَاتِقِ رَجُلٍ فَيَأْخُذُهُ الرَّجُلُ فَيُنَاوِلُهُ فَمَا يَأْخُذُهُ مِنْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَنْزِلُ فَيَأْخُذُهُ».

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said, who will pledge. So Thawban, the freedman of the Messenger of Allah ﷺ, said, upon what shall we pledge, have we not already pledged once, O Messenger of Allah. He said, upon that you ask no one for anything. Thawban said, what is for him thereby, O Messenger of Allah. He said, Paradise. So Thawban pledged to him. Abu Umamah said, I saw him at Makkah amid a crowd of people when his whip fell while he was riding, sometimes falling upon a man's shoulder, and the man would take it to hand it to him, but he would not take it from him until he himself dismounted and took it. > **"Upon that you ask no one for anything."** > **"Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کون بیعت کرے گا ؟ تو نبی اکرم ﷺ کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم کس بات پر بیعت کریں ؟ کیا ہم ایک مرتبہ آپ کی بیعت کر نہیں چکے ہیں ؟ یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس بات پر کہ تم کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگو گے ، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے عوض میں آدمی کو کیا ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت ‘ تو حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی بیعت کر لی ۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کو مکہ میں دیکھا کہ وہ لوگوں کے ہجوم میں موجود تھے ‘ ان کی چھڑی گر گئی ‘ وہ سوار تھے ‘ ان کی چھڑی کسی شخص کے کندھے پر گری تھی ‘ اُس شخص نے اسے لیا اور انہیں پکڑانا چاہا ‘ تو انہوں نے اس سے نہیں لی ‘ یہاں تک کہ وہ خود نیچے اترے اور انہوں نے خود وہ اُٹھائی ۔

4506

Majma al-Zawaid #4506

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَرَفَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَقَالَ: "" مَنْ يُبَايِعُنِي؟ "" - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ إِلَّا ثَوْبَانُ.» فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reported in a narration that the Messenger of Allah ﷺ sat one day among a group of his Companions, raised his hand and said three times, who will pledge to me, and none stood to him except Thawban, then he mentioned the like thereof. > **"Who will pledge to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ اپنے کچھ اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک بلند کیا ، اور ارشاد فرمایا : کون میری بیعت کرے گا ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، تو کوئی اُٹھ کر آپ کی طرف نہیں آیا ‘ صرف حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4507

Majma al-Zawaid #4507

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ: بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ أَدْنُوَ مِنْهُمْ، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنِّي، وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي، وَأَنْ أَصِلَ رَحِمِي وَإِنْ جَفَانِي، وَأَنْ أُكْثِرَ مِنْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَأَنْ أَتَكَلَّمَ بِمُرِّ الْحَقِّ، وَلَا تَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَأَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ، وَأَظُنُّهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي مَوَاضِعِهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ الشَّعْبِيَّ لَمْ أَجِدْ لَهُ سَمَاعًا مِنْ أَبِي ذَرٍّ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr رضي الله عنه reported that his intimate friend ﷺ counselled him with seven: love of the poor and nearness to them, looking to one below me and not to one above me, joining kin though they cut off, increasing in la hawla wa la quwwata illa billah, speaking the bitter truth, not fearing the blame of any blamer in Allah, and not asking people for anything. > **"Do not ask people for anything."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل ﷺ نے مجھے سات باتوں کی تلقین کی تھی : مساکین سے محبت رکھنا ‘ یہ کہ میں ان کے قریب رہوں ‘ یہ کہ میں اپنے سے نیچے والے فرد کی طرف دیکھوں ‘ اپنے سے اوپر والے شخص کی طرف نہ دیکھوں ‘ یہ کہ میں صلہ رحمی کروں ‘ اگرچہ رشتہ دار میرے ساتھ زیادتی کریں ، یہ کہ میں «لا حول ولا قوۃ الا بااللہ» کثرت سے پڑھوں ‘ یہ کہ میں حق بات کہوں خواہ وہ کڑوی ہو ‘ اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کروں ‘ اور یہ کہ میں لوگوں سے کچھ نہ مانگوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم صغیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اسے امام احمد نے بھی روایت کیا ہے ‘ اس کی ایک اور سند ہے ‘ جو دوسرے مقام پر آئے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ میں نے امام شعبی کے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سماع سے متعلق کوئی روایت نہیں پائی ہے ۔

4508

Majma al-Zawaid #4508

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ صَاحِبُ الْمَسْأَلَةِ مَا لَهُ فِيهَا لَمْ يَسْأَلْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ قَابُوسُ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"If the owner of begging knew what is therein for him, he would not beg."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اگر مانگنے والے کو یہ پتہ چل جائے کہ مانگنے میں اس کو کیا ملے گا ؟ تو وہ کبھی نہ مانگے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قابوس ہے ‘ اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس کی توثیق کی بھی کی گئی ہے ۔

4509

Majma al-Zawaid #4509

وَعَنْ أُمِّ سِنَانٍ الْأَسْلَمِيَّةِ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ قَالَتْ: «جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُكَ عَلَى حَيَاءٍ، وَمَا جِئْتُكَ حَتَّى أُلْجِئْتُ مِنَ الْحَاجَةِ. فَقَالَ: "" لَوِ اسْتَغْنَيْتِ لَكَانَ خَيْرًا لَكِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ صَالِحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Sinan al-Aslamiyyah رضي الله عنها, who was among the pledging women, reported that she came to the Messenger of Allah ﷺ and said, O Messenger of Allah, I have come to you in shyness, and I did not come until driven by need. He said: > **"If you had sufficed yourself, it would have been better for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سنان اسلمیہ رضی اللہ عنہ ، جو بیعت کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں ‘ وہ بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں شرمندگی کے عالم میں آپ کے پاس آئی ہوں اور میں آپ کے پاس اُس وقت آئی ہوں ، جب ضرورت کی وجہ سے میں مجبور ہو گئی ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر تم بے نیازی اختیار کرتیں ، تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہوتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر بن صالح ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4510

Majma al-Zawaid #4510

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَغْنُوا عَنِ النَّاسِ، وَلَوْ بِشَوْصِ السِّوَاكِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Dispense with people, even with a fragment of the siwak."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں سے بے نیاز رہو ! خواہ وہ ایک مسواک کے حوالے سے ہی کیوں نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4511

Majma al-Zawaid #4511

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا فَيَأْكُلَ، وَيَتَصَدَّقَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ، أَوْ مَنَعُوهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

A'ishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"That one of you take a rope and eat thereby and give charity is better than that he ask people, whether they give him or withhold."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی ایک شخص رسی لے ( کر لکڑیاں اکٹھی کر کے انہیں فروخت کر کے ) ‘ خود بھی اُسے کھائے اور صدقہ بھی کرے ‘ یہ اُس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے ‘ کہ وہ لوگوں سے مانگے ‘ اور وہ اُسے دیں یا نہ دیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4512

Majma al-Zawaid #4512

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَجُلَيْنِ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَاهُ فَقَالَ: "" اذْهَبَا إِلَى هَذِهِ الشُّعُوبِ فَاحْتَطِبَا فَبِيعَاهُ "". فَذَهَبَا فَاحْتَطَبَا، ثُمَّ جَاءَا فَبَاعَا، فَأَصَابَا طَعَامًا، ثُمَّ ذَهَبَا فَاحْتَطَبَا أَيْضًا، فَجَاءَا فَلَمْ يَزَالَا حَتَّى ابْتَاعَا ثَوْبَيْنِ ثُمَّ ابْتَاعَا حِمَارَيْنِ فَقَالَا: قَدْ بَارَكَ اللَّهُ لَنَا فِي أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that two men came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him, so he said, go to these ravines, gather firewood and sell it. So they went and gathered firewood, came and sold it, and gained food. Then they went and gathered again, and kept on until they bought two garments, then bought two donkeys, and said, Allah has blessed for us in the command of the Messenger of Allah ﷺ. > **"Go to these ravines, gather firewood and sell it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمی ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انہوں نے آپ سے کچھ مانگا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم دونوں ان گھاٹیوں میں جاؤ اور وہاں سے کچھ لکڑیاں اکھٹی کر کے انہیں فروخت کرو ‘ وہ دونوں چلے گئے انہوں نے لکڑیاں اکھٹی کیں ، پھر وہ آئے اور انہوں نے انہیں فروخت کر دیا ‘ انہیں اناج حاصل ہوا ‘ پھر وہ دونوں گئے ‘ انہوں نے پھر لکڑیاں اکٹھی کیں ، پھر وہ آئے ‘ وہ مسلسل ایسا کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ انہوں نے دو کپڑے بھی خرید لئے ، پھر انہوں نے دو گدھے بھی خرید لئے اُن دونوں نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ کے حکم میں ‘ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے برکت رکھ دی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے ‘ اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

4513

Majma al-Zawaid #4513

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانَتْ لِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ، فَلَمَّا فُتِحَتْ قُرَيْظَةُ جِئْتُ لِيُنْجِزَ لِي مَا وَعَدَنِي فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" مَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَقْنَعْ يُقْنِعْهُ اللَّهُ "". فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: لَا جَرَمَ، لَا أَسْأَلُهُ شَيْئًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو سَلَمَةَ قِيلَ: إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Salamah ibn Abdur Rahman, from his father رضي الله عنه, reported that he had a promise with the Messenger of Allah ﷺ, and when Qurayzah was conquered he came so that he would fulfil what he had promised him, but he heard him say: > **"Whoever seeks independence, Allah will make him independent, and whoever is content, Allah will make him content."** So he said to himself, surely I will not ask him ﷺ for anything.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بن عبدالرحمن ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہوا تھا ‘ جب قریظہ فتح ہوا ‘ تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تاکہ آپ نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا ، آپ ﷺ وہ پورا کر دیں ‘ تو میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو شخص بے نیازی اختیار کرتا ہے ‘ اللہ تعالی اسے بے نیاز رکھتا ہے ‘ جو شخص قناعت حاصل کرنا چاہتا ہے ‘ اللہ تعالی اسے قناعت عطا کر دیتا ہے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : تو میں نے دل میں سوچا کہ یہ تو ضروری ہے کہ میں اب آپ ﷺ سے کچھ نہ مانگوں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ ابوسلمہ نامی راوی کے بارے میں یہ بات بیان کی گئی ہے : انہوں نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔

4514

Majma al-Zawaid #4514

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً عَنْ ظَهْرِ غِنًى اسْتَكْثَرَ بِهَا مِنْ رَضْفِ جَهَنَّمَ "". قَالُوا: وَمَا ظَهْرُ غِنًى؟ قَالَ: "" عَشَاءُ لَيْلَةٍ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ. وَالْحَسَنُ - وَإِنْ أَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ - فَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ حَبِيبٍ. بَيْنَهُمَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، كَمَا حَكَاهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ، عَنِ ابْنِ صَاعِدٍ، وَعُمَرُو بْنُ خَالِدٍ كَذَّبَهُ أَحْمَدُ، وَابْنُ مَعِينٍ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ali رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said, whoever begs after sufficiency increases thereby from the embers of Hell. They said, what is sufficiency. He said: > **"Whoever begs after sufficiency increases thereby from the embers of Hell."** > **"A night's supper."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود کچھ مانگتا ہے ‘ تو وہ اس کے ذریعے جہنم کے انگاروں میں اضافہ کرتا ہے ‘‘ لوگوں نے عرض کی : خوشحال ہونے سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : رات کا کھانا موجود ہونا ‘‘۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ ان دونوں کی سند میں یہ بات مذکور ہے : اسے حسن بن ذکوان نے حبیب بن ابوثابت سے نقل کیا ہے ‘ حسن نامی راوی کے حوالے سے اگرچہ امام بخاری نے روایت نقل کیا ہے ‘ لیکن ایک سے زیادہ افراد نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور اس نے حبیب سے سماع بھی نہیں کیا ہے ان دونوں کے درمیان ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے ‘ جیسا کہ ابن عدی نے یہ بات کتاب ’’ الکامل ‘‘ میں ابن صاعد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ عمرو بن خالد نامی راوی کو امام احمد ‘ یحیی بن معین اور امام دارقطنی نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔

4515

Majma al-Zawaid #4515

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ سَمِعَتُ فُلَانًا، وَفُلَانًا يُحْسِنَانِ الثَّنَاءَ يَذْكُرَانِ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُمَا دِينَارَيْنِ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" وَاللَّهِ لَكِنَّ فُلَانًا مَا هُوَ كَذَلِكَ، لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ عَشَرَةٍ إِلَى مِائَةٍ فَمَا يَقُولُ ذَلِكَ!! أَمَا وَاللَّهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَخْرُجُ بِمَسْأَلَتِهِ مِنْ عِنْدِي يَتَأَبَّطُهَا - يَعْنِي: يَكُونُ تَحْتَ إِبِطِهِ - يَعْنِي نَارًا - "". قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ تُعْطِيهَا إِيَّاهُمْ؟ قَالَ: "" فَمَا أَصْنَعُ؟ يَأْبَوْنَ إِلَّا ذَاكَ، وَيَأْبَى اللَّهُ لِي الْبُخْلَ». وَفِي رِوَايَةٍ: "" لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ الْعَشَرَةِ إِلَى الْمِائَةِ، أَوْ قَالَ الْمِائَتَيْنِ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri رضي الله عنه reported that Umar رضي الله عنه said, O Messenger of Allah, I heard so-and-so praising and mentioning that you gave them two dinars. The Prophet ﷺ said, by Allah, but so-and-so is not so; I gave him between ten and a hundred, yet he does not say that. Indeed, one of you leaves me with his begging carrying it under his arm, meaning fire. Umar said, O Messenger of Allah, why do you give them. He said: > **"By Allah, I gave him between ten and a hundred, yet he does not say that. Indeed, one of you leaves me with his begging carrying it under his arm, meaning fire."** > **"What shall I do. They refuse except that, and Allah refuses for me miserliness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے فلاں شخص کو اور فلاں شخص کو سنا کہ وہ تعریف کر رہے تھے ‘ اور یہ ذکر کر رہے تھے کہ آپ نے ان لوگوں کو دو دینار عطا کیے ہیں ‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! لیکن فلاں شخص کا معاملہ تو اس طرح نہیں ہے ‘ میں نے اُسے دس سے لے کر ‘ ایک سو کے درمیان ( دینار ) دیے ہیں ‘ وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے ؟ اللہ کی قسم ! تم میں سے کوئی ایک شخص مانگ کر میرے پاس سے کوئی چیز لے لیتا ہے ‘ جسے وہ اپنی بغل کے نیچے دبا لیتا ہے ‘ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ اُسے بغل کے نیچے دبا لیتا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ وہ چیز اُس کے لئے آگ ہوتی ہے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر آپ وہ چیز انہیں دیتے کیوں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں کیا کروں ؟ وہ لوگ اس پر اصرار کرتے ہیں اور اللہ تعالی نے میرے لئے بخل سے انکار کیا ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میں نے اُسے دس سے لے کر ایک سو کے درمیان ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو سو کے درمیان ( دینار عطا کیے ہیں ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ’’ مسیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4516

Majma al-Zawaid #4516

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «دَخَلَ رَجُلَانِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلَانِهِ فِي شَيْءٍ، فَأَعَانَهُمَا بِدِينَارَيْنِ، فَخَرَجَا فَإِذَا هُمَا يُثْنِيَانِ خَيْرًا، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا خَرَجَا مِنْ عِنْدِكَ يُثْنِيَانِ خَيْرًا. قَالَ: "" لَكِنَّ فُلَانًا مَا يَقُولُ ذَلِكَ، وَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ عَشَرَةٍ إِلَى مِائَةٍ فَمَا يَقُولُ ذَلِكَ؟ وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَخْرُجُ بِصَدَقَتِهِ مِنْ عِنْدِي مُتَأَبِّطُهَا وَإِنَّمَا هِيَ لَهُ نَارٌ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تُعْطِيهِ وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهَا لَهُ نَارٌ؟ قَالَ: "" فَمَا أَصْنَعُ؟ يَأْتُونِي يَسْأَلُونِي، وَيَأْبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِيَ الْبُخْلَ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umar رضي الله عنه reported that two men entered upon the Prophet ﷺ asking him for something, so he helped them with two dinars, and they left praising good. I entered upon him and said, O Messenger of Allah, I saw so-and-so leaving you praising good. He said, but so-and-so does not say that, though I gave him between ten and a hundred, yet he does not say that. And one of you leaves me with his charity carrying it under his arm, and it is fire for him. I said, O Messenger of Allah, how do you give him while knowing it is fire for him. He said: > **"One of you leaves me with his charity carrying it under his arm, and it is fire for him."** > **"What shall I do. They come to me asking me, and Allah Almighty refuses for me miserliness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمی ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کوئی چیز مانگی نبی اکرم ﷺ نے دو دینار کے ذریعے ان کی مدد کی ‘ پھر وہ دونوں نکلے ‘ تو وہ دونوں تعریف کر رہے تھے ‘ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے عرض کی : میں نے فلاں اور فلاں کو دیکھا ‘ وہ دونوں آپ کے پاس سے نکلے اور وہ دونوں تعریف کر رہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :؛ لیکن فلاں کو تو یہ بات نہیں کہنی چاہیئے ‘ اُسے تو میں نے دس سے لے کر ایک سو کے درمیان کی رقم عطا کی ہے وہ ایسا کیوں کہہ رہا تھا ؟ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے پاس سے کوئی چیز لے کر بغل میں دبا کے نکلتا ہے ‘ اور وہ چیز اس کے لئے آگ ہوتی ہے ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر آپ اسے کیوں دے دیتے ہیں ؟ جبکہ آپ یہ بات جانتے ہیں ‘ وہ چیز اس کے لئے آگ ہوتی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر میں کیا کروں ؟ وہ میرے پاس آ کر مجھ سے مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ میرے لئے بخل سے انکار کرتا ہے ( یعنی اسے میری طرف سے بخل منظور نہیں ہے ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4517

Majma al-Zawaid #4517

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِيهِ، «عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَتْ لَهُ أُمُّهُ: أَلَا نَنْطَلِقُ فَنَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يَسْأَلُهُ النَّاسُ؟ فَانْطَلَقْتُ أَسْأَلُهُ فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: "" مَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ، وَمَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ عِدْلُ خَمْسِ أَوَاقٍ فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا "". قَالَ: فَقُلْتُ - بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي -: لَنَاقَةٌ لَهَا خَيْرٌ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ، وَلِفُلَانَةَ نَاقَةٌ أُخْرَى خَيْرٌ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ja'far ibn Abdullah ibn al-Hakam, from his father, from a man of Muzaynah, that his mother said to him, shall we not go and ask the Messenger of Allah ﷺ as people ask him. So I went to ask him and found him standing preaching, saying: > **"Whoever abstains, Allah will keep him chaste, and whoever seeks independence, Allah will enrich him, and whoever asks people while having the equivalent of five uqiyas has begged importunately."** He said to himself, a she-camel of ours is better than five uqiyas, and another she-camel of so-and-so is better, so he returned and did not ask him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جعفر بن عبداللہ بن حکم نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ( یعنی صحابی ) کے بارے میں یہ ذکر کیا ہے کہ اُس کی والدہ نے اُس سے کہا : کیا ہم چلیں اور نبی اکرم ﷺ سے کچھ مانگیں نہیں ؟ جس طرح لوگ آپ سے مانگتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : میں روانہ ہوا ‘ تاکہ کچھ مانگوں ، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے پایا ‘ آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : ” جو شخص مانگنے سے بچتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اسے بچا کے رکھتا ہے ‘ جو شخص بے نیازی اختیار کرتا ہے ‘ اللہ تعالی اسے بے نیازی عطا کرتا ہے ‘ جس شخص کے پاس پانچ اوقیہ کے برابر رقم موجود ہو ‘ تو وہ لپٹ کر مانگنے والا شمار ہوتا ہے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سوچا اس خاتون ( یعنی میری والدہ ) کے پاس ‘ جو اونٹنی ہے ‘ وہ تو پانچ اوقیہ سے زیادہ بہتر ہے ‘ اور فلاں خاتون کے پاس جو اونٹنی ہے ‘ وہ بھی پانچ اوقیہ سے زیادہ بہتر ہے ‘ تو میں واپس آ گیا اور میں نے آپ ﷺ سے کچھ نہیں مانگا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4518

Majma al-Zawaid #4518

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْتَحْ أَحَدُكُمْ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلٍ، وَالْعَلَاءِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"No one of you opens upon himself a door of begging except Allah opens upon him a door of poverty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی شخص اپنی ذات کے حوالے سے مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے ‘ تو اللہ تعالی اس پر غربت کا دروازہ کھول دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے محمد بن عبدالرحمن کے حوالے سے ‘ سہیل اور العلاء سے نقل کی ہے ‘ اور میں اُس سے واقعہ نہیں ہوں ۔

4519

Majma al-Zawaid #4519

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُلِحُّوا فِي الْمَسْأَلَةِ، فَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَخْرِجْ مِنَّا بِهَا شَيْئًا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما raised the report to the Prophet ﷺ, who said: > **"Do not persist in begging, for whoever extracts thereby something from us, no blessing will be in it for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ تک ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مانگتے ہوئے آہ وزاری نہ کرو ! کیونکہ جو شخص اس طرح ہم سے کوئی چیز نکلواتا ہے ‘ اس کے لئے اُس چیز میں برکت نہیں رکھی جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4520

Majma al-Zawaid #4520

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنْ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ سَأَلَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا، وَخَتَمَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَيْهِمَا. قَالَ: فَأَمَّا عُيَيْنَةَ فَقَالَ: مَا فِيهِ؟ فَقَالَ: فِيهِ الَّذِي أُمِرْتُ بِهِ، فَقَبِلَهُ وَعَقَدَهُ فِي عِمَامَتِهِ، وَكَانَ أَحْلَمَ الرَّجُلَيْنِ، وَأَمَّا الْأَقْرَعُ فَقَالَ: أَحْمِلُ صَحِيفَةً لَا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ، فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ثُمَّ مَرَّ بِهِ فِي آخِرِ النَّهَارِ، فَقَالَ: "" أَيْنَ صَاحَبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟ "". فَابْتُغِي فَلَمْ يُوجَدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ ارْكَبُوهَا صِحَاحًا، وَارْكَبُوهَا سِمَانًا كَالْمُتَسَخِّطِ آنِفًا إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ: "" مَا يُغَدِّيهِ أَوْ يُعَشِّيهِ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ، وَجَعَلَ أَنِ الَّذِي قَالَ: أَحْمِلُ صَحِيفَةً كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ هُوَ عُيَيْنَةُ عَلَى الْعَكْسِ مِنْ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn al-Hanzaliyyah al-Ansari رضي الله عنه, the Companion of the Messenger of Allah ﷺ, reported that Uyaynah and al-Aqra' asked the Messenger of Allah ﷺ for something, so he ordered Mu'awiyah رضي الله عنه to write it for them, and the Messenger of Allah ﷺ sealed it and ordered him to hand it to them. As for Uyaynah, he asked what was in it, was told it was what had been ordered, so he accepted it and tied it in his turban, and he was the more forbearing of the two. As for al-Aqra', he said, shall I carry a document I know not what is in it, like the document of al-Mutalammis. Mu'awiyah told the Messenger of Allah ﷺ their sayings. The Messenger of Allah ﷺ went out for a need and passed by a camel kneeling at the mosque door in the morning, then passed by it at the end of the day and said, where is the owner of this camel. He was sought but not found, so the Messenger of Allah ﷺ said, fear Allah regarding these beasts, ride them healthy and ride them fat. Then in displeasure he said, whoever asks while having what suffices him only increases from the embers of Hell. They said, O Messenger of Allah, what suffices him. He said: > **"Where is the owner of this camel."** > **"Fear Allah regarding these beasts, ride them healthy and ride them fat. Indeed, whoever asks while having what suffices him only increases from the embers of Hell."** > **"What gives him his morning meal or his evening meal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنظلیہ انصاری رضی اللہ عنہ ‘ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : عیینہ اور اقرع نے نبی اکرم ﷺ سے کوئی چیز مانگی ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لئے کوئی تحریر لکھ دیں ‘ اور اس پر اللہ کے رسول نے مہر لگوا دی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ تحریر اُن دونوں کے حوالے کر دیں ، راوی بیان کرتے ہیں : جہاں تک عینیہ کا تعلق تھا ، تو اس نے دریافت کیا : اس میں کیا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس میں وہ چیز ہے ‘ جس کے بارے میں ‘ میں نے حکم دیا ہے ‘ تو اس نے اس تحریر کو قبول کیا ‘ اور اسے اپنے عمامے میں باندھ لیا ‘ وہ اُن دونوں افراد میں زیادہ بردبار تھا ‘ جہاں تک کہ اقرع کا تعلق ہے ‘ تو اس نے کہا : کیا میں ایسا صحیفہ اٹھا کے لے کر جاؤں ؟ جس کے بارے میں مجھے پتہ ہی نہیں ہے کہ اس میں کیا ہے ؟ یہ تو متلمس کے صحیفے کی مانند ہو جائے گا ‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو ان دونوں کے قول کے بارے میں بتایا ‘ نبی اکرم ﷺ کسی کام کے سلسلے میں گزرے ‘ آپ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے ‘ جو مسجد کے دروازے پر بیٹھا ہوا تھا ‘ یہ دن کے ابتدائی حصے کی بات ہے ‘ جب آپ دن کے آخری حصے میں اُس کے پاس سے گزرے ‘ تو آپ نے دریافت کیا : اس اونٹ والا شخص کہاں ہے ؟ اُسے تلاش کیا گیا ، لیکن وہ نہیں ملا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان جانوروں کے بارے میں ‘ اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! تم ان پر اس وقت سواری کرو جب یہ صحیح ہوں ‘ اور اس وقت سواری کرو ‘ جب یہ موٹے تازے ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : جو شخص کچھ مانگے اور اس کے پاس ایسی چیز موجود ہو ‘ جو اسے ( مانگنے سے ) بے نیاز کر سکتی ہو ‘ تو وہ جہنم کے انگارے زیادہ کرنے والا ہو گا ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا چیز اسے ( مانگنے سے ) بے نیاز کر سکتی ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کا صبح یا شام کا کھانا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے مختصر طور پر نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ جس شخص نے یہ کہا تھا : کیا میں ایک ایسا صحیفہ اٹھاؤں ‘ جو متلمس کے صحیفے کی مانند ہے ‘ وہ کہنے والا شخص عیینہ تھا ، یعنی یہ چیز اس روایت کے برعکس ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4521

Majma al-Zawaid #4521

وَعَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْكُوفَةِ أَمِيرًا فَخَطَبَ فَقَالَ: إِنَّ فِي إِعْطَاءِ هَذَا الْمَالِ فِتْنَةً، وَفِي إِمْسَاكِهِ فِتْنَةً، وَلِذَلِكَ قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ نَزَلَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mutarrif ibn Abdullah ibn al-Shikhkhir reported from a Companion of the Prophet ﷺ who was governor at Kufah, that he preached saying, in giving this wealth there is trial, and in withholding it there is trial, and therefore the Messenger of Allah ﷺ stood with it until he finished, then descended.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بن عبدالله بن شخیر ‘ ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ کوفہ کے امیر تھے ‘ انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ یہ مال دینا بھی فتنہ ہے ‘ اور اسے روک کے رکھنا بھی فتنہ ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب اس کے ساتھ مصروف ہوتے تھے ( یعنی اس کو تقسیم کرنا شروع کرتے تھے ) تو اس سے فارغ ہو کر ہی منبر سے نیچے آتے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4522

Majma al-Zawaid #4522

وَعَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً وَهُوَ عَنْهَا غَنِيٌّ كَانَتْ شَيْئًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Thawban رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said: > **"Whoever begs while independent of it, it will be something on his face on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کچھ مانگتا ہے ‘ حالانکہ وہ مانگنے سے بے نیاز ہو ‘ تو یہ چیز قیامت کے دن اُس کے چہرے پر ’’ کچھ ‘‘ ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4523

Majma al-Zawaid #4523

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ شَيْنٌ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَزَادَ: «وَمَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ نَارٌ، إِنْ أُعْطِيَ قَلِيلًا فَقَلِيلٌ، وَإِنْ أُعْطِيَ كَثِيرًا فَكَثِيرٌ». وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The begging of the rich is a disgrace on his face on the Day of Resurrection."** > **"The begging of the rich is fire; if given little, then little, and if given much, then much."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خوشحال شخص کا مانگنا ‘ قیامت کے دن اُس کے چہرے پر بے عزتی کا نشان ہو گا “۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” خوشحال شخص کا مانگنا آگ ہے ‘ اگر اسے تھوڑا دیا جائے تو تھوڑی آگ ہو گی ‘ اور اگر زیادہ دیا جائے ‘ تو زیادہ آگ ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔