Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 8 · Chapter 4

Book of Zakah

Hadith 4444–4483

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4444

Majma al-Zawaid #4444

«وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ: جَلَسَ إِلَيْنَا شَيْخٌ فِي دُكَّانِ أَيُّوبَ فَسَمِعَ الْقَوْمَ يَتَحَدَّثُونَ فَقَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلَايَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ: مَا اسْمُهُ؟ قَالَ: قُرَّةُ بْنُ دُعْمُوصٍ النُّمَيْرِيُّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَوْلَهُ النَّاسُ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَلَمْ أَسْتَطِعْ فَنَادَيْتُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِلْغُلَامِ النُّمَيْرِيِّ، قَالَ: "" غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ""، قَالَ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَاعِيًا فَلَمَّا رَجَعَ رَجَعَ بِإِبِلٍ جِلَّةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَتَيْتَ هِلَالَ بْنَ عَامِرٍ، وَنُمَيْرَ بْنَ عَامِرٍ، وَعَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، فَأَخَذْتَ جِلَّةَ أَمْوَالِهِمْ؟ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ الْغَزْوَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَكَ بِإِبِلٍ جِلَّةٍ تَرْكَبُهَا وَتَحْمِلُ عَلَيْهَا. فَقَالَ: "" وَاللَّهِ لَلَّذِي تَرَكْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أَخَذْتَ، ارْدُدْهَا وَخُذْ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ وَصَدَقَاتِهِمْ "". قَالَ: فَسَمِعْتُ الْمُسْلِمِينَ يُسَمُّونَ تِلْكَ الْإِبِلَ الْمَسَانَّ الْمُجَاهِدَاتِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jarir ibn Hazim reports that an old man sat with them in the shop of Ayyub while people talked, saying his master had narrated from the Messenger of Allah ﷺ. Asked for his name, he said Qurrah ibn Du'mus al-Numayri رضي الله عنه. Qurrah said he came to Madinah, approached the Prophet ﷺ among the people, could not draw near, so he called out asking him to seek forgiveness for the Numayri lad, and the Prophet ﷺ forgave him. He then reported that the Messenger of Allah ﷺ sent al-Dahhak ibn Qays رضي الله عنه as a collector, who returned with excellent camels. The Prophet ﷺ questioned him about taking the best wealth of Hilal ibn 'Amir, Numayr ibn 'Amir, and 'Amir ibn Rabi'ah. He explained he had heard mention of battle and wanted to bring mounts to ride and carry upon. The Prophet ﷺ swore what was left was dearer to him than what was taken, ordered return, and commanded taking from the edges. Jarir said the Muslims called those camels the aged striving ones. > **"May Allah forgive you. Did you go to Hilal ibn 'Amir, Numayr ibn 'Amir, and 'Amir ibn Rabi'ah and take the best of their wealth? By Allah, what you left is dearer to me than what you took. Return them, and take from the edges of their wealth and their sadaqat."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جریر بن حازم بیان کرتے ہیں : ایوب کے چبوترے پر ‘ ایک صاحب ہمارے پاس آ کر بیٹھے ‘ انہوں نے لوگوں کو بات چیت کرتے ہوئے سنا ‘ تو یہ بات بیان کی : میرے آقا نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے ‘ میں نے ان سے دریافت کیا : اُن کا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : حضرت قرہ بن دعموص نمیری رضی اللہ عنہ ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ‘ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ لوگ آپ کے ارد گرد موجود تھے ‘ میں آپ کے قریب ہونے کی کوشش کرنے لگا ‘ میں ایسا نہیں کر پایا ‘ تو میں نے آپ کو بلند آواز میں پکار کر کہا : یا رسول اللہ ! آپ نمیری فرد کے لئے دعائے مغفرت کیجیئے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی تمہاری مغفرت کرے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کو زکوۃ وصول کرنے والے کے طور پر بھیجا ‘ جب وہ واپس آئے ‘ تو وہ عمدہ اونٹ لے کر آئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ہلال بن عامر ‘ نمیر بن عامر اور عامر بن ربیعہ کے پاس گئے اور پھر تم نے ان کے بہترین اموال حاصل کر لئے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو سنا تھا کہ آپ کسی جنگ کا ذکر کر رہے تھے ‘ تو مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں آپ کے پاس عمدہ اونٹ لے کے آؤں ‘ تاکہ آپ اُن پر سوار ہو سکیں اور سواری کے لئے دے سکیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! جسے تم چھوڑ کے آئے ہو ‘ وہ میرے نزدیک ان سے زیادہ پسندیدہ ہیں جو تم نے وصول کیے ہیں ، تم انہیں واپس کر دو ! اور درمیانے درجے کے اموال اور صدقات حاصل کرو ‘‘۔ رادی کہتے ہیں : تو میں نے مسلمانوں کو سنا کہ انہوں نے ان اونٹوں کا نام ” مسان مجاہدات ‘‘ رکھا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4445

Majma al-Zawaid #4445

«وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَبِي النَّضْرِ قَالَ: جَلَسَ إِلَيَّ شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ وَمَعَهُ صَحِيفَةٌ فِي يَدِهِ قَالَ: وَذَاكَ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ لِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ، تَرَى هَذَا الْكِتَابَ مُغْنِيًا عَنِّي شَيْئًا عِنْدَ هَذَا السُّلْطَانِ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَمَا هَذَا الْكِتَابُ؟ قَالَ: هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَهُ لَنَا أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا. قَالَ: قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ أَنْ يُغْنِيَ عَنْكَ شَيْئًا. وَكَيْفَ كَانَ شَأْنُ هَذَا الْكِتَابِ؟ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ بِإِبِلٍ لَنَا نَبِيعُهَا، وَكَانَ أَبِي صَدِيقًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيِّ فَنَزَلْنَا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: اخْرُجْ مَعِي فَبِعْ لِي إِبِلِي هَذِهِ قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَكِنْ سَأَخْرُجُ مَعَكَ وَأَجْلِسُ، وَتَعْرِضُ إِبِلَكَ، فَإِذَا رَضِيتَ مِنْ رَجُلٍ وَفَاءً وَصِدْقًا مِمَّنْ سَاوَمَكَ أَمَرْتُكَ بِبَيْعِهِ. قَالَ: فَخَرَجْنَا إِلَى السُّوقِ فَوَقَّفْنَا ظُهْرَنَا، وَجَلَسَ طَلْحَةُ قَرِيبًا، فَسَاوَمَنَا الرِّجَالُ حَتَّى إِذَا أَعْطَانَا رَجُلٌ مَا نَرْضَى قَالَ لَهُ أَبِي: أُبَايِعُهُ؟ قَالَ: بِعْهُ، قَدْ رَضِيتُ لَكُمْ وَفَاءً فَبَايِعُوهُ. فَبَايَعْنَاهُ فَلَمَّا قَبَضْنَا مَالَنَا، وَفَرَغْنَا مِنْ حَاجَتِنَا، قَالَ أَبِي لِطَلْحَةَ: خُذْ لَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا أَنْ لَا يُعْتَدَى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا قَالَ: فَقَالَ: هَذَا لَكُمْ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ. قَالَ: عَلَى ذَلِكَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابٌ، قَالَ: فَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ صَدِيقٌ لَنَا، يُرِيدُ أَنْ يَكُونَ لَهُ كِتَابٌ أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْهِ فِي صَدَقَتِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" هَذَا لَهُ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ مِنْكَ كِتَابٌ عَلَى ذَلِكَ. قَالَ: فَكَتَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْكِتَابَ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ النَّهْيَ عَنْ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي عَنْ طَلْحَةَ فَقَطْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salim ibn Abi Umayyah Abu al-Nadr reports that an old man of Banu Tamim sat with him in the mosque of Basrah in the time of al-Hajjaj, holding a document, asking whether it would avail him with the ruler. Asked what it was, he said it was a writing from the Messenger of Allah ﷺ that none should transgress against them in their sadaqat. Salim doubted it would avail, and asked its story. The old man said he had come to Madinah as a young lad with his father with camels to sell, his father being a friend of Talhah ibn 'Ubaydillah al-Tamimi رضي الله عنه. His father asked Talhah to sell the camels for him. Talhah explained that the Messenger of Allah ﷺ had forbidden a resident to sell for a Bedouin, but he would sit nearby while they offered their camels, advising them when satisfied with a buyer's fidelity and truthfulness. They went to the market, men bargained until a satisfactory offer came, his father asked Talhah whether to sell, Talhah approved, they sold, took their money, and finished their need. His father then asked Talhah to obtain for them a writing from the Messenger of Allah ﷺ that none should transgress against them in their sadaqat. Talhah said that protection was for them and every Muslim, but the father still wished to have a writing. Talhah brought them to the Messenger of Allah ﷺ, introduced the Bedouin friend seeking a writing against transgression in his sadaqah, the Prophet ﷺ affirmed it was for him and every Muslim, Talhah repeated his wish for a writing, so the Prophet ﷺ wrote this document for them. > **"This is for him and for every Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن ابوامیہ ابونضر بیان کرتے ہیں : بنوتمیم سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ میرے پاس مسجد بصرہ میں بیٹھے ‘ اُن کے پاس ان کے ہاتھ میں ایک صحیفہ موجود تھا ‘ راوی کہتے ہیں : یہ حجاج کے زمانے کی بات ہے ۔ انہوں نے مجھ سے کہا : اے اللہ کے بندے ! کیا تم یہ سجھتے ہو کہ یہ تحریر مجھے اس حکمران کے پاس کسی چیز میں کام آ سکتی ہے ؟ میں نے کہا : یہ تحریر کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ اللہ کے رسول کا مکتوب ہے ‘ جو آپ نے ہمارے لئے تحریر کیا تھا کہ ہماری زکوۃ کے بارے میں ہمارے ساتھ زیادتی نہ کی جائے راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میرا نہیں خیال کہ یہ آپ کے کسی کام آ سکے گی ‘ ویسے اس تحریر کا معاملہ کیا ہے ؟ تو ان صاحب نے بتایا : میں اپنے والد کے ساتھ مدینہ منورہ آیا ، میں اُن دنوں لڑکا تھا ، ہم اپنا اونٹ لے کے آئے تھے ‘ جسے ہم فروخت کرنا چاہتے تھے ‘ میرے والد حضرت طلحہ بن عبیداللہ تمیمی رضی اللہ عنہ کے دوست تھے ‘ ہم نے مدینہ منور میں پڑاؤ کیا ، میرے والد نے اُن سے کہا : آپ میرے ساتھ چلیں اور میرا یہ اونٹ فروخت کروا دیں ‘ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے ‘ کہ شہری شخص دیہاتی شخص کی کوئی چیز فروخت کروائے ، البتہ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں ‘ میں بیٹھ جاؤں گا ‘ اور تم اپنے اونٹ کو بیچنا ‘ جب تم کسی شخص سے راضی ہو کہ جو تمہاری پسند کے مطابق بھاؤ دے رہا ہو ‘ تو پھر میں تمہیں اُسے فروخت کرنے کی ہدایت کر دوں گا ‘ راوی کہتے ہیں : ہم لوگ بازار کی طرف گئے ‘ ہم نے اپنے جانور کھڑے کیے ‘ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ قریب بیٹھ گئے ، مختلف لوگوں نے ہمارے ساتھ بھاؤ تاؤ کیا ، یہاں تک کہ جب ایک شخص نے ہمیں ہماری پسند کی قیمت دینے کا طے کیا ‘ تو میرے والد نے اُن سے دریافت کیا : کیا میں اسے فروخت کر دوں ؟ تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اسے فروخت کر دو ‘ میں تمہاری ادائیگی سے راضی ہوں ، تم اس کے ساتھ سودا کر لو ‘ ہم نے اس شخص کے ساتھ سودا کر لیا ، جب ہم نے اپنا مال قبضے میں لیا اور اپنے کام سے فارغ ہو گئے ، تو میرے والد نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ مجھے نبی اکرم ﷺ سے ایسی تحریر لے دیں کہ ہماری زکوۃ کے بارے میں ہمارے ساتھ زیادتی نہ کی جائے تو انہوں نے کہا : یہ سہولت ، تو تمہیں اور ہر مسلمان کو حاصل ہے ‘ تو میرے والد نے کہا : ( میں یہ چاہتا ہوں ) میرے پاس نبی اکرم ﷺ کی طرف سے کوئی تحریر ہونی چاہیے ‘ راوی کہتے ہیں : پھر وہ نکلے ‘ یہاں تک کہ ہمیں ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص دیہاتی علاقے کا رہنے والا ہے ‘ میرا دوست ہے ‘ یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس یہ تحریر ہو کہ زکوة کے بارے میں اس کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ حق ‘ تو اس کو اور ہر مسلمان کو حاصل ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ چاہتا ہے کہ آپ کی طرف سے اس بارے میں کوئی تحریر ہو ‘ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ تحریر لکھوا کے دیدی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے ‘ جو شہری کے دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت کرنے کے بارے میں ہے ‘ اور یہ روایت حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4446

Majma al-Zawaid #4446

وَعَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «الْمُتَعَدِّي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jarir رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ concerning one who transgresses in sadaqah. > **"The one who transgresses in sadaqah is like the one who withholds it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ زکوۃ وصول کرنے میں ‘ زیادتی کرنے والا ‘ زکوۃ ادا نہ کرنے والے کی مانند ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4447

Majma al-Zawaid #4447

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَالْمُتَعَدِّي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ; لَمْ يَسْمَعْ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى مِنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

'Ubadah ibn al-Samit رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ linked faith with trust and likened the transgressor to the withholder. > **"There is no faith for one who has no trust, and the one who transgresses in sadaqah is like the one who withholds it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اس شخص کا ایمان نہیں ، جس کی امانت نہ ہو ‘ اور زکوۃ وصول کرنے میں ‘ زیادتی کرنے والا اُسے ادا نہ کرنے والے کی مانند ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند منقطع ہے ‘ اسحاق بن یحیی نے اپنے دادا حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

4448

Majma al-Zawaid #4448

وَعَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ: «أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً حَسَنَةً فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ: "" قَاتَلَ اللَّهُ صَاحِبَ هَذِهِ النَّاقَةِ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَاشِيَةِ الْإِبِلِ. قَالَ: "" فَنِعْمَ إِذًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Sunabihi رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ saw a fine she-camel among the sadaqah camels and supplicated against its collector. The man explained he had exchanged it for two camels from the edges of the herd, and the Prophet ﷺ approved. > **"May Allah destroy the owner of this she-camel. Then good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے زکوۃ کے اونٹوں میں ایک عمدہ اونٹنی دیکھی ‘ تو فرمایا : اللہ تعالی اس اونٹنی وصول کرنے والے شخص کو برباد کرے ‘ اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے عام سے دو اونٹوں کے عوض میں اسے لیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر ٹھیک ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یزید بن سنان رہاوی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4449

Majma al-Zawaid #4449

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" «الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ لِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Rafi' ibn Khadij رضي الله عنه reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ liken the just collector working for Allah to the fighter until his return to his family. > **"The worker over sadaqah with truth, for the sake of Allah the Exalted, is like the fighter in the path of Allah the Exalted until he returns to his family."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر حق کے ہمراہ زکوۃ وصول کرنے کا کام کرنے والا شخص ‘ اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے والے کی مانند ہے ‘ جب تک وہ اپنے گھر واپس نہیں آتا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ وہ ثقہ ہے ‘ لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4450

Majma al-Zawaid #4450

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْعَامِلُ إِذَا اسْتُعْمِلَ فَأَخَذَ الْحَقَّ وَأَعْطَى الْحَقَّ لَمْ يَزَلْ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ذُؤَيْبُ بْنُ عِمَامَةَ. قَالَ الذَّهَبِيُّ: ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ، وَلَمْ يُهْدَرْ.

EnglishUnverified translation

'Abd al-Rahman ibn 'Awf رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ described the employed worker who takes the right and gives the right as remaining like the mujahid until he returns to his house. > **"When the worker is employed, takes the right and gives the right, he remains like the mujahid in the path of Allah until he returns to his house."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عامل شخص کو جب اہلکار مقرر کیا جائے اور وہ حق وصول کرے اور حق ادا کرے ‘ تو وہ مسلسل اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند رہتا ہے ‘ جب تک وہ اپنے گھر واپس نہیں آ جاتا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ذویب بن عمامہ ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : امام دارقطنی اور دیگر حضرات نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور اسے رائیگاں نہیں کیا گیا ۔

4451

Majma al-Zawaid #4451

«وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا إِلَى قَوْمِهِ، فَلَمَّا أَخَذَ صَدَقَاتِهِمْ وَافَقَ ذَلِكَ وَفَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Adi ibn Hatim رضي الله عنه states as an athar that the Prophet ﷺ sent him as a collector to his people, and when he had taken their sadaqat, the death of the Messenger of Allah ﷺ coincided with that.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انہیں زکوۃ وصول کرنے والے کے طور پر بھیجا ‘ جب انہوں نے اُن لوگوں سے زکوۃ وصول کر لی ‘ تو اسی دوران نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن زبرقان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4452

Majma al-Zawaid #4452

«وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ آكُلَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَأَذِنَ لَنَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

'Uqbah ibn 'Amir رضي الله عنه states as an athar that the Messenger of Allah ﷺ sent him as a collector, he sought permission to eat from the sadaqah, and permission was given to them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے زکوۃ وصول کرنے والے کے طور پر بھیجا ‘ میں نے آپ سے یہ اجازت مانگی کہ میں زکوۃ میں سے کھا لیا کروں ، تو آپ نے مجھے اجازت دیدی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

4453

Majma al-Zawaid #4453

وَعَنْ سَلَمَةَ الْهَمْدَانِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى قَيْسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَرْحَبِيِّ: "" بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى قَيْسِ بْنِ مَالِكٍ سَلَامٌ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ، أَمَّا بَعْدُ: فَذَاكُمْ أَنِّي اسْتَعْمَلْتُكَ عَلَى قَوْمِكَ: عُرْبِهِمْ وَخُمُورِهِمْ، وَمَوَالِيهِمْ وَحَاشِيَتِهِمْ، وَأَعْطَيْتُكَ مِنْ ذُرَّةِ يَسَارٍ مِائَتَيْ صَاعٍ مِنْ زَبِيبِ خَيْوَانَ مِائَتَيْ صَاعٍ، جَارٍ ذَلِكَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ مِنْ بَعْدِكَ أَبَدًا أَبَدًا [قَالَ قَيْسُ وَقَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ أَبَدًا أَبَدًا] أَحَبُّ إِلَيَّ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَبْقَى [لِي] عَقِبِي أَبَدًا». قَالَ يَحْيَى: عُرْبُهُمْ: أَهْلُ الْبَادِيَةِ، وَخُمُورُهُمْ: أَهْلُ الْقُرَى. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salamah al-Hamdani رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ wrote to Qays ibn Malik al-Arhabi رضي الله عنه appointing him over his people, assigning him produce and raisins as a continuing grant for him and his progeny. Qays said the Prophet's words "forever, forever" were dearest to him, hoping his progeny would ever remain. Yahya explained that their 'urb means the desert people and their khumur means the villagers. > **"In Your Name, O Allah. From Muhammad, the Messenger of Allah, to Qays ibn Malik. Peace upon you, and the mercy of Allah, His blessings, and His forgiveness. As for what follows: I appoint you over your people, their desert folk and their villagers, their clients and their attendants. I grant you from the produce of Yasar two hundred sa's, and from the raisins of Khaywan two hundred sa's, running for you and your progeny after you forever, forever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ ہمدانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے قیس بن مالک ارحبی کی طرف خط لکھا : ’’ اے اللہ ! تیرے اسم سے برکت حاصل کرتے ہوئے ( میں آغاز کرتا ہوں ) یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے قیس بن مالک کے نام ہے ‘ تم پر سلام ہو ‘ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں اور اس کی مغفرت نازل ہو ‘ اما بعد ! میں تمہیں تمہاری قوم پر عامل مقرر کرتا ہوں ، اُن کے دیہاتیوں پر بھی ‘ اور شہروں پر بھی اُن کے موالیوں پر بھی اور جانوروں پر بھی ‘ اور میں تمہیں یسار ( یہ یمن میں موجود ایک پہاڑ کا نام ہے ) کے اناج کے دو سو صاع ‘ اور خیوان ( یہ یمن کا ایک شہر ہے ) کی کشمش کے دو سو صاع دیتا ہوں ( یعنی یہ تمہاری تنخواہ مقرر کرتا ہوں ) ‘ اور یہ خدمت تمہارے لئے اور تمہارے بعد تمہاری آل اولاد کے لئے ہمیشہ ہمیشہ برقرار رہے گی ‘‘۔ قیس نامی صاحب کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ’’ ہمیشہ ‘ ہمیشہ رہے گی ‘‘ یہ میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے اب مجھے یہ توقع ہے کہ اب میری اولاد ہمیشہ ‘ ہمیشہ رہے گی ۔ یحیی نامی راوی کہتے ہیں :’’ عربہم ‘‘ سے مراد ‘ دیہاتی لوگ ہیں اور خمورہم ‘‘ سے مراد شہری ‘ یعنی بستیوں کے رہنے والے لوگ ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن یحیی بن سلمہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4454

Majma al-Zawaid #4454

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبِلُ الصَّدَقَةِ، فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ ظَهْرِ بَعِيرٍ، فَقَالَ: "" مَا أَنَا بِأَحَقِّ بِهَذِهِ الْوَبَرَةِ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ غُزَّى، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْهُ غَيْرُ أَبَانٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Ali رضي الله عنه reports that the sadaqah camels passed by the Messenger of Allah ﷺ, he took a hair from a camel's back, and declared his share in it. > **"I have no more right to this hair than any man among the Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : صدقہ کے کچھ اونٹ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے ‘ تو آپ نے ایک اونٹ کی پشت سے بال لے کر ارشاد فرمایا : ’’ میں اس بال جتنی چیز کا بھی مسلمانوں میں سے کسی فرد سے زیادہ حق دار نہیں ہوں “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن غزی ہے اس کے حوالے سے ابان کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4455

Majma al-Zawaid #4455

عَنْ مَسْعُودِ بْنِ قَبِيصَةَ أَوْ قَبِيصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «صَلَّى هَذَا الْحَيُّ مِنْ مُحَارِبٍ الصُّبْحَ، فَلَمَّا صَلَّوْا قَالَ شَابٌّ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" إِنَّهُ سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُهَا، وَأَنَّ عُمَّالَهَا فِي النَّارِ إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَسْعُودٌ، وَشَقِيقُ بْنُ حِبَّانَ ; وَهُمَا مَجْهُولَانِ.

EnglishUnverified translation

Mas'ud ibn Qabisah — or Qabisah ibn Mas'ud, the narrator doubting — reports that this clan of Muharib prayed the dawn prayer, and when they finished, a youth among them said he had heard the Messenger of Allah ﷺ foretell the opening of the easts and wests of the earth and the fate of their officials except the God-fearing and trustworthy. > **"The easts of the earth and its wests will surely be opened for you, and their officials will be in the Fire except whoever fears Allah the Exalted and fulfills the trust."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسعود بن قبیصہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) قبیصہ بن مسعود بیان کرتے ہیں : محارب قبیلے سے تعلق رکھنے والے علاقے میں اُنہوں نے صبح کی نماز ادا کی ‘ جب اُن لوگوں نے نماز ادا کر لی ‘ تو ان لوگوں میں سے ایک نوجوان نے یہ کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب تمہارے لئے زمین کے مشرقی اور مغربی علاقے فتح کر لیے جائیں گے ‘ اور وہاں کے ریاستی اہلکار جہنم میں جائیں گے ‘ البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو ‘ اور امانت ادا کرے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسعود اور ایک راوی شقیق بن حبان ہے ‘ اور یہ دونوں مجہول ہیں ۔

4456

Majma al-Zawaid #4456

«وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: "" قُمْ عَلَى صَدَقَةِ بَنِي فُلَانٍ، وَانْظُرْ لَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَكْرٍ تَحْمِلُهُ عَلَى عَاتِقِكَ - أَوْ كَاهِلِكَ - لَهُ رُغَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اصْرِفْهَا عَنِّي. فَصَرَفَهَا عَنْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ لَمْ يَرَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

Sa'd ibn 'Ubadah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ appointed him over the sadaqah of Banu so-and-so, warning him against coming on the Day of Resurrection carrying a young camel on his shoulder — or his upper back, the narrator doubting — bellowing. He asked to be excused, and the Prophet ﷺ excused him. > **"Take charge of the sadaqah of Banu so-and-so, and beware lest you come on the Day of Resurrection carrying a young camel on your shoulder bellowing on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا تم بنوفلاں کی زکوۃ وصول کرنے کا کام کرو ‘ اور اس بات کا دھیان رکھنا کہ ایسا نہ ہو کہ جب تم قیامت کے دن آؤ ‘ تو تم نے اپنی گردن پر کوئی اونٹ اُٹھایا ہوا ہو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) جو آواز نکال رہا ہو ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ یہ خدمت مجھے نہ دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے وہ ( ذمہ داری ) انہیں نہیں دی ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف سعید بن مسیب نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا ہے ۔

4457

Majma al-Zawaid #4457

وَعَنْ هُلَبٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الصَّدَقَةَ فَقَالَ: "" لَا يَجِيئَنَّ أَحَدُكُمْ بِشَاةٍ لَهَا ثُغَاءٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hulb رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ mentioned sadaqah and warned against coming with misappropriated livestock. > **"None of you should ever come with a sheep that bleats."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ہلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے صدقہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی ایک شخص بکری لے کر نہ آئے ‘ جو آواز نکال رہی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4458

Majma al-Zawaid #4458

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ: هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، وَتَغْلِبُونَنِي تَقَاحَمُونَ فِيهِ تَقَاحُمَ الْفَرَاشِ أَوِ الْجَنَادِبِ، فَأُوشِكُ أَنْ أُرْسِلَ بِحُجَزِكُمْ وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَتَرِدُونَ عَلَيَّ مَعًا وَأَشْتَاتًا، فَأَعْرِفُكُمْ بِسِيمَاكُمْ، وَأَسْمَائِكُمْ كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ الْغَرِيبَةَ مِنَ الْإِبِلِ فِي إِبِلِهِ، وَيَذْهَبُ بِكُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَأُنَاشِدُ فِيكُمْ رَبَّ الْعَالَمِينَ فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ قَوْمِي، أَيْ رَبِّ أُمَّتِي، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، إِنَّهُمْ كَانُوا يَمْشُونَ بَعْدَكَ الْقُهْقَرَى عَلَى أَعْقَابِهِمْ، فَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ شَاةً لَهَا ثُغَاءٌ، فَيُنَادِي: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ بَلَّغْتُكَ. فَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، فَيُنَادِي: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ. فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُكَ. فَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ فَرَسًا لَهَا حَمْحَمَةٌ، فَيُنَادِي: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ. فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُكَ. فَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ سِقَاءً مَنْ أَدَمٍ يُنَادِي: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ. فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُكَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" يَحْمِلُ قَشْعًا "" مَكَانَ: "" سِقَاءً "". وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ described holding them back from the Fire while they rush into it like moths and locusts, his preceding them at the Hawd, recognizing them by their marks and names as a man recognizes a strange camel among his camels, their being taken to the left, his intercession, Allah's reply that they turned back after him, and his disavowal of whoever comes carrying misappropriated animals and goods calling for help after conveyance. > **"I hold your waists back from the Fire: come away from the Fire, come away from the Fire. Yet you overpower me, rushing into it like the rushing of moths or locusts. Soon I shall release your waists. I am your forerunner at the Hawd. You will come to me together and in groups. I will know you by your marks and your names, as a man knows a strange camel among his camels. You will be taken to the left. I will plead for you with the Lord of the worlds, saying: My Lord, my people; my Lord, my ummah. He will say: O Muhammad, you do not know what they innovated after you; they kept walking backward upon their heels after you. Let me never know one of you on the Day of Resurrection carrying a sheep that bleats, calling: O Muhammad, O Muhammad, and I say: I avail you nothing; I conveyed to you. Let me never know one of you on the Day of Resurrection carrying a camel that bellows, calling: O Muhammad, O Muhammad, and I say: I avail you nothing; I conveyed to you. Let me never know one of you coming on the Day of Resurrection carrying a horse that neighs, calling: O Muhammad, O Muhammad, and I say: I avail you nothing; I conveyed to you. Let me never know one of you on the Day of Resurrection carrying a leather waterskin, calling: O Muhammad, O Muhammad, and I say: I avail you nothing; I conveyed to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہارے ڈب کو پکڑ کر جہنم میں جانے سے روکتا ہوں ، کہ جہنم سے بچ جاؤ ‘ کہ جہنم سے بچ جاؤ ‘ تو تم لوگ میرے قابو سے نکل کر اس میں گرنے کی کوشش کرتے ہو ‘ جس طرح پتنگے اور کیڑے مکوڑے ( آگ میں گرتے ہیں عنقریب میں تمہاری ڈب کو چھوڑ دوں گا ( یعنی تم میرے ہاتھ سے پھسل جاؤ گے ) میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، تم میرے پاس اکٹھے اور الگ ‘ الگ ہو کر آؤ گے ‘ میں تمہاری مخصوص نشانی کے ذریعے تمہیں پہچان لوں گا ‘ اور تمہارے اسماء سے اس طرح واقف ہوؤں گا ، جس طرح کوئی شخص اپنے اونٹوں کے درمیان کسی اجنبی اونٹ کو پہچان لیتا ہے ‘ وہ تمہیں بائیں طرف لے جائیں گے اور میں تمہارے بارے میں تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کروں گا ‘ میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! یہ میری قوم ہے ‘ اے میرے پروردگار ! یہ میری امت ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد ! تم نہیں جانتے ؟ کہ تمہارے بعد انہوں نے کیا تبدیلی کی تھی ؟ یہ لوگ تمہارے بعد اُلٹے قدموں پھر گئے تھے ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) قیامت کے دن ‘ میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ اُس نے بکری اٹھائی ہوئی ہو ‘ جو آواز نکال رہی ہو ‘ اور وہ پکار کر کہے : اے حضرت محمد ! اے حضرت محمد ! ( میری مدد کریں ) اور میں یہ کہوں : میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ‘ میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی ‘ اور قیامت کے دن میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں ‘ کہ اُس نے اونٹ اٹھایا ہوا ہو ‘ اور وہ آوازیں نکال رہا ہو ‘ اور وہ شخص کہے : اے حضرت محمد ! اے حضرت محمد ! ( میری مدد کریں ) اور میں یہ کہوں : میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی ‘ اور میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے ‘ تو اس نے گھوڑا اُٹھایا ہوا ہو ‘ جو آواز نکال رہا ہو ‘ وہ شخص پکار کر کہے : اے حضرت محمد ! اے حضرت محمد ! تو میں یہ کہوں : میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ‘ میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی ، میں تم میں سے کسی شخص کو قیامت کے دن ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ اُس نے چمڑے کا مشکیزہ اُٹھایا ہوا ہو ‘ اور وہ پکار رہا ہو : اے حضرت محمد ! اے حضرت محمد ! اور میں یہ کہوں کہ میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ‘ میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ ( شاید درست لفظ امام طبرانی ہے ) نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے لفظ ” مشکیزے کے لئے لفظ ’’ سقاء ‘‘ کی جگہ لفظ ’’ قشع ‘‘ نقل کیا ہے ‘ اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔

4459

Majma al-Zawaid #4459

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مُصَدِّقًا يُقَالُ لَهُ: ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ، فَصَدَّقَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَرَكْتُ لَكُمْ حَقًّا، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدِيَّةَ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: "" إِنِّي أَبْعَثُ رِجَالًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَيَأْتِي أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا تَعَدَّيْتُ وَلَا تَرَكْتُ لَكُمْ حَقًّا، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدِيَّةَ إِلَّا جَلَسَ فِي حِفْشِ أُمِّهِ، فَيَنْظُرُ مَنْ هَذَا الَّذِي يُهْدِي لَهُ، إِيَّاكُمْ وَأَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ عَلَى عَاتِقِهِ بِبَعِيرٍ لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٍ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٍ تَثْغُو "". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى نُظِرَ إِلَى بَيَاضِ إِبِطَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'A'ishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ sent a man as a collector called Ibn al-Lutbiyyah. He collected, returned to the Prophet ﷺ claiming he had left no right for them and had accepted a gift given to him. The Messenger of Allah ﷺ sat upon the minbar, described such collectors, asked why they did not sit in their mothers' houses to see who gifts them, warned against coming with bellowing, mooing, and bleating animals, then raised his hands until the whiteness of his armpits was seen. > **"I send men over sadaqah, then one of them comes saying: By Allah, I did not transgress nor leave any right for you, but I was gifted and accepted the gift. Why did he not sit in his mother's house and see who gifts him? Beware lest one of you come on his shoulder with a camel that bellows, a cow that moos, or a sheep that bleats."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ‘ اس شخص کا نام ابن لتبیہ تھا ‘ اس نے زکوۃ وصول کی ‘ پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آیا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کے لئے کوئی حق نہیں چھوڑا ( یعنی پوری وصولی کی ہے ) مجھے تحفے کے طور پر ایک چیز دی گئی تھی ، تو میں نے تحفہ قبول کر لیا ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ) نبی اکرم ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں کچھ افراد کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجتا ہوں ‘ پھر ان میں سے کوئی ایک شخص آتا ہے ‘ اور یہ کہتا ہے : اللہ کی قسم ! نہ میں نے کوئی زیادتی کی ‘ اور نہ ہی میں نے آپ کے کسی حق کو چھوڑا ‘ لیکن مجھے تحفے کے طور پر ایک چیز دی گئی ‘ تو میں نے تحفہ قبول کر لیا ‘ وہ شخص اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھا رہا ؟ کہ وہ اس بات کا جائزہ لیتا کہ کون اسے تحفہ دیتا ہے ؟ تم لوگ اس بات سے بچنے کی کوشش کرو ‘ کہ کوئی شخص ( قیامت کے دن اس حال میں نہ ) آئے اور اس نے اپنی گردن پر اونٹ اٹھایا ہوا ہو ‘ جو آواز نکال رہا ہو ‘ یا گائے اُٹھائی ہوئی ہو ‘ جو ڈکرا رہی ہو ‘ یا بکری اٹھائی ہوئی ہو ‘ جو منمنا رہی ہو “۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4460

Majma al-Zawaid #4460

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا يُصَدِّقُ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ، فَصَدَّقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَعَدَّيْتُ، وَلَا تَرَكْتُ لَهُمْ حَقًّا، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدِيَّةَ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: إِنِّي أَبْعَثُ رِجَالًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَيَأَتِي أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا تَعَدَّيْتُ وَلَا تَرَكْتُ لَهُمْ حَقًّا، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدَيَّةَ، أَلَا جَلَسَ فِي حِفْشِ أُمِّهِ فَيَنْظُرُ مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْدِي إِلَيْهِ، إِيَّاكُمْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ عَلَى عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ "". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى نُظِرَ إِلَى بَيَاضِ إِبِطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَنِيفَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ sent a man as a collector called Ibn al-Lutbiyyah. He collected, returned claiming he had not transgressed nor left their right, but had accepted a gift. The Messenger of Allah ﷺ sat upon the minbar, described such collectors, asked why they did not sit in their mothers' houses to see who gifts them, warned against coming with bellowing, mooing, and bleating animals, raised his hands until the whiteness of his armpits was seen, then declared conveyance. > **"I send men over sadaqah, then one of them comes saying: By Allah, I did not transgress nor leave their right, but I was gifted and accepted the gift. Why did he not sit in his mother's house and see who gifts him? Beware lest one of you come on his neck with a camel that bellows, a cow that moos, or a sheep that bleats. O Allah, have I conveyed?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، اس کا نام ابن لتنبیہ تھا ‘ اس نے زکوۃ وصول کی ، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے کوئی زیادتی نہیں کی اور ان لوگوں کے حق کو ترک نہیں کیا ‘ البتہ مجھے ایک چیز تحفے کے طور پر دی گئی تھی ، تو میں نے تحفہ قبول کر لیا ، نبی اکرم ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں کچھ لوگوں کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجتا ہوں ، پھر اُن میں سے کوئی شخص آتا ہے ‘ اور یہ کہتا ہے : اللہ کی قسم ! میں نے کوئی زیادتی نہیں کی ‘ اور اُن کے کسی بھی حق کو نہیں چھوڑا ‘ البتہ مجھے ایک تحفہ دیا گیا ‘ تو میں نے تحفہ قبول کر لیا ‘ وہ شخص اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھا رہا ؟ تاکہ اس بات کا جائزہ لیتا کہ کون اسے تحفہ دیتا ہے ؟ تم لوگ اس چیز سے بچنے کی کوشش کرو کہ ( قیامت کے دن ) تم میں سے ایک شخص اس حالت میں آئے کہ اس کی گردن پر اونٹ موجود ہو ‘ جو آواز نکال رہا ہو ‘ یا گائے موجود ہو جو ڈکرا رہی ہو ‘ یا بکری موجود ہو جو منمنا رہی ہو ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھ بلند کیے ‘ یہاں تک کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟“ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحنیفہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4461

Majma al-Zawaid #4461

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ مُصَدِّقًا فَقَالَ: "" يَا سَعْدُ، اتَّقِ أَنْ تَجِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ تَحْمِلُهُ لَهُ رُغَاءٌ "". قَالَ: لَا أَجِدُنِي، اعْفِنِي، فَأَعْفَاهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ sent Sa'd ibn 'Ubadah رضي الله عنه as a collector, warning him against coming on the Day of Resurrection carrying a bellowing camel. He said he could not bear it and asked to be excused, so the Prophet ﷺ excused him. > **"O Sa'd, beware lest you come on the Day of Resurrection carrying a camel that bellows."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجا تو ارشاد فرمایا : ’’ اے سعد ! تم اس بات سے ڈرنا کہ تم قیامت کے دن اونٹ لے کر آؤ ‘ جسے تم نے اٹھایا ہوا ہو ‘ اور وہ آوازیں نکال رہا ہو ‘‘ تو انہوں نے عرض کی : میرے اندر تو اتنی ہمت نہیں ہے ‘ آپ مجھے معاف رکھیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں معاف کر دیا ( یعنی آپ ﷺ نے یہ خدمت انہیں نہیں دی ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4462

Majma al-Zawaid #4462

«وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَالَ: "" يَا أَبَا الْوَلِيدِ،، اتَّقِ اللَّهَ، لَا تَأْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ تَحْمِلُهُ لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٍ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٍ لَهَا ثُغَاءٌ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ذَلِكَ لَكَذَلِكَ؟ قَالَ: "" أَيْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ "". قَالَ: فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَعْمَلُ لَكَ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Ubadah ibn al-Samit رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ sent him over sadaqah, warning him against coming on the Day of Resurrection carrying bellowing, mooing, and bleating animals. He asked whether that would truly be so, the Prophet ﷺ swore by Him in Whose Hand is his soul, so he swore by Him Who sent the Prophet ﷺ with the truth that he would never work for him in anything. > **"O Abu al-Walid, fear Allah. Do not come on the Day of Resurrection carrying a camel that bellows, a cow that moos, or a sheep that bleats. Yes, by Him in Whose Hand is my soul."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انہیں زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ‘ تو ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوالولید ! اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ‘ تم قیامت کے دن ایسی حالت میں نہ آؤ کہ تم نے اونٹ کو اٹھایا ہوا ہو ‘ جو آواز نکال رہا ہو ‘ یا گائے کو اٹھایا ہوا ہو ‘ جو ڈکرا رہی ہو ‘ یا بکری کو اٹھایا ہوا ہو جو منمنا رہی ہو ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ایسا بھی ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جی ہاں ! تو انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ میں آپ کے لئے اس حوالے سے کبھی کوئی کام نہیں کروں گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4463

Majma al-Zawaid #4463

«وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ سَاعِيًا قَالَ: "" انْظُرْ أَبَا مَسْعُودٍ، وَلَا أُلْفِيَنَّكَ تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى ظَهْرِكَ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ قَدْ غَلَلْتَهُ "". قَالَ: مَا أَنَا بِسَائِرٍ فِي وَجْهِي هَذَا. قَالَ: "" إِذًا لَا أُكْرِهُكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Mas'ud رضي الله عنه reports that when the Messenger of Allah ﷺ sent him as a collector, he warned him against coming on the Day of Resurrection with a misappropriated sadaqah camel upon his back. Abu Mas'ud said he would not proceed on that mission, and the Prophet ﷺ said he would not compel him. > **"Look, O Abu Mas'ud, may I never find you coming on the Day of Resurrection with a bellowing camel of the sadaqah camels upon your back which you misappropriated. Then I shall not compel you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجا ‘ تو ارشاد فرمایا : ’’ اے ابومسعود ! تم اس بات کا دھیان رکھنا کہ میں تمہیں ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب تم قیامت کے دن آؤ تو تمہاری پشت پر اونٹ موجود ہو ‘ جو آواز نکال رہا ہو ‘ اور وہ صدقے کا اونٹ ہو ‘ جسے تم نے خیانت کے طور پر حاصل کیا ہو تو حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں تو یہ کام کبھی نہیں کروں گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایسی صورت میں ، میں تمہیں مجبور بھی نہیں کروں گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4464

Majma al-Zawaid #4464

«وَعَنْ جَهْمِ بْنِ فَضَالَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَإِذَا فِيهِ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ يَتَفَلَّى، وَيَدْفِنُ الْقَمْلَ فِيهِ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَبَّحَ ثَلَاثًا، وَحَمِدَ ثَلَاثًا، وَكَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: خَفِيفَاتٌ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَاتٌ فِي الْمِيزَانِ يَصْعَدْنَ إِلَى الرَّحْمَنِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَإِنَّ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا فَيَتَعَدَّوْنَ عَلَيْنَا؟ فَقَالَ: الصَّدَقَةُ حَقٌّ، وَتُبَّاعُهَا فِي النَّارِ، قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَّرَ أَوْ تَعَدَّى، جِيئُوا بِالْمَالِ وَلَا تُغَيِّبُوا مِنْهَا شَيْئًا فَتُخْبِثُوا مَا غَيَّبْتُمْ وَمَا جِئْتُمْ بِهِ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَلَا تَسُبُّوهُمْ، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهِمْ».

EnglishUnverified translation

Jahm ibn Fadalah states as an athar that he entered the mosque of Damascus and found Abu Umamah al-Bahili رضي الله عنه removing lice and burying them. He sat with him, Abu Umamah glorified Allah thrice, praised Him thrice, and magnified Him thrice, then said they are light upon the tongue, heavy in the Scale, ascending to the Most Merciful. Jahm said he was a desert man and the collectors transgress against them. Abu Umamah told him sadaqah is a right and its seekers are in the Fire by the word of the Messenger of Allah ﷺ whether they fall short or transgress, that they should bring the wealth hiding nothing lest they spoil what they hide and what they bring, that they should not revile the collectors when they see them but seek refuge in Allah from their evil.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جہم بن فضالہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد دمشق میں داخل ہوا ‘ تو وہاں حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے جوئیں نکال رہے تھے ‘ اور جوئیں زمین میں دفن کر رہے تھے ‘ میں ان کے پاس بیٹھ گیا انہوں نے تین مرتبہ «سبحان اللہ» کہا ‘ تین مرتبہ «الحمد للہ» کہا اور تین مرتبہ «اللہ اکبر» کہا ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : کچھ چیزیں ہیں ‘ جو زبان پر ہلکی ہیں اور میزان میں بھاری ہوں گی ‘ اور رحمان کی طرف اوپر جاتی ہیں ، میں نے کہا : اے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ ! میں یہات کا رہنے والا شخص ہوں ، زکوۃ وصول کرنے والے ہمارے پاس آتے ہیں اور ہمارے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ، تو حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : صدقہ حق ہے ‘ اور اس میں زیادتی کرنے والے جہنم میں جائیں گے ‘ یہ بات نبی اکرم ﷺ کے فرمان سے ثابت ہے خواہ وہ اس میں کمی کریں ‘ یا زیادتی کریں ، تم لوگ مال لے آؤ ‘ اس مال میں سے کچھ بھی نہ چھپاؤ تم جو کچھ چھپاؤ گے ‘ یا جو کچھ لے کے آؤ گے اس کو خراب نہ کرو اور جب تم انہیں دیکھو ( کہ وہ زیادتی کر رہے ہیں ) تو انہیں برا نہ کہو ‘ لیکن اُن کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ! ۔

4465

Majma al-Zawaid #4465

وَفِي رِوَايَةٍ: سَأَلْتُ أَبَا أُمَامَةَ وَذَكَرْتُ لَهُ عُمَّالَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ: الصَّدَقَةُ حَقٌّ، وَعُمَّالُهَا فِي النَّارِ ; لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَجَهْمٌ لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Jahm states as an athar in another narration that he asked Abu Umamah رضي الله عنه mentioning the workers over sadaqah, and he said sadaqah is a right and its workers are in the Fire by the word of the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، میں نے زکوۃ کی وصولی کے اہلکاروں کا ذکر کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : زکوۃ حق ہے ‘ اور اس کی ( ناحق ) وصولی کرنے والے جہنم میں جائیں گے ‘ یہ بات نبی اکرم ﷺ کے فرمان سے ثابت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ‘ جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ‘ اور جہنم نامی راوی معروف نہیں ہے ۔

4466

Majma al-Zawaid #4466

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَنَّهُ كَانَ إِذَا بَعَثَ السُّعَاةَ عَلَى الصَّدَقَاتِ أَمَرَهُمْ بِمَا أَخَذُوا مِنَ الصَّدَقَاتِ أَنْ يُجْعَلَ فِي ذَوِي قَرَابَةِ مَنْ أُخِذَ مِنْهُمُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ قَرَابَةٌ فَلِأُولِي الْعَشِيرَةِ، ثُمَّ لِذِي الْحَاجَةِ مِنَ الْجِيرَانِ وَغَيْرِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar رضي الله عنهما reports from the Messenger of Allah ﷺ that when he sent collectors over sadaqat, he commanded them to place what they took first among the near kin of those from whom it was taken, then their clan if no kin, then the needy among neighbors and others. > **"What is taken of the sadaqat shall be placed first among the near kin of those from whom it was taken, then their clan, then the needy among neighbors and others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں : جب آپ زکوۃ وصول کرنے کے اہلکاروں کو بھیجتے تھے ، تو انہیں یہ ہدایت کرتے تھے کہ وہ جب زکوۃ وصول کر لیں ، تو جن لوگوں سے زکوۃ وصول کی ہے ‘ اُن کے قریبی رشتہ داروں کو درجہ بدرجہ دیں ، اگر قریبی رشتہ دار نہ ہوں ، تو خاندان کے دیگر افراد کو دیں ‘ پھر ان کے پڑوسیوں اور دیگر افراد میں سے حاجت مند لوگوں کو وہ دیدیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن وقاصی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4467

Majma al-Zawaid #4467

وَعَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْكُوفَةِ كَانَ أَمِيرًا قَالَ: فَخَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ: إِنَّ فِي إِعْطَاءِ هَذَا الْمَالِ فِتْنَةً، وَفِي إِمْسَاكِهِ فِتْنَةً، وَبِذَلِكَ قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ نَزَلَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Mutarrif ibn 'Abdillah ibn al-Shikhkhir reports from a man of the companions of the Prophet ﷺ who was a governor in Kufah that he addressed the people one day saying that giving this wealth is a trial and withholding it is a trial, and that the Messenger of Allah ﷺ remained engaged with it until he finished, then came down.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بن عبداللہ بن شخیر نے نبی اکرم ﷺ کے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ کوفہ کے امیر تھے ‘ ایک دن انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : اس مال کو دینا بھی آزمائش ہے ‘ اسے روک کے رکھنا بھی آزمائش ہے ‘ اور نبی اکرم ﷺ اس کے ساتھ ( یعنی اس کو تقسیم کرنے میں ) مصروف رہے ‘ یہاں تک کہ فارغ ہو گئے ‘ پھر آپ منبر سے نیچے آئے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4468

Majma al-Zawaid #4468

وَعَنْ أَبِي الْفَيْضِ قَالَ: شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ وَأَعْطَى الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ حِمَارًا، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: الْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ، فَقَالَ: مَا لَكَ أَنْ تَأْخُذَهُ، وَمَا لِمُعَاوِيَةَ أَنْ يُعْطِيَكَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِكَ رَأْسُهُ أَسْفَلَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو الْفَيْضِ لَمْ يُدْرِكِ الْمِقْدَادَ، وَالْمِقْدَادُ لَمْ يُدْرِكْ خِلَافَةَ مُعَاوِيَةَ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Fayd states as an athar that he witnessed Mu'awiyah رضي الله عنه give al-Miqdad ibn al-Aswad a donkey, whereupon a man of the companions of the Prophet ﷺ called al-'Irbad ibn Sariyah رضي الله عنه stood and said he had no right to take it nor Mu'awiyah to give it, as if looking at him on the Day of Resurrection carrying it upon his neck with its head downward.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالفیض بیان کرتے ہیں : میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، انہوں نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو ایک گدھا دیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب ‘ جن کا نام حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ تھا ‘ وہ کھڑے ہوئے ‘ انہوں نے کہا : کیا وجہ ہے کہ تم نے اسے کیوں وصول کیا ہے ؟ اور معاویہ کو کیا حق ہے کہ وہ تمہیں دے ؟ میں گویا اس وقت بھی تمہاری طرف دیکھ رہا ہوں کہ قیامت کے دن تم نے اسے اپنی گردن پر اٹھایا ہوا ہو گا ‘ اور اس کا سر نیچے کی طرف ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ ابوالفیض نامی راوی نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ‘ اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

4469

Majma al-Zawaid #4469

عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" «يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ، احْمَدُوا اللَّهَ الَّذِي رَفَعَ عَنْكُمُ الْعُشُورَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Zayd رضي الله عنه reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ command the Arabs to praise Allah for lifting the ushur from them. > **"O company of Arabs, praise Allah Who has lifted the ushur from you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے عرب کے گروہ ! تم اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو کہ اُس نے تم سے عشر کو اٹھا لیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

4470

Majma al-Zawaid #4470

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عَتَاهِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" «إِذَا رَأَيْتُمْ عَاشِرًا فَاقْتُلُوهُ» "". يَعْنِي بِذَلِكَ: الصَّدَقَةَ عَلَى غَيْرِ حَقِّهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «الصَّدَقَةُ يَأْخُذُهَا عَلَى غَيْرِ حَقِّهَا» "". وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Malik ibn 'Atahiyah رضي الله عنه reports that he heard the Prophet ﷺ command killing the tithe collector, meaning thereby sadaqah taken without right. In the wording of al-Kabir it is sadaqah he takes without right. > **"When you see a tithe collector, kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن عتاھیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم عشر ( یعنی بھتہ ) وصول کرنے والے کو دیکھو ‘ تو اُسے قتل کر دو “۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد ناحق طور پر صدقہ وصول کرنے والا شخص ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ وہ صدقہ جسے آدمی ناحق طور پر وصول کرتا ہے ‘‘۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

4471

Majma al-Zawaid #4471

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى كِلَابِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى مَجْلِسِ الْعَاشِرِ بِالْبَصْرَةِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكَ هَهُنَا؟ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عَلَى هَذَا الْمَكَانِ - يَعْنِي زِيَادًا - فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: بَلَى. فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" كَانَ لِدَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [مِنَ اللَّيْلِ] سَاعَةٌ يُوقِظُ فِيهَا أَهْلَهُ يَقُولُ: يَا آلَ دَاوُدَ، قُومُوا فَصَلُّوا، فَإِنَّ هَذِهِ سَاعَةٌ يَسْتَجِيبُ اللَّهُ فِيهَا الدُّعَاءَ إِلَّا لِسَاحِرٍ أَوْ عَاشِرٍ "". فَرَكِبَ كِلَابُ بْنُ أُمَيَّةَ سَفِينَةً، فَأَتَى زِيَادًا، فَاسْتَعْفَاهُ فَأَعْفَاهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan states as an athar that 'Uthman ibn Abi al-'As رضي الله عنه passed by Kilab ibn Umayyah sitting at the seat of the tithe collector in Basrah, asking what seated him there. He said Ziyad had employed him there. 'Uthman offered to narrate a hadith he had heard from the Messenger of Allah ﷺ, he accepted, so 'Uthman narrated that Allah's Prophet Dawud عليه السلام had an hour of the night in which he would wake his household saying to pray, for it is an hour in which Allah answers supplication except for a sorcerer or a tithe collector. Kilab ibn Umayyah then boarded a ship, went to Ziyad, sought release, and was released. > **"Dawud, the Prophet of Allah, had an hour of the night in which he would wake his household, saying: O household of Dawud, rise and pray, for this is an hour in which Allah answers supplication except for a sorcerer or a tithe collector."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا گزر ‘ کلاب بن امیہ کے پاس سے ہوا ‘ جو بصرہ میں عشر وصول کرنے والے کی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ انہوں نے دریافت کیا : تم یہاں کیوں بیٹھے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے اس نے اس جگہ پر عامل مقرر کیا ہے ‘ اُن کی مراد یہ تھی زیاد نے ایسا کیا ہے ‘ تو حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا ! کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ بیان کروں ؟ جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے ‘ کلاب بن امیہ نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام رات کے ایک مخصوص حصے میں ‘ اپنے اہل خانہ کو بیدار کرتے تھے ‘ اور یہ کہتے تھے : اے داؤد کے گھر والو ! تم اٹھو اور نماز ادا کرو ‘ کیونکہ یہ ایک ایسی گھڑی ہے ‘ جس میں اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ‘ صرف جادو کرنے والے ‘ اور عشر وصول کرنے والے کی دعا قبول نہیں کرتا “۔ تو کلاب بن امیہ کشتی میں سوار ہو کر زیاد کے پاس آئے اور انہوں نے استعفیٰ دے دیا ‘ تو اس نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

4472

Majma al-Zawaid #4472

وَالْأَوْسَطِ، وَلَفْظُهُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " «تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ نِصْفَ اللَّيْلِ، فَيُنَادِي مُنَادٍ: هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى؟ هَلْ مَنْ مَكْرُوبٍ فَيُفَرَّجُ عَنْهُ؟ فَلَا يَبْقَى مُسْلِمٌ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ إِلَّا زَانِيَةً تَسْعَى بِفَرْجِهَا، أَوْ عَشَّارًا» ".

EnglishUnverified translation

The Prophet ﷺ states in the wording of al-Awsat that the gates of heaven are opened at midnight, a caller calls asking for supplicants, askers, and the distressed, and no Muslim supplicates but Allah answers him except an adulteress who traffics with her private part, or a tithe collector. > **"The gates of heaven are opened at midnight. A caller calls: Is there a supplicant whose prayer shall be answered? Is there an asker who shall be given? Is there a distressed one who shall be relieved? No Muslim prays a prayer but Allah the Exalted answers him, except an adulteress who traffics with her private part, or a tithe collector."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معجم اوسط میں بھی اسے نقل کیا ہے ‘ تا ہم اس کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نصف رات کے وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور منادی پکار کر یہ کہتا ہے : کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا مستجاب ہو ؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی پریشانی کا شکار شخص ہے کہ اس کی پریشانی دور کر دی جائے ؟ تو جو بھی مسلمان اس وقت دعا کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے ‘ البتہ زنا کرنے والی عورت ‘ یا عشر وصول کرنے والے شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کے الفاظ یہ ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے قریب ہو جاتا ہے ‘ اور جو بھی مغفرت طلب کرتا ہے اس کی مغفرت کر دیتا ہے ‘ البتہ زنا کرنے والی عورت اور عشر ( یعنی بھتہ ) وصول کرنے والے شخص کا معاملہ مختلف ہے “۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ ان میں ایک راوی علی بن زید ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔ اس حدیث کے مختلف طرق ہیں ، جو آگے چل کر مناسب مقامات پر آئیں گے ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4473

Majma al-Zawaid #4473

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَلَفْظُهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" «إِنَّ اللَّهَ يَدْنُو مِنْ خَلْقِهِ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَسْتَغْفِرُ إِلَّا لِبَغِيٍّ بِفَرْجِهَا، أَوْ عَشَّارٍ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ. وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ تَأْتِي فِيمَا يُنَاسِبُهَا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

EnglishUnverified translation

The Prophet ﷺ states in the wording of al-Kabir that he heard the Messenger of Allah ﷺ say Allah draws near to His creation and forgives whoever seeks forgiveness except an adulteress with her private part, or a tithe collector. > **"Indeed Allah draws near to His creation and forgives whoever seeks forgiveness, except an adulteress with her private part, or a tithe collector."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کے الفاظ یہ ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے قریب ہو جاتا ہے ‘ اور جو بھی مغفرت طلب کرتا ہے اس کی مغفرت کر دیتا ہے ‘ البتہ زنا کرنے والی عورت اور عشر ( یعنی بھتہ ) وصول کرنے والے شخص کا معاملہ مختلف ہے “۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ ان میں ایک راوی علی بن زید ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔ اس حدیث کے مختلف طرق ہیں ، جو آگے چل کر مناسب مقامات پر آئیں گے ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4474

Majma al-Zawaid #4474

وَعَنْ أَبِي الْخَيْرِ قَالَ: «عَرَضَ مَسْلَمَةُ بْنُ مَخْلَدٍ - وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرَ - عَلَى رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ أَنْ يُوَلِّيَهُ الْعُشُورَ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" إِنَّ صَاحِبَ الْمُكْسِ فِي النَّارِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «صَاحِبُ الْمَكْسِ فِي النَّارِ» "" - يَعْنِي: الْعَاشِرَ. وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Khayr reported that Maslamah ibn Mukhallad, who was governor over Egypt, offered Ruwayfi' ibn Thabit رضي الله عنه that he would appoint him over the ushur, so he replied that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Indeed, the collector of the maks will be in the Fire."** By it is meant the 'ashir, the one who takes unjust tithes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالخیر بیان کرتے ہیں : مسلمہ بن مخلد ‘ جو مصر کے گورنر تھے ‘ انہوں نے حضرت رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ کو یہ پیشکش کی کہ وہ انہیں عشر وصول کرنے کا نگران بنا دیتے ہیں ‘ تو حضرت رویفع رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ناجائز ٹیکس وصول کرنے والا جہنم میں جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ البتہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ ٹیکس وصول کرنے والا جہنم میں جائے گا ‘‘ ( راوی کہتے ہیں : ) اس سے مراد عاشر ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4475

Majma al-Zawaid #4475

«وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا رَأَى سُهَيْلًا قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ سُهَيْلًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كَانَ عَشَّارًا مِنْ عَشَّارِي الْيَمَنِ يَظْلِمُهُمْ فَمَسَخَهُ اللَّهُ فَجَعَلَهُ حَيْثُ تَرَوْنَ» ".

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما, when he saw Suhayl, would say, may Allah curse Suhayl, for he had heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"He was a tithe-collector among the tithe-collectors of Yemen who wronged them, so Allah transformed him and placed him where you see."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب وہ سہیل نامی ستارے کو دیکھتے تھے ‘ تو یہ کہتے تھے : اللہ تعالی سہیل پر لعنت کرے ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ یمن کے بھتہ وصول کرنے والوں میں ‘ یہ ایک بھتہ وصول کرنے والا تھا ، جو لوگوں پر ظلم کرتا تھا ، تو اللہ تعالی نے اسے مسخ کر دیا اور اُسے وہاں بنا دیا ہے ‘ جو تم دیکھ رہے ہو “۔

4476

Majma al-Zawaid #4476

وَفِي رِوَايَةٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ سُهَيْلًا فَقَالَ: "" كَانَ عَشَّارًا ظَلُومًا فَمَسَخَهُ اللَّهُ شِهَابًا فَجَعَلَهُ حَيْثُ تَرَوْنَ» "". رَوَاهُمَا الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

The Messenger of Allah ﷺ mentioned Suhayl and said: > **"He was an oppressive tithe-collector, so Allah transformed him into a shooting star and placed him where you see."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سہیل کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ یہ ظلم کے طور پر بھتہ وصول کرنے والا ایک شخص تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے مسخ کر کے شہاب بنا دیا ‘ اور اسے وہاں رکھ دیا ‘۔ جسے تم دیکھتے ہو ‘‘۔ یہ دونوں روایات امام بزار نے نقل کی ہیں ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہیں ۔

4477

Majma al-Zawaid #4477

وَلَفْظُهُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" «كَانَ عَشَّارًا يَظْلِمُهُمْ وَيَنْصِبُهُمْ أَمْوَالَهُمْ، فَمَسَخَهُ اللَّهُ شِهَابًا، فَجَعَلَهُ حَيْثُ تَرَوْنَ» "". وَضَعَّفَهُ الْبَزَّارُ ; لِأَنَّ فِي رُوَاتِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَفِي الْأُخْرَى مُيَسِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"He was a tithe-collector who wronged them and seized their wealth, so Allah transformed him into a shooting star and placed him where you see."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ یہ ایک بھتہ وصول کرنے والا شخص تھا ‘ جو لوگوں پر ظلم کرتا تھا اور ان کے اموال چھین لیتا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے مسخ کر کے شہاب بنا دیا اور وہاں رکھ دیا ‘ جہاں تم دیکھتے ہو ‘‘۔ امام بزار نے اس کو ” ضعیف “ قرار دیا ہے ‘ کیونکہ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے ‘ اور وہ متروک ہے دوسری روایت میں ایک راوی میسر بن عبید ہے ‘ اور وہ بھی متروک ہے ۔

4478

Majma al-Zawaid #4478

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَعَنَ سُهَيْلًا - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَإِنَّهُ كَانَ يُعَشِّرُ النَّاسَ، فَمَسَخَهُ اللَّهُ شِهَابًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَابِرُ الْجُعْفِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ cursed Suhayl three times, for he used to take ushur from the people, so Allah transformed him into a shooting star. > **"May Allah curse Suhayl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سہیل پر تین مرتبہ لعنت کی ‘ کیونکہ وہ لوگوں سے عشر ( یعنی نا جائز ٹیکس ) وصول کرتا تھا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اسے مسخ کر کے شہاب بنا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ‘ اور اس کے بارے میں بہت زیاد کلام کیا گیا ہے ‘ شعبہ اور سفیان ثوری نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

4479

Majma al-Zawaid #4479

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَالَ: "" طُوبَى لَهُ إِنْ لَمْ يَكُنْ عَرِيفًا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَلَمْ يَنْسِبْهُ، فَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that a funeral passed by the Prophet ﷺ, so he said: > **"Glad tidings for him, if he was not an 'arif."** By 'arif is meant a state official set over people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس کے لئے مبارک باد ہے ‘ اگر یہ عریف ( یعنی ریاستی اہلکار ) نہ رہا ہو ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے محمد نامی راوی کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور ان کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ‘ تو میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4480

Majma al-Zawaid #4480

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ فِي النَّارِ حَجَرًا يُقَالُ لَهُ: وَيْلٌ، يَصْعَدُ عَلَيْهِ الْعُرَفَاءُ، وَيَنْزِلُونَ فِيهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمْ.

EnglishUnverified translation

Sa'd ibn Abi Waqqas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, in the Fire there is a rock called Wayl; the 'urafa will climb upon it and descend into it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جہنم میں ایک پتھر ہے ‘ جس کا نام ’’ ویل ‘‘ ہے ’’ عریف ‘‘ لوگ ( یعنی ریاستی اہلکار ) اس پر چڑھیں گے بھی ‘ اور اس سے اُتریں گے بھی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ہے میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4481

Majma al-Zawaid #4481

«وَعَنْ مَوْدُودِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ كُرَيْبِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سَيْفِ بْنِ جَارِيَةَ الْيَرْبُوعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رَجُلًا مَنْ بَنِي تَمِيمٍ ذَهَبَ بِمَالِي كُلِّهِ؟ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَيْسَ عِنْدِي مَا أُعْطِيكَهُ "". ثُمَّ قَالَ: "" وَهَلْ لَكَ أَنْ تُعَرِّفَ عَلَى قَوْمِكَ؟ "". أَوْ "" أَلَا أُعَرِّفُكَ عَلَى قَوْمِكَ؟ "" قُلْتُ: لَا. قَالَ: "" أَمَا إِنَّ الْعَرِيفَ يُدْفَعُ فِي النَّارِ دَفْعًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَمَوْدُودٌ وَأَبُوهُ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا.

EnglishUnverified translation

Mawdud ibn al-Harith, from his father, from his grandfather, that he came to the Prophet ﷺ and said, O Messenger of Allah, a man of Banu Tamim took all my wealth. The Messenger of Allah ﷺ said to him, I have nothing with me to give you. Then he said, would you like to be made 'arif over your people. He replied, no. He said: > **"Indeed, the 'arif will be thrust into the Fire with force."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مودود بن حارث بن یزید بن کریب بن یزید بن سيف بن جاریہ یربوعی ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بنوتمیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص میرا پورا مال لے گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے ‘ جو میں تمہیں دے دوں ، پھر آپ نے فرمایا : کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ تم اپنی قوم کے عریف بن جاؤ ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) کیا میں تمہیں تمہاری قوم کا عریف نہ بنا دوں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک عریف کا تعلق ہے ‘ تو اسے یکبارگی جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ مودود نامی راوی اور اس کے والد کے حالات بیان کرتے ہوئے ‘ میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔

4482

Majma al-Zawaid #4482

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِهِ مِنَ اللَّيْلِ فَأَكَلَهَا، فَلَمْ يَنَمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ بَعْضُ نِسَائِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرِقْتَ الْبَارِحَةَ؟ قَالَ: "" إِنِّي وَجَدْتُ [تَحْتَ جَنْبِي] تَمْرَةً فَأَكَلْتُهَا، وَكَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ found a date beneath his side at night and ate it, then did not sleep that night. One of his wives said, O Messenger of Allah, were you sleepless last night. He said: > **"I found a date beneath my side and ate it, and we had dates of charity with us, so I feared it might have been from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے رات کے وقت اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور پائی اور اسے کھا لیا ، پھر اس کے بعد آپ پوری رات سو نہیں سکے ، آپ کی زوجہ محترمہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ گزشتہ رات جاگتے رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور پائی تھی تو اُسے کھا لیا تھا ، ہمارے پاس صدقہ کی کھجوریں بھی موجود تھیں ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ اُن میں سے نہ ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

4483

Majma al-Zawaid #4483

وَعَنْ أَبِي عُمَيْرٍ، أَوْ أَبِي عُمَيْرَةَ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ بِطَبَقٍ عَلَيْهِ تَمْرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا هَذَا؟ أَصَدَقَةٌ أَمْ هَدِيَّةٌ؟ "". فَقَالَ: صَدَقَةٌ. فَقَالَ: فَقَدَّمَهُ إِلَى الْقَوْمِ، وَحَسَنٌ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ - يَتَعَفَّرُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَخَذَ الصَّبِيُّ تَمْرَةً فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَهُ فِي فِي الصَّبِيِّ، فَانْتَزَعَ التَّمْرَةَ فَقَذَفَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، إِلَّا أَنَّ أَحْمَدَ سَمَّاهُ أُسَيْدَ بْنَ مَالِكٍ، وَسَمَّاهُ الطَّبَرَانِيُّ رُشَيْدَ بْنَ مَالِكٍ، وَفِيهِ حَفْصَةُ بِنْتُ طَلْقٍ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهَا غَيْرُ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ، وَلَمْ يُوَثِّقْهَا أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umayr or Abu Umayrah رضي الله عنه reported that they were sitting with the Messenger of Allah ﷺ when a man came with a tray of dates. The Messenger of Allah ﷺ asked what it was, charity or gift. He said, charity. So he passed it to the people, while Hasan رضي الله عنه was crawling before him, and the child took a date and put it in his mouth. The Prophet ﷺ put his finger in the child's mouth, removed the date and cast it aside, then said: > **"Indeed, we, the Household of Muhammad, charity is not lawful for us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعمیر رضی اللہ عنہ ‘ یا شاید حضرت ابوعمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک شخص تھال لے کر آیا ، جس میں کھجوریں موجود تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ ہدیہ ہے ‘ یا صدقہ ہے ؟ اس نے عرض کی : صدقہ ہے ‘ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے وہ چیز لوگوں کی طرف بڑھا دی ‘ اس وقت حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ( جو اس وقت بچے تھے ) جو اپنے ہاتھوں کے بل چل رہے تھے ‘ انہوں نے ایک کھجور لی ‘ اور اپنے منہ میں ڈال لی ‘ ) تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلی بچے کے منہ میں ڈالی اور کھجور نکالی ‘ اور اسے ایک طرف رکھ دیا ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک ہم ‘ یعنی آل محمد ‘ ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم میں نقل کی ہے ‘ تاہم امام احمد نے راوی کا نام حضرت اسید بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے ‘ جبکہ امام طبرانی نے ان کا نام رشید بن مالک بیان کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حفصہ بنت طلق ہیں ، معرف بن واصل کے علاوہ اور کسی نے اس خاتون سے روایت نقل نہیں کی ہے ‘ اور نہ کسی نے اس خاتون کی توثیق کی ہے ۔