عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: "" كَذَا وَكَذَا "" قَالَ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ قَالَ: فَنَظَرُوا فَوَجَدُوهُ قَدْ تَعَدَّى عَلَيْهِ بِصَاعٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" كَيْفَ بِكُمْ إِذَا سَعَى عَلَيْكُمْ مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ: "" أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي "" فَخَاضَ الْقَوْمُ وَبَهَرَهُمُ الْحَدِيثُ، حَتَّى «قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ رَجُلٌ غَائِبٌ عَنْكَ فِي إِبِلِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَزَرْعِهِ فَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَتُعُدِّيَ عَلَيْهِ فَكَيْفَ يَصْنَعُ، وَهُوَ عَنْكَ غَائِبٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، فَلَمْ يُغَيِّبْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَدَّى الزَّكَاةَ، فَتَعُدِّيَ عَلَيْهِ فِي الْحَقِّ فَأَخَذَ سِلَاحَهُ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Umm Salamah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ was in her house when a man came asking the amount of sadaqah for such-and-such. The Prophet ﷺ told him, the man complained that so-and-so had transgressed against him, and investigation found he had transgressed by a sa'. The Prophet ﷺ warned them about a greater transgressor to come. The people were alarmed and discussed it until one of them asked what a man absent among his camels, livestock, and crops should do if he pays his zakat yet is transgressed against while absent from the Prophet ﷺ. The Prophet ﷺ answered concerning sincere payment, prayer, and fighting with his weapon. > **"How will you be when there pursues you one who transgresses against you more severely than this transgression? Whoever pays the zakat of his wealth willingly, seeking thereby the Face of Allah and the Abode of the Hereafter, concealing nothing of his wealth, establishing prayer, then paying zakat, yet is transgressed against concerning the right, then takes his weapon and fights and is killed, he is a martyr."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے گھر میں موجود تھے ‘ ایک شخص آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں فلاں چیز کی زکوۃ کتنی بنے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اتنی اور اتنی بنے گی ‘ اس نے عرض کی : پھر فلاں شخص نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے ‘ راوی کہتے ہیں : جب ان لوگوں نے تحقیق کی ‘ تو پتہ چلا کہ اس نے ایک صاع کی زیادتی کی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب تمہارے پاس وصولی کرنے والا ایسا شخص آئے گا ‘ جو اس زیادتی سے زیادہ زیادتی تمہارے ساتھ کرے گا “۔ یہ روایت امام احمد نے اس طرح نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ اس زیادتی سے زیادہ زیادتی کرے گا ‘ تو وہ لوگ زیادہ پریشان ہو گئے اور اس بات نے انہیں پریشان کر دیا یہاں تک کہ ان میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس وقت کیا ہو گا کہ جب کوئی شخص آپ کو چھوڑ کر اپنے اونٹوں اور جانوروں میں ہو گا ، کھیتوں میں ہو گا ‘ اور پھر اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے گا اور پھر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے گی ‘ تو اس وقت اسے کیا کرنا چاہیے جبکہ وہ آپ کے پاس موجود نہ ہو ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنی دلی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے گا ، اور وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے حصول کا ارادہ رکھے گا ‘ اور اپنے مال میں سے کوئی بھی چیز نہیں چھپائے گا ‘ اور نماز قائم کرے گا ‘ اور زکوۃ ادا کرے گا ، پھر حق کے معاملے میں اس کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے ‘ تو اگر وہ اپنا ہتھیار لے کر جنگ کرتا ہے ‘ اور مارا جاتا ہے ‘ تو وہ شہید شمار ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس سب کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔