Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 8 · Chapter 2

Book of Zakah

Hadith 4364–4403

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4364

Majma al-Zawaid #4364

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " «ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وُقِيَ شُحَّ نَفْسِهِ: مَنْ أَدَّى الزَّكَاةَ، وَقَرَى الضَّيْفَ، وَأَعْطَى فِي النَّائِبَةِ» ".

EnglishUnverified translation

Khalid ibn Zayd ibn Jariyah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said three qualities protect a man from the stinginess of his soul: paying zakat, entertaining the guest, and giving in hardship. > **"Three qualities, whoever has them is protected from the stinginess of his soul: whoever pays zakat, entertains the guest, and gives in calamity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن زید بن جاریہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تین جس شخص میں ہوں گی ‘ اُسے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا ، جو شخص زکوۃ ادا کرے اور مہمان نوازی کرے اور ( کسی کو ) مشکل کے وقت کچھ دے ‘‘۔

4365

Majma al-Zawaid #4365

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: "" «بَرِئَ مِنَ الشُّحِّ مَنْ أَدَّى الزَّكَاةَ، وَقَرَى الضَّيْفَ، وَأَعْطَى فِي النَّائِبَةِ» "". رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

A variant narration from the same companion states that whoever pays zakat, entertains the guest, and gives in calamity is cleared of stinginess. > **"Cleared of stinginess is whoever pays zakat, entertains the guest, and gives in calamity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ وہ شخص بخل سے بری ہو جاتا ہے ‘ جو زکوۃ ادا کرتا ہے ‘ مہمان نوازی کرتا ہے ‘ اور مشکل کے وقت کچھ دیتا ہے ‘‘۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4366

Majma al-Zawaid #4366

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا بَيْنَا هُوَ يَسْقِي زَرْعًا إِذْ رَأَى غَيَابَةً بَرَهًا فَسَمِعَ فِيهَا صَوْتًا: أَنِ اسْقِ أَرْضَ فُلَانٍ. فَاتَّبَعَ الصَّوْتَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي سُمِّيَتْ فَسَأَلَ صَاحِبَهَا: مَا عَمَلُكَ فِيهَا؟ قَالَ: إِنِّي أُعِيدُ فِيهَا ثُلُثًا، وَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثٍ، وَأَحْبِسُ لِأَهْلِي ثُلُثًا.

EnglishUnverified translation

Ibn Mas'ud رضي الله عنه reports as an athar that while a man watered his crop he saw a cloud and heard a voice commanding water for the land of so-and-so, followed the voice until he reached the named land, asked its owner his practice, and he said he returns a third, gives a third in charity, and keeps a third for his family.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص اپنے کھیت کو پانی دے رہا تھا ، اسی دوران اس نے ایک بادل دیکھا اس نے اس بادل میں ایک آواز سنی کہ تم فلاں شخص کی زمین کو سیراب کرو ‘ وہ شخص اس آواز کے پیچھے چل پڑا ‘ یہاں تک کہ وہ اس زمین تک پہنچ گیا ، جس زمین کا نام لیا گیا تھا ‘ اس نے اس زمین کے مالک سے دریافت کیا : تم اس زمین میں کیا طریقہ اختیار کرتے ہو ؟ اس نے بتایا : ایک تہائی حصہ میں اس میں دوبارہ لگا دیتا ہوں ‘ ایک تہائی حصہ صدقہ کر دیتا ہوں ‘ اور ایک تہائی حصہ اپنے اہل خانہ کے لئے روک لیتا ہوں ۔

4367

Majma al-Zawaid #4367

وَعَنْ مَسْرُوقٍ: أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَبْعَثُ إِلَى أَرْضِهِ أَنْ يَفْعَلَ فِيهَا ذَلِكَ. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Masruq reports as an athar that Ibn Mas'ud رضي الله عنه used to send word to his land that the same practice be done in it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی زمین کی طرف یہ پیغام بھیجتے تھے کہ اس میں بھی ایسا ہی کیا جائے ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4368

Majma al-Zawaid #4368

عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ عِنْدَهُ غُلَامٌ يَقْرَأُ الْمُصْحَفَ، وَعِنْدَهُ أَصْحَابُهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: حَصْرَمَةُ. فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَيُّ دَرَجَاتِ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ. قَالَ: ثُمَّ أَيْ؟ قَالَ: الزَّكَاةُ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Zirr ibn Hubaysh reports as an athar that Ibn Mas'ud رضي الله عنه had a slave reading the mushaf with companions present, a man called Hasramah asked which ranks of Islam are best, and he answered prayer, then zakat.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک غلام تھا ، جو مصحف پڑھا کرتا تھا ، اُن کے پاس ان کے ساتھی موجود تھے ‘ ایک شخص آیا جس کا نام حصرمہ تھا ، اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! اسلام کا کون سا درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نماز ‘ اس نے دریافت کیا : پھر کون سا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : زکوۃ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

4369

Majma al-Zawaid #4369

عَنْ طَلْحَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ.

EnglishUnverified translation

Talhah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said there is no sadaqah due upon green vegetables. > **"There is no sadaqah upon green vegetables."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نبھان ہے ‘ اور وہ متروک ہے ‘ ابن عدی نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

4370

Majma al-Zawaid #4370

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «فِي الْخَيْلِ السَّائِمَةِ فِي كُلِّ فَرَسٍ دِينَارٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ اللَّيْثُ بْنُ حَمَّادٍ، وَعورَكٌ (*) ; وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn 'Abdullah رضي الله عنهما reports from the Messenger of Allah ﷺ that for pasturing horses a dinar is due for every horse. > **"Concerning pasturing horses, for every horse a dinar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ چرنے والے گھوڑوں میں ‘ ہر ایک گھوڑے میں ایک دینار کی ادائیگی لازم ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن حماد اور ایک راوی عورک ہے ‘ اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

4371

Majma al-Zawaid #4371

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ الْمِائَتَيْنِ زَكَاةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ pardon concerning the sadaqah of horses and slaves, and that nothing below two hundred bears zakat. > **"I have pardoned for you the sadaqah of horses and slaves, and there is no zakat in less than two hundred."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نے تمہیں گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی ہے ‘ اور دو سو ( درہم ) سے کم میں زکوۃ لازم نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4372

Majma al-Zawaid #4372

وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ [مِنْ أَهْلِ الشَّامِ] إِلَى عُمَرَ فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالًا خَيْلًا وَرَقِيقًا، نُحِبُّ أَنْ تَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورٌ، قَالَ: مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ [قَبْلِي] فَأَفْعَلُهُ، وَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِمْ عَلِيٌّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: هُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً رَاتِبَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا مِنْ بَعْدِكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Harithah ibn Mudarrib reports as an athar that people of Syria came to 'Umar رضي الله عنه saying they had acquired horses and slaves and wished zakat and purification therein, 'Umar said his two predecessors had not done so, consulted the companions of Muhammad ﷺ including 'Ali رضي الله عنه, and 'Ali said it is good if it is not a fixed tribute taken after him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں : اہل شام سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انہوں نے کہا : ہمیں کچھ اموال ملے ہیں ، گھوڑے ہیں اور غلام ہیں ، ہم یہ چاہتے ہیں کہ اُن میں ہم پر زکوۃ لازم ہو ‘ جو پاکیزگی کا باعث ہو ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ سے پہلے میرے دونوں آقاؤں نے ایسا نہیں کیا کہ میں ایسا کرتا ‘ پھر انہوں نے حضرت محمد ﷺ کے اصحاب سے مشورہ لیا ‘ اُن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ اچھا کام ہو گا ‘ اگر یہ ایسا جزیہ نہ ہو ‘ جس کو باقاعدہ مقرر کر دیا جائے اور آپ کے بعد بھی اُسے وصول کیا جائے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے منجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4373

Majma al-Zawaid #4373

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْخُذْ مِنَ الْخَيْلِ، وَالرَّقِيقِ صَدَقَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِاخْتِلَاطِهِ.

EnglishUnverified translation

'Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه and Hudhayfah ibn al-Yaman رضي الله عنه report as an athar that the Prophet ﷺ did not take sadaqah from horses and slaves.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ وصول نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ‘ اور وہ اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔

4374

Majma al-Zawaid #4374

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «لَا صَدَقَةَ فِي الْكَسْعَةِ، وَالْجَبْهَةِ، وَالنُّخَّةِ» "". وَفَسَّرَهُ أَبُو عُمَرَ قَالَ: الْكُسْعَةُ: الْحَمِيرُ. وَالْجَبْهَةُ: الْخَيْلُ. وَالنُّخَّةُ: الْعَبِيدُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

'Abd al-Rahman ibn Samurah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said there is no sadaqah upon kas'ah, jabhah and nukhkhah, which Abu 'Umar explains as mules, horses and slaves. > **"There is no sadaqah upon kas'ah, jabhah and nukhkhah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کسعہ ‘‘ ’’ جبھہ ‘‘ اور ’’ نخہ ‘‘ میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی ‘‘۔ ابوعمر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے یہ کہا ہے :’’ کسعہ ‘‘ سے مراد خچر ہے ‘ جبھہ ‘‘ سے مراد گھوڑے ہیں ‘ اور ’’ نخہ ‘‘ سے مراد غلام ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

4375

Majma al-Zawaid #4375

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي الْحَمِيرِ زَكَاةٌ؟ قَالَ: "" لَا، إِلَّا الْآيَةَ الْفَاذَّةَ الشَّاذَّةَ: (فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ») "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abu Tha'labah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ was asked whether zakat is due on donkeys, and he answered no, except for the unique comprehensive verse of the atom's weight. > **"No, except the unique comprehensive verse: Whoever does an atom's weight of good will see it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا : کیا خچروں میں زکوۃ لازم ہوتی ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! البتہ ایک آیت جو جامع و مانع ہے ‘ وہ ہے : ’’ جو ذرے کے وزن جتنی بھلائی کرے گا ‘ وہ اُسے دیکھ لے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ‘ اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

4376

Majma al-Zawaid #4376

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ لَا نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الرَّقِيقِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ used to command them not to take sadaqah from slaves. > **"Do not take sadaqah from slaves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم غلاموں کی زکوۃ ادا نہ کریں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

4377

Majma al-Zawaid #4377

وَعَنْهُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِرَقِيقِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ، الَّذِينَ هُمْ تِلَادُهُ وَهُمْ غِلْمَتُهُ لَا يُرِيدُ بَيْعَهُمْ، فَكَانَ يَأْمُرُنَا أَلَّا نُخْرِجَ عَنْهُمْ مِنَ الصَّدَقَةِ شَيْئًا، وَكَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ عَنِ الَّذِي يُعَدُّ لِلْبَيْعِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ - وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: «كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ فَقَطْ -»، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded concerning a man's or woman's own slaves kept for service without intent to sell that nothing be taken from them, and commanded that sadaqah be taken from those kept for sale. > **"Do not take anything from them as sadaqah. Take sadaqah from that which is kept for sale."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ ہمیں آدمی ‘ یا عورت کے غلام کے بارے میں حکم دیتے تھے کہ جو ان کے ذاتی استعمال کے ہوں ‘ اُن کا مقصد انہیں فروخت کرنا نہ ہو ‘ اس کے بارے میں آپ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم ان کی زکوۃ کے طور پر کوئی چیز ادا نہں کریں گے ‘ آپ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم ان غلاموں کی زکوۃ ادا کریں گے ‘ جنہیں فروخت کرنے کے لئے رکھا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ’’ آپ ﷺ ہمیں یہ حکم دیتے تھے ہم صرف اُن غلاموں کی زکوۃ ادا کریں ، جنہیں ہم نے فروخت کرنے کے لئے تیار رکھا ہو ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

4378

Majma al-Zawaid #4378

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَا خَمْسِ أَوَاقٍ، وَلَا خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ fixed the minimums below which no sadaqah is due for camels, silver ounces and grain loads. > **"There is no sadaqah in less than five camels, nor five ounces, nor five wasqs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ پانچ سے کم اونٹوں میں ‘ پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی میں ) اور پانچ وسق سے کم ( اناج میں ) زکوۃ لازم نہیں ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ وہ ثقہ ہے ‘ لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

4379

Majma al-Zawaid #4379

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that no sadaqah is due below five ounces, five camel-heads, or five wasqs. > **"There is no sadaqah in less than five ounces, no sadaqah in less than five camels, and no sadaqah in less than five wasqs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی ، پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی ‘ اور پانچ وسق سے کم ( اناج ) میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی ہے “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4380

Majma al-Zawaid #4380

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «جَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ اثْنَتَا عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، فَذَلِكَ ثَمَانُونَ وَأَرْبَعُمِائَةٍ. وَجَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صَاعٌ وَالْوُضُوءِ رِطْلَيْنِ، وَالصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ. وَجَرَتِ السُّنَّةُ فِيمَا أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ مِنَ الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ. وَالْوَسْقُ: سِتُّونَ صَاعًا فَذَلِكَ ثَلَاثُمِائَةِ صَاعٍ. بِهَذَا الصَّاعِ الَّذِي جَرَتْ بِهِ السُّنَّةُ. وَجَرَتِ السُّنَّةُ مِنْهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[أَنَّهُ] لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ زَكَاةٌ. وَالْوَسْقُ: سِتُّونَ صَاعًا بِهَذَا الصَّاعِ، فَذَلِكَ ثَلَاثُمِائَةِ صَاعٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'A'ishah رضي الله عنها reports as an athar on the sunnah from the Messenger of Allah ﷺ: the dowry of women is twelve ounces of forty dirhams each, making four hundred eighty; ritual bath is a sa' and ablution two ratls, the sa' being eight ratls; land produce of wheat, barley, raisins and dates bears zakat at five wasqs, the wasq sixty sa's making three hundred sa's by that sa', with nothing below five wasqs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے خواتین کے مہر کے بارے میں یہ سنت جاری ہے کہ وہ بارہ اوقیہ ہو گا ، ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے ‘ تو یہ چار سو اسی درہم ہو جائیں گے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے غسل جنابت میں یہ سنت جاری ہوئی ہے کہ وہ ایک صاع پانی کے ذریعے کیا جائے گا ‘ اور وضو ‘ دو رطل پانی کے ذریعے کیا جائے گا ‘ ایک صاع میں آٹھ رطل ہوتے ہیں ۔ زمین سے جو بھی پیداوار ہوتی ہے ‘ جیسے گندم ‘ جو ‘ کشمش اور کھجور ‘ اُس کے بارے میں یہ سنت جاری ہوئی ہے کہ جب وہ پانچ وسق تک پہنچ جائے ( تو زکوۃ لازم ہو گی ) اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ‘ تو یہ تین سو صاع ہو جائیں گے ‘ یہ اس صاع کے مطابق ہو گا ، جس کے مطابق سنت جاری ہوئی ہے ۔ اور نبی اکرم ﷺ کی طرف سے یہ سنت جاری ہوئی ہے : پانچ وسق سے کم ( اناج ) میں زکوۃ واجب نہیں ہو گی ‘ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ‘ اس صاع کے حساب سے ہو گا ‘ تو اس اعتبار سے یہ تین سو صاع ہو جائیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4381

Majma al-Zawaid #4381

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مَنْ بُنِيَ مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Abu Rafi' رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ sent a man of Banu Makhzum over sadaqah and stated the minimums for grain, camels and silver. > **"There is no sadaqah in less than five wasqs, nor in less than five camels, nor in less than five ounces."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بنو اسلم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پانچ وسق سے کم ( اناج میں ) زکوۃ لازم نہیں ہو گی ‘ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ لازم نہیں ہو گی ‘ اور پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں زکوۃ لازم نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

4382

Majma al-Zawaid #4382

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ سَائِمَةٍ صَدَقَةٌ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ سَامٍ فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Mu'awiyah ibn Haydah al-Qushayri رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said sadaqah is due on every five pasturing camels. > **"In every five pasturing camels is sadaqah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہر پانچ چرنے والے اونٹوں میں زکوۃ لازم ہو گی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُن کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ‘ جسے امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے ‘ اور وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ صرف امام طبرانی نے استاد محمد بن جعفر بن سام کا معاملہ مختلف ہے ‘ کیونکہ میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔

4383

Majma al-Zawaid #4383

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «فَرَضَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَفِي أَمْوَالِ أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي كُلِّ عِشْرِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَفِي أَمْوَالِ مَنْ لَا ذِمَّةَ لَهُ فِي كُلِّ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ دِرْهَمٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، لَكِنَّهُ قَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ زُنَيْجٌ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ ثِقَاتٌ ; فَوَقَفُوهُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports as an athar that Muhammad ﷺ fixed one dirham in every forty for Muslims' wealth, one in every twenty for dhimmis' wealth, and one in every ten for those with no covenant.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت محمد ﷺ نے مسلمانوں کے اموال میں ہر چالیس درہم میں ‘ ایک درہم اور اہل ذمہ کے اموال میں سے ‘ ہر بیس میں سے ایک درہم ‘ اور جن کے لئے ذمہ نہ ہو ‘ ان ( غیر مسلموں ) کے اموال میں سے ‘ ہر دس درہموں میں سے ایک درہم کی ادائیگی مقرر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ تاہم انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : زینج کرنے کے لئے بھیجا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پانچ وسق سے کم ( اناج میں ) زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی ‘ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی ‘‘۔ اور پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

4384

Majma al-Zawaid #4384

عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ، وَالسُّنَنُ، وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ، فَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَهَذِهِ نُسْخَتُهَا: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ قَيْلِ ذِي رُعَيْنٍ، وَمَغَافِرَ، وَهَمْدَانَ. أَمَّا بَعْدُ: فَقَدْ رَجَعَ رَسُولُكُمْ، وَأُعْطِيتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ خُمْسَ اللَّهِ، وَمَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْعُشْرِ فِي الْعَقَارِ، وَمَا سَقَتِ السَّمَاءُ، أَوْ كَانَ سَبْخًا، أَوْ كَانَ بَعْلًا فِيهِ الْعُشْرُ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ سَائِمَةٍ شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ. فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ السِّتِّينَ فَإِنْ زَادَتْ عَلَى سِتِّينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةً طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، وَفِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَاقُورَةً بَقَرَةٌ جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَاقُورَةً بَقَرَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً سَائِمَةً شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً. فَإِنْ زَادَتْ عَلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا شَاتَانِ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ. وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ مُحْفِلَةٌ وَلَا هَرِمَةٌ وَلَا عَجْفَاءُ وَلَا ذَاتُ عُوَارٍ، وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعِ حَسَنَةُ الصَّدَقَةِ، وَمَا أُخِذَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَفِي كُلِّ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَمَا زَادَ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ. وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ شَيْءٌ. وَفَى كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارٌ. وَالصَّدَقَةُ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِهِ، إِنَّمَا هِيَ الزَّكَاةُ تُزَكَّى بِهَا أَنْفُسُهُمْ وَلِلْفُقَرَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَا فِي رَقِيقٍ، وَلَا فِي مَزْرَعَةٍ، وَلَا عُمَّالِهَا شَيْءٌ إِذَا كَانَتْ تُؤَدَّى صَدَقَتُهَا مِنَ الْعُشْرِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ فِي عَبْدٍ مُسْلِمٍ وَلَا فِي فَرَسِهِ شَيْءٌ "". وَكَانَ فِي الْكِتَابِ: "" أَنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: إِشْرَاكٌ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَالْفِرَارُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَرَمْيُ الْمُحْصَنَةِ، وَتَعَلُّمُ السِّحْرِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَإِنَّ الْعُمْرَةَ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ، وَلَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ، وَلَا طَلَاقَ قَبْلَ أَمْلَاكٍ، وَلَا عَتَاقَ حَتَّى تَبْتَاعَ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشِقُّهُ بَادٍ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ عَاقِصًا شَعْرَهُ» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَبَقِيَّتُهُ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَسِيُّ ; وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَتَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ مَعِينٍ، وَقَالَ أَحْمَدُ: إِنَّ الْحَدِيثَ صَحِيحٌ. قُلْتُ: وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn Hazm رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ wrote to the people of Yemen a letter containing obligations, practices and blood-money, sent with 'Amr ibn Hazm and read to them, addressed from Muhammad the Prophet ﷺ to Shurahbil, al-Harith and Nu'aym ibn 'Abd Kulal, chiefs of Ru'ayn, Mu'afir and Hamdan, granting the fifth of spoils, the tenth on land watered by sky, springs or rain-fed at five wasqs, detailed camel rates from a sheep to two hiqqahs and then per forty and fifty, cattle rates per thirty and forty, sheep rates per forty and hundred, rules of no defective or male animals and no combining or splitting, silver at five dirhams per five ounces and a dirham per forty, gold a dinar per forty, zakat unlawful for Muhammad and his household and for purification of believers, the poor and the path of Allah, none on slaves, farms or collectors when the tenth is paid, and none on a Muslim's slave or horse, with the gravest sins, umrah as lesser hajj, purity for touching the Qur'an, and rulings on divorce, emancipation and prayer dress and hair. > **"In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate, from Muhammad the Prophet ﷺ to Shurahbil ibn 'Abd Kulal, al-Harith ibn 'Abd Kulal, Nu'aym ibn 'Abd Kulal, chiefs of Ru'ayn, Mu'afir and Hamdan. Your messenger has returned, you are given Allah's fifth of the spoils, and what Allah prescribed upon the believers of the tenth on landed property, what the sky waters, or is spring-fed, or is rain-fed, therein is the tenth when it reaches five wasqs. In every five pasturing camels a sheep until twenty-four, then a bint makhad, or if absent a male ibn labun, until thirty-five, then a bint labun until forty-five, then a hiqqah fit for breeding until sixty, then a jadha'ah until seventy-five, then two bint labun until ninety, then two hiqqahs fit for breeding until one hundred twenty, then for every forty a bint labun and for every fifty a hiqqah. In every thirty cattle a jadh' or jadha'ah, in every forty cattle a cow. In every forty pasturing sheep a sheep until one hundred twenty, then two sheep until two hundred, then three sheep until three hundred, then for every hundred sheep a sheep. No milk-withheld, aged, emaciated, defective animal nor male goat shall be taken in sadaqah. The scattered shall not be joined nor the joined split to affect sadaqah. Two partners shall settle equally. In every five ounces of silver five dirhams, and in excess a dirham for every forty, with nothing below five ounces. In every forty dinars a dinar. Sadaqah is not lawful for Muhammad nor his household; it is zakat purifying their souls, for the believing poor and in the path of Allah. There is nothing on slaves, farms, or their workers when its sadaqah is paid from the tenth, and there is nothing on a Muslim slave nor his horse. The gravest enormities with Allah on the Day of Resurrection are associating with Allah, killing a believing soul without right, fleeing in Allah's path on the day of battle, disobedience to parents, slandering a chaste woman, learning sorcery, consuming usury, and consuming the orphan's wealth. Umrah is the lesser hajj. None touches the Qur'an except pure. No divorce before possession, no emancipation until purchase. None of you prays in a single garment with his side exposed, nor prays with his hair tied up."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اہل یمن کی طرف ایک مکتوب لکھا تھا ، جس میں فرائض ، سنن اور دیت سے متعلق احکام تھے ‘ آپ نے حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ہمراہ وہ خط بھیجا تھا ‘ وہ خط اہل یمن کے سامنے پڑھا گیا ‘ اُس کے الفاظ یہ ہیں : ’’ اللہ تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ‘ یہ حضرت محمد نبی ﷺ کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال ‘ حارث بن عبد کلال ، نعیم بن عبد کلال اور ذی معافر اور ہمدان قبیلے کے اکابرین کی طرف ہے : امابعد ! تمہارا قاصد واپس آیا ‘ اور تمہیں جو مال غنیمت عطا کیا گیا ‘ اس میں سے پانچواں حصہ ‘ اللہ تعالی کے لئے ہے ‘ اور وہ چیز ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر عشر لازم کیا ہے ‘ جو زمین کی پیدوار کے حوالے سے ہے ‘ وہ زمین جو بارش کے ذریعے سیراب ہو ‘ یا جو چشمے والی ہو ‘ یا جو بارانی ہو ‘ ( یعنی ہر وہ زمین جو قدرتی طریقے سے سیراب ہوتی ہو ) اس میں عشر لازم ہو گا ، جبکہ اس کی پیداوار پانچ وسق تک پہنچ جائے ‘ اور ہر پانچ سائمہ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ چوبیس تک پہنچ جائیں ، اگر چوبیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے ‘ تو بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اگر بنت مخاض نہیں ملتی ہے ‘ تو ابن لبون مذکر کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ یہ حکم پینتیس تک ہے ‘ اگر وہ پینتیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے ‘ تو اس میں بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ یہ حکم پینتالیس تک ہے ‘ اگر وہ پینتالیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو اس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، جس کو جفتی کے لئے دیا جا سکے ‘ یہ حکم ساٹھ تک ہے ‘ اگر وہ ساٹھ سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو ان میں جزعہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ پچھتر تک پہنچ جائیں ‘ اگر وہ پچھتر سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو اُن میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ نوے تک پہنچ جائیں ‘ اگر وہ ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو ان میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ جو جفتی کے لئے دیے جا سکیں ‘ یہ حکم ایک سو بیس تک کے لئے ہو گا ۔ اگر ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں ‘ تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ‘ اور ہر پچاس میں ایک حقہ کی ‘ جسے جفتی کے لئے دیا جا سکے ‘ ادائیگی لازم ہو گی ‘ اور ہر تیس گائیوں میں ایک گائے کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ جو جزع یا جزعہ ہو ‘ اور ہر چالیس گائیوں میں ایک گائے کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اور ہر چالیس بکریوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ یہاں تک کہ وہ ایک سو بیس تک پہنچ جائیں ‘ اگر وہ ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں ، تو ان میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ دو سو تک پہنچ جائیں اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو ان میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ یہاں تک کہ وہ تین سو تک پہنچ جائیں ‘ اگر وہ زیادہ ہو جائیں تو ہر ایک سو بکریوں میں ‘ ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ زکوۃ میں کوئی ایسا جانور وصول نہیں کیا جائے گا ‘ جو محفلہ ( وہ مادہ جانور ‘ جس کا دودھ کچھ دن تک نہ دوہا گیا ہو ‘ تاکہ یہ ظاہر ہو کہ وہ زیادہ دودھ دینے والا جانور ہے ) ہو ‘ بوڑھا ہو ‘ لنگڑا ہو ‘ کانا ہو ‘ یا نر بکرا ہو ‘ اور ( زکوۃ کی وصولی کے لئے ) متفرق مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا ‘ اور اکٹھے مال کو متفرق نہیں کیا جائے گا ‘ اچھے طریقے سے زکوۃ وصول کی جائے گی جو چیز دو حصے داروں سے لی جائے گی ‘ تو وہ اُن دونوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم ہو گی ۔ چاندی کے پانچ اوقیہ میں ‘ پانچ درہم کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ جو اُس سے زیادہ ہو ‘ تو ہر چالیس درہموں میں ایک درہم کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اور جو چاندی پانچ اوقیہ سے کم ہو ‘ اس میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ‘ ہر چالیس دینار میں ایک دینار کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اور صدقہ ( یعنی زکوۃ ) محمد ( ﷺ ) اور اس کے اہل بیت کے لئے حلال نہیں ہے ‘ یہ زکوۃ ہے ، جس کے ذریعے اُن لوگوں کے وجود پاک کیے جاتے ہیں اور یہ غریب مومنین کے لئے ہو گی ‘ اللہ کی راہ میں خرچ ہو گی ، غلاموں کو ( آزاد کرنے ) کے لئے خرچ نہیں ہو گی ‘ یہ کھیتی باڑی میں خرچ نہیں ہو گی ‘ اور نہ ہی اس کی وصولی کے اہلکاروں کو کچھ دیا جائے گا ‘ جبکہ ’’ عشر ‘‘ میں سے اس کی زکوۃ ادا کر دی گئی ہو ‘ اور مسلمان کے غلام ‘ یا اس کے گھوڑے میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ‘‘۔ اس مکتوب میں یہ بات بھی تحریر تھی : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے بڑا کبیرہ گناہ ‘ کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ‘ کسی مؤمن جان کو ناحق طور پر قتل کرنا ‘ اللہ کی راہ میں میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ‘ والدین کی نافرمانی کرنا ‘ پاک دامن عورت پر الزام لگانا ‘ جادو سیکھنا ، سود کھانا ، یتیم کا مال کھانا ہے ‘ اور عمرہ ‘ حج اصغر ہے ‘ اور قرآن کو باوضو شخص ہاتھ لگائے گا ‘ اور ملکیت حاصل ہونے سے پہلے طلاق نہیں دی جا سکتی ‘ اور غلام آزاد نہیں کیا جا سکتا ‘ جب تک تم اُسے خرید نہیں لیتے ‘ اور کوئی بھی شخص ایسی حالت میں ایک کپڑے میں نماز ادا نہ کرے کہ اُس کا ایک پہلو ظاہر ہو رہا ہے ‘ اور کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز ادا نہ کرے ‘ کہ اُس نے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا ہو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ اور اس روایت کا کچھ حصہ امام نسائی نے بھی نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد حرسی ہے ‘ جسے امام احمد نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ یحیی بن معین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ‘ امام احمد کہتے ہیں : یہ حدیث مستند ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4385

Majma al-Zawaid #4385

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ أَبُو ذَرٍّ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ سَارِيَةٍ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: كَيْفَ أَنْتَ؟ ثُمَّ وَلَّى وَاسْتَفْتَحَ: {أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ} [التكاثر: 1]، وَكَانَ رَجُلًا صَلْبَ الصَّوْتِ. فَرَفَعَ صَوْتَهُ فَارْتَجَّ الْمَسْجِدُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ - أَوْ قَالَ لَهُ النَّاسُ - حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا "". قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: وَأَظُنُّهُ قَالَ: "" فِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبُرِّ صَدَقَتُهُ، وَفِي الذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ، وَالتِّبْرِ صَدَقَتُهُ، وَمَنْ جَمَعَ مَالًا فَلَمْ يُنْفِقْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَفِي الْغَارِمِينَ، وَابْنِ السَّبِيلِ، فَهُوَ كَيَّةٌ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". [قُلْتُ]: يَا أَبَا ذَرٍ، اتَّقِ اللَّهَ، وَانْظُرْ مَا تَقُولُ، فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ كَثُرَتِ الْأَمْوَالُ فِي أَيْدِيهِمْ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي انْتَسِبْ لِي. فَانْتَسَبْتُ لَهُ، قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ نَسَبَكَ الْأَكْبَرَ، قَالَ: أَفَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: اقْرَأْ {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [التوبة: 34] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. قَالَ: فَافْقَهْ إِذًا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِطُولِهِ، وَرَوَى أَحْمَدُ طَرَفًا مِنْهُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Malik ibn Aws reports as an athar that he was in the mosque when Abu Dharr رضي الله عنه entered, prayed two rak'ahs by a pillar, was greeted by 'Uthman رضي الله عنه, recited al-Takathur loudly, then told the people he heard the Messenger of Allah ﷺ affirm sadaqah on camels, sheep, cattle, wheat, gold, silver and ingots, and that hoarded wealth unspent on Allah's path, debtors and wayfarers becomes a brand on the Day of Resurrection, and when cautioned about people's wealth, cited the verse of those who hoard gold and silver. > **"In camels is their sadaqah, in sheep is their sadaqah, in cattle is their sadaqah, in wheat is its sadaqah, in gold, silver and ingots is their sadaqah. Whoever amasses wealth and does not spend it in the path of Allah, for debtors and the wayfarer, it will be a brand upon him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں موجود تھا ، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے ‘ انہوں نے ایک ستون کے پاس دو رکعات ادا کیں ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان سے دریافت کیا : آپ کیا حال ہے ؟ پھر وہ مڑ گئے اور انہوں نے سورت «الهاکم التکاثر» پڑھنی شروع کی ‘ وہ ایک ایسے شخص تھے جن کی آواز بھاری تھی ، وہ بلند آواز میں پڑھنے لگے ‘ تو مسجد میں گونج پیدا ہوئی ، پھر وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ‘ تو میں نے کہا : اے حضرت ابوذر غفاری ! ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) لوگوں نے اُن سے کہا : آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ، جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو ‘ تو انہوں نے یہ بات بتائی : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اونٹوں میں اُن کی زکوۃ لازم ہو گی ‘ اور بکریوں میں ان کی زکوۃ لازم ہو گی ۔ ابوعاصم نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا : گائیوں میں ان کی زکوۃ لازم ہو گی ، گندم میں اس کی زکوۃ لازم ہو گی ‘ سونے اور چاندی اور خالص سونے میں اس کی زکوۃ لازم ہو گی ، جو شخص مال جمع کرے گا ‘ اور اسے اللہ کی راہ میں ‘ مقروضوں ‘ اور مسافروں ( کی مدد میں ) خرچ نہیں کرے گا ‘ تو یہ چیز قیامت کے دن اُس کے لئے داغ لگنے کا باعث ہو گی “۔ میں نے کہا : اے حضرت ابوذر غفاری ! آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور آپ یہ جائزہ لیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ کیونکہ لوگوں کے پاس تو اموال بہت زیادہ ہو گئے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم میرے سامنے اپنا نسب بیان کرو ‘ میں نے ان کے سامنے اپنا نسب بیان کیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے تمہارے نسب کو پہچان لیا ہے ‘ کیا تم نے قرآن پڑھا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : پھر تم یہ آیت پڑھو : ’’ وہ لوگ جو سونے اور چاندی کا خزانہ اکھٹے کرتے ہیں ‘ اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔ انہوں نے اسے آیت کے آخر تک پڑھا ، پھر انہوں نے فرمایا : تم سمجھ جاؤ ۔ یہ روایت امام بزار نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ امام احمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4386

Majma al-Zawaid #4386

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَّ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرَ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّوَاضِحِ نِصْفَ الْعُشْرِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ fixed a tenth for what sky and springs water, and half a tenth for what is watered by drawing camels. > **"In what the sky and springs water is the tenth, and in what is watered by drawing camels is half the tenth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ سنت مقرر کی ہے کہ جس زمین کو آسمان ( یعنی بارش ) ‘ یا چشموں کے ذریعے سیراب کیا جائے ‘ اُس میں عشر کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اور جسے اونٹنی پر پانی لا کر سیراب کیا جائے ‘ اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4387

Majma al-Zawaid #4387

«وَعَنْ قَزَعَةَ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ، وَهُوَ مَكْنُوزٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ عَنْهُ هَؤُلَاءِ. قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنِ الزَّكَاةِ. فَقَالَ: - لَا أَدْرِي أَرَفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ لَا -: "" فِي مِائَةِ دِرْهَمٍ خَمْسَةُ الدَّرَاهِمِ، وَفَى أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَفِي الْإِبِلِ فِي خَمْسٍ شَاةٌ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا [ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حُقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا] جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ. فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qaza'ah reports as an athar that he came to Abu Sa'id رضي الله عنه while crowded, waited until people dispersed saying he would not ask what they asked, asked about zakat, and he answered — the narrator not knowing whether he raised it to the Prophet ﷺ — with rates of five dirhams per hundred, sheep from forty to hundreds, and camels from five to one hundred twenty with per fifty and forty thereafter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قزعہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اُن کے پاس بہت سے لوگ موجود تھے ‘ جب لوگ ان کے پاس سے چلے گئے ‘ تو میں نے ان سے کہا : میں آپ سے اُس چیز کے بارے میں دریافت نہیں کروں گا ‘ جس کے بارے میں یہ ( لوگ ) آپ سے دریافت کر رہے تھے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اُن سے زکوٰۃ کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے جواب دیا : راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ کیا انہوں نے یہ بات نبی اکرم ﷺ کی طرف نسبت کر کے بیان کی تھی ؟ یا نہیں ؟ ( انہوں نے بتایا : ) ’’ ایک سو درہموں میں پانچ درہم کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ چالیس بکریوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ یہ حکم ایک سو بیس تک کے لئے ہے ‘ اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ‘ تو ان میں دو سو تک دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اگر زیادہ ہو جائیں ‘ تو تین سو تک میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اگر زیادہ ہو جائیں ‘ تو ہر ایک سو میں ‘ ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اونٹوں میں پانچ میں ‘ ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ دس میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ پندرہ میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، بیس میں چار بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، پچیس میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ یہ حکم پینتیس تک کے لئے ہے ‘ اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو پینتالیس تک میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ‘ تو ساٹھ تک میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ‘ تو پچھتر تک میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اگر ایک بھی زیادہ ہوئے ، تو نوے تک میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو ایک سو بیس تک میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ہر پچاس میں ایک حقہ کی ‘ اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4388

Majma al-Zawaid #4388

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ فِي سُنَّةِ الصَّدَقَاتِ: "" فِي أَرْبَعِينَ شَاةً إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ. فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ. وَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ. فَإِنْ كَثُرَتِ الْغَنَمُ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ "". وَكَتَبَ فِي صَدَقَةِ الْبَقَرِ: "" فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً جَذَعَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةٌ "". وَكَتَبَ فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ: "" فِي خَمْسٍ شَاةٌ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسَةٍ وَسَبْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَحِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ كَثُرَتِ الْإِبِلُ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ» "". رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ wrote to his agents on the practice of sadaqat: sheep from forty to one hundred twenty, then two to two hundred, then three to three hundred, then one per hundred; cattle a jadha'ah per thirty and a musinnah per forty; camels a sheep per five to twenty, a bint makhad from twenty-five to thirty-five, a bint labun to forty-five, a hiqqah fit for the stallion to sixty, a jadha'ah to seventy-five, two bint labun to ninety, two hiqqahs to one hundred twenty, then a hiqqah per fifty and a bint labun per forty. > **"In forty sheep up to one hundred twenty. If one more, two sheep up to two hundred. If one more, three sheep up to three hundred. If sheep increase, in every hundred sheep a sheep. In cattle sadaqah: in every thirty cattle a jadha'ah, in every forty cattle a musinnah. In camel sadaqah: in five a sheep, in ten two sheep, in fifteen three sheep, in twenty four sheep, in twenty-five a bint makhad up to thirty-five. If one more, a bint labun up to forty-five. If one more, a hiqqah fit for the stallion up to sixty. If one more, a jadha'ah up to seventy-five. If one more, two bint labun up to ninety. If one more, two hiqqahs up to one hundred twenty. If camels increase, in every fifty a hiqqah and in every forty a bint labun."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے صدقات کے احکام میں اپنے عاملین کی طرف یہ تحریر کیا تھا : ’’ چالیس بکریوں سے لے کے ایک سو بیس تک میں ( ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ) اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ‘ تو دو سو تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ‘ تو تین سو تک میں تین ( یعنی بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ) اگر بکریاں زیادہ ہو جائیں ‘ تو ہر ایک سو بکریوں میں ‘ ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے گائیوں کی زکوۃ میں یہ تحریر کیا تھا : ہر تیس گائیوں میں ‘ ایک جذعہ اور ہر چالیس گائیوں میں ایک ممنہ کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ نبی اکرم ﷺ نے اونٹوں کی زکوۃ میں یہ تحریر کیا تھا : پانچ اونٹوں میں ایک بکری کی ‘ دس اونٹوں میں دو بکریوں کی ‘ پندرہ اونٹوں میں تین بکریوں کی ‘ بیس اونٹوں میں چار بکریوں کی ‘ اور پچیس اونٹوں میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ یہ حکم پینتیس تک کے لئے ہے ‘ اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ‘ تو پنتالیس تک ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ، تو ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ جسے جفتی کے لئے دیا جا سکے ‘ یہ حکم ساتھ تک کے لئے ہے ‘ اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ‘ تو پچھتر تک میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی ، اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے ‘ تو نوے تک میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ایک سو بیس تک میں دو حقوں کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اگر اونٹ زیادہ ہو جائیں ‘ تو ہر پچاس میں ایک حقہ کی اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، محمد بن اسماعیل بن عبداللہ کے حوالے سے ‘ اُن کے والد سے نقل کی ہیں اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4389

Majma al-Zawaid #4389

«وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْقَاصِ الْبَقَرِ شَيْئًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: لَكِنَّهُ مُرْسَلٌ ; لِأَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ طَاوُسٍ عَنْ مُعَاذٍ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ.

EnglishUnverified translation

Mu'adh ibn Jabal رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ gave him no order concerning the awqas of cattle. > **"The Messenger of Allah ﷺ did not command me anything concerning the awqas of cattle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے گائیوں میں ’’ اوقاص ‘‘ کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا تھا ( اس کی وضاحت اگلی روایت میں آئے گی ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : تاہم یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ‘ کیونکہ اسے طاؤس نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ‘ اور طاؤس نے ان سے سماع نہیں کیا ہے ۔

4390

Majma al-Zawaid #4390

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، جَذَعًا أَوْ جَذَعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً. قَالُوا: فَالْأَوْقَاصُ؟ قَالَ: مَا أَمَرَنِي فِيهَا بِشَيْءٍ، وَسَأَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمْتُ. فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ فَقَالَ: "" لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ» "". قَالَ: قَالَ الْمَسْعُودِيُّ: [وَ] الْأَوْقَاصُ: مَا بَيْنَ الثَّلَاثِينَ إِلَى الْأَرْبَعِينَ، وَالْأَرْبَعِينَ إِلَى السِّتِّينَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَقَالَ: لَمْ يُتَابِعْ بَقِيَّةَ أَحَدٌ عَلَى رَفْعِهِ إِلَّا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، وَالْحَسَنُ ضَعِيفٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ طَاوُسٍ مُرْسَلًا.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas رضي الله عنهما reports that when the Messenger of Allah ﷺ sent Mu'adh رضي الله عنه to Yemen he ordered a tabi' or tabi'ah, jadh' or jadha'ah, for every thirty cattle and a musinnah for every forty, they asked about the awqas, he said he had no order and would ask on return, and the Prophet ﷺ said nothing is due in them. Al-Mas'udi explains the awqas as between thirty and forty, and forty and sixty. > **"There is nothing in them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا ، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ہر تیس گائیوں میں ایک تبیع یا تبیعہ ‘ یا ایک جذع یا جذعہ وصول کریں ‘ اور ہم چالیس گائیوں میں ایک مسنہ وصول کریں ‘ لوگوں نے عرض کی :’’ اوقاص ‘‘ کیا حکم ہو گا ؟ تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بتایا : مجھے اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے کوئی حکم نہیں دیا ‘ جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جاؤں گا ‘ تو آپ سے دریافت کر لوں گا ‘ جب وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اس بارے میں دریافت کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اُن میں کسی چیز کی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مسعودی فرماتے ہیں : ” اوقاص ‘‘ سے مراد تیس سے لے کے چالیس تک ‘ یا چالیس سے لے کر ساتھ تک کی تعداد ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : اس روایت کے ’’ مرفوع ‘‘ ہونے میں ‘ کسی نے بھی بقیہ کی متابعت نہیں کی ہے ‘ صرف حسن بن عمارہ نے متابعت کی ہے ‘ اور حسن نامی راوی ضعیف ہے ‘ یہ روایت طاؤس کے حوالے سے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر بھی نقل کی گئی ہے ۔

4391

Majma al-Zawaid #4391

وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ قَرَأَ كِتَابَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنَّهُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَيْءٌ. فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى تِسْعٍ. فَإِذَا كَانَتْ عَشْرًا فَشَاتَانِ إِلَى أَرْبَعَ عَشْرَةَ. فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلَاثٌ إِلَى تِسْعَ عَشْرَةَ. فَإِذَا بَلَغَتِ الْعِشْرِينَ فَأَرْبَعٌ إِلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ. فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ. فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ. فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى السِّتِّينَ. فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى التِّسْعِينَ. فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ. فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ.، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ. وَلَيْسَ فِي الْغَنَمِ شَيْءٌ فِيمَا دُونَ الْأَرْبَعِينَ. فَإِذَا بَلَغَتِ الْأَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ. فَإِذَا زَادَتْ فَشَاتَانِ إِلَى الْمِائَتَيْنِ. فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى الثَّلَاثِ مِائَةٍ. فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الثَّلَاثِ مِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وِجَادَةً كَمَا تَرَاهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Nafi' reports as an athar that he read the letter of 'Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه: nothing below five camels, one sheep at five to nine, two at ten to fourteen, three at fifteen to nineteen, four at twenty to twenty-four, a bint makhad at twenty-five to thirty-five, a bint labun beyond to forty-five, a hiqqah to sixty, two bint labun to ninety, two hiqqahs to one hundred twenty, then a hiqqah per fifty and a bint labun per forty; nothing on sheep below forty, one at forty to one hundred twenty, two beyond to two hundred, three beyond to three hundred, then one per hundred.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مکتوب پڑھا ( جس میں یہ تحریر تھا : ) ’’ پانچ سے کم اونٹوں میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ‘ جب وہ پانچ ہو جائیں ، تو نو تک میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ جب وہ دس ہو جائیں ، تو چودہ تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ جب وہ پندرہ ہو جائیں تو ان میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ یہ حکم اُنیس تک کے لئے ہے ‘ جب وہ بیس تک پہنچ جائیں ، تو چوبیس تک میں چار بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ جب وہ پچیس تک پہنچ جائیں ‘ تو پینتیس تک میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ جب وہ زیادہ ہو جائیں تو پینتالیس تک میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اور جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو ساٹھ تک میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ جب وہ زیادہ ہو جائیں ‘ تو نوے تک میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو ایک سو بیس تک میں دو حقوں کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو ہر پچاس میں ایک حقہ کی اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ چالیس سے کم بکریوں میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی ‘ جب وہ چالیس ہو جائیں ، تو ایک سو بیس تک میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ جب وہ زیادہ ہو جائیں ، تو دو سو تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ جب وہ دو سو سے زیادہ ہو جائیں ‘ تو تین سو تک میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اگر وہ تین سو سے بھی زیادہ ہوں ، تو ہر ایک سو میں ‘ ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ’’ وجادہ ‘‘ کے طور پر نقل کی ہے ۔ جیسا کہ آپ اسے ملاحظہ کر رہے ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4392

Majma al-Zawaid #4392

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: «قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ، وَكَانَ شَابًّا: وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَنِي أَفْضَلَهُمْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ، وَقَدْ فَضَلْتُهُمْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" قَدْ أَمَّرْتُكَ عَلَى أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ أَصْغَرُهُمْ. فَإِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأُمَّهُمْ بِأَضْعَفِهِمْ، فَإِنَّ وَرَاءَكَ الْكَبِيرَ، وَالصَّغِيرَ، [وَالضَّعِيفَ]، وَذَا الْحَاجَةِ، وَإِذَا كُنْتَ مُصَدِّقًا فَلَا تَأْخُذِ الشَّافِعَ وَهِيَ الْمَاخِضُ، وَلَا الرُّبَّى، وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَجَزَرَةُ الرَّجُلِ هُوَ أَحَقُّ بِهَا مِنْكَ، وَلَا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا وَأَنْتَ طَاهِرٌ. وَاعْلَمْ أَنَّ الْعُمْرَةَ هِيَ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ، وَإِنَّ عُمْرَةً [هِيَ] خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَحَجَّةً خَيْرٌ مِنْ عُمْرَةٍ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ قِصَّةُ الْإِمَامَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ، وَوَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughirah ibn Shu'bah رضي الله عنه reports from 'Uthman ibn Abi al-'As رضي الله عنه, then young, that they came as a delegation to the Messenger of Allah ﷺ, he found him foremost in Qur'an including al-Baqarah, appointed him over his companions though youngest, ordered lightness for the weak, old, young, needy when leading, ordered collectors not to take the pregnant, dairy-kept, ram, or a man's food-stock to which he has more right, to touch the Qur'an only pure, and taught that umrah is the lesser hajj, an umrah better than the world, and a hajj better than an umrah. > **"I have appointed you over your companions though you are the youngest. When you lead people, lead them by the weakest among them, for behind you are the old, the young, the weak, and the needy. When you collect sadaqah, do not take the pregnant, nor the dairy-kept, nor the ram of the sheep. A man's slaughter-stock is his by greater right than yours. Do not touch the Qur'an except pure. Know that umrah is the lesser hajj, an umrah is better than the world and what is in it, and a hajj is better than an umrah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ‘ جب وہ نوجوان تھے ‘ تو اس وقت ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت کی وفد کی شکل میں حاضر ہوئے ‘ نبی اکرم سی ایم نے مجھے پایا کہ مجھے اُن سب میں زیادہ قرآن آتا ہے ، یہاں تک کہ اُن سب میں سے صرف مجھے سورۃ بقرہ آتی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تمہیں تمہارے ساتھیوں کا امیر مقرر کرتا ہوں حالانکہ تم ان سے عمر میں سب سے کم ہو ‘ جب تم لوگوں کی امامت کرو ‘ تو تم ان کے سب سے کمزور فرد کے حساب سے اُن کی امامت کرنا ‘ کیونکہ تمہارے پیچھے بڑی عمر کے ‘ چھوٹے ‘ کمزور ‘ کام کاج والے لوگ ہوں گے ‘ اور جب تم زکوۃ وصول کرو ‘ تو حاملہ ‘ یا جس جانور کو اپنے استعمال کا دودھ حاصل کرنے کے لیے پالا گیا ہو ‘ یا بکرے ‘ ان کو وصول نہ کرنا ‘ اور آدمی نے جس کو اپنے کھانے کے لیے پالا ہو ‘ اس کا وہ تم سے زیادہ حق دار ہو گا ‘ تم قرآن کو صرف باوضو حالت میں چھونا ‘ اور یہ بات جان لینا ‘ عمرہ ‘ حج اصغر ہے ‘ اور عمرہ ‘ دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہے ‘ اور حج کرنا ‘ عمرہ سے بھی بہتر ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس میں سے امامت والا واقعہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن سلیمان ہے ‘ جسے ائمہ کی ایک جماعت نے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور امام بخاری نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

4393

Majma al-Zawaid #4393

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "" «نِعْمَ الْإِبِلُ الثَّلَاثُونَ يُخْرَجُ فِي زَكَاتِهَا وَاحِدَةٌ، وَيَرْحَلُ مِنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاحِدَةٌ، وَيُمْنَحُ مِنْهَا وَاحِدَةٌ، هِيَ خَيْرٌ مِنَ الْأَرْبَعِينَ، وَالْخَمْسِينَ، وَالسِّتِّينَ، وَالثَّمَانِينَ، وَالتِّسْعِينَ، وَالْمِائَةِ، وَوَيْلٌ لِصَاحِبِ الْمِائَةِ مِنَ الْمِائَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwa' رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that thirty camels are excellent, with one for zakat, one mounted in Allah's path and one gifted, better than forty through a hundred, and woe to the owner of a hundred from the hundred. > **"Excellent camels are thirty: one is given in their zakat, one is mounted in the path of Allah, and one is gifted. They are better than forty, fifty, sixty, eighty, ninety, and a hundred. And woe to the owner of a hundred because of the hundred."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تیس اونٹ اچھے ہوتے ہیں ، اُن کی زکوۃ میں ایک نکل جاتا ہے ‘ اور ان میں سے ایک پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں سامان لادا جاتا ہے ‘ ان میں سے ایک کو عطیہ کے طور پر دیا جاتا ہے ‘ یہ چالیس اور پچاس اور ساٹھ اور اسی اور نوے اور سو سے بہتر ہیں اور ایک سو اونٹوں کے مالک کے لئے اونٹوں کے حوالے سے بربادی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4394

Majma al-Zawaid #4394

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ الْأَشْدَقِ قَالَ: أَدْرَكْتُ عِدَّةً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رُقَادُ بْنُ رَبِيعَةَ قَالَ: «أَخَذَ مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ مِنَ الْمِائَةِ شَاةً، فَإِنْ زَادَتْ فَشَاتَانِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ كَثِيرٍ الْبَجَلِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَيَعْلَي مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ya'la ibn al-Ashdaq reports as an athar that he met several companions of the Prophet ﷺ, among them Ruqad ibn Rabi'ah رضي الله عنه, who said the Messenger of Allah ﷺ took from them one sheep per hundred, and two if more.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعلی بن اشدق بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے متعدد صحابہ کا زمانہ پایا ہے ، جن میں سے ایک حضرت رقاد بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہم سے بکریوں میں ‘ ایک سو بکریوں سے ایک بکری اور اگر زیادہ ہوں ، تو دو بکریاں وصول کی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن کثیر بجلی ہے ‘ میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، یعلی نامی راوی متروک ہے ۔

4395

Majma al-Zawaid #4395

وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَ مُصَدِّقًا فَقَالَ: تَعْتَدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلِ؟ فَقَالُوا: يَعْتَدُّ عَلَيْنَا بِالسَّخْلِ، وَلَا يَأْخُذُ مِنْهُ. فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: نَعَمْ يُعْتَدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلَةِ يَحْمِلُهَا الرَّاعِي وَلَا يَأْخُذُهَا، وَلَا يَأْخُذُ الْأَكُولَةَ، وَلَا الرُّبَّى، وَلَا الْمَاخِضَ، وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَيَأْخُذُ الْجَذَعَةَ، وَالثَّنِيَّةَ، فَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غَذِيِّ الْمَالِ وَخِيَارِهِ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sufyan ibn 'Abdullah reports as an athar that 'Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه sent a collector, he asked whether to count the newborn lambs, the people said he counted but did not take them, and when he returned 'Umar confirmed to count the lamb the shepherd carries but not take it, nor take food-stock, dairy-kept, pregnant, or ram, but take the jadha'ah and thaniyyah, a just middle between low and choice property.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سفیان بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زکوۃ وصول کرنے والا شخص بھیجا ‘ تو انہوں نے فرمایا : تم نے جانوروں میں بالکل چھوٹے بچے کو بھی شمار کرنا ہے ‘ لوگوں نے کہا : اس نے ہمارے حوالے سے بالکل چھوٹے بچے کو بھی شمار کیا ہے ‘ لیکن زکوۃ میں اُسے وصول نہیں کیا ‘ جب وہ شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات ذکر کی ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : جی ہاں ! ان لوگوں کے خلاف چھوٹے بچے کو شمار کیا جائے گا ‘ جسے چرواہا اٹھا کے چلتا ہے ‘ لیکن زکوۃ وصول کرنے والا اسے زکوۃ میں وصول نہیں کرے گا ‘ اور نہ ہی وہ ایسے جانور کو وصول کرے گا جس کو اپنے کھانے کے لیے یا اپنے لیے دودھ حاصل کرنے کے لیے پالا گیا ہو ‘ نہ حاملہ کو اور نہ ہی بکرے کو وصول کرے گا ‘ وہ جذعہ اور ثنبہ کو وصول کرے گا ‘ اور ( عمدہ یا بالکل ہی ردی مال کی بجائے ) درمیانے درجہ کا مال وصول کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4396

Majma al-Zawaid #4396

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَيْسَ فِي الْبَقَرِ الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ، وَلَكِنْ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنٌّ، أَوْ مُسِنَّةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said there is no sadaqah on working cattle, but a tabi' in every thirty and a musinn or musinnah in every forty. > **"There is no sadaqah upon working cattle, but in every thirty a tabi', and in every forty a musinn or musinnah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ کھیت میں ہل چلانے میں استعمال ہونے والی گائیوں میں زکوۃ نہیں ہو گی ‘ ویسے ہر تیس میں ایک تبیع ‘ اور ہر پچاس میں ایک مسن یا مسنہ کی ادائیگی لازم ہو گی “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

4397

Majma al-Zawaid #4397

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ بَنَتُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Mas'ud رضي الله عنه states as an athar that in twenty-five camels a bint makhad is due, and if absent a male ibn labun.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پچیس اونٹوں میں بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ اگر وہ نہ ہو ‘ تو ابن لبون مذکر کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔

4398

Majma al-Zawaid #4398

وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ «أَنَّ مَسْرُوقَ بْنَ وَائِلٍ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ بِالْعَقِيقِ فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَبْعَثَ إِلَى قَوْمِي تَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَنْ تَكْتُبَ لِي كِتَابًا إِلَى قَوْمِي عَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ. فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ: اكْتُبْ لَهُ، فَكَتَبَ [لَهُ]: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، إِلَى الْأَقْيَالِ مِنْ حَضْرَمَوْتَ بِإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالصَّدَقَةِ عَلَى التِّيعَةِ، وَالتِّيمَةِ، وَفِي السَّيُوبِ الْخُمْسُ، وَفِي الْبَعْلِ الْعُشْرُ، لَا خِلَاطَ وَلَا وِرَاطَ، وَلَا شِغَارَ وَلَا شِنَاقَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا جَلَبَ بِهِ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ بَعِيرَيْنِ فِي عِقَالٍ، مَنْ أَجْبَى فَقَدْ أَرْبَى، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» "". وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ زِيَادُ بْنُ لَبِيبٍ الْأَنْصَارِيُّ. أَمَّا الْخِلَاطُ: فَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَاشِيَةِ. وَأَمَّا الْوِرَاطُ: فَلَا يُقَوِّمُهَا بِالْقِيمَةِ. وَأَمَّا الشِّغَارُ: فَيُزَوِّجُ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ، وَيُنْكِحُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ بِلَا مَهْرٍ. وَالشِّنَاقُ: أَنْ يَعْقِلَهَا فِي مَبَارِكِهَا. وَالْإِجْبَاءُ: أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْمَنَ عَلَيْهَا الْعَاهَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Dahhak ibn al-Nu'man ibn Sa'd reports that Masruq ibn Wa'il came to the Messenger of Allah ﷺ at al-'Aqiq in Madinah, embraced Islam well, asked for a messenger to his people and a letter hoping Allah would guide them, the Prophet ﷺ told Mu'awiyah رضي الله عنه to write it to the chiefs of Hadramawt commanding prayer, zakat, sadaqah on ti'ah and timah, a fifth on buried treasure, a tenth on rain-fed land, forbidding khilat, wirat, shighar, shinaq, janab, jalab, joining two camels in one rope, declaring ijba' as usury and every intoxicant unlawful, and sent Ziyad ibn Labid al-Ansari to them. The terms are then defined: khilat not joining livestock, wirat not valuing by price, shighar exchanging daughters without dowry, shinaq hobbling at resting places, and ijba' selling fruit before safety from blight. > **"In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate, to the chiefs of Hadramawt: establish prayer, pay zakat, and sadaqah upon ti'ah and timah. In buried treasure is the fifth, in rain-fed land the tenth. There shall be no khilat, no wirat, no shighar, no shinaq, no janab, no jalab thereby, and two camels shall not be joined in one rope. Whoever practices ijba' has practiced usury. Every intoxicant is unlawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ضحاک بن نعمان بن سعد بیان کرتے ہیں : حضرت مسروق بن وائل رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ’’ عقیق ‘‘ کے مقام پر حاضر ہوئے ‘ انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلام عمدہ ہوا ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میری قوم کی طرف کسی کو بھیجیں ، اور انہیں اسلام کی دعوت دیں ‘ آپ میرے لئے ایک تحریر لکھ دیں ‘ جو میری قوم کے نام ہو ‘ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نصیب کرے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم اسے تحریر لکھ دو ! تو انہوں نے اسے تحریر لکھ کے دی : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ‘ یہ ’’ حضر موت ‘‘ کے اکابرین کے نام ہے کہ نماز قائم کی جائے ‘ زکوۃ ادا کی جائے ‘ تیعہ ( یعنی چالیس بکریوں ) اور تیمہ ( ایک قول کے مطابق اس سے مراد وہ بکریاں ہیں جو چالیس سے زائد ہوں ‘ یہاں تک کہ ان کی تعداد اگلے فریضہ تک پہنچ جائے اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد وہ بکری ہے جو گھر میں ذاتی استعمال کا دودھ حاصل کرنے کے لیے ہو ) ‘ میں صدقہ ( یعنی زکوۃ ) لازم ہو گی ‘ جبکہ سیوب ( وہ مال جو زمانہ جاہلیت میں دفن کیا گیا تھا اگر وہ کسی کو مل جاتا ہے ‘ تو اس ) میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ بارانی زمین ( کی پیداوار میں ) عشر کی ادائیگی لازم ہو گی ‘ نہ ” خلاط ‘‘ ہو گا ‘ اور نہ ’’ وراط ‘‘ ہو گا ‘ نہ ’’ شغار ‘‘ ہو گا ‘ نہ ” شناق ‘‘ ہو گا ‘ نہ ’’ جنب ‘‘ ہو گا ‘ نہ اُسے لایا جائے گا ‘ نہ ایک رسی میں دو اونٹوں کو اکھٹا کیا جائے گا ، جو شخص اجباء کرے گا ( یعنی کھیت کی پیداوار یا پھل وغیرہ کے پک کر تیار ہونے سے پہلے اس کو فروخت کرے گا ) ‘ وہ سود کا کام کرے گا ‘ اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا تھا ۔ ( مصنف فرماتے ہیں : ) جہاں تک لفظ ” خلاط ‘‘ کا تعلق ہے ‘ تو اس سے مراد یہ ہے کہ جانوروں کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا ۔ جہاں لفظ ’’ وراط ‘‘ کا تعلق ہے ‘ تو اس سے مراد یہ ہے کہ اُن کی قیمت کا تعین نہیں کیا جائے گا ۔ جہاں تک لفظ ” شغار ‘‘ کا تعلق ہے ‘ تو اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی کر دے ‘ اس شرط پر کہ دوسرا شخص بھی اپنی بیٹی کی شادی اُس کے ساتھ کر دے گا ‘ اور درمیان میں کوئی مہر نہ ہو ۔ لفظ ” شناق ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اُن کو ان کے بیٹھنے کی جگہ پر باندھ دے ۔ لفظ ’’ اجباء ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ پھل کو فروخت کر دیا جائے ‘ اس سے پہلے کہ وہ آفت سے محفوظ ہو جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

4399

Majma al-Zawaid #4399

«عَنْ أَبِي مُوسَى، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثَهُمَا إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ أَمْرَ دِينِهِمْ وَقَالَ: "" لَا تَأْخُذِ الصَّدَقَةَ إِلَّا مِنْ هَذِهِ الْأَرْبَعَةِ: الشَّعِيرِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa رضي الله عنه and Mu'adh ibn Jabal رضي الله عنه report that the Messenger of Allah ﷺ sent them both to Yemen and commanded them to teach the people the matters of their religion, instructing them concerning sadaqah. > **"Do not take sadaqah except from these four: barley, wheat, raisins, and dates."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اُن دونوں کو یمن بھیجا اور ان دونوں کو یہ حکم دیا کہ وہ ان لوگوں کو دین کی تعلیم دیں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم نے زکوۃ صرف ان چار قسم کے اناجوں میں سے وصول کرنی ہے : جو ‘ گندم ‘ کشمش اور کھجور ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4400

Majma al-Zawaid #4400

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ، فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخَيِّرُونَ الْيَهُودَ أَنْ يَأْخُذُوهُ بِذَلِكَ الْخَرْصِ أَمْ يَدْفَعُوهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ، وَإِنَّمَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ لَا تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذَ الثَّمَرَةُ وَتُفَرَّقَ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ ذَكَرَ الزَّكَاةَ وَغَيْرَهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي رِوَايَةٍ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَفِي رِوَايَةٍ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.

EnglishUnverified translation

'A'ishah رضي الله عنها, mentioning the affair of Khaybar, reports that the Prophet ﷺ used to send Ibn Rawahah رضي الله عنه to the Jews to estimate the date-palms when the fruit ripened before any of it was eaten, then the Jews were given the choice to take it by that estimate or to hand it over by it. The Messenger of Allah ﷺ ordered estimation so that zakat would be reckoned before the fruit was picked and dispersed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خبیر کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے ‘ یہ بات بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کی طرف بھیجا ‘ وہ اُن کی کھجوروں کی پیداوار کا اندازہ لگاتے تھے ‘ یہ اس سے پہلے کی بات ہوتی تھی کہ جب کھجوریں کھائے جانے کے قابل ہو جاتیں ، اس کے بعد وہ یہودیوں کو اختیار دیتے تھے کہ اگر وہ چاہیں ، تو اس اندازے کے مطابق پیداوار وصول کریں ‘ یا پھر اتنی پیداوار اُن کے حوالے کر دیں ، نبی اکرم ﷺ نے پیداوار کا اندازہ ( پہلے ) لگانے کا حکم اس لئے دیا تھا ، تاکہ پھل کے اتارے جانے اور منتشر ہونے سے پہلے زکوۃ کو شمار کیا جا سکے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جس میں زکوۃ اور دیگر چیزوں کا ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ البتہ انہوں نے ایک روایت میں یہ کہا ہے : یہ ابن جریج کے حوالے سے ابن شہاب سے منقول ہے ‘ اور ایک روایت میں یہ کہا ہے : ابن جریج کہتے ہیں : مجھے ابن شہاب کے حوالے سے یہ بات بیان کی گئی ہے ۔

4401

Majma al-Zawaid #4401

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى خَيْبَرَ يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ خَيَّرَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا أَوْ يَرُدُّوا فَقَالُوا: هَذَا الْحَقُّ ; بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْعُمَرِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ sent Ibn Rawahah رضي الله عنه to Khaybar to estimate for them, then he gave them the choice to take or to return. They said: this is justice; by this the heavens and the earth stand.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ رواحہ رضی اللہ عنہ کو خیبر کی طرف بھیجا ‘ تاکہ ان کی پیدوار کا اندازہ لگائیں ، پھر انہوں نے ان لوگوں کو اختیار دیا کہ یا تو وہ اُس کے مطابق وصولی کر لیں ‘ یا اتنی ادائیگی کر دیں ‘ تو ان لوگوں نے کہا : یہ وہ حق ہے ‘ جس کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمری ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4402

Majma al-Zawaid #4402

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ: «إِنَّمَا خَرَصَ ابْنُ رَوَاحَةَ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ عَامًا وَاحِدًا فَأُصِيبَ يَوْمَ مُؤْتَةَ، ثُمَّ إِنَّ جُبَارَ بْنَ صَخْرِ بْنِ خَنْسَاءَ كَانَ يَبْعَثُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ابْنِ رَوَاحَةَ فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn 'Amr ibn Hazm states as an athar that Ibn Rawahah رضي الله عنه estimated for the people of Khaybar for one year only, then he was struck down on the day of Mu'tah. After Ibn Rawahah, the Messenger of Allah ﷺ would send Jabbar ibn Sakhr ibn Khansa' رضي الله عنه, and he would estimate for them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اہل خبیر کے لئے ایک سال پیداوار کا اندازہ لگایا تھا ‘ وہ جنگ موتہ میں شہید ہو گئے تھے ‘ پھر حضرت جبار بن صخر بن خنساء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ نے بھیجا تھا ، یہ حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ ( کی شہادت ) کے بعد کی بات ہے ‘ انہوں نے ان لوگوں کی پیداوار کا اندازہ لگایا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ‘ اور اس کی سند صحیح ہے ۔

4403

Majma al-Zawaid #4403

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ فَرْوَةَ بْنَ عَمْرٍو يَخْرُصُ النَّخْلَ، فَإِذَا دَخَلَ الْحَائِطَ حَسِبَ مَا فِيهِ مِنَ الْأَقْنَاءِ ثُمَّ ضَرَبَ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ عَلَى مَا فِيهَا وَلَا يُخْطِئُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Rafi' ibn Khadij رضي الله عنه states as an athar that the Prophet ﷺ used to send Farwah ibn 'Amr رضي الله عنه to estimate the palms. When he entered the garden he would count what was in it of clusters, then calculate one against another for what it contained, and he would not err.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ فروہ بن عمرو کو بھیجتے تھے ‘ جو کھجوروں کی پیداوار کا اندازہ لگاتے تھے ‘ جب وہ باغ میں داخل ہوتے تھے ‘ تو یہ حساب لگاتے تھے کہ اس میں کتنے گچھے ہیں ، پھر وہ ان کو ایک دوسرے سے ضرب دیتے تھے کہ اس کی پیدوار کتنی ہو گی ؟ اور وہ اس میں غلطی نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔