وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: «جَاءَ مَالٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبَّاسَ فَحَفَنَ لَهُ، قَالَ: "" أَزِيدُكَ؟ "" قَالَ: نَعَمْ، فَحَفَنَ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: "" أَزِيدُكَ؟ "" قَالَ: نَعَمْ، فَحَفَنَ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: "" أَزِيدُكَ؟ "" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "" أَبْقِ لِمَنْ بَعْدَكَ "" ثُمَّ دَعَانِي فَحَفَنَ لِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَيْرٌ لِي أَوْ شَرٌّ لِي؟ قَالَ: "" لَا بَلْ شَرٌّ لَكَ ""، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ مَا أَعْطَانِي ثُمَّ قُلْتُ: لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ عَطِيَّةً بَعْدَكَ. قَالَ مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ -: قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُبَارِكَ لِي. قَالَ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَدِهِ». قُلْتُ: لِحَكِيمٍ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.
EnglishUnverified translation
Hakim ibn Hizam رضي الله عنه reported that wealth came from Bahrain, so the Prophet ﷺ called al-Abbas رضي الله عنه and scooped for him, then said, shall I increase you. He said, yes, so he scooped for him, then said, shall I increase you. He said, yes, so he scooped for him, then said, shall I increase you. He said, yes. He said, leave for those after you. Then he called me and scooped for me, so I said, O Messenger of Allah, is it good for me or evil for me. He said, rather evil for you. So I returned to him what he had given me, then said, by Him in Whose Hand is my soul, I will not accept a gift from anyone after you. Muhammad, meaning Ibn Sirin, reported that Hakim said, I said, O Messenger of Allah, supplicate Allah to bless me. He said: > **"Shall I increase you."** > **"Leave for those after you."** > **"No, rather it is evil for you."** > **"O Allah, bless for him in his hand's bargain."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بحرین سے کچھ مال آیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں کچھ مال دیا ‘ پھر آپ نے دریافت کیا : کیا میں آپ کو مزید دوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے انہیں مزید دیا ‘ پھر آپ نے دریافت کیا : کیا میں آپ کو مزید دوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے انہیں اور دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا میں آپ کو مزید دوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے بعد والے کے لئے بھی باقی رہنے دیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلوایا اور مجھے دیا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ میرے حق میں بہتر ہے ‘ یا برا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ تمہارے حق میں برا ہے ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے جو مجھے دیا تھا ‘ وہ میں نے آپ کو واپس کر دیا ‘ پھر میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ آپ ﷺ کے بعد میں کبھی کسی سے کوئی عطیہ قبول نہیں کروں گا ۔ محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : حضرت حکیم رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے برکت نصیب کرے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : ” اے اللہ ! تو اس کے ہاتھ کے سودے میں ‘ اس کے لئے برکت رکھ دے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت حکیم رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث جو ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ‘ وہ اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔