Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 8 · Chapter 6

Book of Zakah

Hadith 4524–4563

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4524

Majma al-Zawaid #4524

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمَسْأَلَةُ كُدُوحٍ فِي وَجْهِ صَاحِبِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ شَاءَ اسْتَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ؟! وَأَهْوَنُ الْمَسْأَلَةِ مَسْأَلَةُ ذِي الرَّحِمِ يَسْأَلُهُ فِي حَاجَةٍ، وَخَيْرُ الْمَسْأَلَةِ الْمَسْأَلَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Begging is scratches on the face of its owner on the Day of Resurrection, so whoever wishes may preserve his face. And the easiest of begging is the begging of kin one asks for a need, and the best of begging is begging after sufficiency, and begin with those you support."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مانگنا ‘ اپنے مانگنے والے شخص کے لئے ‘ قیامت کے دن چہرے پر داغ ہو گا ‘ اب جو شخص چاہے ‘ وہ اپنے چہرے پر داغ کو باقی رکھے اور سب سے آسان مانگنا ‘ رشتے دار سے مانگنا ہے کہ آدمی اپنی حاجت کے سلسلے میں اس سے کچھ مانگ لے ‘ اور سب سے بہتر مانگنا ‘ وہ مانگنا ہے ( کہ جب آدمی دوسرے سے مانگے ‘ تو دینے والا اس کو دینے کے بعد ) خوشحال رہے ‘ اور تم اپنے زیر کفالت پر خرچ کرنے کا آغاز کرو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4525

Majma al-Zawaid #4525

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَأَلَ وَهُوَ غَنِيٌّ عَنِ الْمَسْأَلَةِ يُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهِيَ خُمُوشٌ فِي وَجْهِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever begs while independent of begging will be gathered on the Day of Resurrection with scratches on his face."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کچھ مانگتا ہے ‘ حالانکہ وہ مانگنے سے بے نیاز ہو ‘ تو قیامت کے دن جب اُسے اٹھایا جائے گا ‘ تو یہ چیز اس کے چہرے پر داغ ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

4526

Majma al-Zawaid #4526

وَعَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَأَلَ مِنْ غَيْرِ فَقْرٍ فَكَأَنَّمَا يَأْكُلُ الْجَمْرَ».

EnglishUnverified translation

Hubshi ibn Junadah رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever begs without poverty, it is as if he eats ember."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص غربت نہ ہونے کے باوجود مانگتا ہے ‘ تو وہ گویا انگارے کھاتا ہے ‘‘۔

4527

Majma al-Zawaid #4527

، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ فِي غَيْرِ مُصِيبَةٍ جَاحَتْهُ فَكَأَنَّمَا يَلْقَمُ الرَّضْفَةَ». رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي إِسْنَادِ الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ.

EnglishUnverified translation

I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever asks people without a calamity befalling him, it is as if he chews ember."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو شخص کسی مصیبت کے لاحق ہوئے بغیر لوگوں سے مانگتا ہے ‘ تو وہ گویا انگارہ چباتا ہے ‘‘۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، پہلی روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، دوسری روایت میں ایک راوی جابر جعفی ہے ‘ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ ثوری اور شعبہ نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

4528

Majma al-Zawaid #4528

وَعَنْ مَسْعُودِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَسْأَلُ وَهُوَ غَنِيٌّ حَتَّى يُخْلَقَ وَجْهُهُ، فَمَا يَكُونُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ وَجْهٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Mas'ud ibn Amr رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"The servant keeps asking while rich until his face is worn away, so he will have no face with Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسعود بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بندہ مسلسل مانگتا رہتا ہے ‘ حالانکہ وہ خوش حال ہوتا ہے ‘ یہاں تک کہ اُس کا چہرہ بوسیدہ ( یا خراب ) ہو جاتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس کا کوئی چہرہ نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4529

Majma al-Zawaid #4529

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصْلُحُ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا مِنْ ذِي رَحِمٍ أَوْ سُلْطَانٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ. وَلَهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيِّ، وَالنَّسَائِيِّ مِنْ رِوَايَةِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْهُ: "" «أَنَّ الْمَسْأَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا أَوْ فِي أَمْرٍ لَابُدَّ مِنْهُ» "".

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Begging is not right for a rich man except from kin or a ruler."** > **"Begging is a scratch with which a man scratches his face, except one asks a ruler or in a matter unavoidable."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کسی خوشحال شخص کے لئے مانگنا جائز نہیں ہے ‘ البتہ وہ کسی رشتہ دار سے یا حاکم وقت سے مانگ سکتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ‘ جسے ابن حبان نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اُسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ‘ اُن صحابی کے حوالے سے امام ابوداؤد امام ترمذی اور امام نسائی نے ایک روایت نقل کی ہے ‘ جو زید بن عقبہ نے اُن سے نقل کی ہے ۔ ( اُس کے الفاظ یہ ہیں : ) ’’ مانگنا ایک خراش ہے ‘ جو آدمی اپنے چہرے پر ڈال لیتا ہے ‘ البتہ اگر آدمی حاکم وقت سے مانگے ‘ یا کسی ایسی صورت حال میں مانگے ‘ جس میں مانگے بغیر چارہ نہ ہو ‘ تو معاملہ مختلف ہے ‘‘۔

4530

Majma al-Zawaid #4530

وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ: مَا لَكَ لَا تَطْلُبُهُ كَمَا يَطْلُبُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنْ وَرَاءَكُمْ عَقَبَةً كَؤُودًا لَا يَجُوزُهَا الْمُثْقِلُونَ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَتَخَفَّفَ لِتِلْكَ الْعَقَبَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm al-Darda رضي الله عنها reported from Abu al-Darda رضي الله عنه that she said to him, why do you not seek as so-and-so seeks. He said, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Beyond you is a steep pass which the burdened will not cross, so I love to lighten myself for that pass."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام درداء رضی اللہ عنہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں : میں نے ان سے کہا : کیا وجہ ہے کہ آپ اس طرح نہیں طلب کرتے ہیں ، جس طرح فلاں اور فلاں طلب کر لیتے ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تمہارے آگے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے ‘ بوجھل لوگ اسے پار نہیں کر سکیں گے ‘‘۔ ( حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ اُس گھاٹی کے لئے ‘ میں ہلکا پھلکا رہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4531

Majma al-Zawaid #4531

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: «جَاءَ مَالٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبَّاسَ فَحَفَنَ لَهُ، قَالَ: "" أَزِيدُكَ؟ "" قَالَ: نَعَمْ، فَحَفَنَ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: "" أَزِيدُكَ؟ "" قَالَ: نَعَمْ، فَحَفَنَ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: "" أَزِيدُكَ؟ "" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "" أَبْقِ لِمَنْ بَعْدَكَ "" ثُمَّ دَعَانِي فَحَفَنَ لِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَيْرٌ لِي أَوْ شَرٌّ لِي؟ قَالَ: "" لَا بَلْ شَرٌّ لَكَ ""، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ مَا أَعْطَانِي ثُمَّ قُلْتُ: لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ عَطِيَّةً بَعْدَكَ. قَالَ مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ -: قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُبَارِكَ لِي. قَالَ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَدِهِ». قُلْتُ: لِحَكِيمٍ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Hakim ibn Hizam رضي الله عنه reported that wealth came from Bahrain, so the Prophet ﷺ called al-Abbas رضي الله عنه and scooped for him, then said, shall I increase you. He said, yes, so he scooped for him, then said, shall I increase you. He said, yes, so he scooped for him, then said, shall I increase you. He said, yes. He said, leave for those after you. Then he called me and scooped for me, so I said, O Messenger of Allah, is it good for me or evil for me. He said, rather evil for you. So I returned to him what he had given me, then said, by Him in Whose Hand is my soul, I will not accept a gift from anyone after you. Muhammad, meaning Ibn Sirin, reported that Hakim said, I said, O Messenger of Allah, supplicate Allah to bless me. He said: > **"Shall I increase you."** > **"Leave for those after you."** > **"No, rather it is evil for you."** > **"O Allah, bless for him in his hand's bargain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بحرین سے کچھ مال آیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں کچھ مال دیا ‘ پھر آپ نے دریافت کیا : کیا میں آپ کو مزید دوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے انہیں مزید دیا ‘ پھر آپ نے دریافت کیا : کیا میں آپ کو مزید دوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے انہیں اور دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا میں آپ کو مزید دوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے بعد والے کے لئے بھی باقی رہنے دیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلوایا اور مجھے دیا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ میرے حق میں بہتر ہے ‘ یا برا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ تمہارے حق میں برا ہے ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے جو مجھے دیا تھا ‘ وہ میں نے آپ کو واپس کر دیا ‘ پھر میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ آپ ﷺ کے بعد میں کبھی کسی سے کوئی عطیہ قبول نہیں کروں گا ۔ محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : حضرت حکیم رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے برکت نصیب کرے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : ” اے اللہ ! تو اس کے ہاتھ کے سودے میں ‘ اس کے لئے برکت رکھ دے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت حکیم رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث جو ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ‘ وہ اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

4532

Majma al-Zawaid #4532

وَلَهُ عِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: «أَنَّهُ أَعَانَ بِفَرَسَيْنِ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأُصِيبَتَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرَسَيَّ أُصِيبَتَا فَعَوِّضْنِي، فَأَعْطَاهُ، فَاسْتَزَادَهُ». وَفِي الْأَوَّلِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ قِيلَ فِيهِ: أَنَّهُ صَدُوقٌ يَهِمُ.

EnglishUnverified translation

In another narration with him, he assisted with two horses on the day of Hunayn, and they were lost, so he came to the Prophet ﷺ and said, O Messenger of Allah, my two horses were lost, so compensate me. So he gave him, and he asked for more. > **"Compensate me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے ‘ حضرت حکیم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت بھی نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ غزوہ حنین کے موقع پر انہوں نے دو گھوڑے پیش کیے ‘ وہ دونوں مارے گئے ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے دو گھوڑے مارے گئے ہیں ، تو آپ مجھے اس کا عوض دیں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک گھوڑا عطا کیا ‘ اور انہیں مزید بھی عطا کیا ( یا انہوں نے مزید طلب کیا ) ‘‘۔ پہلی روایت میں اسماعیل بن مسلم مکی ہے ‘ اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے : یہ صدوق ہے ‘ لیکن وہم کا شکار ہوتا ہے ۔

4533

Majma al-Zawaid #4533

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ: فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا، وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَزَادَ: «وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَاسْتَعِفَّ عَنِ السُّؤَالِ وَعَنِ الْمَسْأَلَةِ مَا اسْتَطَعْتَ، فَإِنْ أُعْطِيتَ شَيْئًا - أَوْ قَالَ: خَيْرًا - فَلْيُرَ عَلَيْكَ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَارْضَخْ مِنَ الْفَضْلِ، وَلَا تُلَامُ عَلَى الْعَفَافِ». وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said, hands are three: the Hand of Allah is highest, the hand of the giver next, and the hand of the beggar lowest. In an addition, the hand of the beggar remains lowest until the Day of Resurrection, so abstain from asking as much as you can; if you are given something of good, let it be seen upon you, begin with those you support, give from surplus, and there is no blame upon abstinence. > **"Hands are three: the Hand of Allah is highest, the hand of the giver next, and the hand of the beggar lowest."** > **"The hand of the beggar remains lowest until the Day of Resurrection, so abstain from asking as much as you can. If you are given something of good, let it be seen upon you, begin with those you support, give from surplus, and there is no blame upon abstinence."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ہاتھ تین قسم کے ہوتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اوپر والا ہے ‘ دینے والے کا ہاتھ اس کے بعد والا ہے ‘ اور مانگنے کے والے ہاتھ نیچے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ مانگنے والے کا ہاتھ ‘ قیامت کے دن تک نیچے والا رہے گا ‘ تم مانگنے سے اور سوال کرنے سے بچو ! جہاں تک تم سے ہو سکے اگر تمہیں کچھ دیا جائے ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اگر بھلائی دی جائے ، تو وہ تم پر نظر آنی چاہیے اور تم اپنے زیر کفالت پر خرچ کا آغاز کرو ‘ اور تم اضافی چیز کو عطیہ کر دو ‘ اور مانگنے سے بچنے پر ملامت نہیں کی جاتی ہے ‘‘۔ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

4534

Majma al-Zawaid #4534

وَعَنْ عَطِيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْيَدُ الْمُعْطِيَةُ خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «عَنْ عَطِيَّةَ: أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ قَوْمِهِ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" هَلْ قَدِمَ مَعَكُمْ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ؟ "" قَالُوا: نَعَمْ، فَتًى خَلَّفْنَاهُ عَلَى رِحَالِنَا، قَالَ: "" أَرْسِلُوا إِلَيْهِ "". فَلَمَّا أُدْخِلْتُ عَلَيْهِ وَهُمْ عِنْدَهُ اسْتَقْبَلَنِي، فَقَالَ: "" إِنَّ الْيَدَ الْمُنْطِيَةَ هِيَ الْعُلْيَا، وَإِنَّ الْيَدَ السَّائِلَةَ هِيَ السُّفْلَى، وَمَا اسْتَغْنَيْتَ فَلَا تَسَلْ، فَإِنَّ مَالَ اللَّهِ مَسْئُولٌ وَمُنْطًى "". فَكَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُلْغَتِي»، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Atiyyah رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say, the giving hand is better than the lower hand. In a longer account, he came to the Messenger of Allah ﷺ in his people's delegation. When they entered upon the Prophet ﷺ, he asked whether anyone had come with them besides them. They said, yes, a youth we left with our mounts. He said, send for him. When I was admitted while they were with him, he welcomed me and said, the giving hand is upper and the begging hand is lower; while independent do not ask, for the wealth of Allah is asked and given. The Messenger of Allah ﷺ spoke to me in my own dialect. > **"The giving hand is better than the lower hand."** > **"Has anyone come with you besides you. Send for him. Indeed, the giving hand is upper, and the begging hand is lower, and while independent do not ask, for the wealth of Allah is asked and given."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عطیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ دینے والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : حضرت عطیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ وہ اپنی قوم کے وفد کے ہمراہ ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ جب وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تمہارے ساتھ کوئی ایسا فرد بھی آیا ہے ‘ جو تمہارے علاوہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! ایک نوجوان ہے ‘ جسے ہم اپنے پیچھے اپنی سواریوں میں چھوڑ کے آئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے پیغام بھیج کر اسے بلواؤ ! جب مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا ‘ تو میرے ساتھی آپ کے پاس موجود تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے میرا استقبال کیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : منطیہ ( یعنی دینے والا ) ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے ‘ اور مانگنے والا ہاتھ نیچے والا ہوتا ہے ‘ جب تک تم بے نیاز ہو ‘ تم نہ مانگو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ کا مال ‘ اس کے بارے میں حساب بھی لیا جائے گا ‘ اور وہ دیا بھی جائے گا ‘ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ میرے محاورے کے مطابق بات چیت کی ‘‘۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

4535

Majma al-Zawaid #4535

وَعَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ: "" يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ; أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَأَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Abu Rimthah رضي الله عنه reported that he came to the Prophet ﷺ while he was preaching, saying: > **"The hand of the giver is upper: your mother and your father, your sister and your brother, then nearest, then nearest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ آپ اس وقت خطبہ دے رہے تھے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا :’’ دینے والا ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے ( تم خرچ کرتے ہوئے ‘ یوں خرچ کرو ‘ کہ پہلے ) تمہاری ماں ‘ تمہارا باپ ‘ تمہارا بھائی ‘ پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیز ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ‘ تاہم وہ اختلاط کا شکار ہوا تھا ۔

4536

Majma al-Zawaid #4536

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنَى يَرْبُوعٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ; أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَأَدْنَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man of Banu Yarbu' reported that he came to the Prophet ﷺ and heard him say: > **"The hand of the giver is upper: your mother and your father, your sister and your brother, then nearest, then nearest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنویر بوع سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ دینے والا ہاتھ اوپر والا ہاتھ ہوتا ہے ( تم خرچ کرتے ہوئے یوں خرچ کرو ‘ کہ پہلے ) تمہاری ماں ‘ تمہارا باپ ‘ تمہارا بھائی ‘ تمہاری بہن اور پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیز ہوں “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4537

Majma al-Zawaid #4537

وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ الْيَرْبُوعِيِّ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ يَقُولُ: «يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ; أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ فَأَخَاكَ، وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَذُكِرَ بِأَسَانِيدَ أُخَرَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ مِثْلَهُ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Tha'labah ibn Zahdam al-Yarbu'i رضي الله عنه reported that he reached the Prophet ﷺ and heard him say: > **"The hand of the giver is upper: your mother and your father, your sister then your brother, and nearest, nearest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثعلبہ بن زہدم یربوعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ دینے والا ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے ( تم یوں خرچ کرو ) تمہاری ماں ‘ تمہارا باپ ‘ تمہاری بہن ‘ اور تمہارا بھائی اور پھر درجہ بدرجہ تمہارے قریبی عزیز ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ دیگر اسانید کے ساتھ یہ روایت اسود بن ثعلبہ کے حوالے سے منقول ہے ‘ انہوں نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ‘ تاہم پہلی روایت کے رجال ‘ صحیح کے رجال ہیں ۔

4538

Majma al-Zawaid #4538

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'd ibn Abi Waqqas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The upper hand is better than the lower hand, and begin with those you support."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے ‘ اور تم خرچ کا آغاز اپنے زیر کفالت ( افراد ) سے کرو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے محمد بن عبداللہ تمیمی کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4539

Majma al-Zawaid #4539

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَلَهُ طَرِيقٌ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The upper hand is better than the lower hand, and begin with those you support."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اوپر والا ہاتھ ‘ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے ‘ اور تم خرچ کا آغاز اُس سے کرو ‘ جو تمہارے زیر کفالت ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کا ایک اور طریق ہے ‘ اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4540

Majma al-Zawaid #4540

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، وَيَدُ الْآخِذِ السُّفْلَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Rafi' ibn Khadij رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The hand of the giver is upper, and the hand of the taker is lower until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے ‘ لینے والے کا ہاتھ نیچے والا ہوتا ہے ‘ ایسا قیامت کے دن تک رہے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن شعیب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4541

Majma al-Zawaid #4541

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا أَبْقَتْ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجُفْرِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The best charity is what leaves sufficiency, and the upper hand is better than the lower hand, and begin with those you support."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سب سے بہتر صدقہ وہ ہے ‘ جو خوشحالی باقی رہنے دے ‘ اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے ‘ اور تم خرچ کا آغاز اُس سے کرو ‘ جس کی تم کفالت کرتے ہو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4542

Majma al-Zawaid #4542

وَعَنْ عِمْرَانَ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Imran رضي الله عنه and Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"The upper hand is better than the lower hand, and begin with those you support: your mother and your father, and nearest, nearest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران رضی اللہ عنہ اور حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اوپر والا ہاتھ ‘ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ‘ اور تم خرچ کا آغاز اُس سے کرو ‘ جس کی تم کفالت کرتے ہو ‘ تمہاری ماں اور تمہارا باپ اور پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیز ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4543

Majma al-Zawaid #4543

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: "" وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Hakim ibn Hizam رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The upper hand is better than the lower hand, and let each of you begin with those he supports, and the best charity is from sufficiency, and whoever abstains, Allah will keep him chaste, and whoever seeks independence, Allah Almighty will enrich him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے بہتر ہوتا ہے ، تم میں سے کوئی ایک شخص ( خرچ کا ) آغاز اس سے کرے ‘ جس کی وہ کفالت کرتا ہے ‘ سب سے بہتر صدقہ وہ ہے ‘ جو کرنے کے بعد آدمی خوشحال رہے ‘ جو شخص مانگنے سے بچتا ہے ‘ اللہ تعالی اُسے بچا کے رکھتا ہے ‘ جو شخص ( لوگوں سے ) بے نیازی اختیار کرتا ہے ‘ اللہ تعالی اسے بے نیاز رکھتا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ‘ تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ جو شخص مانگنے سے بچتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اُسے بچا کے رکھتا ہے ‘ اور جو شخص ( لوگوں سے ) بے نیازی اختیار کرتا ہے ‘ اللہ تعالی اسے بے نیاز رکھتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4544

Majma al-Zawaid #4544

وَعَنْ عَدِيٍّ الْجُذَامِيِّ «أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَتْ لِي امْرَأَتَانِ فَاقْتَتَلَتَا، فَرَمَيْتُ إِحْدَاهُمَا فَقَتَلْتُهَا فَقَالَ: "" اعْقِلْهَا وَلَا تَرِثْهَا "" فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ [حَمْرَاءَ] جَدْعَاءَ، وَهُوَ يَقُولُ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تَعَلَّمُوا فَإِنَّمَا الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ: فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا، وَيَدُ الْمُعْطِي الْوُسْطَى، وَيَدُ الْمُعْطَى السُّفْلَى، فَتَعَفَّفُوا وَلَوْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ [أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي الْفَرَائِضِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Adi al-Judhami رضي الله عنه reported that he met the Messenger of Allah ﷺ on one of his journeys and said, O Messenger of Allah, I had two wives, they fought, so I struck one and killed her. He said, pay her blood-money and do not inherit her. It is as if I see the Messenger of Allah ﷺ upon a red jad'a she-camel, saying: > **"Pay her blood-money and do not inherit her."** > **"O people, learn, hands are three: the Hand of Allah is highest, the hand of the giver middle, and the hand of the receiver lowest, so abstain even with bundles of firewood. Have I not conveyed. Have I not conveyed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی جذامی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ ایک سفر کے دوران نبی اکرم ﷺ سے ملے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری دو بیویاں تھیں ، اُن دونوں کی لڑائی ہوئی ‘ میں نے اُن دونوں میں سے ایک کو مار کے اسے قتل کر دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس کی دیت دو گے اور تم اُس کے وارث نہیں بنو گے ‘ راوی کہتے ہیں : یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی سرخ اونٹنی جدعاء پر سوار تھے ‘ اور آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے : ’’ اے لوگو ! تم لوگ یہ بات جان لو کہ ہاتھ تین قسم کے ہوتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ سب سے اوپر والا ہے ‘ دینے والے کا ہاتھ درمیانی ہے ‘ اور لینے والے کا ہاتھ نیچے والا ہے ‘ تو تم مانگنے سے بچو ! خواہ لکڑیاں اکھٹی کر کے کرو ‘ خبردار ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ خبردار ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟“ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی ایک اور سند بھی ہے ‘ جو فرائض سے متعلق باب میں آگے آئے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

4545

Majma al-Zawaid #4545

عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ ; فَمَنْ أَعْطَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ كَانَ غَيْرَ مُبَارَكٍ لَهُ فِيهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

A'ishah رضي الله عنها reported from the Prophet ﷺ that he said: > **"Indeed, the world is sweet and green; whoever We give thereof something without goodwill, it will be unblessed for him therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ بے شک دنیا میٹھی اور سرسبز و شاداب ہے ‘ تو ہم اُس میں سے جس کو کوئی چیز ‘ اپنی خوشی کے بغیر دیں گے ‘ تو اُس شخص کے لئے اس چیز میں برکت نہیں رکھی گئی ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4546

Majma al-Zawaid #4546

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ - قَالَ يَحْيَى: ذَكَرَ شَيْئًا لَا أَدْرِي مَا هُوَ؟ - بِوُرِكَ لَهُ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فِيمَا اشْتَهَتْ نَفْسُهُ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ دَاوُدُ الْعَطَّارُ، وَفِيهِ كَلَامٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا فِي الزُّهْدِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, this wealth is green and sweet, so whoever takes it, it will be blessed for him therein, and many a one plunges into the wealth of Allah and His Messenger in what his soul desires, for him is the Fire on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے ‘ تو جو شخص اس کو حاصل کرتا ہے ۔ یحیی نامی راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے کچھ الفاظ نقل کیے تھے ، لیکن مجھے نہیں سمجھ آئی کہ وہ کیا تھے ؟ ( اس کے بعد آگے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) اس شخص کے لئے اس میں برکت رکھی جائے گی ‘ اور اللہ اور اس کے رسول کے مال کے بارے کچھ لوگ ایسے ہیں ‘ جو اس کا لالچ رکھتے ہیں ‘ انہیں قیامت کے دن آگ نصیب ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی داؤد عطار ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث آگے چل کر ‘ زہد سے متعلق باب میں آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4547

Majma al-Zawaid #4547

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَفِيهِ كَلَامٌ قَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thabit رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, this wealth is green and sweet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ‘ اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ تاہم اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

4548

Majma al-Zawaid #4548

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا اشْتَهَتْ نَفْسُهُ لَيْسَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Indeed, the world is sweet and green, so whoever takes it with its right, it will be blessed for him therein, and many a one plunges into what his soul desires, and he will have nothing on the Day of Resurrection except the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے ‘ جو شخص اپنے حق کے ہمراہ اس کو حاصل کرے گا ‘ اس کے لئے اس میں برکت رکھی جائے گی ‘ اور کئی دلچسپی رکھنے والے لوگ ایسے ہیں ‘ جو اُس چیز کے بارے میں دلچسپی رکھتے ہیں ، جن کی اُن کا نفس خواہش کرتا ہے ‘ ان لوگوں کو قیامت کے دن صرف آگ نصیب ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4549

Majma al-Zawaid #4549

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَدَدْتَ السَّائِلَ ثَلَاثًا فَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَزْبُرَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: صَدُوقٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ addressed the case of the beggar who is turned away repeatedly. > **"When you have turned away the beggar three times, there is no blame upon you if you then rebuke him sternly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم سائل کو تین مرتبہ لوٹا دو ‘ پھر تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا ‘ اگر تم اس کو پتھر مار دیتے ہو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ‘ اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے ، لیکن اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔

4550

Majma al-Zawaid #4550

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ نَتَسَاءَلُ أَمْوَالَنَا؟ قَالَ: "" يَسْأَلُ الرَّجُلُ فِي الْجَائِحَةِ أَوِ الْفَتْقِ لِيُصْلِحَ بِهِ [بَيْنَ قَوْمِهِ]، فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرُبَ اسْتَعَفَّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah ibn Haydah (رضي الله عنه) said he asked about people seeking one another's wealth, and the Messenger of Allah ﷺ explained the lawful occasion and its limit. > **"A man may ask on account of a sweeping calamity or a heavy liability he must discharge on behalf of his people, then when he reaches sufficiency or nears it, he must refrain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسے لوگ ہیں ‘ جو ایک دوسرے کے اموال مانگ لیتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی کسی آفت لاحق ہونے ‘ یا ( لڑائی یا قتل کی صورت میں کوئی ) تاوان ( یا دیت وغیرہ ) لازم ہونے پر مانگے گا ‘ تاکہ اس کے ذریعے اپنے معاملے کو ٹھیک کر لے ‘ جب وہ ضرورت تک پہنچ جائے ‘ یا اُس کے قریب ہو ‘ تو پھر اسے ( مانگنے سے ) بچنا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4551

Majma al-Zawaid #4551

وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَا: إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: لِجَائِحَةٍ مُجْحِفَةٍ، أَوْ لِحَمَالَةٍ مُثْقِلَةٍ، أَوْ دَيْنٍ فَادِحٍ، فَأَعْطَيَاهُ فَأَتَى ابْنَ عُمَرَ فَأَعْطَاهُ وَلَمْ يَسْأَلْهُ. فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَتَيْتُ ابْنَيْ عَمِّي فَسَأَلَانِي وَأَنْتَ لَمْ تَسْأَلْنِي، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَبْنَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَا يُغَرَّانِ الْعِلْمَ غَرًّا .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Mujahid reported that a man came to al-Hasan (رضي الله عنه) and al-Husayn (رضي الله عنه) and asked them for something, and they told him begging is lawful only in three cases: a ruinous calamity, a crushing burden of surety, or an overwhelming debt, then they gave him. He then went to Ibn Umar (رضي الله عنهما), who gave him without questioning him. The man remarked that his two cousins had questioned him while Ibn Umar had not, so Ibn Umar replied that the two sons of the Messenger of Allah ﷺ were fed knowledge in morsels from infancy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘ اُس نے ان دونوں سے کچھ مانگا ‘ تو ان دونوں حضرات نے فرمایا : مانگنا ‘ صرف تین صورتوں میں جائز ہے ‘ ایسی آفت لاحق ہو ‘ جو نقصان کر دے ‘ یا ایسی ادائیگی لازم ہو ‘ جو بوجھل کر دے ‘ یا ایسا قرض ہو ‘ جو زیر بار کر دے ‘ پھر اُن دونوں حضرات نے اسے کچھ دے دیا ، پھر وہ شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ویسے ہی کچھ دے دیا ‘ اس سے کچھ دریافت نہیں کیا ، اس شخص نے ان سے کہا : میں اپنے دو چچازاد افراد کے پاس گیا ‘ تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا ‘ اور آپ نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا ‘ تو حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول کے صاحبزادوں کو علم لقموں کی طرح کھلایا گیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یونس بن خباب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4552

Majma al-Zawaid #4552

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصْلُحُ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا مِنْ ذِي رَحِمٍ أَوْ سُلْطَانٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ. وَيَأْتِي حَدِيثُ: "" «لِلسَّائِلِ حَقٌّ، وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ» "" إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade the well-to-do from begging except in two ties. > **"Begging is not lawful for a rich man, except from a kinsman or from the ruler."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خوشحال شخص کے لئے مانگنا جائز نہیں ہے ‘ البتہ کسی رشتہ دار سے ‘ یا حاکم وقت سے مانگ سکتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ‘ جسے ابن حبان نے ” ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ ایک جماعت نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔ آگے چل کے ایک حدیث آئے گی : مانگنے والے کا حق ہوتا ہے ‘ اگر وہ گھوڑے پر آئے ‘‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4553

Majma al-Zawaid #4553

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِطِيبِ نَفْسٍ أَوْ طِيبِ طُعْمَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَغَيْرِ طِيبِ طُعْمَةٍ وَإِشْرَافٍ مِنْهُ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) reported that the Messenger of Allah ﷺ described the world and the condition for blessing in what is received. > **"This world is green and sweet. Whoever is given something from it with contentment of soul and without greed, blessing is placed for him in it. And whoever is given something from it without our contentment and with greed from him, no blessing is placed for him in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ دنیا ‘ سرسبز اور میٹھی ہے ‘ اور جس شخص کو ہم اپنی خوشی کے ساتھ کوئی چیز دیتے ہیں ‘ یا کوئی پاکیزہ چیز دیتے ہیں ‘ جو اس کے لالچ کے بغیر ہو ‘ تو اُس شخص کے لئے اس چیز میں برکت رکھی جائے گی ‘ اور جس شخص کو ہم کوئی چیز اپنی خوشی کے بغیر دیتے ہیں ‘ اور اپنی خواہش کے بغیر دیتے ہیں اور وہ شخص اس کا لالچ بھی رکھتا ہو تو اس کے لئے اس چیز میں برکت نہیں رکھی جائے گی “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4554

Majma al-Zawaid #4554

وَعَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ: «أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ بِنَفَقَةٍ وَكُسْوَةٍ، فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ: أَيْ بُنَيَّ، لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا. فَلَمَّا خَرَجَ الرَّسُولُ قَالَتْ: رُدُّوهُ عَلَيَّ. فَرَدُّوهُ. قَالَتْ: إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا عَائِشَةُ، مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَاقْبَلِيهِ ; فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ». [رَوَاهُ أَحْمَدُ] وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ مُدَلِّسٌ، وَاخْتُلِفَ فِي سَمَاعِهِ مِنْ عَائِشَةَ.

EnglishUnverified translation

Al-Muttalib ibn Hantab reported that Abdullah ibn Amir sent provision and clothing to Aishah (رضي الله عنها), and she first told the messenger she accepts nothing from anyone. When the messenger departed she called him back, recalling a statement of the Messenger of Allah ﷺ addressed to her. > **"O Aishah, whatever gift comes to you without asking, accept it, for it is only provision that Allah has presented to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطلب بن حنطب بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ خرچ اور لباس بھیجا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قاصد سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میں کسی سے کچھ قبول نہیں کرتی ہوں ، جب قاصد نکلنے لگا ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اسے میرے پاس واپس لاؤ ! لوگ اسے واپس لے آئے ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : مجھے ایک بات یاد آ گئی ( جو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا : ) ’’ اے عائشہ ! جب تمہیں کوئی چیز مانگے بغیر دے ‘ تو تم اسے قبول کر لو ‘ کیونکہ یہ وہ رزق ہو گا ‘ جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مطلب بن عبداللہ نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

4555

Majma al-Zawaid #4555

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ قُلْتَ لِي: "" إِنَّ خَيْرًا لَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ شَيْئًا "". قَالَ: "" إِنَّمَا ذَاكَ أَنْ تَسْأَلَ، وَمَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَكَهُ اللَّهُ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab (رضي الله عنه) said he reminded the Messenger of Allah ﷺ that he had told him it is better for him to ask nothing from people, and the Messenger of Allah ﷺ clarified the scope of that instruction. > **"That applies only to asking. Whatever Allah brings to you without asking is only sustenance that Allah has granted you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا تھا : تمہارے لئے زیادہ بہتر یہ ہے کہ تم لوگوں سے کچھ نہ مانگنا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ حکم اس صورت میں ہے ‘ جب تم کچھ مانگ رہے ہو ‘ جب اللہ تعالیٰ تمہیں مانگے بغیر کوئی چیز عطا کرے ، تو یہ وہ رزق ہو گا ‘ جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا ہو گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

4556

Majma al-Zawaid #4556

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ بَلَغَهُ مِنْ أَخِيهِ مَعْرُوفٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يَرُدَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: "" مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ مِنْ أَخِيهِ "". وَقَالَ أَحْمَدُ: عَنْ أَخِيهِ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Khalid ibn Adi al-Juhani (رضي الله عنه) said he heard the Messenger of Allah ﷺ command acceptance of unsolicited kindness. > **"Whoever receives a kindness from his brother without asking and without greed of soul, let him accept it and not reject it, for it is only provision that Allah Almighty has driven to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب کسی شخص کو اس کے بھائی کی طرف سے مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر کوئی چیز مل جائے ، تو آدمی کو اسے قبول کر لینا چاہیے اور اسے مسترد نہیں کرنا چاہیے ‘ کیونکہ یہ وہ رزق ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا ہے “۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ تاہم ان دونوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جس شخص کو اس کے بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی پہنچے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔ امام احمد نے یہ لفظ نقل کیے عن اخیہ امام احمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4557

Majma al-Zawaid #4557

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ آتَاهُ شَيْئًا مِنْ هَذَا الْمَالِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ فَلْيَقْبَلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ concerning wealth that arrives without request. > **"Whoever is given something of this wealth without asking for it, let him accept it, for it is only provision that Allah has driven to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس شخص کو اس مال میں سے کچھ مانگے بغیر مل جاتا ہے ‘ تو آدمی کو اسے قبول کر لینا چاہیے ‘ کیونکہ یہ وہ رزق ہو گا ‘ جو اللہ تعالیٰ نے اُس کی طرف بھیجا ہو گا “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4558

Majma al-Zawaid #4558

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْوَالِ السُّلْطَانِ قَالَ: "" مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَخُذْهُ وَتَمَوَّلْهُ». وَقَالَ الْحَسَنُ: لَا بَأْسَ بِهَا مَا لَمْ يَرْحَلْ إِلَيْهَا أَوْ يُشْرِفْ لَهَا. وَفِي رِوَايَةٍ: «مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنَّا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَكُلْهُ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ was asked about the wealth of the ruler and explained when to take it, with al-Hasan adding that there is no harm so long as one does not journey after it or hanker for it. In another wording the Prophet ﷺ permitted eating what Allah gives without asking. > **"Whatever Allah brings to you thereof without asking and without greed, take it and increase your wealth thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے حاکم وقت کی طرف ملنے والے مال کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تو وہ ( مال ) مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر ‘ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہو ‘ تو تم وہ لے لو اور اس کے ذریعے تم مال میں اضافہ کرو ۔ حسن فرماتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ جبکہ آدمی اس صورت میں چل کر اس مال کی طرف نہ گیا ہو ‘ یا اس کے دل میں اس کے لئے لالچ نہ ہو ۔ ’’ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ہم میں سے ‘ جس کی طرف سے ‘ اللہ تعالیٰ تمہیں مانگے بغیر مال عطا کر دے ‘ تو تم اُسے کھا لو ( یعنی حاصل کر لو ! “۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

4559

Majma al-Zawaid #4559

وَعَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ عَرَضَ لَهُ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ، فَلْيَتَوَسَّعْ بِهِ فِي رِزْقِهِ، فَإِنْ كَانَ عَنْهُ غَنِيًّا فَلْيُوَجِّهْهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَقَالَ: "" «مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ شَيْءٌ» "". وَأَسْقَطَ أَحْمَدُ: "" شَيْءٌ "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ: سَأَلْتُ أَبِي: مَا الْإِشْرَافُ؟ قَالَ: تَقُولُ فِي نَفْسِكَ: سَيَبْعَثُ إِلَيَّ فُلَانٌ، سَيَصِلُنِي فَلَانٌ.

EnglishUnverified translation

Aidh ibn Amr (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ concerning provision that presents itself without asking or greed, that one should use it expansively and pass it to one more needy if independent of it. Abdullah ibn Ahmad asked his father about greed, and he explained it as telling oneself that so-and-so will send something. > **"Whoever has some of this provision present itself to him without asking and without greed, let him expand his livelihood through it, and if he is independent of it, let him direct it to one who is more needy of it than he."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس شخص کے سامنے اس رزق میں سے کوئی چیز ‘ مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر آئے ‘ تو اُسے اس کے ذریعے اپنے مال میں کشادگی کرنی چاہیے ‘ اگر وہ خود اس سے بے نیاز ہو ‘ تو وہ چیز اس شخص کو دے دینی چاہیے ‘ جو اس سے زیادہ اس کا محتاج ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جس شخص کے سامنے اُس رزق میں سے کوئی چیز پیش کی جائے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ امام احمد نے لفظ ’’ شی ‘‘ نقل نہیں کیا ‘ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ عبداللہ بن احمد کہتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا :’’ اشراف ‘‘ ( یعنی لالچ ) سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ کہ تم اپنے دل میں یہ سوچو کہ عنقریب فلاں شخص میری طرف کچھ بھیج دے گا ‘ یا عنقریب فلاں شخص مجھ تک کچھ پہنچا دے گا ۔

4560

Majma al-Zawaid #4560

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ مِنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يَرُدَّهُ ; فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو يَعْلَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Khalid al-Juhani (رضي الله عنه) said he heard the Messenger of Allah ﷺ command acceptance of a brother's unsought favor. > **"Whoever receives a kindness from his brother without asking and without greed, let him accept it and not reject it, for it is only provision that Allah has driven to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس شخص کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر کوئی بھلائی پہنچے ‘ تو اُسے اس کو قبول کرنا چاہیے اور اسے واپس نہیں کرنا چاہیے ‘ کیونکہ وہ ( ایسا ) رزق ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ انہوں نے اسے احمد بن ابراہیم موصلی سے نقل کیا ہے ‘ وہ ثقہ ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4561

Majma al-Zawaid #4561

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الْمُعْطِي مِنْ سَعَةٍ بِأَفْضَلَ مِنَ الْآخِذِ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ weighed the giver in ease against the taker in need. > **"The one who gives out of plenty is not superior to the one who takes when he is needy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ گنجائش ( یعنی خوشحالی ) والا شخص ‘ جو کچھ دینے والا ہو ‘ وہ لینے والے سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ‘ جبکہ لینے والا محتاج ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن سعید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4562

Majma al-Zawaid #4562

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الَّذِي يُعْطِي مِنْ سَعَةٍ بِأَعْظَمَ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يَقْبَلُ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَائِذُ بْنُ سُرَيْجٍ (*)، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ weighed the reward of the giver against the needy receiver. > **"The one who gives out of plenty does not have greater reward than the one who accepts when he is needy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص گنجائش ہونے کے باوجود دیتا ہے ‘ وہ اس سے زیادہ اجر والا نہیں ہوتا ، جو اسے قبول کر لیتا ہے ‘ جبکہ وہ محتاج ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عائذ بن سریج ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4563

Majma al-Zawaid #4563

عَنِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلسَّائِلِ حَقٌّ ; وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ فَائِدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hirmas ibn Ziyad (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ affirmed the right of the beggar in every state. > **"The beggar has a right, even if he comes on horseback."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ہرماس بن زیاد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مانگنے والے کا حق ہوتا ہے ‘ اگرچہ وہ گھوڑے پر آئے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن فائد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔