Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 8 · Chapter 12

Book of Zakah

Hadith 4764–4770

7 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4764

Majma al-Zawaid #4764

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ قَادَ أَعْمَى أَرْبَعِينَ خُطْوَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عُرْوَةَ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ promised Paradise for leading a blind man forty steps. > **"Whoever leads a blind man forty steps, Paradise becomes due for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص چالیس قدم نابینا شخص کو ساتھ لے کے چلتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن عروہ ہے ‘ اور وہ کذاب ہے ۔

4765

Majma al-Zawaid #4765

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ قَادَ أَعْمَى حَتَّى يُبْلِغَهُ مَأْمَنَهُ غُفِرَتْ لَهُ أَرْبَعُونَ كَبِيرَةً، وَأَرْبَعُ كَبَائِرَ تُوجِبُ النَّارَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ يَحْيَى الْأَمَلِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَلَكِنَّ فِيهِ عَلِيَّ بْنَ يَزِيدَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ promised forgiveness of forty major sins, including four that entail the Fire, for leading a blind man until bringing him to safety. > **"Whoever leads a blind man until he brings him to safety, forty major sins are forgiven for him, and four majors that entail the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی نابینا کو ساتھ لے کے چلتا ہے یہاں تک کہ اسے اس کی منزل تک پہنچا دیتا ہے ‘ تو اس شخص کے چالیس کبیرہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘ اور چار ایسے کبیرہ گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے ‘ جو جہنم کو واجب کرتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن یحیی املی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ‘ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4766

Majma al-Zawaid #4766

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، «أَنَّ غُلَامًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَتَرَكَتْ حُلِيًّا، أَفَأَتَصَدَّقُ بِهِ عَنْهَا؟ قَالَ: "" أُمُّكَ أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ؟ "". قَالَ: لَا. قَالَ: "" فَأَمْسِكْ عَلَيْكَ حُلِيَّ أُمِّكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ، وَتَرَكَتْ حُلِيًّا وَلَمْ تُوصِ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: "" احْبِسْ عَلَيْكَ مَالَكَ». وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ: ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir (رضي الله عنه) reported that a boy came to the Prophet ﷺ, in Musa's wording asking whether he may give his deceased mother's jewelry in charity for her. When he said his mother had not commanded it, the Prophet ﷺ ordered retention. In al-Tabarani's wording the mother died without a will, and the command was to withhold wealth. > **"Did your mother command you that? Then keep your mother's jewelry upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا یہاں موسیٰ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا اس نے کہا : یا رسول اللہ ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ۔ انہوں نے زیور چھوڑا ہے کیا میں اس کو ان کی طرف سے صدقہ کر دوں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہاری ماں نے تمہیں اس بات کا حکم دیا تھا انہوں نے جواب دیا : جی نہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنی ماں کے زیور کو اپنے پاس رکھو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ تا ہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ میری والدہ کا انتقال ہو گیا انہوں نے زیور چھوڑا اس کے بعد انہوں نے وصیت نہیں کی کیا انہیں اس کا فائدہ ہو گا اگر میں ان کی طرف سے اسے صدقہ کر دوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنا مال اپنے پاس رکھو ‘‘۔ امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اور امام احمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

4767

Majma al-Zawaid #4767

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ سَعْدًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تُوصِ أَفَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَيْهَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ، وَعَلَيْكَ بِالْمَاءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reported that Sad (رضي الله عنه) came to the Prophet ﷺ asking whether charity for his mother who died without a will would benefit her. The Prophet ﷺ affirmed and enjoined water. > **"Yes, and upon you is water."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے وہ کوئی وصیت نہیں کر سکی ہیں اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا اس کا انہیں فائدہ ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ اور تم پر پانی ( کے حوالے سے صدقہ کرنا ) لازم ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4768

Majma al-Zawaid #4768

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: «جِئْتُ إِلَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: تُوُفِّيَتْ أُمِّي وَلَمْ تُوصِ وَلَمْ تَتَصَدَّقْ، فَهَلْ يَقْبَلُ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ فَهَلْ يَنْفَعُهَا ذَلِكَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ وَلَوْ بِكُرَاعِ شَاةٍ مُحْتَرِقٍ». قُلْتُ: لِسَعْدٍ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Ubadah (رضي الله عنه) said he came to the Messenger of Allah ﷺ asking whether charity for his mother who died without will or charity would be accepted and benefit her. The Prophet ﷺ affirmed even with the least. > **"Yes, even with a burnt hoof of a sheep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے عرض کی : میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ‘ وہ کوئی وصیت نہیں کر سکیں اور صدقہ نہیں کر سکیں ‘ اگر میں اُن کی طرف سے صدقہ کر دوں ‘ تو کیا یہ قبول ہو گا ؟ کیا یہ انہیں فائدہ دے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! خواہ تم ایک جلے ہوئے پائے کو ( صدقہ کرو ‘ تو اس کا بھی انہیں اجر ملے گا ) ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ‘ لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کریب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4769

Majma al-Zawaid #4769

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ تَطَوُّعًا أَنْ يَجْعَلُهَا عَنْ أَبَوَيْهِ فَيَكُونُ لَهُمَا أَجْرُهَا وَلَا يَنْتَقِصُ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ الضَّبِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ instructed one giving voluntary charity to dedicate it to his parents, with full reward for them and no loss to his own. > **"When one gives a voluntary charity, let him make it for his parents; they have its reward, and nothing of his reward is diminished."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی شخص کوئی نفلی صدقہ کرے ‘ تو اُسے چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے حوالے سے اُسے کرے ‘ اس طرح اُس کے والدین کو اُس کا اجر ملے گا ‘ اور اس شخص کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ضبی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4770

Majma al-Zawaid #4770

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَمُوتُ مِنْهُمْ مَيِّتٌ فَيَتَصَدَّقُونَ عَنْهُ بَعْدَ مَوْتِهِ إِلَّا أَهْدَاهَا لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى طَبَقٍ مِنْ نُورٍ، ثُمَّ يَقِفُ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ فَيَقُولُ: يَا صَاحِبَ الْقَبْرِ الْعَمِيقِ، هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَاهَا إِلَيْكَ أَهْلُكَ فَاقْبَلْهَا، فَيَدْخُلُ عَلَيْهِ فَيَفْرَحُ بِهَا وَيَسْتَبْشِرُ، وَيَحْزَنُ جِيرَانُهُ الَّذِينَ لَا يُهْدَى إِلَيْهِمْ شَيْءٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو مُحَمَّدٍ الشَّامِيُّ قَالَ عَنْهُ الْأَزْدِيُّ: كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (رضي الله عنه) said he heard the Messenger of Allah ﷺ say that when a household gives charity after their dead, Jibril (عليه السلام) bears it on a plate of light, stands at the edge of the grave, and addresses its dweller as one of the deep grave, asking him to accept his family's gift. It enters upon him with joy and glad tidings, while his neighbours to whom nothing is gifted grieve. > **"There is no household among whom one dies, then they give charity for him after his death, but Jibril brings it to him upon a plate of light. Then he stands at the edge of the grave and says: O dweller of the deep grave, this is a gift your family sent to you, so accept it. Then it enters upon him, and he rejoices therein and is gladdened, while his neighbours to whom nothing is gifted grieve."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس بھی گھرانے کے افراد میں سے ‘ کوئی شخص مر جائے اور وہ لوگ اُس کے مرنے کے بعد ‘ اُس کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کریں ‘ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نور کے بنے ہوئے طبق میں ‘ وہ چیز اس مردے کو تحفے کے طور پر دیتے ہیں ‘ اور پھر وہ قبر کے کنارے پر کھڑے ہو جاتے ہیں ‘ اور یہ کہتے ہیں : اے گہری قبر والے شخص ! یہ ہدیہ ہے ‘ جو تمہارے اہل خانہ نے تمہاری طرف بھیجا ہے ‘ تم اسے قبول کرو ! پھر وہ اس ہدیہ کو اس کے پاس لاتے ہیں ، تو وہ اس حوالے سے خوش ہوتا ہے ‘ اور خوشخبری حاصل کرتا ہے ‘ اور اُس کے پڑوسی غمگین ہو جاتے ہیں ، جن کی طرف کوئی چیز تحفے کے طور پر نہیں بھیجی گئی ہوتی “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابومحمد شامی ہے ‘ جس کے بارے میں ازدی نے یہ کہا ہے : یہ کذاب ہے ۔